آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا وائرس: دنیا میں اب تک کیا ہوا؟

دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9 لاکھ سے اور ہلاکتیں 45 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ صرف امریکہ میں مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یورپ میں 30 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر سعودی عرب نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بکنگ کروانے سے پہلے مزید انتظار کریں۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں ٹینس کا ٹورنامنٹ ومبلڈن بھی کینسل ہو گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 212 ہوگئی

    پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی مجوعی تعداد 212 ہو گئی ہے۔ پاکستان میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ سندھ میں کووڈ-19 کے نئے مریض سامنے آنے کے بعد منگل کو متاثرین کی تعداد 172 تک پہنچ گئی ہے جبکہ پنجاب میں بھی سات نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے اور وہاں مجموعی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔

    سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سندھ اور پنجاب کے علاوہ خیبر پختونخوا میں 15، بلوچستان میں 10، اسلام آباد میں چار اور گلگت بلتستان میں کورونا کے تین مریض موجود ہیں۔

    سندھ کی وزیر صحت کی میڈیا کورڈینیٹر میران یوسف کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق سندھ میں 17 نئے مریضوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جن میں سے دو مریض کراچی میں جبکہ 15 مریض سکھر میں ہے جو تافتان سے آئے زائرین کے قافلے میں شامل تھے۔

  2. پاکستانی شناختی کارڈز کی مدت میں توسیع

    نادرا نے کہا ہے کہ وہ شناختی کارڈ جن کی مدت ختم ہو چکی ہے یا ختم ہونے والی ہے انھیں 1 جولائی 2020 تک تسلیم کیا جائے گا۔ نادرا نے شہریوں سے یہ گزارش بھی کی ہے کہ وہ شناختی کارڈ میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے نادرا کے دفتروں کا رخ کرنے کی بجائے اس کی ویب سائٹ پر جائیں۔

  3. پنجاب میں کورونا سے متاثر مریضوں کی تعداد آٹھ ہو گئی

    پنجاب حکومت کے محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کے ترجمان کے مطابق صوبے میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔

    پنجاب کے محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کے ترجمان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے کے شہر گجرات میں عزیز بھٹی ہسپتال میں داخل ایک اور مریض میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئیہے۔ جبکہ ڈی جی خان میں قرنطینہ میں رکھے گئے 42 زائرین میں سے 6 میں بھی وائرس کی تصدیقہوئی ہے۔

    ترجمان محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق صوبے میں اس وقت مجموعی طور پر کورونا وائرس کے آٹھ مریضوں کو آئسولیشن وارڈز میں رکھا گیا ہے۔

  4. کورونا وائرس: کیا تفتان پاکستان کا ووہان ثابت ہو سکتا ہے؟

  5. ممبئی: گھر میں قرنطینہ یقینی بنانے کے لیے ہاتھ پر مہر, اپرنا الوری، بی بی سی نیوز، دلی

    ممبئی میں حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ ایئرپورٹ اور ہسپتالوں میں ایسے لوگوں کے ہاتھوں مپر مہر لگائیں جنھیں گھر میں قرنطینہ میں رہنا چاہیے۔

    اس مہر کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس میں وہ تاریخ درج ہے کہ جب تک اس شخص کو قرنطینہ میں رہنا ہے۔

    انڈیا میں اب تک وائرس کے 126 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے اور تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    ماہراشٹرا کے وزیر اعلیٰ اودھو ٹھاکرے کا کہنا ہے کہ ’وہ افراد جنھیں خود قرنطینہ میں رہنا چاہیے لیکن وہ ہسپتال یا ہوٹلوں میں نہیں جانا چاہتے انھیں ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔ انھیں آزادی سے باپر نہیں پھرنا چاہیے۔ انھیں سختی سے قرنطینہ پر عمل کرنا چاہیے‘۔

    اس مہر میں وہی سیاحی استعمال کی جا رہی ہے جو انتخابات میں کی جاتی ہے۔

    ریاست کے وزیر صحت کا کہنا ہے کہ یہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ جنھیں گھر میں قرنطینہ میں رہنا چاہیے وہ اس پر سختی سے عمل کریں اور اگر وہ باپر نکلتے ہیں تو دوسرے لوگ ان کی شناخت کر سکیں۔

  6. ایران: گذشتہ 24 گھنٹوں میں 135 ہلاکتیں

    ایران میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 135 مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔

    منگل کو ایران کی وزارتِ صحت کے ترجمان نے بتایا کہ اس وقت ایران میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی کُل تعداد 988 ہے۔

    ایران میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 16169 ہوگئی ہے جبکہ 5389 صحتیاب ہو چکے ہیں۔

  7. اسرائیل: کورونا وائرس کے کیسز ٹریک کرنے کے لیے ’شہریوں کی جاسوسی‘

    اسرائیل میں داخلی سکیورٹی ایجنسی شاباک نے منگل کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسے یہ کام سونپا گیا ہے کہ وہ محلق کورونا وائرس سے مقابلے کے لیے شہریوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرے اور وہ یہ کام فوری طور پر شروع کر رہے ہیں۔

    خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے منظوری نہ ملنے کے بعد ملک کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے ہنگامی قوانین کے تحت اس اقدام کی اجازت دی ہے۔ جس پارلیمانی کمیٹی کو اسے منظور کرنا تھا اس نے اسے فی الحال یہ کہہ کر منظور کرنے سے انکار کر دیا ہے کہ انھیں اس پر غور کے لیے مزید وقت کی ضرورت ہے۔

    منگل کو شاباک نے اپنے بیان میں کہا کہ حکوت نے ’کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے کی جانے والی قومی جدوجہد میں شن بیت کو اپنی جدید ٹیکنالوجی بروئے کار لانے کی منظوری دی ہے‘۔

    شاباک کے ایک ترجمان نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس پالیسی کو فوری طور پر نافذ کر دیا گیا ہے۔

    ان ہنگامی اقدامات سے پہلے اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کے ایک رکن کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے خلاف لڑائی میں ایک جاسوس ادارے کو شامل کیا جانا ایک ’خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے‘

    شاباک کے بیان میں ایجنسی کے چیف نادو ارگمان کا کہنا ہے کہ وزیر صحت نے ایجنسی سے رجوع کیا تھا کہ وہ کورونا وائرس سے ممکنہ طور پر متاثرہ افراد کو ٹریک کرنے میں مدد کرے کیوں کہ ’یہ بات سامنے آئی تھی کہ ریاست کے دیگر اداروں کے پاس ضروری ٹیکنالوجی نہیں ہے‘۔

  8. ایران: فاطمہ معصومہ کے مزار میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش

    ایران کے شہر قُم میں بعض افراد نے زبردستی فاطمہ معصومہ کے مزار میں داخل ہونے کی کوشش کی ہے۔ مزار کو کورونا وائرس کی وجہ سے عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا۔

    ایران میں جب کورونا وائرس پھیلنا شروع ہوا تھا تو ماہرین نے اس مزار کو بند نہ کرنے پر خدشات کا اظہار کیا تھا کیونکہ وہاں ہر سال لاکھوں زائرین آتے ہیں۔

    مزار کے خادم آیت اللہ محمد سعیدی نے اُس وقت کہا تھا کہ اسے ’شفا کے گھر‘ کے طور پر کھلا رکھنا چاہیے اور یہاں آنے کے لیے ’لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔‘

    ایران کے ممبر پارلیمان علی مطاہری نے مزار میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کرنے والے افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ یہ نہ ’صرف صحت کے لیے خطرہ ہے‘ بلکہ انھوں نے ’اسلام کو بدنام‘ کیا ہے۔

    ایران میں کورونا وائرس سے اب تک 853 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 14 ہزار 991 افراد میں اس مرض کی تشخیص ہو چکی ہے۔ ایران چین اور اٹلی کے بعد اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔

  9. صدر ٹرمپ کی جانب سے کورونا کو ’چینی وائرس‘ کہنے پر تنازعہ, مائیکل برسٹو، بی بی سی کے مدیر برائے ایشیا پیسیفک

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کورونا وائرس کو ’چینی وائرس‘ کہنے پر چین نے غصے کا اظہار کیا ہے۔

    کئی دنوں سے صدر ٹرمپ اور دیگر امریکی حکام بار بار اس بات پر زور دے رہے تھے کہ اس وائرس کا پھیلاؤ چین کے شہر وہان سے شروع ہوا ہے۔

    دوسری جانب چینی جریدے گلوبل ٹائمز کے مطابق چین میں انٹرنیٹ صارفین اور ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ کی فورٹ ڈیریک لیبارٹری کا کورونا وائرس کے ساتھ کوئی تعلق ہے کیونکہ اتفاق سے لیبارٹری کی بندش ایک ایسے وقت میں ہوئی جب دنیا بھر میں کورونا وائرس پھیلنا شروع ہوا۔

    چین کے مطابق وائرس کو کسی ملک سے منسوب کرنے سے اس کی تضحیک ہوتی ہے۔

  10. کورونا کے مریض کا علاج کرنے والے ڈاکٹر میں مرض کی تشخیص

    انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک میں اس 60 سالہ ڈاکٹر میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جو کورونا وائرس کے ہی ایک ایسے مریض کا اعلاج کر رہا تھا جو گذشتہ ہفتے ہلاک ہوگیا تھا۔

    حکام کے مطابق ڈاکٹر کو کورونا وائرس کے علاج کے لیے مختص ہسپتال میں رکھا گیا ہے۔

    حکام نے ریاست کے علاقے کالبُرگی کو بند کر دیا ہے اور ہر گھر سے صرف ایک شخص کو ضروری سامان خریدنے کے لیے گھر سے نکلنے کی اجازت ہے۔

    ہلاک ہونے والا شخص ایک 76 سالہ مرد تھا جو سعودی عرب سے واپس آیا تھا۔

  11. ’لندن ٹرانسپورٹ محدود، سکولوں سے متعلق احکامات بدل سکتے ہیں‘

    پیر کو برطانیہ میں صحت کے حکام کا کہنا تھا کہ ملک کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں لندن میں کورونا وائرس زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے اور آج لندن کے میئر صادق خان حکومت کی ایمرجنسی کوبرا میٹنگ میں شرکت کریں گے۔

    وہ منگل کی صبح ٹی وی پر سکولوں کی بندش اور دارالحکومت میں دیگر مسائل پر بات کرتے نظر آئے ہیں جس دوران ان کا کہنا تھا کہ ٹراسپورٹ نیٹ ورک کے وسائل میں بڑے پیمانے پر کمی ہو سکتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا ’آنے والے دنوں میں ہم ایسا کر سکتے ہیں کہ دوران ہفتہ سنیچر یا اتوار کی طرز کی سروس (ویک اینڈ پر لندن میں دوران ہفتہ کے مقابلے میں محدود یا اتنی روانی سے ٹیوب یا ٹرین سروس نہیں چلتی ہے) چلائیں اور شاید آئندہ چند دنوں اور ہفتوں میں اسے مزید محدود کر دیا جائے۔ ‘

    ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’بنیادی پبلک ٹراسپورٹ‘ اگلی صفحوں میں کام کرنے والے میڈیکل سٹاف، فائر فائٹرز اور پولیس والوں کے لیے ضروری ہے۔

    سکولوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے صادق خان کا کہنا تھا کہ فی الحال تو یہ کہا گیا ہے کہ سکولوں کی بندش سے زیادہ فائدہ نہیں ہوگا لیکن ایسا جلد ہی بدل سکتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے بعض ٹیچر حاملہ ہوں، دیگر کے صحت کے مسائل ہو سکتے ہیں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی بچے کو کھانسی یا بخار ہو جائے اور اس کے والدین اسے خود ہی سکول نہ آنے دیں تو ایسے میں ’میں حیران نہیں ہوں گا اگر آئندہ دو ہفتوں میں ایسٹر سے پہلے حکومتی احکامت میں تبدیلی آجائے‘۔

  12. 15 پولش وزیر قرنطینہ میں

    پولینڈ میں 15 حکومتی وزرا کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ یہ اقدام وزیراعظم کے چیف آف سٹاف کے اس اعلان کے بعد اٹھایا گیا ہے کہ 29 سالہ وزیر ماحولیات میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    ان میں پیر کو کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔ حکومت کی آخری میٹنگ 10 مارچ کو ہوئی تھی۔

    چیف آف سٹاف کے مطابق اس میٹنگ سے وزیراعظم اور وزیر صحت کے علاوہ 24 وزرا غیر حاضر تھے۔ باقی وزرا کا پیر کو ٹیسٹ کیا گیا تھا جس کے بعد نتائج کے انتظار کے دوران انھیں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

    پولینڈ میں اب تک کورونا وائرس کے 177 کیسز سامنے آئے ہیں اور 4 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  13. بریکنگ, غیر ملکی کھلاڑی میں کورونا کی علامات ٹورنامنٹ کے التوا کی وجہ

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان کا کہنا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کے مقابلے ملتوی کرنے کی وجہ لیگ میں حصہ لینے والے ایک کھلاڑی کے کورونا کے مشتبہ کیس کے طور پر سامنے آنا بنا۔

    منگل کو لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس غیرملکی کھلاڑی میں علامات ظاہر ہوئی تھیں اور اب یہ کرکٹر پاکستان سے جا چکا ہے۔

    وسیم خان نے اس کھلاڑی کا نام ظاہر نہیں کیا۔ نذکورہ غیرملکی کرکٹر میں گذشتہ چوبیس گھنٹے میں علامات سامنے آئی ہیں۔

    خیال رہے کہ کورونا کی وبا پھیلنے کے بعد پی ایس ایل میں شریک 10 سے زیادہ غیرملکی کرکٹ پاکستان سے واپس جا چکے ہیں۔

    وسیم خان کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل ملتوی کرنے کا فیصلہ کھلاڑیوں اور آفیشلز کے تحفظ کے پیش نظر کیا گیا ہے اور یہ فیصلہ فرنچائزز کے دباؤ کا نتیجہ نہیں۔

  14. علاج کے بعد ٹام ہینکس اور اہلیہ ہسپتال سے ڈسچارج

    امریکی اداکار ٹام ہینکس اور ان کی اہلیہ ریٹا وِلسن کو کورونا وائرس کے علاج کے بعد آسٹریلیا میں پسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔

    یہ دونوں اب کوئنز لینڈ میں ایک کرائے کے گھر میں خود ساختہ قرنطینہ میں ہیں۔ انھوں نے گذشتہ ہفتے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ دونوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    آسٹریلیا میں اس وقت کورونا وائرس کی 375 کیسز کے تصدیق ہو چکی ہے۔

  15. بریکنگ, یورپ میں کورونا کی صورتحال

  16. پاکستان سے افغانستان جانے والے مہاجرین کی دوبارہ آباد کاری کا عمل رک گیا

    مہاجرین کے بارے میں اقوام متحدہ کے کمیشن نے پاکستان سےافغانستان جانے والے مہاجرین کی دوبارہ آباد کاری کا عمل روک دیا ہے۔ یہ اقدام پاکستانی حکومت کی طرف سے کرونا وائریس کے پھیلاو کو روکنے سے متعلق طورخم اور چمن بارڈر کی بندش کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

    مہاجرین سے متعلق اقوام متحدہ کے کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبہ خیبر پختون خوا کے علاقے نوشہرہ میں قائم ازاخیل اور بلوچستان کے علاقے بالیلی میں قائم سینٹرز کو بند کردیا گیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کرونا وائریس کی روک تھام کے لیے دنیا بھر اور پاکستان کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کے ساتھ ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ موسم سرما کی تین ماہ کی چھٹیوں کے بعد2 مارچ کو مہاجرین کی افغانستان آباد کاری کا سلسلہ دوباہر شروع کیا گیا تھا اور رواں ماہ اب تک 28افغان مہاجرین اپنے وطن واپس جاچکے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اس وقت لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین موجود ہیں جو کہ اقوام متحدہ کے ادارے کے پاس رجسٹرڈ ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اس پروگرام کے تحت سنہ 2002 سے لیکر اب تک 44 لاکھ سے زیادہ مہاجرین کو ان کے ملک افغانستان بھھیجا گیا ہے۔

  17. سندھ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 155 ہوگئی

  18. بریکنگ, پاکستان سپر لیگ کے سیمی فائنل اور فائنل میچ ملتوی

    پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستان سپر لیگ کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ کورونا وائرس سے لاحق خطرات کے باعث پاکستان میں کھیلی جانے والی ٹی20 لیگ کے بقیہ میچوں کو ملتوی کیا جا رہا ہے۔

    پی ایس ایل کی انتظامیہ کے مطابق باقی میچوں کے لیے نئے شیڈول کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

  19. اسلام آباد: چینی باشندے ماسک ذخیرہ کرنے کے الزام میں گرفتار

    اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے ایف 7 ون سیکٹر میں واقع ایک گھر میں چھاپہ مار کر وہاں پر رکھے ہوئے کروڑوں روپے مالیت کے فیس ماسک برآمد کر لیے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے بتایا کہ ان چینی باشندوں کے خلاف مقدمہ درج کرکے اُنھیں گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    تھانہ کوہسار کے ایس ایچ او اطہر خان نے بی بی سی کے شہزاد ملک کو بتایا کہ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے منگل کی صبح کارروائی کی جس کے دوران تین کنٹینرز میں رکھے گئے دو کروڑ مالیت کے ماسک برآمد کر لیے ہیں۔

    ایس ایچ او کوہسار کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں حراست میں لیے گئے افراد کا کہنا ہے کہ ان کی صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے گدون امازئی میں سٹیل مل ہے اور وہاں پر 500 سے زیادہ ملازمین کام کرتے ہیں اور یہ ماسک ان کی حفاظت کے لیے خریدے گئے تھے۔

    پولیس حکام کا کنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ زیر حراست افراد کے اس بیان کی روشنی میں تفتیش کر رہی ہے اور اگر ان کی یہ بات درست ثابت ہوئی تو ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔

  20. عمران خان: ’کورونا وائرس غریب ممالک کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے‘

    پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس غریب ممالک کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

    امریکی جریدے بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو میں پاکستان کے وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اس وقت عالمی برادری کو ترقی پزیر ممالک کے قرضوں کی معافی اور ایران جیسے ممالک پر عائد پابندیوں ہٹانے کے حوالے سے اقدامات لینے چاہییں۔

    ان کے مطابق پاکستان کی ’صحت سے متعلق سہولیات کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ یہ صرف پاکستان ہی نہیں، میرے خیال میں انڈیا، خطے کے دیگر ملکوں اور افریقی ممالک میں بھی یہی صورتحال ہوگی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ وائرس پھیلا تو ہم سب کو صحت کی سہولیات سے متعلق مسائل کا سامنا ہوگا۔ ’ہمارے پاس اس سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں ہے، ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ معیشت پر سست روی کے اثرات کو دیکھتے ہوئے ان کو سب سے زیادہ تشویش غربت اور بھوک پر ہے۔

    ’اس صورتحال کے پیش نظر میرے خیال میں عالمی برادری کو ہمارے جیسے ممالک کے لیے قرضوں کی معافی جیسے اقدامات کےبارے میں سوچنا چاہیے، جو بہت خطرات سے دوچار ہیں۔ یہ ہمیں کم از کم اس سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے گا۔‘

    انھوں نے ایران کا خاص ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’میں ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے اُس کی وجہ سے ڈرا ہوا ہوں کیونکہ ایران پر عائد پابندیوں نے پہلے ہی اُنھیں غربت سے دوچار کر دیا ہے اور اُس کے اوپر یہ وائرس ہے۔‘

    ان کے مطابق یہ ایک واضح مثال ہونی چاہیے کہ جہاں کم از کم طور پر ایران پر عائد پابندیوں کو اٹھا لیا جانا چاہیے، کیونکہ وہاں کے لوگ یقیناً بہت برے حالات میں ہوں گے۔