عمران خان: ہم امریکہ سے ایسے تعلقات چاہتے ہیں جیسے اس کے انڈیا سے ہیں

پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان ایک تاریخی دو راہے پر ہے۔ 'ہماری دعا ہے کہ یہ 40 سال بعد امن کی راہ پر چلا جائے اور اگر طالبان تمام دھڑوں کو ساتھ لے کر حکومت بنائیں تو یہ ممکن ہو سکتا ہے۔'

لائیو کوریج

  1. طالبان کے اعلی تعلیم کے وزیر: طالبات کے لیے علیحدہ کلاس رومز اور اسلامی لباس کی شرائط ہوں گی

    خواتین

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    طالبان کے ہائیر ایجوکیشن کے وزیر نے اتوار کو کہا ہے کہ افغانستان میں خواتین کو یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہو گی۔ ان کے مطابق یہ کئی دہائیوں سے جنگ سے تباہ حال ملک کی تعمیر نو کے لیے بہت ضروری اقدام ہے۔ تاہم ان کے مطابق صنفی علیحدگی اور اسلامی لباس ضروری شرائط ہوں گی۔

    گذشتہ ہفتے طالبان کے وزیر برائے اعلی تعلیم مقرر ہونے والے عبدالباقی حقانی نے کہا ہے کہ وہ ملک کی از سر نو تعمیر یہیں سے کریں گے جہاں آج ملک پہنچ چکا ہے بجائے 20 سال پہلے والے دن جب طالبان کی حکومت کا خاتمہ کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق جہاں تک ممکن ہو سکے گا طالبات کو خواتین اساتذہ ہی پڑھائیں گی اور شرعی قوانین کے عین مطابق طالبات کے کلاس رومز بھی علیحدہ ہوں گے۔

    انھوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ ہمارے پاس خواتین اساتذہ کی بڑی تعداد موجود ہے اور اس حوالے سے ہمیں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوگا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق طالبان کے وزر برائے اعلی تعلیم نے اتوار کو کابل میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین اساتذہ تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ خواتین کی تعلیم سے متعلق طالبان کو اس اہم سوال کا سامنا رہتا تھا کیونکہ طالبان عالمی برادری کو یہ باور کرانے کوشش کر رہے تھے کہ وہ کافی حد تک بدل چکے ہیں اور اب وہ 90 کی دہائی والے سخت گیر طالبان نہیں رہے ہیں۔ یاد رہے کہ طالبان کے پہلے دور اقتدار میں خواتین پر تعلیم یا روزگار کے سلسلے میں باہر جانے پر پابندی عائد تھی۔ اب طالبان کا مؤقف ہے کہ خواتین کو شرعی قوانین اور مقامی ثقافتی روایات کے مطابق تعلیم اور روزگار حاصل کرنے کی اجازت ہو گی اور ان کو خاص طور پر اسلامی لباس کی شرط کا خیال رکھنا ہوگا۔ عبدالباقی حقانی نے کہا ہے کہ طالبات کے لیے پردہ لازمی ہو گا تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس پردے میں سر یا منہ کو ڈھانپنا لازمی ہوگا یا نہیں۔ واضح رہے کہ سنیچر کو خواتین جو بظاہر طالبات تھیں کے ایک ایسے گروپ کو سامنے لایا گیا جو علیحدہ کلاس رومز میں سر سے لے کر پاؤں تک کالے پردے میں ملبوس بیٹھی تھیں۔

    طالبان کے وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ جہاں اشد ضرورت ہو گی تو وہاں مرد اساتذہ بھی پڑھا سکیں گے تاہم طالبات کو علیحدہ بٹھانے سے متعلق خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔ ان انتظامات کے تحت خواتین کے لیے پردہ، علیحدہ کلاس رومز اور ممکن ہوا تو طالبات کو لائیو سٹریمنگ یا کلوز ٹی وی سرکٹ کے ذریعے پڑھایا جائے گا۔ طالبان نے آنے والے مہنیوں میں تعلیمی نصاب پر نظر ثانی کا بھی اعلان کیا ہے۔

  2. طالبان: تمام لین دین افغانی کرنسی میں ہوگا، پاکستانی روپے کے استعمال کی خبروں میں صداقت نہیں

    افغان طالبان نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ افغانستان میں تجارتی لین دین کے لیے پاکستانی کرنسی کا استعمال کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل ایک پاکستانی حکومتی عہدیدار کے حوالے سے خبریں سامنے آئی تھیں کہ کابل کو امریکی ڈالر کے ذخائر برقرار رکھنے میں مدد دینے کے لیے افغانستان سے تجارت پاکستانی روپے میں کی جائے گی۔

    تاہم اب طالبان نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک مختصر سے بیان میں ان اطلاعات کو رد کیا ہے۔

    ٹویٹ میں کہا گیا: ’تمام تجارتی لین دین افغانی کرنسی میں ہی ہو گا۔ بڑے تجارتی لین دین میں پاکستانی روپے کے استعمال کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔‘

    طالبان نے مزید کہا کہ ’ہماری شناخت ہمارے لیے بہت اہم ہے اور ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا جو وطن کے مادی و روحانی مفادات کے خلاف ہو۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. پاکستانی گلوکارہ کے کیسٹ کور میں ’سمگل‘ کی گئی سراج حقانی کی تصویر

    COURTESY ALJAZEERA

    ،تصویر کا ذریعہCOURTESY ALJAZEERA

    طالبان کی جانب سے کابل پر قبضے کے تقریباً تین ہفتے بعد عبوری کابینہ کا اعلان دنیا بھر کے اخبارات اور نشریاتی اداروں کے لیے بڑی خبر تھی وہیں ایک مسئلہ یہ بھی درپیش رہا کہ کابینہ کے کئی ارکان کی بھی مصدقہ تصویر موجود نہیں ہے۔

    چاہے وہ وزیرِ دفاع ملا محمد یعقوب ہوں یا پھر وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی میڈیا اور عام لوگ ان کی شکل سے واقف نہیں۔

    افغانستان کے حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی ایسی شخصیت ہیں جن کی تلاش میں مدد دینے والے فرد کے لیے انعام کی رقم کا جو پوسٹر امریکی حکام کی جانب سے شائع کیا گیا اس پر ان کے دو خاکے اور ایک ایسی تصویر موجود ہے جس میں ان کا چہرہ واضح طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

    اس تصویر کو سراج الدین حقانی کی وہ واحد تصویر قرار دیا جاتا ہے جو عام ریکارڈ میں موجود ہے اور یہ تصویر بنانے اور اس کی اشاعت کی کہانی انتہائی دلچسپ و عجیب ہے۔

    مگر یہ تصویر کہاں سے آئی؟

  4. ڈبلیو ایچ او کی جانب سے افغانستان کے لیے امدادی سامان پر مشتمل طیارہ مزار شریف پہنچ گیا

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ ایک طیارہ ادویات اور کچھ طبی سامان لے کر آج مزار شریف ایئرپورٹ پہنچا ہے۔

    ڈبلیو ایچ او کا یہ بھی کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے تعاون سے مزید دو طیارے افغانستان پہنچائے جائیں گے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. لوگر: افغان افواج اور طالبان کی جنگ میں گھرے افغانستان کے دیہی علاقوں کے عام لوگ

    افغانستان کے دیہی علاقوں نے پچھلے کچھ برسوں میں افغان افواج اور طالبان کے درمیان شدید لڑائی دیکھی ہے، وہاں رہنے والے بہت سے لوگ اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھ کر راحت محسوس کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ امن ہو گا تو معیشت بھی بہتر ہو گی۔ دیکھیے بی بی سی کے سکندر کرمانی اور مدثر ملک کی افغانستان کے مشرقی صوبے لوگر میں ایسے ہی ایک گاوں سے یہ رپورٹ۔

  6. طالبان کمانڈر کی کال آنے کے بعد افغان پولیس کابل ائیرپورٹ پر لوٹ آئی

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کابل میں گذشتہ حکومت کے خاتمے کے بعد افغان پولیس طالبان کی سکیورٹی کے ساتھ کابل ائیر پورٹ کے چیکنگ پوائنٹس پر کام کرنے کے لیے سنیچر کو واپس لوٹی ہے۔

    جب گذشتہ ماہ طالبان نے حکومت پر قبضہ کیا تو پولیس نے مستقبل کے ڈر سے اپنی چوکیاں چھوڑ دیں تھیں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دو افسران نے بتایا کہ وہ طالبان کمانڈروں کی کال موصول ہونے کے بعد سنیچر کو کام پر واپس آئے تھے۔

    اے ایف پی کے ایک نمائندے نے اتوار کے روز ہوائی اڈے پر سرحدی پولیس کے ارکان کو ایئر پورٹ کی مرکزی عمارتوں کے باہر کئی چوکیوں پر تعینات دیکھا، جن میں اندرونِ ملک پروازوں والا ٹرمینل بھی شامل ہے۔

    پولیس فورس کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا ’میں دو ہفتوں سے زیادہ دنوں بعد کل کام پر واپس آیا ہوں۔‘

    ایک اور افسر نے بتایا کہ مجھے ایک سینئر طالبان کمانڈر کا فون آیا جس نے مجھ سے واپس آنے کو کہا ’کل بہت اچھا دن تھا، میں کام پر واپس آ کر خوش ہوں۔‘

    طالبان کا کہنا ہے کہ انھوں نے سابقہ ​​حکومت کے لیے کام کرنے والے ہر فرد کو عام معافی دی ہے - بشمول فوج، پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں میں کام کرنے والے افراد کے۔

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    bbc
    ،تصویر کا کیپشنبی بی سی کے مدثر ملک کے مطابق ائیر پورٹ پر صفائی کی صورتحال بھی بہتر دکھائی دے رہی ہے
    کابل ائیر پورٹ کے مناظر
    ،تصویر کا کیپشنکابل ائیر پورٹ کے اندورنی مناظر
    BBC
  7. کیا طالبان کی واپسی افغانستان کو ایک مرتبہ پھر القاعدہ اور دہشتگرد تنظیموں کا گڑھ بنا دے گی؟

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغانستان کے کنڑ صوبے کے دور دراز علاقوں میں اور آن لائن جہادی چیٹ رومز میں شدت پسندوں بالخصوص القاعدہ کے حامی افراد طالبان کی ‘تاریخی کامیابی‘ کا جشن منا رہے ہیں۔

    وہ فوج جس نے 20 برس پہلے طالبان اور القاعدہ کو نکال باہر کیا تھا، اُسی فوج کے شرمناک انخلا نے مغرب مخالف جہادیوں کا دنیا بھر میں حوصلہ بڑھایا ہے۔

    ان جہادیوں کے لیے افغانستان میں حکومتی عملداری اور کنٹرول سے باہر علاقے ایک انعام ہیں، جہاں وہ چھپ سکتے ہیں، خاص طور پر نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے عسکری گروہوں کے لیے، جو شام اور عراق میں اپنی خود اعلانیہ خلافت کی شکست کے بعد ایک نیا گڑھ ڈھونڈ رہے ہیں۔

    مغربی جنرلز اور سیاستدان خبردار کر رہے ہیں کہ القاعدہ تنظیم اب افغانستان میں مضبوط ہو گی۔

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد کہا کہ مغربی ممالک کو متحد ہو کر افغانستان کو بین الاقوامی دہشتگرد تنظیموں کی آماجگاہ بننے سے روکنا ہو گا۔

  8. طالبان ترجمان سہیل شاہین: افغانستان میں القاعدہ کے فعال ہونے کی خبریں بالکل غلط ہیں

    urdu.geo.tv

    ،تصویر کا ذریعہgeo.tv

    طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کے فعال ہونے کی خبریں بالکل غلط ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دوحہ معاہدے میں ہم نے وعدہ کیا ہے کہ افغانستان میں کوئی فنڈریزنگ سینٹر، ٹریننگ سینٹر اور ریکروٹنگ سینٹر نہیں چھوڑیں گے۔

    گذشتہ رات پاکستان کے نجی چینل جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں سلیم صافی کے سوال کہ ’اگر القاعدہ ایک بار پھر 9/11 جیسی کوئی دہشت گردی کی واردات کرتی ہے تو طالبان حکومت القاعدہ سے متعلق کیا رویہ اپنائے گی‘ کا جواب دیتے ہوئے طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پالیسی بنائی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ہم قانون بھی بنائیں گے اور نگرانی بھی کریں گے، ہماری سکیورٹی فروسرز اور انٹیلیجنس ایجنسیاں زیادہ فعال نظر آئیں گی۔‘

    سہیل شاہین نے یو این سکیورٹی کونسل کی رپورٹ جس میں افغانستان میں القاعدہ کے سینکڑوں کارکنان کی موجودگی کا ذکر ہے، کے متعلق کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ ایسی رپورٹوں میں کن ممالک سے را ڈیٹا اور معلومات آتی ہیں۔‘

    ’یہ سارے ہمارے مخالف ممالک کا سرکل ہے جو بے بنیاد دعوے اور رپورٹس فراہم کرتے ہیں۔‘

    طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم نے اسی لیے کئی بار ان رپورٹس کو مسترد کیا ہے کیونکہ یہ حقیقی صورتحال کی عکاسی نہیں کرتیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ دوحہ معاہدے میں ہم نے وعدہ کیا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کا کوئی فنڈریزنگ سینٹر، ٹریننگ سینٹر اور ریکروٹنگ سینٹر نہیں چھوڑیں گے۔ ابھی تک کسی نے ایسے سینٹر کی نشاندہی نہیں کی، اگر یو این کہتی ہے کہ ایسے سینٹر موجود ہیں تو ہمیں بتائیں کہ کہاں ہیں۔

  9. طالبان کی عبوری حکومت کی تقریب حلف برداری کیوں نہ ہو سکی؟

  10. چمن سرحد: ’خطرہ مول نہیں لینا چاہتے‘

    چمن اور سپن بولدک کی سرحد سے ہزاروں کی تعداد میں بارڈر کراس کرکے پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کا کیا کہنا ہے۔

    ویڈیو: شمائلہ جعفری اور کامل دیان ایڈیٹنگ: نیئر عباس

  11. افغانستان کے تھیلے میں بلی: آمنہ مفتی کا کالم

  12. پاکستانی صحافی جنھیں طالبان نے جاسوس سمجھا، قید میں رکھا اور تشدد کا نشانہ بنایا

    bbc

    ’پہلے گوگل میپ ہمارے لیے مصیبت بن گیا اور اس کے بعد ہمارے ملکی شناختی دستاویزات، جن کی بنیاد پر ہمیں 11 روز تک کابل میں قید میں رکھا گیا۔‘

    یہ کہانی ہے بلوچستان میں خضدار سے تعلق رکھنے والے 92 نیوز چینل کے نمائندے محمد اقبال مینگل اور کیمرا مین شہزاد سلطان کی جو طالبان کے آنے کے بعد افغانستان کوریج کے لیے گئے اور کابل میں راستہ بھٹکنے پر طالبان کے ہاتھوں پکڑے گئے۔

    'صرف قید میں رکھا جاتا تو کوئی بات نہیں تھی۔‘ یہ اقبال مینگل کے الفاظ ہیں جنھیں افغانستان کی کوریج کرنے جانے کا فیصلہ مہنگا پڑ گیا۔ وہ کہتے ہیں ’لیکن اس کے ساتھ تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا اور (ہمیں) پاکستانی ہونے کے ناطے نفرت انگیز جملوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’ہم ان سے پوچھتے رہے کہ اسلام میں کہاں اجازت ہے کہ جرم کے ثبوت کے بغیر تشدد کیا جائے۔ لیکن انھوں نے ہماری کوئی بات نہیں سنی اور ہم پر (قید میں) تشدد کرتے رہے۔‘

    92 نیوز چینل کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کے ادارے کی جانب سے دونوں صحافیوں کی رہائی کے لیے تمام دستیاب ذرائع بروئے کار لائے گئے اور اب یہ دونوں پاکستان واپس آ چکے ہیں۔

    تاہم افغان طالبان کے ایک ترجمان نے پاکستانی صحافیوں کو 11 روز تک حراست میں رکھے جانے کے کسی واقعے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مجاہدین نے ’کسی پاکستانی صحافی کو حراست میں نہیں رکھا۔‘

    اقبال مینگل نے بتایا کہ طالبان کے آنے کے بعد چونکہ افغانستان میں 20 سال بعد ایک مرتبہ پھر بڑی تبدیلی آئی تھی اس لیے ’دنیا اور پاکستان کے دیگر درجنوں صحافیوں کی طرح ہم بھی افغانستان کوریج کرنے گئے۔‘

  13. طالبان جھوٹ بول رہے ہیں، فرانس طالبان حکومت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھے گا: فرانسیسی وزیر خارجہ

    reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    فرانسیسی وزیر خارجہ جین یویس لی ڈریان نے سنیچر کی رات قطر روانگی سے قبل کہا کہ طالبان جھوٹ بول رہے ہیں اور فرانس کا ان کی نئی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

    افغانستان سے مزید لوگوں کو واپس لانے کے لیے اتوار کو قطر میں مذاکرات ہونے ہیں اور فرانس اس میں حصہ لے رہا ہے۔

    فرانسیسی وزیر خارجہ نے فرانس 5 ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ’طالبان نے کہا کہ وہ کچھ غیر ملکیوں اور افغانیوں کو اپنی مرضی سے ملک چھوڑنے دیں گے اور یہ بھی کہا کہ وہ ایک جامع حکومت بنائیں گے۔ لیکن وہ جھوٹ بول رہے تھے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’فرانس اس حکومت کو تسلیم نہیں کرے گا اور اس کا طالبان حکومت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ ہم طالبان سے اقدامات چاہتے ہیں۔ انھیں کچھ مالی مدد اور بین الاقوامی تعلقات کی ضرورت ہوگی۔ لیکن یہ ان کے اقدامات پر منحصر ہے۔‘

    فرانس نے افغانستان سے تقریباً 3000 افراد کو نکالا ہے اور اس سلسلے میں اس نے طالبان سے مذاکرات کیے تھے۔

    دوحہ روانگی سے قبل انھوں نے کہا کہ اب بھی کچھ فرانسیسی شہری اور فرانس سے منسلک رہنے والے چند سو افغانی افغانستان میں موجود ہیں۔

  14. پناہ ڈھونڈنے والے 50 افغان خاندان ڈی پورٹ

    تقریباً 50 خاندان قندوز سے جان بچا کر روزی اور پناہ ڈھونڈنے کوئٹہ پہنچے۔ ان کے پاس کھانے کے پیسے تھے نہ کوئی سامان اور کئی بچے بیمار تھے۔

    اگلے ہی روز ان کا کوئی نشان نہیں تھا، غیر قانونی طور پر پاکستان آنے کی وجہ سے انھیں واپس افغانستان ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا۔

  15. امریکی میڈیا کا کابل میں ڈرون حملے کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار

    bbc

    افغانستان میں امریکی افواج کے ڈرون حملے کو امریکی میڈیا میں چیلنج کیا گیا ہے۔

    نیو یارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس ڈرون حملے میں نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے اڈے کو نشانہ بنایا گیا، لیکن حقیقت میں ایک فلاحی کارکن کو مارا گیا۔

    امریکی فوج کی جانب سے اخباری رپورٹوں میں ان اطلاعات کی بھی تردید کی گئی ہے کہ بمبار نے دوپہر کے بعد امریکی فوجی اڈے کے سامنے حملہ کیا۔

    پینٹاگون کے ایک اور عہدیدار کا کہنا ہے کہ انھیں اب بھی یقین ہے کہ ایک ’ممکنہ خطرہ‘ ٹل گیا ہے۔

    متاثرین کے رشتہ داروں نے 8 اگست کو بی بی سی کو بتایا کہ ڈرون حملے میں ان کے خاندان کے 10 افراد ہلاک ہوئے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

    امریکی فوج ہائی الرٹ تھی کیونکہ تین دن پہلے ایک خودکش حملہ آور نے 100 سے زائد شہریوں اور 13 امریکی فوجیوں کو کابل ایئر پورٹ کے باہر ہلاک کر دیا تھا۔

    ٹائمز اور پوسٹ کی تصاویر اور ویڈیو کلپس کا جائزہ لینے اور ماہرین سے مشاورت کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ٹارگٹڈ گاڑی میں کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں رکھا گیا تھا۔

    امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اسے اس شخص کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے منسلک تھا۔

    لیکن ٹائمز اور پوسٹ کے مطابق جس شخص کو نشانہ بنایا گیا اس کا نام زمرائی احمدی تھا، جس نے این آئی اے نامی فلاحی ادارے کے لیے خوراک اور تعلیم کے شعبے میں کام کیا، اس ادارے کا صدر دفتر کیلیفورنیا میں ہے۔

  16. پنجشیر میں شہریوں کی گرفتاریوں اور’فیلڈ ٹرائلز‘ کی اطلاعات، طالبان کی تردید

    Social Media

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    افغان سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ پنجشیر میں طالبان افواج ’فیلڈ ٹرائلز‘ کر رہی ہیں۔

    ان ویڈیوز میں سے ایک میں طالبان کو پنجشیر روڈ پر ایک شخص پر فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    پنجشیر کے ضلع انابا میں اماج نیوز نیٹ ورک کے مطابق، ویڈیو میں ایک غیر مسلح شہری بظاہر طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق اسی ویڈیو میں سویلین کپڑوں میں ملبوس ایک اور شخص کو حراست میں لیا جا رہا ہے، وہ طالبان فورسز سے بھیک مانگ رہا ہے کہ وہ ایک شہری ہے اور کہہ رہا ہے کہ ’میرے پاس میرا کارڈ ہے۔ میں ایک سویلین ہوں۔‘

    طالبان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ گروپ کی افواج عام شہریوں کو کچھ نہیں کہہ رہیں اور انھوں نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ پنجشیر نہ چھوڑیں۔

    طالبان کے ترجمان عبدالحق وثیق نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ الزامات درست نہیں ہیں۔

    وثیق نے کہا کہ ’ان (پنجشیر کے لوگوں) کو اپنا علاقہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا گیا ہے۔‘ انہوں نے زور دیا کہ پنجشیر میں ’نہ جنگ ہے اور نہ ہی کسی کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔‘

    حالیہ دنوں میں صوبہ پنجشیر میں شہریوں کی گرفتاریوں اور ’فیلڈ ٹرائلز‘ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    دریں اثنا افغان ہیومن رائٹس کمیشن کی سربراہ شہرزاد اکبر نے ان رپورٹس کو ’چونکا دینے والا‘ قرار دیا اور طالبان سے آزادانہ تحقیقات شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    اکبر نے لکھا ’پنجشیر سے آنے والی رپورٹیں چونکا دینے والی ہیں۔ شہریوں کا جان بوجھ کر قتل جنگی جرم ہے۔ طالبان کو آزادانہ تفتیش میں سہولت فراہم کرنی چاہیے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    بی بی سی کے نامہ نگار حسیب عمار نے ان کی ٹویٹ کے جواب میں لکھا ’مجھے پنجشیر کے علاقے عمرز کے رہائشیوں کی تصاویر اور آڈیو کلپ موصول ہوئی ہیں جو کہ علاقے میں شہریوں کے وحشیانہ قتل کی نشاندہی کرتی ہیں۔ طالبان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ جھڑپوں میں مارے گئے ہیں۔ لیکن یہ تصاویر اتنی دردناک ہیں کہ میں انھیں دوبارہ دیکھنے کی ہمت نہیں کر سکتا۔‘

    انھوں نے مزید لکھا ’مجھے بتایا گیا کہ لاشیں کچھ عرصے سے زمین پر پڑی ہوئی ہیں اور کوئی بھی انھیں دفن نہیں کر سکتا۔‘

    افغان سوشل میڈیا پر پنجشیر وادی کے اندر گاڑیوں کے ایک بڑے قافلے کی تصاویر وائرل رہا ہے، کہا جا رہا ہے یہ افراد طالبان کے حکم پر صوبہ چھوڑ رہے ہیں۔

    صحافی سمیع مہدی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تصاویر کے مطابق لوگوں کو پنجشیر سے زبردستی منتقل کیا جا رہا ہے۔

    مہدی نے کہا ’میرے ایک ہم جماعت، جو پنجشیر بازار کے رہائشی ہیں، نے مجھے بتایا کہ تقریبا 90 فیصد آبادی علاقہ چھوڑ رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بازار کے ملیہ گاؤں کے تمام باشندوں میں سے صرف ایک خاندان باقی ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

    ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کا عنوان ہے ’پنجشیر کی پراسرار وادی میں واقعی کیا ہو رہا ہے؟‘ اس رپورٹ کے مطابق تسنیم کے رپورٹرز طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد پہلی بار وسطی پنجشیر گئے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چند خاندانوں اور طالبان افواج کے علاوہ کوئی بھی پنجشیر میں موجود نہیں ہے اور کچھ علاقوں میں بجلی منقطع ہے۔

    بہت سے رہائشیوں نے اپنے گھر اور دکانیں بند کر کے شہر چھوڑ دیا ہے۔ ’شہر میں زندگی مکمل طور پر درہم برہم ہے اور بچ جانے والوں کو اپنی ضروریات پوری کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔‘

  17. ڈونلڈ ٹرمپ کی صدر جو بائیڈن کی ’نااہلی‘ پر تنقید، یادگاری تقریب میں بھی شریک نہیں ہوئے

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گیارہ ستمبر حملوں کے 20 برس مکمل ہونے پر امریکہ کے افغانستان سے انخلا کو ’نہایت برا‘ قرار دیتے ہوئے موجودہ صدر جو بائیڈن کی ’نااہلی‘ پر تنقید کی ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وہ نیویارک پولیس ڈپارٹمنٹ کے ایک پولیس سٹیشن کے دورے پر تھے۔ ’ایسا لگا جیسے ہم پیچھے ہٹ گئے ہیں، جیسے ہم نے ہار مان لی ہے۔ جس کے لیے سرینڈر کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔‘

    ’مگر ہم نے سرینڈر نہیں کیا، ہمارے لوگوں نے سرینڈر نہیں کیا اور ہمارے سپاہیوں نے تو بالکل بھی سرینڈر نہیں کیا۔‘

    اپنے دورِ صدارت میں ٹرمپ نے فروری 2020 میں طالبان کے ساتھ معاہدہ کیا تھا جس کے تحت امریکہ کو مئی 2021 تک افغانستان سے اپنی فوجیں نکال لینی تھیں۔

    بدلے میں طالبان سے یقین دہانیاں حاصل کی گئیں۔

    مگر انخلا اُن کے بعد صدر جو بائیڈن کے دور میں مکمل ہوا۔ طالبان نے 15 اگست کو ہی کابل پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد امریکہ اور اتحادیوں کو دو ہفتوں کی مہلت دی تاکہ وہ اپنے شہریوں اور اُن کے افغان سہولت کاروں کو ملک سے نکال لیں۔

    ٹرمپ آج نیو یارک میں گراؤنڈ زیرو پر ہونے والی تقریب میں بھی نہیں گئے تھے جو ہر سال گیارہ ستمبر کے موقع پر منعقد کی جاتی ہے، حالانکہ بائیڈن اور سابق صدور بل کلنٹن اور باراک اوبامہ یہاں موجود تھے۔

  18. نائن الیون: اب بھی 40 فیصد ہلاک لوگوں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یہ جاننا بہت حیران کُن ہو سکتا ہے کہ 20 سال گزر جانے کے بعد اب بھی گیارہ ستمبر حملوں کے کئی شکار افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

    ان عمارتوں میں آتشزدگی اتنی بھیانک تھی اور تباہی اتنے بڑے پیمانے پر ہوئی تھی کہ ہلاک ہونے والے بہت سے لوگوں کی شناخت کبھی نہیں ہو سکی۔

    ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں انشورنس بروکر کے طور پر کام کرنے والی ڈوروتھی مورگن حملے کے دن سے اب تک لاپتا تھیں۔

    مگر اب رواں ہفتے اُنھیں 1646 ویں ہلاک شخص کے طور پر شناخت کر لیا گیا ہے جبکہ اسی ہفتے 1647 ویں شخص کی بھی شناخت ہوئی ہے۔

    ڈی این اے ٹیکنالوجی میں ترقی سے اب ہڈیوں کے چھوٹے سے ٹکڑوں کا بھی ڈی این اے تجزیہ کر کے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ یہ کون لوگ تھے۔

    واضح رہے کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں ہونے والی 2753 ہلاکتوں میں سے 40 فیصد لوگوں کی شناخت اب بھی نہیں ہو پائی ہے۔

    طبی تحقیق کار اب بھی انسانی باقیات کے 22 ہزار ٹکڑوں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ انھیں شناخت دی جا سکے۔

    نیویارک شہر کی چیف میڈیکل ایگزامنر ڈاکٹر باربرا سیمپسن کہتی ہیں: ’11 ستمبر 2001 کو چاہے جتنا بھی عرصہ گزر جائے، ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔ ہمارے پاس جو بھی وسائل ہیں، ہم اُنھیں استعمال کرنے کا عہد کرتے ہیں تاکہ ہلاک ہونے والوں کو اُن کے خاندانوں سے ملایا جا سکے۔‘

  19. افغان پناہ گزینوں کا معاملہ: ’جن ممالک کی پالیسیوں سے حالات یہاں تک پہنچے، اُن کی بنیادی ذمہ داری ہے‘

    قطر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنروسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف اور قطری وزیرِ خارجہ محمد بن عبدالرحمان الثانی ماسکو میں، 11 ستمبر 2021

    روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے افغان پناہ گزین افراد کے مسائل کے فوری حل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں بنیادی کردار اُن ممالک کا ہونا چاہیے ’جن کی افغانستان میں پالیسی کی وجہ سے یہ افسوسناک حالات پیدا ہوئے ہیں۔‘

    ماسکو میں اپنے قطری ہم منصب محمد بن عبدالرحمان الثانی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا ’ہم (روس اور قطر) افغانستان کے انسانی مسائل کے حل کو ترجیحی اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں۔ جو کچھ ہوا اُس کے انسانی نتائج بہت سنگین ہیں۔‘

    ’ہمیں افغانستان سے پناہ گزینوں کے پڑوسی ملک جانے کے حوالے سے مشترکہ تشویش ہے، جن میں سے کئی لوگ یورپ جانے کی کوشش کریں گے مگر اس دوران اُن ممالک کے لیے سخت مشکلات پیدا کریں گے جہاں وہ بن بلائے طور پر جا پہنچیں گے۔‘

    ’ہم نے اس مسئلے کے فوری حل کے لیے زور دیا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام دلچسپی رکھنے والے ممالک کی صلاحیتیں شامل ہوں، خاص طور پر وہ ممالک جن کی پالیسیوں کی وجہ سے حالات اس افسوسناک نہج تک پہنچے ہیں۔‘

  20. کابل میں 11 ستمبر حملوں کے بارے میں لوگ کیا سوچ رہے ہیں؟, سکندر کرمانی، بی بی سی نیوز، کابل

    بی بی سی کابل

    ،تصویر کا ذریعہSecunder Kermani

    گیارہ ستمبر کے حملوں کے نتیجے میں امریکہ کے بعد جو ملک سب سے زیادہ متاثر ہوا وہ افغانستان تھا جہاں آج کابل شہر میں بمشکل ہی کسی کو معلوم ہے کہ دنیا آج گیارہ ستمبر کو یاد کر رہی ہے۔

    کچھ لوگوں کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ 20 سال قبل نیویارک میں ہوا کیا تھا جبکہ کچھ لوگوں کی اس سانحے سے جڑی یادوں میں اپنے ملک کے لیے پیدا ہونے والے مشکلات بھی شامل ہیں۔

    ایک شخص نے مجھ سے کہا: ’مجھے مارے جانے والوں سے ہمدردری ہے مگر ہم نے افغانستان میں گیارہ ستمبر سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔‘

    مگر گیارہ ستمبر کے حملوں کے کچھ ہی ماہ بعد پیدا ہونے والے ایک شخص کے تاثرات کچھ مثبت تھے: ’اُنھوں نے ہماری زندگیاں بدل دیں۔‘

    وہ خواتین کی تعلیم کی جانب اشارہ کر رہے تھے۔

    اور اب وہ خود انتہائی مضطرب ہیں اور ملک سے نکلنے کا موقع تلاش کر رہے ہیں۔

    حکومت خاتمے کے بیس سال بعد آج کابل میں ایک مرتبہ پھر طالبان کے پرچم لہرا رہے ہیں۔

    کئی شہری ماضی کا سوچ کر تلخ ہو جاتے ہیں مگر اُن کی توجہ موجودہ وقت پر زیادہ ہے۔

    ایک عمر رسیدہ خاتون نے ہم سے کہا: ’میں چاہتی ہوں کہ امن ہو، تحفظ ہو، غربت ختم ہوں اور نوجوانوں کو ملازمتیں ملیں۔‘