دنیا کی دوسری سب سے بڑی آبادی والے ملک انڈیا میں کورونا وائرس کے کیسز کی یا تو تعداد کم بتائی جا رہی ہے یا ٹیسٹ کم کیے جا رہے ہیں۔
اگر آپ میں بخار اور زکام جیسی علامات ہیں اور آپ دلی کے کسی سرکاری ہسپتال میں جا کر کورونا وائرس کا ٹیسٹ کروانا چاہتے ہیں تو آپ کو واپس بھیج دیا جائے گا۔
دہلی حکومت کے سیکریٹری برائے صحت کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر ریتو کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے لیے پہلے ہیلپ لائن پر کال کرنی ہوگی۔
ڈاکٹر ریتو کا کہنا ہے کہ 'اگر آپ کو کورونا وائرس کا شبہ ہے توپہلے ہسپتال جانے کی بجائے ہیلپ لائن پر کال کریں۔ آپ سے سوالات پوچھے جائیں گے اور اگر ضرورت پڑی تو آپ کو ہسپتال جا کر ٹیسٹ کروانے کا کہا جائے گا۔‘
انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے رہنما اصولوں کے مطابق 'یہ مرض بنیادی طور پر متاثرہ ممالک سے سفر کرنے والے افراد یا جنھیں یہ مرض ہوا ہے اس کے قریبی رابطے میں آنے سے ہوتا ہے۔ لہذا تمام افراد کی جانچ نہیں ہونی چاہیے۔'
دہلی کے مہارانی باغ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سواتی کچھ دن قبل بخار اور کھانسی میں مبتلا ہونے کے بعد رام منوہر لوہیا ہسپتال گئی تھیں تاکہ کرونا وائرس کا ٹیسٹ کرایا جاسکے۔
وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں اور حال ہی میں بہار سے واپس آئی ہیں۔ ان کا ٹیسٹ نہیں کیا گیا۔
ہسپتال نے انھیں یہ کہتے ہوئے واپس بھیج دیا کہ انھوں نے بیرون ملک سفر نہیں کیا تھا اور بخار اور کھانسی کی وجہ سے کورونا وائرس کی ضرورت نہیں ہے۔
صحت کے ماہرین کورونا وائرس کی جانچ کے اس حکومتی نظام پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک ارب سے زیادہ آبادی والے ملک میں ٹیسٹ بہت کم ہو رہے ہیں۔
ایشیا اور اوشیانا میں میڈیکل ایسوسی ایشن کی تنظیم (سی ایم اے اے او) کے صدر ڈاکٹر کے کے اگروال اس سرکاری طریقہ کار سے متفق نہیں ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ 'یہ طریقہ محدود کرنے والا ہے۔ جنوبی کوریا، ہانگ کانگ اور سنگاپور میں لبرل (لبرل) طریقہ اپنایا گیا ہے جہاں سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں کورونا وائرس کی علامت والے ہر مریض کا فوری طور پر ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔'
ڈاکٹر اگروال کی تنظیم میں جنوبی کوریا بھی شامل ہے جہاں وہ ڈاکٹروں سے مستقل رابطے میں رہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جنوبی کوریا کا ماڈل انڈیا میں بھی اپنایا جائے۔
تو کیا یہ ممکن ہے کہ انڈیا میں کورونا وائرس کی رپورٹ کم کر کے پیش کی جا رہی ہیں؟
ڈاکٹر اگروال کہتے ہیں: 'میں یہ نہیں کہوں گا۔ کم کر کے بتانے کا مطلب یہ ہے کہ اگر تعداد 100 ہے تو آپ 60 بتا رہے ہیں۔ یہاں تو ٹیسٹ ہی کم کیے جارہے ہیں جس کی وجہ سے کم معاملے سامنے آ رہے ہیں۔'