آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

فائزر کی ویکسین کورونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف بھی کارگر

تازہ تحقیق میں بات سامنے آئی ہے کہ ادویات بنانے والی عالمی کمپنیوں فائزر اور بائیو این ٹیک کی ویکسین کورونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف بھی کارگر ہیں۔ ادھر جان ہاپکنز یونیورسٹی اور امریکی میڈیا کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں پہلی بار ایک دن میں چار ہزار اموات ہوئی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. فائزر کے بعد دوسری امریکی ساختہ ویکسین بھی منظوری کے قریب

    امریکہ میں فائزر کے بعد اب کورونا وائرس کے لیے ایک اور ویکسین ہنگامی بنیادوں پر منظوری کے قریب ہے اور ماڈرنا کی ویکسین کو بھی ماہرین کے ایک گروہ کی حمایت حاصل ہے۔

    امریکی نگراں ادارے ایف ڈی اے کے سربراہ نے کہا ہے کہ وہ ماڈرنا کی ویکسین کی منظوری کے لیے اقدامات جلد کر رہے ہیں۔

    منظوری کے بعد کمپنی کو ویکسین کی لاکھوں خوراکیں بھیجنی ہوں گی۔ ملک میں فائزر کی ویکسین کا استعمال شروع ہو چکا ہے۔

    پوری دنیا کے مقابلے امریکہ میں کووڈ 19 سے سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ گذشتہ ہفتے اموات تین لاکھ سے تجاوز کر گئی تھیں۔ مشاورتی ٹیم کے 20 اراکین نے جمعرات کو ماڈرنا کی ویکسین کے فوائد پر اتفاق کیا تھا۔

  2. کورونا وائرس: دنیا بھر سے تازہ ترین صورتحال

    • یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ اگر یورپی یونین کے ریگولیٹر نے فائزر بائیو ٹیک ویکسین کو منظور کرلیا تو وہ 27 دسمبر سے اپنے 27 ممبر ممالک میں ویکسین پروگرام شروع کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس ویکسین کا جائزہ لینے کے لیے یورپی میڈیسن ایجنسی (ای ایم اے) کا اجلاس پیر کو ہونے والا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ میں پہلے ہی اسے لگایا جانا شروع کر دیا گیا ہے۔
    • فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اور وہ سات دن خود کو آئسولیشن میں رکھیں گے۔ ان کے ساتھ رابطے میں رہنے والے کئی دوسرے یورپی سیاستدانوں نے بھی خود کوآئسولیشن میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے دفتر نے بتایا کہ ان کی اہلیہ 67 سالہ، بریجٹ میکرون ، بھی آئسولیشن میں ہیں لیکن اب تک ان میں کوئی علامت نہیں سامنے آئی۔
    • سویڈن کے شہنشاہ کارل گوستاف 16ویں کا کہنا ہے کہ ان کا ملک کورونا وائرس سے نمٹنے کی کوششوں میں ناکام رہا ہے۔ پیر کو نشر ہونے والے ایک ٹی وی پروگرام میں انھوں نے کہا کہ بہت سارے لوگ مر چکے ہیں اور ملک ان کی مدد نہیں کر پایا۔ سویڈن یورپ کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جس نے مکمل لاک ڈاؤن نافذ نہیں کیا ہے۔
    • امریکی ریگولیٹرز کسی دوسری کورونا وائرس ویکسین کو ہنگامی اجازت دینے کے لیے غور کر رہے ہیں۔ ٹرائلز سے معلوم ہوا ہے کہ موڈرنا ویکسین کی کامیابی کی شرح بھی فائزر بائیو ٹیک جتنی ہی ہے یعنی تقریباً 95 فیصد۔
  3. کورونا وائرس سے خواتین کے مقابلے میں زیادہ مرد کیوں ہلاک ہو رہے ہیں؟

    20 جنوری 2020 کو جب چین کے علاقے ووہان سے سامنے آنے والی سانس کی پراسرار بیماری کے بارے میں زیادہ معلومات بھی نہیں تھیں، تب ماہرِ جینیات شیرون ماؤلم نے ٹوئٹر پر ایک بے باک پیش گوئی کی۔

    امریکہ میں مقیم 43 سالہ کینیڈین ڈاکٹر نے پوچھا تھا ’ووہان میں دریافت ہونے والی سانس کی بیماری سے زیادہ مرد کیوں مر رہے ہیں؟‘

    ان کا قیاس درست تھا۔

    گلوبل ہیلتھ 50/50 ڈیٹا بیس کے مطابق جن ممالک سے اعداد و شمار میسر ہیں ان کے مطابق کووڈ 19 سے خواتین کی بہ نسبت مرد زیادہ ہلاک ہو رہے ہیں۔

    30 نومبر کے بعد یمن میں ہونے والی ہلاکتوں میں تین چوتھائی تعداد مردوں کی تھی، بنگلہ دیش، تھائی لینڈ، ملاوی اور نائجیریا میں بھی یہی تناسب تھا جبکہ افغانستان اور پاکستان میں بھی لگ بھگ یہی صورتحال تھی۔

    ترکی، سربیا، کرغستان اور ہانگ کانگ میں یہ تعداد اندازاً 62 فیصد تھی۔

    ایسے ممالک جہاں اموات کی تعداد سب سے زیادہ رہی ان میں سے انڈیا اور میکسیکو میں 64 فیصد، برازیل میں 58 فیصد اور امریکہ میں 54 فیصد مرنے والے مرد تھے۔

    اسی ڈیٹا سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ انفیکشن سے دونوں اصناف یکساں متاثر ہوئی ہیں۔ تو پھر مرد کیوں کووڈ 19 سے غیر متناسب انداز میں ہلاک ہو رہے ہیں؟ اور کیا چیز ہے جو عورتوں کو بہتر انداز میں بچنے میں مدد دے رہی ہے؟

  4. جسٹن ٹروڈو: ’ویکسین ذخیرہ اندوزی‘ کرنے کی تردید

    کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ان نقادوں کو جواب دیا ہے جن کا دعویٰ ہے کہ ان کے ملک نے کووڈ ویکسین کی اتنی مقدار جمع کرنے کا حکم دیا ہے جس سے ملک کی آبادی کو پانچ مرتبہ ویکسین لگائی جا سکتی ہے اور ایسا کرکے وہ غریب ممالک کو زندگی بچانے والی اس ویکسین سے محروم کر رہے ہیں۔

    انھوں نے وبائی مرض کے دوران پہلی بار اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ایک مقامی ٹی وی سٹیشن کو بتایا کہ جیسے ہی چین سے نئی وبائی بیماری کی خبریں سامنے آنے لگی تھیں، ان کی خواہش تھی کہ وہ اسی وقت پی پی ایز کا آرڈر دے دیتے۔

    انھوں نے بدھ کے روز سٹی ٹی وی کو بتایا کہ ’مارچ اور اپریل میں جب فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز ماسک کو گھر لا کر اور دھو کر دوبارہ استعمال کر رہے تھے، اس وقت ان کی صحت کے بارے میں حقیقی خدشات تھے، یہ وہ چیز تھی جس سے میں بچنا چاہتا تھا۔‘

    انھوں نے کہا ،’اب سب ٹھیک ہے لیکن ان پہلے مہینوں میں مجھے لگتا ہے کہ ہمیں زیادہ تیار رہنے کی ضرورت تھی۔‘

    ’ہم نے بہت سی چیزیں سیکھیں ہیں، لیکن پی پی ای کے معاملے میں جو کچھ ہوا اس سے ہم نے یہ سیکھا کہ ویکسین کے معاملے میں جلدی کرنا ہے۔‘

    رائٹرز کے تجزیے کے مطابق، کینیڈا نے دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں فی کس زیادہ سے زیادہ ویکسین تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ پہلے ہی ملک کے 38 ملین شہریوں کے لیے تقریباً 414 ملین خوراکیں منگوائی گئیں ہیں۔

    کینیڈا نے پیر کو فائزر بائیو ٹیک ٹیک ویکسین لگانے کا آغاز کیا۔

    سرکاری عہدیدار امید کر رہے ہیں کہ موڈرنہ ویکسین کو بھی جلد ہی منظوری دے دی جائے گی، کیونکہ ملک کے دور درازعلاقوں تک پہنچنا آسان ہے۔

  5. کورونا ویکسین لگوانے والے 81 سالہ پاکستانی

    کورونا ویکسین کے بارے میں ہم سب نے ہی کہیں نہ کہیں سے افواہیں سن رکھی ہیں۔ برطانیہ کے شہر بریڈفورڈ سے تعلق رکھنے والے 81 سالہ پاکستانی نژاد محمد رفیع کو بھی کئی لوگوں نے ویکسین کے بارے میں افواہیں سنائیں، لیکن پھر بھی وہ ان لوگوں میں شامل ہوئے جنھوں نے ابتدائی ویکسین لگوائی۔

    انھوں نے ایسا کیوں کیا اور اب وہ کیسا محسوس کر رہے ہیں؟ یہ جاننے کے لیے دیکھیں ان کی گفتگو ہماری ساتھی گگن سبھروال کے ساتھ۔۔۔

  6. امریکہ میں ایک دن میں 3600 سے زیادہ اموات کا نیا ریکارڈ

    جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق بدھ کے روز امریکہ میں کورونا وائرس کے باعث 3600 سے زیادہ اموات ہوئیں۔

    امریکہ میں ویکسین پروگرام کا آغاز ہونے کے ساتھ ہی ایک بار پھر یومیہ اموات کی تعداد کا عالمی ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔

    بدھ کے روز امریکہ میں تقریباً دو لاکھ 50 ہزار نئے متاثرین کی اطلاع ملی۔

    ریاست کیلیفورنیا میں بھی ایک دن میں نئے متاثرین کا سابقہ ​​ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا ہے، بدھ کے روز 53،000 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔

    بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز (سی ڈی سی) کے مطابق ، کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد دل کی بیماریوں سے ہونے والی اموات سے زیادہ ہو گئی ہے۔

    اسی دوران ملک بھر کے ہسپتالوں میں بیڈز کی تعداد بھی کم ہوتی جا رہی ہے اور ہسپتالوں کے لیے تمام نئے مریضوں کو داخل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

  7. سعودی عرب اور بحرین نے ویکسین پروگرام کا آغاز کر دیا

    سعودی عرب نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے بڑے پیمانے پر ویکسین پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔

    ریاست کے وزیر صحت توفیق ربیع ان افراد میں شامل ہیں جنھیں فائزر بائیو این ٹیک ویکسین دی گئی ہے۔ اس ویکیسن کے استعمال کی منظوری حکام کی جانب سے گذشتہ ہفتے دی گئی تھی۔

    انھوں نے اپنے بیان میں اسے بحران کے خاتمے کی شروعات قرار دیا ہے۔

    وزیر صحت نے کہا کہ گذشتہ نو ماہ کے دوران انھوں نے ملک میں رجسرڈ ہونے والے کورونا کیسز کا بغور جائزہ لیا اور وہ پریشان کن صورتحال تھی لیکن آج وہ اس کا بخوشی جائزہ لے رہے ہیں کہ لوگوں کو ویکسین لگ رہی ہے۔

    خیال رہے کہ سعودی عرب میں اب تک کورونا متاثرین کی تعداد 360300 ہو چکی ہے جبکہ ملک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 6080 تک پہنچ چکی ہے۔

    دوسری جانب بحرین میں ویکسین کا آغاز بدھ کو ہوا تھا۔ وہاں چین کی سائنو فارم ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ بحرین میں کورونا سے 349 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ کیسز کی تعداد 89600 ہے۔

  8. کرسمس منانے کے لیے `محفوظ ترین مقام` آپ کا گھر ہے

    سکاٹ لینڈ کی ڈپٹی فرسٹ منسٹر نکولا سٹرجین نے ایک کرسمس سے متعلق حکومتی گائیڈ لائنز کو اپنانے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرسمس کے لیے محفوظ ترین جگہ گھر میں گھر والوں کے ساتھ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس تہوار کو منانے کا محفوظ ترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اسے اپنے گھر پر گھر والوں کے ساتھ منائیں اور اگر لوگوں کے لیے ممکن ہو سکے تو وہ گھر کے باہر لوگوں سے گھلنے ملنے میں فاصلہ رکھیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اگر لوگوں کو میل جول کرنا ضروری ہے تو وہ ان سے ان کے گھروں کے اندر ملیں اور کوشش کریں کہ جس قدر ممکن ہو لوگوں کی تعداد اور ملنے کے اوقات کو محدود رکھیں۔

  9. پشاور کے سات مقامات پر سمارٹ لاک ڈاؤن

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاورکے مختلف علاقوں میں کورونا متاثرین میں تیزی سے اضافہ ہونے کی وجہ سے آج شام چھ بجے سے سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔

    اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر پشاور محمد علی اصغر نے تحریری نوٹس جاری کیا ہے۔

    بتایا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی ہدایات کو مدنظر رکھتے ہوئے سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا جا رہا ہے۔

    سمارٹ لاک ڈاؤن کی فہرست میں سات علاقے شامل کیے گئے ہیں اور یہ احکامات اگلے نوٹس تک نافذ العمل رہیں گے۔

  10. برطانیہ میں آپ کو قرنطینہ کے کن اصولوں پر عمل کرنا ہو گا؟

    برطانوی شہریوں سمیت کسی بھی ملک کے شہریوں کو برطانیہ پہنچنے پر 10 دن کے لیے قرنطینہ میں جانا ہوگا۔

    ہاں ان افراد کو استثنیٰ حاصل ہے جو آئرلینڈ، چینل آئلینڈ یا ان ممالک سے آ رہے ہیں جو برطانوی سفری راہ داری کے اندر شامل ہیں۔

    مسافروں کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنا برطانیہ کا پتہ اس فارم میں لکھیں جسے ’پیسنجر لوکیٹر‘ کا نام دیا گیا ہے یعنی اس کی مدد سے برطانیہ آنے والوں کی رہائش کے بارے میں معلوم ہو سکے گا تاکہ یہ معلوم رہے کہ وہ کہاں ہیں۔

    برطانیہ پہنچنے کے بعد یہ لوگ سفر کے لیے ٹیکسی یا پبلک ٹرانسپورٹ استعمال نہیں کر سکتے۔

    • نہ سکول جا سکیں گے نہ کام پر اور نہ ہی عوامی مقامات پر
    • کسی بہت ضرورت کے علاوہ ان سے کوئی نہیں مل سکتا۔
    • خوراک خریدنے کے لیے اور دیگر اشیا کے لیے باہر نہیں نکل سکتے اگر وہ دوسروں کی مدد لے سکتے ہوں۔
    • اگر آپ کو سفر کے بعد خود کو تنہا کرنا پڑتا ہے آپ کو شاید اس وقت تک بیماری کی صورت میں تنخوا کا حق نہ ملے جب تک آپ اس کے لیے شرائط پر پورے نہ اترتے ہوں جیسا کہ کورونا وائرس کی علامات وغیرہ۔

    خیال رہے کہ سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ نے قرنطینہ کے حوالے سے اپنے الگ قوانین بنا رکھے ہیں جو کچھ حد مختلف بھی ہیں۔

  11. بریکنگ, میکخواں کورونا وائرس میں مبتلا ہو گئے

    فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ایمانویل میخواں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا۔

    حکام کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ 42 سالہ صدر نے کورونا کی علامات ظاہر ہونے پر ٹیسٹ کروایا تھا اور اب وہ سات دن کے لیے خود ساختہ تنہائی میں چلے گئے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ میکخواں اب بھی ملک کے `انچارج` ہیں اور وہ اپنا کام تنہائی میں رہتے ہوئے جاری رکھیں گے۔

    خیال رہے کہ فرانس نے رواں ہفتے بڑھتے ہوئے کورونا کیسز سے نمٹنے کے لیے رات کا کرفیو نافذ کیا تھا۔

    جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعدادو شمار کے مطابق وہاں اب تک کورونا کے مصدقہ کیسز کی تعداد 20 لاکھ ہو چکی ہے۔ اور وبا کے شروع ہونے سے اب تک 59400 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  12. جاپانی وزیراعظم نے ’ہوٹل میں دوستوں کے ساتھ پارٹی کرنے‘ پر معافی مانگ لی

    جاپان کے وزیر اعظم یوشیہیڈے سوگا نے گذشتہ روز اپنے سات دوستوں کے ساتھ ایک ہوٹل میں رات کا کھانا کھایا۔ جس کے بعد اُنھیں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے پر معذرت کرنا پڑی۔

    اُن سمیت اُن کے چھ دیگر دوستوں کی عُمریں ستر سال سے زیادہ ہیں۔

    جاپانی وزیر اعظم نے کہا گو کہ ہم نے تمام تر احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے ہوٹل میں کھانا کھایا مگر اس کے باوجود اُنھیں اپنے یوں ہوٹل میں جانے اور ’دوستوں کے ساتھ پارٹی کرنے‘ کے فیصلے پر افسوس ہے۔

    جاپان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر شدید خطرناک ثابت ہو رہی ہے اور ملک میں کورونا سے متاثرین کی تعداد ایک لاکھ اٹھاسی ہزار سے زیادہ جبکہ اس وائرس نے جاپان میں دو ہزار چھ سو سے زیادہ افراد کی جان لی ہے۔ جاپان کی حکومت نے اس بات کو بھی تسلیم کیا ہے کہ وہ کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے اور یومیہ کیسز کی تعداد میں کمی لانے کے اپنے منصوبے میں ناکام ہوئے ہیں۔

  13. ’وٹامن ڈی سے کورونا کے علاج کے شواہد نہیں ملے‘

    ماہرین کے ایک گروہ نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وٹامن ڈی کے سپلیمنٹس لوگوں کو کورونا وائرس سے محفوظ نہیں رکھ سکتے کیونکہ اس سے متعلق ضروری شواہد موجود نہیں۔

    برطانیہ میں اس گروہ میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسیلینس، پبلک ہیلتھ انگلینڈ اور غدائیت پر مشاورتی کمیٹی کے ماہرین شامل تھے۔

    ماہرین نے اس کے باوجود موسم سرما میں لوگوں کو تجویز دی ہے کہ روزانہ یہ سپلیمنٹس کھانے سے ہڈیاں اور پٹھے مضبوط رہتے ہیں۔

    برطانیہ میں سب سے متاثرہ طبقے کو وٹامن ڈی کے سپلیمنٹس مفت بانٹے جا رہے ہیں۔

  14. پاکستان میں کورونا سے مزید 70 اموات

    پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ روز ملک میں کورونا وائرس سے مزید 70 اموات ہوئی ہیں جبکہ اسی دوران کووڈ 19 کے 2,545 نئے متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں عالمی وبا سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 7,993 ہے۔

    پاکستان میں اب مجموعی طور پر کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 448,522 ہوچکی ہے جن میں سے 42,851 کیسز زیر علاج ہیں۔ ملک میں کووڈ 19 سے ہونے والی ہلاکتوں کی کل تعداد 9,080 ہے۔

    پاکستان میں سب سے زیادہ مصدقہ متاثرین صوبۂ سندھ میں 199,706 (20,132 زیر علاج) ہے۔ صوبۂ پنجاب میں کووڈ 19 سے سب سے زیادہ کل 3,491 اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔

  15. ایک ایسا ڈاکٹر جس میں ’دوسری بار کورونا کی تشخیص ہوئی ہے‘

    بریڈ فورڈ رائل انفرمری کے ڈاکٹر جان رائٹ نے عالمی وبا کے آغاز میں موسم گرما میں کووڈ 19 کا ٹیسٹ کروایا تھا جس میں یہ ظاہر ہوا تھا کہ شاید وہ کورونا سے متاثر ہیں تاہم ان میں علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں اور ان کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔

    لیکن گذشتہ ہفتے کورونا کی تشخیص کے لیے ایک سواب ٹیسٹ میں ان کے نتائج دوبارہ مثبت آئے ہیں۔ تو اس کا کیا مطلب ہے؟

    اس بار ان کے مطابق جب دیگر این ایچ ایس ملازمین کی طرح انھوں نے معمول میں کووڈ 19 ٹیسٹ کروایا تو ’مجھے اس پر یقین نہیں ہوا۔‘ لیکن مثبت ٹیسٹ کی دوبارہ تصدیق بھی ہوئی۔

    اس کے بعد انھیں 10 روزہ آئسولیشن میں جانا پڑا۔

    اس کی وضاحت وہ کچھ اس طرح دیتے ہیں کہ ممکن ہے کہ جسم میں کووڈ 19 کی اینٹی باڈیز جلد کم پڑ جاتی ہوں۔ شاید اسی وجہ سے پہلی مرتبہ کے مقابلے دوسری بار انھیں کووڈ 19 کی علامات بھی محسوس بھی ہوئیں، جیسے سونگھنے کی حس سے محروم ہوجانا۔ وہ خود بھی اس سوال کا جواب تلاش رہے ہیں کہ آیا انھیں نو ماہ میں ’دو بار کورونا ہوا؟‘

    لیکن اسی دوران ان کی اہلیہ نے کورونا کی ویکسین استعمال کی ہے اور اب گھر میں ایک شخص کووڈ 19 سے متاثر ہے جبکہ دوسرا اس سے بظاہر محفوظ ہے۔

    لیکن اس کے باوجود ان کی اہلیہ کو ان سے دور رہنا پڑے گا جب تک کورونا کے خلاف ان کی قوت مدافعت بہتر نہیں ہوجاتی۔

    تاہم دوسری مرتبہ کورونا وائرس کی تشخیص ہونے کے کیسز کافی کم سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں نے اس امکان کا بھی اظہار کیا ہے کہ ہوسکتا ہے کورونا نے میوٹیشن کے ذریعے اپنی شکل اب تبدیل کر لی ہو جسے جسم ایک نئے وائرس کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

    ان کے لیے ایک دوسرا امکان یہ ہے کہ ہوسکتا ہے گرمیوں میں ان کے جسم نے کورونا وائرس کی کسی دوسری قسم (جیسے کامن کولڈ) کی تشخیص کی ہو۔

  16. برطانیہ: ’لوگ کرسمس کی تقریبات کو چھوٹا اور مختصر رکھیں‘

    برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن نے عوام سے کہا ہے کہ وہ کرسمس کی تقریبات کو مختصر اور چھوٹا رکھیں تاکہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔

    پابندیوں میں 23 سے لے کر 27 دسمبر تک نرمی کی جائے گی تاہم وزیرِ اعظم نے کہا کہ لوگوں کو دوستوں اور رشتے داروں سے ملنے سے قبل ’اچھی طرح‘ سوچنا چاہیے۔

    برطانیہ میں بدھ کے روز کورونا کے 25 ہزار 161 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔

  17. عالمی ادارہ صحت کی ٹیم وائرس کی ابتدا کے بارے میں جاننے کے لیے ووہان جائے گی

    عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ 10 بین الاقوامی سائنسدانوں کی ایک ٹیم آئندہ ماہ چین کے شہر ووہان کا دورہ کرے گی تاکہ کووڈ 19 کے آغاز کی وجوہات کا پتہ چلا جا سکے۔

    چین نے کسی آزادانہ تحقیقات کی مخالفت نہیں کی ہے تاہم عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ وہ کئی ماہ سے ووہان تک رسائی کے لیے چین سے مذاکرات کر رہا تھا۔

    واضح رہے کہ کووڈ 19 کے بارے میں خیال ہے کہ اس کی ابتدا ووہان میں جانوروں کی ایک مارکیٹ سے ہوئی تھی۔

    تاہم اس کی ابتدا کی وجوہات کی کھوج سے چین اور امریکہ کے درمیان تنازع پیدا ہوا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے وبا پھوٹنے پر اسے چھپانے کی کوشش کی۔

    ووہان جا رہی ٹیم کے ایک بائیولوجسٹ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ عالمی ادارہ صحت کی ٹیم ذمہ داروں کے تعین کے لیے نہیں بلکہ مستقبل میں کسی وبا کی روک تھام کے لیے ووہان جا رہی ہے۔

    جرمنی کے روبرٹ کوک انسٹیٹیوٹ کے فیبیئن لینڈرٹز کا کہنا تھا کہ ’یہ قصوروار ملک کی تلاش نہیں بلکہ یہ سمجھنے کی کوشش ہے کہ ہوا کیا تھا، اور پھر یہ دیکھنا ہے کہ کیا اس ڈیٹا کی بنا پر ہم آئندہ خطرے کو روک سکتے ہیں؟‘

  18. برطانیہ اور انڈیا ویکسین کا مشترکہ مرکز بنائیں گے

    انڈیا اور برطانیہ نے ویکسین کا ایک مشترکہ مرکز تیار کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس کے ذریعے وہ مستقبل میں وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے زیادہ قریبی تعاون کرسکیں گے۔

    دہلی میں انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد برطانیہ کے خارجہ سیسٹریری ڈومینک راب نے یہ اعلان کیا جو انڈیا کے تین روزہ دورے پر ہیں۔

    دنیا کی آدھی سے زیادہ ویکسین انڈین دوا ساز کمپنیوں کے ذریعہ فراہم کی جاتی ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ انڈیا کا سیرم انسٹی ٹیوٹ آکسفورڈ - آسٹرازنیکا ویکسین کی ایک ارب سے زائد خوراکیں تیار کرے گا۔

  19. کورونا وائرس سے خواتین کے مقابلے میں زیادہ مرد کیوں ہلاک ہو رہے ہیں؟