بریکنگ, کوہلی بھی آخری اوور میں آؤٹ
انڈین کپتان وراٹ کوہلی آخری اوور کی پانچویں گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے ہیں۔ یہ اس اوور میں سٹائنس کی دوسری وکٹ ہے۔
کوہلی نے 77 گیندوں پر چار چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 82 رنز کی اننگز کھیلی۔
انگلینڈ اور ویلز میں جاری کرکٹ کے 12ویں ورلڈ کپ مقابلوں میں اتوار کو انڈیا نے آسٹریلیا کو 36 رنز سے شکست دے کر ٹورنامنٹ میں لگاتار دوسری کامیابی حاصل کی ہے۔
ذیشان حیدر and محمد صہیب
انڈین کپتان وراٹ کوہلی آخری اوور کی پانچویں گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے ہیں۔ یہ اس اوور میں سٹائنس کی دوسری وکٹ ہے۔
کوہلی نے 77 گیندوں پر چار چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 82 رنز کی اننگز کھیلی۔
انڈین بیٹسمینوں نے آسٹریلوی سٹار بولر مچل سٹارک کو اس میچ میں تختۂ مشق بنائے رکھا۔
سٹارک جنھوں نے پچھلے ہی میچ میں پانچ وکٹیں لی تھیں انھیں اس میچ میں دس اوورز میں 74 رنز پڑے جن میں تین چھکے اور چار چوکے شامل تھے اور وہ صرف ایک وکٹ لینے میں کامیاب ہو سکے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے وکٹ کیپر اور سابق کپتان مہندر سنگھ دھونی اننگز کے آخری اوور کی پہلی گیند پر بولر سٹائنس کے ہاتھوں ہی کیچ ہو گئے ہیں۔ انھوں نے 14 گیندوں پر ایک چھکے اور تین چوکوں کی مدد سے 27 رنز کی اننگز کھیلی۔
انڈین اننگز کے 46 اوور مکمل ہو گئے ہیں اور سست رفتاری سے اننگز کا آغاز کرنے والے وراٹ کوہلی اننگز کے آخری اوورز میں جارحانہ انداز میں کھیل رہے ہیں اور انھوں نے مچل سٹارک کو لگاتار دو اوورز میں چھکے لگائے ہیں۔ دوسرے اینڈ سے ان کا ساتھ دینے کے لیے تجربہ کار دھونی کریز پر ہیں
ہاردک پانڈیا ایک ایسے موقع پر کریز پر آئے جب انڈیا کو تیز رفتار سے رنز کی ضرورت تھی۔ انھوں نے چار چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے 48 رنز بنائے۔
ان کی وکٹ پیٹ کمنز نے حاصل کی جو آج آسٹریلوی بولرز میں نسبتاً بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر پائے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
انڈیا کی اننگز کے آخری پانچ اوور باقی بچے ہیں اور صرف دو وکٹوں کا نقصان اٹھانے والی انڈین ٹیم کی نظریں ایک بڑے مجموعے پر ہیں۔
کریز پر کپتان وراٹ کوہلی اور ہاردک پانڈیا موجود ہیں اور سکور تیزی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ انڈین اننگز کے 40ویں سے 45ویں اوور کے درمیان رنز بنانے کی شرح 11 رنز فی اوور رہی ہے۔
انگلینڈ کے سابق سپنر فل ٹفنل کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کےناتجربہ کار بولرز نے انڈیا کو پر اعتماد انداز میں بیٹنگ کرنے کی مہلت دی ہے۔ اگر انڈیا نے 310 رنز سے زیادہ کا مجموعہ بنا لیا تو اس کا تعاقب کرنا آسٹریلیا کے لیے خاصا مشکل ہو گا۔
کوہلی اور پانڈیا نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے نو رنز کی اوسط سے چھ اوورز میں 50 رنز کی شراکت قائم کی ہے اور اس دوران پانڈیا نے تین چھکے اور تین چوکے لگائے ہیں۔
یہ جوڑی انڈیا کو ایک بڑے سکور تک لے جانے میں کلیدی ثابت ہو سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہاردک پانڈیا کو جس مقصد کے لیے جلدی بھیجا گیا تھا، وہ اسے پورا کر رہے ہیں اور آنے کے بعد سے وہ دو چوکے اور ایک چھکا لگا چکے ہیں۔
دوسری جانب وراٹ کوہلی نے بھی نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد ہاتھ کھولے ہیں اور وہ اب ٹیم کو ایک بڑے سکور کی جانب لے جانے کے لیے کوشاں ہیں۔
آسٹریلیا کی طرف سے کھیلتے ہوئے کیری نے اب تک سٹمپ کے چار مواقع ضائع کیے ہیں اور تین کیچ چھوڑے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
انڈین کپتان نے اپنی پسندیدہ مخالف ٹیم کے خلاف نصف سنچری بنا لی ہے۔ یہ ایک روزہ میچوں میں کوہلی کی 50ویں نصف سنچری ہے۔
ان کی اننگز میں صرف تین چوکے شامل تھے جو اننگز کے آغاز میں ان کے محتاط انداز کی نشانی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کولٹر نائل کی بولنگ پر وکٹ کیپر ایلیکس کیری نے پہلی ہی گیند پر ہارڈک پانڈیا کا آسان کیچ ڈراپ کر دیا۔
دھون کے آؤٹ ہونے کے بعد انڈین ٹیم کے بیٹنگ آرڈر کو بدلا گیا ہے اور ہاردک پانڈیا کریز پر آئے ہیں۔
اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ انڈین ٹیم رنز بنانے کی رفتار مزید تیز کرنا چاہتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شکھر دھون 117 کی عمدہ اننگز کھیلنے کے بعد مچل سٹارک کا شکار بنے۔
انھوں نے سکوائر لیگ باؤنڈری پر چھکا مارنے کی کوشش کی لیکن گیند زیادہ دور نہ جا سکی اور 12ویں کھلاڑی نیتھن لائن نے ان کا کیچ پکڑ لیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اننگز کے 37 ویں اوور میں شکھر دھون نے سٹارک کو لانگ آف باؤنڈری پر خوبصورت چوکا لگا کر انڈیا کا سکور 219 رنز پر پہنچا دیا۔