انڈیا 37 اوور میں 220/1
روہت شرما اس وقت 128 رنز اور وراٹ کوہلی 29 رنز پر بیٹنگ کر رہے ہیں۔ اس اوور کے ساتھ عماد وسیم نے اپنے دس اوور کا سپیل بھی مکمل کر لیا ہے جس میں انھوں نے بغیرکوئی وکٹ حاصل کیے 49 رنز دیے ہیں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کرکٹ ورلڈ کپ 2019 میں اتوار کو مانچسٹر میں انڈیا نے روایتی حریف پاکستان کو 89 رنز سے شکست دے کر ٹورنامنٹ میں اپنی تیسری کامیابی حاصل کر لی ہے۔
ذیشان حیدر, حسن زیدی, عابد حسین and محمد صہیب
روہت شرما اس وقت 128 رنز اور وراٹ کوہلی 29 رنز پر بیٹنگ کر رہے ہیں۔ اس اوور کے ساتھ عماد وسیم نے اپنے دس اوور کا سپیل بھی مکمل کر لیا ہے جس میں انھوں نے بغیرکوئی وکٹ حاصل کیے 49 رنز دیے ہیں۔
انڈین اننگز کے 33 اوورز مکمل ہو چکے ہیں اور انڈیا 5.7 رنز فی اوور کی اوسط سے رن بنا رہا ہے جبکہ اس کی نو وکٹیں ابھی باقی ہیں۔
33ویں اوور کے لیے پاکستان نے عماد وسیم نے بولنگ کے لیے دوبارہ بلایا ہے جنھوں نے اب تک سات اوورز میں 33 رنز دیے تھے۔
ایک روزہ کرکٹ میں اچھے سکور کے لیے کہا جاتا ہے کہ 30 اوورز میں بنائے جانے والے سکور کو دگنا کر لیا جائے لیکن اس کے لیے وکٹوں کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ انڈیا نے 30 اوورز کے بعد 172 رنز بنائے ہیں اور ان کے پاس نو وکٹیں باقی ہیں۔ کیا وہ اگلی 120 گیندوں پر سکور کو 350 سے اوپر لے جانے میں کامیاب ہو سکیں گے؟
اوپنرز کی 136 رنز کی شراکت کے بعد دوسری وکٹ کے لیے روہت شرما اور وراٹ کوہلی نے بھی آٹھ اوورز میں 50 رنز مکمل کر لیے ہیں۔
پاکستان کو روہت شرما کے دو رن آؤٹ چھوڑنا مہنگا پڑ گیا ہے اور انھوں نے اس ورلڈکپ میں اپنی دوسری سنچری 85 گیندوں پر مکمل کر لی ہے۔
ان کی اس سنچری میں 9 چوکے اور 3 چھکے شامل ہیں۔
وہ اس وقت ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے بازوں کی فہرست میں چوتھے نمبر ہر ہیں۔
یہ روہت کے کریئر کی 24ویں ون ڈے سنچری ہے۔ روہت نے اپنے ایک روزہ کریئر میں تین ڈبل سنچریاں بھی بنائی ہیں اور اس تعداد میں اضافے کے لیے آج ان کے پاس سنہرا موقع ہے۔
پاکستان کے خلاف روہت شرما نے آخری میچ گذشتہ سال ستمبر کے ایشیا کپ میں کھیلا تھا جہاں انھوں نے ناقابل شکست 111 رنز بنائے تھے۔
تجزیہ کار روہا ندیم کہتی ہیں کہ اگر ایسی ناقص فیلڈنگ کرنی ہے تو ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک پہنچنے کے خواب نہیں دیکھنے چاہیں۔
پاکستان نے ایک بار پھر بولنگ میں تبدیلی کی ہے اور 29ویں اوور کے لیے حسن علی کی جگہ محمد عامر کو واپس لایا گیا ہے جنھوں نے اپنے اس پانچویں اوور میں صرف ایک رن دیا اور اب تک انھوں نے پانچ اوورز میں صرف نو رنز دیے ہیں۔
حسن علی کی خراب کارکردگی جاری ہے اور ان کے پانچویں اوور میں 9 رن بنے ہیں۔ حسن اس میچ میں مہنگے ثابت ہو رہے ہیں اور انھوں نے اب تک پانچ اوور میں نو رنز کی اوسط سے 45 رنز دیے ہیں۔
ویسے تو کوہلی کو آؤٹ کرنا بہت مشکل ہے لیکن بائیں ہاتھ کے گیند بازوں کے خلاف ان کی اوسط سب سے کم ہے اور اننگز کے آغاز میں ان کا آؤٹ ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
26ویں اوور میں انڈیا نے اپنے 150 رنز مکمل کر لیے ہیں اور ان کی اب تک صرف ایک وکٹ گری ہے۔
انڈین اننگز اپنے نصف پر پہنچ گئی ہے اور اوپنرز کی 136 رنز کی شراکت کے بعد اب وراٹ کوہلی اور روہت شرما اسے ایک بڑے سکور کی جانب لے جا رہے ہیں۔
اپنے پہلے تین اوور کے سپیل میں 26 رنز دینے والے حسن علی کو کپتان سرفراز نے بولنگ کے لیے دوبارہ بلایا ہے لیکن ان کے چوتھے اوور میں بھی دس رنز بنے ہیں
وہاب ریاض نے امپائر کی وارننگ کے بعد جب راؤنڈ دا وکٹ گیند کرنے کا فیصلہ کیا تو پہلی ہی گیند پر انھیں لوکیش راہول کی وکٹ مل گئی۔ انھیں بابر اعظم نے کیچ کیا۔