بریکنگ, بھونیشور اٹیک سے باہر!
پانچویں اوور کے دوران انڈیا کو دھچکا لگا جب ان کے انتہائی اہم بولر بھونیشور کمار ٹانگ میں پٹھے کھنچ جانے کی وجہ سے اپنا اوور مکمل کرائے بغیر میدان سے باہر چلے گئے۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کرکٹ ورلڈ کپ 2019 میں اتوار کو مانچسٹر میں انڈیا نے روایتی حریف پاکستان کو 89 رنز سے شکست دے کر ٹورنامنٹ میں اپنی تیسری کامیابی حاصل کر لی ہے۔
ذیشان حیدر, حسن زیدی, عابد حسین and محمد صہیب
پانچویں اوور کے دوران انڈیا کو دھچکا لگا جب ان کے انتہائی اہم بولر بھونیشور کمار ٹانگ میں پٹھے کھنچ جانے کی وجہ سے اپنا اوور مکمل کرائے بغیر میدان سے باہر چلے گئے۔
انڈین بولنگ کی اوپننگ جوڑی نے زبردست بولنگ کا مظاہرہ کیا ہے اور پاکستانی بلے بازوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ جارحانہ بیٹنگ کرنے سے گریز کریں۔
پاکستان نے قدرے محتاط آغاز کیا ہے اور اب تک تین اوورز کے بعد انھوں نے بغیر کسی نقصان کے 12 رنز بنائے ہیں جس میں امام کے چھ رنز اور فخر کے پانچ رنز شامل ہیں۔ دونوں نے ایک ایک چوکا لگایا ہے۔
فخر زمان نے بھمرا کو چوکا لگا کر اپنے عزائم کا اظہار کیا! یہ بھمرا ہی تھے جن کی نو بال کی مدد سے فخر نے 2017 میں ہونے والے چیمپیئنز ٹرافی میچ میں شاندار سنچری سکور کی تھی۔
بھونیشور کمار نے اپنے پہلے اوور میں صرف دو رنز دیے ہیں۔ فخر اور امام کی جوڑی نے اپنے کھاتے کھول لیے لیکن دوسرے اینڈ سے اب انھیں انڈیا کے سب سے خطرناک بولر جسپریت بھمرا کا سامنے کرنا ہوگا۔
انڈیا کے بھونیشور کمار نے بولنگ کا آغاز کیا ہے جہاں امام الحق نے پہلی گیند کو لیگ سائیڈ پر کھیل کر ایک رن حاصل کیا۔
پاکستانی اوپنرز میدان میں آئے تھے لیکن انھیں واپس جانا پڑا جبکہ انڈین کھلاڑی میدان میں موجود ہیں۔
پچ پر دوبارہ کور ڈال دیے گئے ہیں۔
پاکستان کی طرف سے فخر زمان اور امام الحق کے درمیان اب تک پانچ نصف سنچری جبکہ چار سنچری شراکتیں ہو چکی ہیں۔ لیکن حالیہ میچوں میں فخر کو جلدی آؤٹ کرنے کی یہ ترکیب سامنے آئی ہے کہ انھیں آف سٹمپ کے باہر گیند کرائی جائے۔ آسٹریلیا کے خلاف میچ میں بھی وہ ایسے ہی آؤٹ ہوئے تھے۔
جبکہ دوسری طرف امام الحق نے لیگ سٹمپ کے باہر کی گئی شارٹ پچ گیندوں پر آؤٹ ہونے کی عادت ڈال لی ہے۔ وہ اس ورلڈ کپ میں دو مرتبہ اس انداز میں آؤٹ ہو چکے ہیں۔
امام کو پچھلے میچ کے بعد اپنے سست کھیل پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن ایک محتاط آغاز ہی پاکستان کے لیے ایک بڑے ہدف کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
پاکستان کے دیگر شہروں کی طرح کوئٹہ میں بھی بڑی تعداد میں شائقین پاکستان اور انڈیا کا ورلڈ کپ میچ دیکھنے ہوٹلوں میں جمع ہیں۔
پاکستان کے گذشتہ دو میچوں میں محمد عامر نے 20 اوورز میں 77 رنز دے کر آٹھ وکٹیں حاصل کیں جبکہ پاکستان کے باقی بولرز نے 79 اوورز میں 554 رنز کے عوض سات وکٹیں حاصل کی ہیں۔
اپنا پہلا ورلڈ کپ کھیلنے والے محمد عامر نے انڈیا کے خلاف 10 اوورز میں 47 رنز کے عوض تین وکٹیں لے کر چار میچوں میں اپنی وکٹوں کی تعداد 13 کر لی ہے۔
وہ ایک مرتبہ پھر اس ٹورنامنٹ کے سب سے کامیاب بولروں کی فہرست میں سب سے اوپر آ گئے ہیں۔
آسٹریلیا کے مچل سٹارک نے بھی 13 وکٹیں لی ہیں لیکن انھوں نے یہ وکٹیں 5 میچوں میں حاصل کی ہیں۔
انڈیا نے مقررہ 50 اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 336 رنز بنائے ہیں اور پاکستان کو جیت کے لیے 337 رنز کا بڑا ہدف دیا ہے۔
انڈین اننگز کی خاص بات روہت شرما کے 140 رنز اور وراٹ کوہلی اور لوکیش راہول کی نصف سنچریاں تھیں۔
پاکستان کی جانب سے محمد عامر تین وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے جبکہ بقیہ بولروں کی کارکردگی کچھ خاص نہیں تھی۔
آخری دس اوورز میں انڈیا نے 88 رنز بنائے اور اس کی تین وکٹیں گریں۔ یہ اولڈ ٹریفرڈ کے میدان پر سب سے بڑا سکور ہے۔
لاہور کے ریس کورس پارک میں شائقین کے لیے لگائی گئی سکرینوں پر گرمی کے باوجود لوگوں کا رش لگا رہا۔ ہمارے ساتھی عمر دراز نے وہاں موجود لوگوں سے بات چیت کی۔
محمد عامر کی کامیابی کے بعد انڈیا کے پاس دو نئے بلے باز اس وقت موجود ہیں جو کیدھار جادھو اور وجے شنکر ہیں۔
محمد عامر نے اپنی تیسری وکٹ حاصل کر لی جب انھوں نے انڈین کپتان کوہلی کو 77 رنز پر آؤٹ کر دیا۔
بارش کی وجہ سے 50 منٹ کے وقفے کے بعد میچ کا دوبارہ آغاز ہو گیا ہے اور وہاب ریاض نے اپنے اوور کی آخری دو گیندیں کرائیں جن پر کوہلی اور شنکر نے چھ رن مزید حاصل کیے۔
کرکٹ کے حوالے سے سب سے معتبر ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق پچ پر موجود کور ہٹائے جا رہے ہیں اور امپائرز میدان کا جائزہ لے رہے ہیں اور وکٹیں بھی اپنی جگہ پر لگا دی گئی ہیں۔ اس صورتحال کا مطلب یہ ہے کہ اگلے دس اوورز میں میچ دوبارہ شروع ہو سکتا ہے اور انڈیا اپنی اننگز کے پورے 50 اوورز کھیلے گا۔
تاہم بارش کی وجہ سے ہونے والے وقفے کے باعث اننگز کے دوران وقفہ صرف 15 منٹ کا ہوگا۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق میدان میں موجود کورز کو ہٹایا جا رہا ہے جبکہ پچ اور اس کے اطراف کے حصے ابھی بھی ڈھکے ہوئے ہیں۔یاد رہے کہ اگر بارش جاری رہتی ہے اور پاکستان کو 20 اوورز بیٹنگ کرنی ہو تو انھیں 184 رنز کا ہدف ملے گا لیکن اگر بارش رک جائے تو انھیں 46 اوورز میں 327 رنز بنانے ہوں گے۔