فائزر کی ویکسین کورونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف بھی کارگر

تازہ تحقیق میں بات سامنے آئی ہے کہ ادویات بنانے والی عالمی کمپنیوں فائزر اور بائیو این ٹیک کی ویکسین کورونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف بھی کارگر ہیں۔ ادھر جان ہاپکنز یونیورسٹی اور امریکی میڈیا کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں پہلی بار ایک دن میں چار ہزار اموات ہوئی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. جنوبی کوریا میں کورونا کی تیسری لہر کے خدشات

    جنوبی کوریا میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کے خدشات

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جنوبی کوریا میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کے خدشات کے پیش نظر حکام نے شہریوں کو احتیاط کی تلقین کی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سنیچر کو جنوبی کوریا میں حکام نے سیول میں ایک ایسے علاقے کی تشخیص کی جہاں وائرس سے کچھ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

    ملک میں مجموعی طور پر گذشتہ روز 583 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ تیسری لہر مختلف ہے کیونکہ پہلی دونوں لہروں نے بڑی تعداد میں وائرس کے پھیلنے سے زور پکڑا تھا۔

    سنیچر سے سیول میں نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جو کورونا وائرس سے متاثرہ شہروں میں سے ایک ہے۔

  2. روس نے اپنی ویکسین کا استعمال ماسکو میں شروع کر دیا

    روس نے اپنی ویکسین کا استعمال ماسکو میں شروع کر دیا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    روسی حکومت نے اپنے دارالحکومت ماسکو میں کووڈ 19 کی ویکسین کے استعمال کے منصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کے تحت عالمی وبا اور وائرس کو روکنے کے لیے طبی مراکز میں ویکسین دی جا رہی ہے۔

    روس اپنی ویکسین سپوتنک فائیو استعمال کر رہا ہے جسے اگست میں منظور کیا گیا تھا۔

    اس ویکسین کے بنانے والوں کا دعویٰ ہے کہ یہ 95 فیصد کارآمد ہے اور اس کے کوئی منفی اثرات بھی نہیں ہیں۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ فی الحال اس کی بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ ہو رہی ہے۔

    ہزاروں افراد نے ان ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران ویکسین کی دو خوراکیں حاصل کرنے کی درخواست کر دی ہے۔ یہ غیر واضح ہے کہ روس کتنی ویکسینز بنا سکتا ہے۔

    دوا ساز کمپنیوں سے توقع ہے کہ رواں سال کے آخر تک وہ 20 لاکھ نسخے بنائیں گے۔

  3. شادی منسوخ ہوگئی کیونکہ ’شادی ہال ویکسینیشن سینٹر بن گیا‘

    برطانوی جوڑے

    ایک برطانوی جوڑے کا کہنا ہے کہ ان کی شادی گذشتہ چھ ماہ میں کووڈ 19 کی وجہ سے دو مرتبہ منسوخ ہوئی ہے جس کی وجہ سے ان کا ’دل ٹوٹ چکا ہے۔‘

    جینا رابرٹس اور سائمن جونز کی شادی جولائی میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے منسوخ ہوئی تھی۔ اب ایک بار پھر ان کا خواب ادھورا رہ گیا ہے کیونکہ ان کا شادی ہال کووڈ 19 کا ویکسینیشن کا سینٹر بن گیا ہے۔

    انھوں نے جولائی میں دوبارہ بکنگ کرائی تھی لیکن اب انھیں کچھ ہفتے قبل بتایا گیا کہ ان کی شادی وہاں نہیں ہوسکے گی۔

    دستمبر 13 سے اگلے 12 ماہ تک اس جگہ کو ویکسینیشن سینٹر کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

    اس جگہ پر ان سمیت 64 شادیاں منسوخ ہوئی ہیں۔

    اب ان جوڑوں کو 2022 کی کوئی تاریخ دی جائے گی یا پھر ان کے پیسے واپس کیے جائیں گے۔

  4. برطانیہ میں ویکسین کے عام استعمال کی منظوری

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    برطانیہ دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے فائزر اور بائیونٹیک کی جانب سے تیار کردہ کورونا وائرس کی ویکسین کے عام استعمال کی منظوری دے دی ہے۔ ویکسین کا استعمال اگلے ہفتے سے شروع ہو جائے گا۔

  5. امریکیوں پر کووڈ ویکسین کا استعمال لازم نہیں ہو گا: جو بائیڈن

    بائیڈن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے نومنتخب صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ جب ملک میں کورونا وائرس کی ویکسین دستیاب ہو گی تو امریکیوں کو اسے استعمال کرنے کے لیے مجبور نہیں کیا جائے گا۔

    یہ بات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ میں وبائی امراض کی روک تھام کے مرکز (سی ڈی سی) نے پہلی مرتبہ عوام کے لیے چاردیواری میں ماسک کا استعمال لازم قرار دیا ہے سوائے تب جب وہ اپنے گھروں میں ہوں۔

    سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ امریکہ ایک ایسی صورتحال میں داخل ہو گیا ہے جس میں ’وائرس کی منتقلی اونچے درجے پر ہے۔‘

    بائیڈن نے کہا کہ ’میرے سے بطور صدر جو ہو سکا میں کروں گا تاکہ لوگوں کی اس حوالے سے حوصلہ افزائی کر سکوں کہ وہ صحیح فیصلہ کریں اور جب وہ ایسا کریں تو یہ بھی بتائیں کہ اس سے فرق پڑتا ہے۔‘

    پیو ریسرچ سینٹر کا کہنا ہے کہ 60 فیصد امریکی اس وقت کورونا وائرس کی ویکسین استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ ستمبر کے 51 فیصد کے اعداد و شمار میں واضح اضافہ ہے۔

  6. بریکنگ, کورونا وائرس: پاکستان میں تین ہزار سے زیادہ نئے مریض، مزید 43 اموات

    corona update

    ،تصویر کا ذریعہcovid.gov.pk

    پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے باعث تین ہزار سے زیادہ نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ مزید 43 اموات بھی ہوئی ہیں۔

    پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لینے والے مرکزی ادارے این سی او سی کے مطابق گذشتہ روز 3119 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی جس کے بعد اس وقت ملک میں کل 52359 ایکٹو کیسز موجود ہیں۔

    پاکستان میں اب تک کل 8303 افراد کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہوئے ہیں جبکہ کل 413191 اس سے متاثر بھی ہوئے ہیں۔

    اب تک ملک میں صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 352529 ہے۔

  7. یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا

  8. بریکنگ, ویکسینز کا مطلب کورونا وائرس کا مکمل خاتمہ نہیں: عالمی ادارہ صحت

    tedros

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ’ویکسینز کا مطلب کورونا وائرس کا مکمل خاتمہ نہیں ہے۔‘ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب لوگوں میں اس تاثر کو تقویت مل رہی ہے کہ ویکسین پر پیش رفت سامنے آنے کے باعث عالمی وبا کا خاتمہ ہونے کو ہے۔

    جمعہ کے روز ڈائریکٹر جنرل ٹیڈراس ادھانوم غیبریسس نے کہا کہ ’عالمی ادارہ صحت کو خدشہ ہے کہ ویکسینز کے حوالے سے پیش رفت کے باعث ایک خیال یہ بھی ہے کہ جیسے عالمی وبا کا خاتمہ ہو گیا ہے۔‘

    ’ویکسینز پر پیش رفت ہم سب کو حوصلہ ضرور دیتی ہے اور ہمیں اب امید کی ایک کرن دکھائی دینے لگی ہے۔ تاہم لوگوں کا یہ سمجھنا کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کا خاتمہ ہو گیا ادارے کو تشویش میں مبتلا کرتا ہے۔‘

    ٹیڈراس کا کہنا تھا کہ عالمی وبا کے خاتمے میں ابھی خاصا وقت باقی ہے اور شہریوں اور حکومتوں کی جانب سے کیے جانے والے فیصلے اس بات کا تعین کریں گے کہ اس کا خاتمہ کب ہو گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ یہ سال تمام لوگوں کے لیے کتنا تھکا دینے والا ہے لیکن ہسپتالوں میں گنجائش سے زیادہ مریض موجود ہیں اور وہاں اس سخت حالات نہیں ہو سکتے۔‘

    عالمی ادارہ صحت کے شعبہ ایمرجنسی کے ماہر مائیک رائن کا کہنا تھا ’ہمیں اس حوالے سے بھی اعداد و شمار مل رہے ہیں کہ ویکسین کے باعث کورونا وائرس سے حفاظت زندگی بھر کے لیے نہ ہو، اس لیے دوبارہ انفیکشن کا بھی خطرہ ہے۔ ویکسین کا مطلب کووڈ 19 کا خاتمہ نہیں ہے۔‘

  9. کورونا ویکسین کے بارے میں افواہیں

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    کورونا وائرس کی ویکسین سامنے آنے کے بعد انٹرنیٹ پر اس عالمی وبا اور اس کی ویکسین کے بارے میں کئی غلط خبریں اور افواہیں گردش کرنے لگی ہیں۔ طبی ماہرین ان افواہوں کے خلاف ایک جنگ لڑ رہے ہیں تا کہ دنیا کو اس وبا سے نجات حاصل ہو سکے۔

  10. ویکسین سے متعلق گمراہ کن ٹویٹ پر ہربھجن سنگھ پر تنقید: ’سب سے پہلے تو واٹس ایپ ڈیلیٹ کر دیں‘

    harbhajan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گذشتہ روز انڈیا کے سابق کرکٹر ہربھجن سنگھ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ کیا انڈیا کو واقعی ایک ویکسین کی ضرورت ہے کیونکہ یہاں صحتیابی کی شرح ویسے ہی کسی بھی ویکسین کے آزمودہ ہونے کی شرح سے زیادہ ہے۔

    جہاں بہت سارے اخبارات کی جانب سے ان کے اس بیان پر تنقید کی گئی ہے وہیں اس بارے میں دیگر ٹوئٹر صارفین کی جانب سے بھی انھیں طنز کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ایک صارف نے انھیں جواب دیتے ہوئے لکھا کہ آپ کو اپنا واٹس ایپ ڈیلیٹ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے آپ کو جھوٹے دعوے ہی مل رہے ہیں۔

    اکثر صارفین نے اس ٹویٹ میں سائنس اور منطق کے فقدان سے متعلق بات کی اور کہا ابھی تک بیوقوفی کے لیے کوئی ویکسین متعارف نہیں کروائی گئی۔

    انڈیا کے ایک آن لائن جریدے دی کوئنٹ نے اس حوالے سے ایک فیکٹ چیک آرٹیکل چھاپا جس میں یہ بتایا گیا کہ ویکسین کا صحتیابی کی شرح سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    دیگر صارفین نے ’بھجی لاجک‘ یعنی ہربھجن سنگھ کی منطق سے متعلق مزاحیہ ٹویٹ کیے اور انھیں کرکٹ کی زبان میں سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ غلط بات کر رہے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کے آخری لمحات

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    نتباہ: کچھ ناظرین کے لیے یہ ویڈیو باعثِ اضطراب ہو سکتی ہے۔

    ’میں یقین دلاتا ہوں کہ جب آپ کی والدہ یا والد یا بچوں کو کووڈ ہو گا تو اپنی زندگی کے اختتام پر وہ یہی دیکھیں گے۔‘

    ایک امریکی ڈاکٹر نے اپنی ویڈیو میں یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ کورونا سے مرنے والوں کے آخری لمحات کیسے ہوتے ہیں۔ انھوں نے لوگوں سے گزارش کی ہے کہ وہ ماسک پہنیں اور احتیاط کریں۔

  12. یورپ بھر میں ویکسین کے استعمال کے طریقہ کار کا اعلان

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جیسے ہم گذشتہ کئی روز سے دیکھ رہے ہیں کہ اس ہفتے کورونا وائرس ویکسین استعمال کرنے کے حوالے سے انتہائی اہم اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

    بدھ کے روز برطانیہ دنیا بھر میں فائزر اور بائیو این ٹیک ویکسین کی منظوری دینے والا پہلا ملک بن گیا تھا۔ جبکہ گذشتہ روز روس کے دارالحکومت ماسکو کے میئر نے سپوتنک فائیو کا استعمال سنیچر سے شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    آج متعدد یورپی ممالک نے بھی ویکسین کے استعمال سے متعلق پلان کا اعلان کیا ہے۔

    • سپین کے وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے کہا ہے کہ حکومت اگلے سال مئی یا جون تا ڈیڑھ سے دو کروڑ لوگوں کو ویکسینیٹ کرے گی، جو ملک کی نصف آبادی سے تھوڑا کم ہے۔
    • ناروے کا کہنا ہے کہ وہ اگلے سال ایسٹر تک اپنی ایک چوتھائی آبادی کو ویکسینیٹ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اسے سنہ 2021 کی پہلی سہ ماہی میں موڈرنا، ایسٹرازینیکا اور فائزر/بائیو این ٹیک سے ویکسین کی 25 لاکھ خوراکیں ملنے کی توقع ہے۔
    • ادھر سویڈن میں حکومت کا کہنا ہےکہ یہاں چھ لاکھ عمر رسیدہ افراد اور سٹاف سمیت ان کے رشتہ داروں کو ویکسین لگائی جائے گی۔ فائزر کی ویکسین کی منظوری اسی ماہ دی جا سکتی ہے۔
    • بلگیریا نے ایک مختلف طریقہ کار اپنایا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے طبی عملے اور ڈاکٹرز کو یہ ویکسین لگائیں گے جس کے بعد دوسرے مرحلے میں عمر رسیدہ افراد میں اس کا استعمال کیا جائے گا۔
  13. مساجد کو بند نہیں کیا جائے گا لیکن ایس او پیز پر عمل درآمد ضروری ہے: عمران خان

    عمران خان اور نورالحق قادری

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ریڈیو پاکستان کے مطابق جمعہ کے روز پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان اور وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نور الحق قادری سے ملاقات کی۔

    اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے وزیر مذہبی امور کو ہدایت کی ہے کہ وہ کورونا وائرس وبا کے امور پر علما اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے ساتھ مستقل رابطے میں رہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ علما و مشائخ کو کورونا وائرس کے تازہ ترین رجحانات سے باخبر رکھنا چاہیے تاکہ ایس او پیز کی پیروی کا پیغام مساجد سے آتا رہے۔اس موقع پر یہ بھی واضح کیا گیا کہ مساجد کو بند نہیں کیا جائے گا لیکن ایس او پیز پر عمل درآمد ضروری ہے۔

  14. آن لائن کلاسیں: پانچ تجاویز جو گھر رہ کر بہتر انداز میں پڑھائی میں مدد کر سکتی ہیں

  15. میزبان ٹیم کے کھلاڑیوں میں کووڈ 19 کی تشخیص: انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے درمیان پہلا ایک روزہ میچ ملتوی

    newlands

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے درمیان کیپ ٹاؤن میں کھیلا جانے والا پہلا ون ڈے انٹرنیشنل جنوبی افریقی کھلاڑیوں میں کووڈ 19 کی تشخیص کے بعد ملتوی کر دیا گیا۔

    کرکٹ ساؤتھ افریقہ نے بتایا ہے کہ جمعرات کے روز، آخری ٹی ٹوئنٹی کے بعد ان کا ایک کھلاڑی کورونا وائرس سے متاثر ہوا تھا۔

    پہلا ایک روزہ میچ گرین وچ میڈیئن ٹائم کے مطابق صبح 11 بجے شروع ہونا تھا۔ ملتوی ہونے کے بعد اب یہ میچ اتوار کے روز کھیلا جائے گا، جبکہ دیگر میچ پیر اور بدھ کے روز کھیلے جائیں گے۔

  16. انگلینڈ میں ہر 105 میں سے ایک شخص کورونا وائرس سے متاثر ہے: ادارہ شماریات, رابرٹ کوفے، بی بی سی کے شعبۂ شماریات کے سربراہ

    حال ہی میں شائع ہونے والے اعداد و شمار سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نومبر 28 سے پچھلے ہفتے کے دوران ہر 105 میں سے 1 شخص کورونا وائرس سے متاثر ہیں۔

    برطانیہ کے ادارہ شماریات کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر روز تقریباً 26 ہزار افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوتے ہیں۔

    انگلینڈ میں شمال مشرقی علاقوں کے علاوہ تمام جگہوں پر انفیکشن کی شرح میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

  17. ٹوکیو اولمپکس میں تاخیر کے باعث 280 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو گا

    ٹوکیو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ٹوکیو اولمپکس کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کھیلوں میں اگلے سال تک تاخیر سے اضافی 280 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔

    نئے اخراجات کے لیے مزید 150 کروڑ ڈالر کی لاگت آئے گی، جبکہ وائرس سے حفاظت کے لیے کیے جانے والے انتظامات میں بھی ایک خطیر رقم لگے گی۔

  18. فائزر کی نئی کورونا وائرس ویکسین کیسے کام کرتی ہے؟

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برطانوی حکام نے امریکی کمپنی فائزر کی کورونا وائرس کی ویکسین کی جانچ پڑتال کی ہے اور وہ اس کے نتائج سے مطمئن ہیں۔

    یہ ویکسین کورونا وائرس کے خلاف 95 فیصد تک موثر ہے اور حکام کے خیال میں یہ عوام کو دینے کے لیے محفوظ ہے۔

    جس کو بھی یہ ویکسین دی جائے گی اسے دو ٹیکے لگوانے ہوں گے جن کے درمیان تین ہفتے کا وقفہ ہوگا۔ جب آپ کو دوسرا ٹیکا لگ چکا ہوگا تو اس کے سات دن کے بعد یہ ویکسین مکمل طور پر کارآمد ہو جائے گی۔

    مگر اس ویکسین کو انتہائی کم درجہ حرارت میں رکھا جانا ضروری ہے۔ تقریباً منفی 70 ڈگری سینٹی گریڈ اور یہ انتہائی مشکل ہے۔

    مگر کمپنی کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک ایسا ڈبہ بنایا ہے جو کہ ڈرائی آئس سے بھرا ہوا ہے اور اس میں ویکسین کو دس دن تک بغیر اضافہ رفریجیشن کے رکھا جا سکتا ہے۔

    برطانیہ نے اس ویکسین کے چار کروڑ ٹیکے آرڈر کیے ہیں جو کہ 2 کروڑ لوگوں کے لیے کافی ہوں گے مگر یہ سارے ٹیکے ابھی تیار نہیں ہیں۔

    پہلے آٹھ لاکھ ٹیکے دیے جائیں گے جو کہ کیئر ہومز میں موجود لوگوں کو ترجیحی بنیاد پر دیے جائیں گے۔

    تاہم ٹیکے بنانے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس سال کے آخر تک دنیا بھر میں پانچ کروڑ ٹیکے فراہم کر سکتے ہیں اور 2021 کے آخر تک تقریباً 1.3 ارب ٹیکے۔

    یہ بات بھی اہم ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف یہی واحد ویکسین نہیں ہے مگر برطانیہ میں منظور ہونے والی یہ پہلی ہے۔ دیگر ویکسینز میں موڈرنا اور آکسفورڈ ایسٹرا زینیکا ویکسین بھی ہیں جو کہ منظوری کا انتظار کر رہی ہیں۔

    یعنی ہو سکتا ہے کہ ہمارے پاس اور بھی ویکسینز جلد آ جائیں۔

  19. اینٹی باڈی ٹیسٹ کیا ہوتا ہے؟

    پاکستان میں کئی لیبارٹریاں کورونا وائرس کے لیے اینٹی باڈی ٹیسٹ کر رہی ہیں۔ برطانوی ادارے پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے بھی کورونا وائرس کے لیے ایک نیا اینٹی باڈی ٹیسٹ منظور کرلیا ہے۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ اینٹی باڈی ٹیسٹ کیا ہوتا ہے اور اس کی اہمیت کیوں زیادہ ہے۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  20. یورپ کے کچھ ممالک میں کرسمس کے موقع پر ریزورٹس بند، اٹلی میں دو ہفتوں کے لیے اندرون ملک سفر پر پابندی

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یورپ میں کرسمس کی آمد کے موقع پر کئی لوگوں نے سرد مقامات پر سکینگ کرنے کے لیے رخ کیا ہے لیکن ابھی بھی یہ فیصلہ متفقہ طور پر نہیں ہو سکا ہے کہ آیا ان ریزورٹس کو کھولا جائے یا بند رکھا جائے۔

    اطالوی وزیر اعظم کونٹے ان کو بند رکھنے کے حق میں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ براعظم میں وبا کے پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے انھیں کھولنے کا خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا۔

    ان کے علاوہ یورپ کے دیگر ملکوں کے رہنما جیسے جرمنی کی انجیلا مرکیل اور فرانس کے ایمانوئیل میکخواں نے بھی ان سکینگ ریزورٹس کو عارضی طور پر بند رکھنے کی بات کی ہے اور ان تینوں ملکوں میں سکینگ کی غرض سے ہونے والی سیاحت بند ہے۔

    تاہم سیاحت کی صنعت سے وابستہ افراد نے اس فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔ فرانس میں سیاحت سے منسلک کے تنظیم کے عہدے دار کا کہنا تھا ’پیرس میں میٹرو پر 400 لوگ سفر کر سکتے ہیں اور انھیں وائرس نہیں لگے گا، لیکن سکی لفٹ پر چار لوگوں کو وائرس لگ سکتا ہے؟‘

    get

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایک اور یورپی ملک آسٹریاکا کہنا ہے کہ وہ چھٹیوں پر آنے والے سیاحوں پر کچھ پابندیوں کے ساتھ انھیں اجازت دے سکتے ہیں لیکن انھیں 24 دسمبر سے پہلے آنا ہوگا۔ اسی نوعیت کا فیصلہ سوئٹزرلینڈ میں بھی کیا گیا۔

    تاہم اٹلی میں کرسمس کے موقع پر اندون ملک سفر پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے اور 21 دسمبر سے چھ جنوری تک سفر بند ہوگا۔ ملک کے کچھ خطوں میں ریستورانوں کو شام چھ بجے بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں ایک دن میں 993 اموات کی تصدیق ہوئی جو کہ وائرس شروع ہونے کے بعد ایک دن میں ہلاک ہونے والوں کی سب سے بڑی تعداد تھی۔