بریڈ فورڈ رائل انفرمری کے ڈاکٹر جان رائٹ نے عالمی وبا کے آغاز میں موسم گرما میں کووڈ 19 کا ٹیسٹ کروایا تھا جس میں یہ ظاہر ہوا تھا کہ شاید وہ کورونا سے متاثر ہیں تاہم ان میں علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں اور ان کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔
لیکن گذشتہ ہفتے کورونا کی تشخیص کے لیے ایک سواب ٹیسٹ میں ان کے نتائج دوبارہ مثبت آئے ہیں۔ تو اس کا کیا مطلب ہے؟
اس بار ان کے مطابق جب دیگر این ایچ ایس ملازمین کی طرح انھوں نے معمول میں کووڈ 19 ٹیسٹ کروایا تو ’مجھے اس پر یقین نہیں ہوا۔‘ لیکن مثبت ٹیسٹ کی دوبارہ تصدیق بھی ہوئی۔
اس کے بعد انھیں 10 روزہ آئسولیشن میں جانا پڑا۔
اس کی وضاحت وہ کچھ اس طرح دیتے ہیں کہ ممکن ہے کہ جسم میں کووڈ 19 کی اینٹی باڈیز جلد کم پڑ جاتی ہوں۔ شاید اسی وجہ سے پہلی مرتبہ کے مقابلے دوسری بار انھیں کووڈ 19 کی علامات بھی محسوس بھی ہوئیں، جیسے سونگھنے کی حس سے محروم ہوجانا۔ وہ خود بھی اس سوال کا جواب تلاش رہے ہیں کہ آیا انھیں نو ماہ میں ’دو بار کورونا ہوا؟‘
لیکن اسی دوران ان کی اہلیہ نے کورونا کی ویکسین استعمال کی ہے اور اب گھر میں ایک شخص کووڈ 19 سے متاثر ہے جبکہ دوسرا اس سے بظاہر محفوظ ہے۔
لیکن اس کے باوجود ان کی اہلیہ کو ان سے دور رہنا پڑے گا جب تک کورونا کے خلاف ان کی قوت مدافعت بہتر نہیں ہوجاتی۔
تاہم دوسری مرتبہ کورونا وائرس کی تشخیص ہونے کے کیسز کافی کم سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں نے اس امکان کا بھی اظہار کیا ہے کہ ہوسکتا ہے کورونا نے میوٹیشن کے ذریعے اپنی شکل اب تبدیل کر لی ہو جسے جسم ایک نئے وائرس کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
ان کے لیے ایک دوسرا امکان یہ ہے کہ ہوسکتا ہے گرمیوں میں ان کے جسم نے کورونا وائرس کی کسی دوسری قسم (جیسے کامن کولڈ) کی تشخیص کی ہو۔