عمران خان: ہم امریکہ سے ایسے تعلقات چاہتے ہیں جیسے اس کے انڈیا سے ہیں

پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان ایک تاریخی دو راہے پر ہے۔ 'ہماری دعا ہے کہ یہ 40 سال بعد امن کی راہ پر چلا جائے اور اگر طالبان تمام دھڑوں کو ساتھ لے کر حکومت بنائیں تو یہ ممکن ہو سکتا ہے۔'

لائیو کوریج

  1. طالبان پنجشیر میں: وادی پر قبضے کے بعد کی صورتحال

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    افغانستان کے دارالحکومت کابل سے 150 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع وادیِ پنجشیر کو طالبان کے خلاف مزاحمت کا گڑھ کہا جاتا رہا ہے۔

    لیکن گذشتہ چند دنوں میں طالبان جنگجو اور کمانڈر اس علاقے کا کنٹرول سنبھالنے میں کامیاب رہے ہیں۔

    مزاحمت کا آخری گڑھ سمجھے جانے والی یہ وادی آخر طالبان کے لیے اتنی اہم کیوں ہے؟

  2. ’میرے کپڑوں کو ہاتھ مت لگاؤ‘, افغان خواتین کی سوشل میڈیا پر مہم

    افغانستان، خواتین

    ،تصویر کا ذریعہDR BAHAR JALALI

    افغانستان کی بعض خواتین نے طالبان کی مخالفت میں سوشل میڈیا پر ایک مہم شروع کی ہے جس کا نام ’ڈو ناٹ ٹچ مائی کلوتھس‘ یعنی میرے کپڑوں کو ہاتھ مت لگاؤ‘ ہے۔

    اس مہم میں خواتین آن لائن اپنے روایتی کپڑوں میں اپنی تصاویر پوسٹ کر رہی ہیں۔

    افغانستان کا سوشل میڈیا ہو یا پاکستان اور انڈیا کا، کچھ تصاویر جو ہر جگہ گذشتہ چند دن سے وائرل نظر آ رہی ہیں ان میں متعدد خواتین کو سر تا پا سیاہ لباس اور برقع پہنے کابل یونیورسٹی کے لیکچر تھیٹر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

    ان نقاب پوش خواتین کی تصاویر نے ملک میں افغان طالبان کی حکومت میں خواتین کی حیثیت اور اہمیت کے علاوہ اس بات پر بھی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا اس قسم کا لباس جس میں عورت کی آنکھیں تک دکھائی نہ دیں کیا افغانستان کی ثقافت کا حصہ ہے؟

    سوشل میڈیا پر چند افغان اور پاکستانی صارفین اس برقعے کو ’سعودیہ سے امپورڈ شدہ سلفی نظریات کا تحفہ‘ یا ’عربنائزیشن‘ قرار دے رہے ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ ’سیاہ برقع ہمارے معاشروں کو سعودی عرب کی طرف سے ملنے والے سخت گیر نظریات کا تحفہ ہے۔‘

    چند خواتین صارفین کا کہنا ہے کہ یہ سیدھا سیدھا ’سعودی فیشن‘ ہے کیونکہ افغان خواتین یا تو نیلے ٹوپی والے برقعے پہنتی ہیں یا سفید برقع یا چادر یا سکارف لیتی ہیں۔

    مزید پڑھیے

  3. ’افغانستان کے مستقبل پر امریکہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لے گا‘, انٹونی بلنکن

    انٹونی بلنکن

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتوں میں امریکہ پاکستان کے ساتھ اپنی تعلقات کی طرف توجہ مرکوز کرے گا۔ اس دوران یہ جائزہ لیا جائے گا کہ افغانستان کے مستقبل میں واشنگٹن کیا کردار ادا کرنا چاہتا ہے اور پاکستان سے کیا توقعات رکھتا ہے۔

    کانگریس میں خارجہ امور کی کمیٹی کے اجلاس کے دوران انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ’متعدد مفادات ہیں جن میں سے کچھ ہمارے مفادات سے اختلاف رکھتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ان (مفادات) میں سے ایک افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے مستقل طور پر کوششیں کرنا ہے۔ طالبان کے ممبران کی پشت پناہی۔۔۔ (ان مفادات میں) ہمارے ساتھ انسداد دہشتگردی کے لیے تعاون شامل ہے۔‘

    جب ان کے پوچھا گیا کہ آیا وقت آگیا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کرنا چاہیے، بلنکن نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ جلد یہ کرنے جا رہی ہے۔

    ’یہ ان چیزوں میں سے ہے جن میں ہم آئندہ دنوں اور ہفتوں میں نظر رکھیں گے۔ گذشتہ 20 برسوں کے دوران پاکستان نے جو کردار ادا کیا ہے (اور) وہ کردار جو ہم آئندہ برسوں میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور اس کے لیے کیا درکار ہوگا۔‘

    انٹونی بلنکن نے امریکی پارلیمان میں خارجہ امور کی کمیٹی سے مزید کہا کہ امریکہ نے افغانستان میں بدترین صورتحال کے لیے منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔

    ’ہمیں ڈیڈ لائن ملی تھی۔ (گذشتہ انتظامیہ کی طرف سے) ہمیں کوئی منصوبہ نہیں دیا گیا تھا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ کی ترجیح امریکیوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانا تھی۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ امریکی افواج کی موجودگی میں حکومتی فورسز کابل میں اتنی جلد پسپا ہوجائیں گی اس کی پیشگوئی نہیں کی گئی تھی۔

    بلنکن کا کہنا تھا کہ طالبان نے کابل کی طرف تیز مارچ کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔

  4. طالبان حکومت کے ڈپٹی وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر منظر نامے سے غائب کیوں ہیں؟

  5. پنجشیر میں طالبان کے ہاتھوں 20 شہریوں کا قتل

    عبدالسمیع، پنجشیر کا مقتول دکاندار

    بی بی سی کو علم ہوا ہے کہ طالبان اور قومی مزاحمتی محاذ کے درمیان ہونے والی لڑائی کا مرکز رہنے والی افغانستان کی وادی پنجشیر میں کم از کم 20 شہریوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

    پنجشیرسے اطلاعات کا حصول مشکل ہے لیکن بی بی سی کے پاس ثبوت ہیں کہ طالبان کی جانب سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کے اعلانات کے باوجود انھوں نے شہریوں کو ہلاک کیا۔

    پنجشیر سے ملنے والی ایک فوٹیج میں فوجی وردی پہنے ایک شخص کو طالبان کے نرغے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ پھر فائرنگ کی آواز آتی ہے اور وہ شخص زمین پر گر جاتا ہے۔

    یہ واضح نہیں کہ مرنے والا شخص افغان فوج کا رکن تھا کہ نہیں۔ ویڈیو میں ایک راہ گیر ضرور یہ کہہ رہا ہے کہ وہ ایک عام شہری تھا۔

    بی بی سی نے تصدیق کی ہے کہ پنجشیر میں ایسی 20 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ مرنے والوں میں عبدالسمیع نامی دکاندار بھی تھا جو دو بچوں کا باپ تھا۔

    مقامی ذرائع کے مطابق طالبان کے پنجشیر میں آنے کے بعد اس نے انھیں بتایا کہ ’میں ایک غریب دکاندار ہوں جس کا جنگ سے کوئی واسطہ نہیں۔‘ تاہم اسے گرفتار کر لیا گیا اور اس پر مزاحمتی محاذ کے ارکان کو سم کارڈ بیچنے کا الزام لگایا گیا اور پھر چند دن بعد اس کی لاش اس کے گھر کے پاس پھینک دی گئی۔

    عینی شاہدین کے مطابق عبدالسمیع کی لاش پر تشدد کے نشانات بھی موجود تھے۔

  6. اقوامِ متحدہ کی اپیل پر افغانستان کے لیے ایک ارب ڈالر سے زائد کی امداد کا وعدہ

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتیریس نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ تعلقات استوار کریں اور افغان عوام کو انتہائی ضروری امداد کی ’لائف لائن‘ فراہم کریں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سیکریٹری جنرل گتیریس پیر کو جنیوا میں تھے جہاں اُنھوں نے افغانستان کے لیے عطیات اکٹھے کرنے کی ایک کانفرنس میں شرکت کی۔

    کانفرنس کا مقصد 60 کروڑ ڈالر کے عطیات جمع کرنا تھا مگر کانفرنس کے نصف تک پہنچنے تک ہی مختلف ممالک کی جانب سے ایک ارب ڈالر سے زائد کے عطیات کا وعدہ کیا جا چکا تھا۔

    اس موقع پر انتونیو گتیریس نے کہا: ’ملک کے ڈی فیکٹو حکام (طالبان) سے بات چیت کیے بغیر افغانستان کے اندر انسانی امداد پہنچانا ناممکن ہے۔

    اس وقت طالبان کے ساتھ تعلقات قائم کرنا نہایت اہم ہے۔‘ اُنھوں نے دنیا پر زور دیا کہ وہ ’افغان معیشت کو رقم کا سہارا دینے کے لیے طریقے ڈھونڈیں‘ تاکہ معیشت کا انہدام روکا جا سکے جس کے ’افغانستان اور وسیع تر خطے کے لیے تباہ کُن نتائج ہوں گے۔‘

  7. ’طالبان حکومت تسلیم کرنا ترجیح نہیں ہے، طالبان مثبت بیانات پر عمل کریں‘

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    قطر کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے کہا ہے کہ اس وقت طالبان کی افغانستان پر حکومت کو تسلیم کرنا ’ترجیح نہیں ہے‘ بلکہ اس گروپ کے لیے اہم یہ ہے کہ یہ دنیا کے ساتھ تعلقات استوار کرے۔

    فرانسیسی وزیرِ خارجہ یاں ویز لیدریان کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا: ’ہم نے طالبان کو یقین دہانی کروائی ہے کہ بطور ثالث قطر کا کردار حقیقت پسندانہ ہے اور دنیا سے تنہائی اختیار کرنا حل نہیں ہے۔‘

    واضح رہے کہ گذشتہ روز قطری وزیرِ خارجہ نے افغانستان کا دورہ کیا تھا جہاں اُنھوں نے طالبان کے وزیرِ اعظم ملّا محمد حسن اخوند سمیت افغانستان سے سابق صدر حامد کرزئی اور سابق چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی تھی۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اُنھوں نے کہا کہ ’اس وقت تسلیم کرنے پر زور دینے سے کسی فریق کو فائدہ نہیں ہوگا‘۔

    ساتھ ہی شیخ محمد نے مزید کہا کہ طالبان کے لیے یہ مددگار ثابت ہو گا کہ وہ اپنے دیے گئے ’مثبت بیانات‘ پر قائم رہتے ہوئے اُن پر عمل پیرا ہوں۔

    شیخ محمد بن عبدالرحمان نے مزید کہا کہ طالبان نے اُنھیں بتایا ہے کہ وہ عالمی برادری سے تعلقات قائم کرتے ہوئے سفارت خانے کھولنا چاہتے ہیں۔

    قطری وزیرِ خارجہ کا اس معاملے پر کہنا تھا کہ اس کے لیے ’اُن کی جانب سے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘

    اس کے علاوہ دیگر افغان رہنماؤں سے ملاقاتوں کے بارے میں اُنھوں نے کہا کہ قطر نے افغانستان میں قومی مفاہمت پر زور دیا ہے۔

    ’افغانستان میں مستقبل کے استحکام کے لیے قومی مفاہمت واحد راستہ ہے۔‘

  8. ’شاید میں اپنے والد کی طرح اپنے بچوں کو یہ نہ کہہ سکوں کہ ہم پھر افغانستان جائیں گے‘

  9. کابُل: طالبان حکومت کے قیام کے بعد پی آئی اے کی ’پہلی کمرشل پرواز‘

    افغانستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد پی آئی اے کی ’پہلی بین الاقوامی کمرشل پرواز‘ کابل پہنچ گئی ہے۔

    سی ای او پی آئی اے مارشل ارشد ملک کے مطابق پرواز کا مقصد پاکستان اور افغانستان کے مابین خیر سگالی کو فروغ دینا اور انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر آپریشن کو مضبوط کرنا ہے۔

  10. طالبان کا امراللہ صالح کے گھر سے لاکھوں ڈالر اور سونا برآمد کرنے کا دعویٰ

    طالبان سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان کی سکیورٹی فورسز کو افغانستان کے سابق نائب صدر امراللہ صالح کے گھر سے 65 لاکھ ڈالر اور سونے کی متعدد اینٹیں ملی ہیں۔

    ان وائرل ویڈیوز میں طالبان جنگجوؤں کو مختلف سفری بیگوں سے نقدی کے بنڈل اور سونے کی اینٹیں گنتے اور واپس رکھتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    طالبان کے اس دعوے پر امراللہ صالح کی جانب سے اب تک کوئی ردِعمل نہیں دیا گیا۔

    بی بی سی آزادانہ طور پر طالبان کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کر سکا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. افغانستان کا مستقبل: کیا چین طالبان حکومت کو عالمی تنہائی سے بچا پائے گا؟

  12. طالبان کی خواتین کے متعلق پالیسیاں: تین افغان خواتین برطانوی پارلیمنٹ کے سامنے بھوک ہڑتال پر

    طالبان کی خواتین کے حوالے سے پالیسیوں کے خلاف تین افغان خواتین چار روز سے برطانوی پارلیمنٹ کے سامنے بھوک ہڑتال پر ہیں۔

    ان تین افغان خواتین کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کے دور میں متاثرہ خواتین کے لیے ’آواز اٹھانا‘ چاہتی ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. اشرف غنی حکومت کے خاتمے سے قبل مچی افراتفری

    REUTERS

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    طالبان نے اقتدار کھونے کے 20 سال بعد اب پھر افغانستان میں نئی حکومت قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ایک ایسی نسل جو تعلیم، بین الاقوامی سرمایہ کاری، اور جمہوری مستقبل کی امید کے ساتھ بڑی ہوئی، ان کے لیے یہ اعلان شاید ناقابلِ یقین ہو۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ صدر اشرف غنی کی حکومت اتنی جلدی کیسے گِر گئی؟

    طالبان نے ملک میں کسی بڑے شہر کا کنٹرول سنبھالنے سے کابل کے دروازے تک پہنچنے میں صرف دس دن لگائے۔

    مگر خیال کیا جا رہا تھا کہ دارالحکومت کا معاملہ ذرا مختلف ہو گا۔ زیادہ تر تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ جب تک مذاکرات کے ذریعے معاہدہ ہو گا تب تک کابل پر طالبان کا قبضہ نہیں ہو سکے گا۔

    مگر اتوار 15 اگست کو سب کچھ بدل گیا۔

    چند ہی گھنٹوں میں صدر اور اعلیٰ عہدے دار فرار ہو چکے تھے۔ افغان فوج اور پولیس کے اہلکاروں میں جو بچ گئے، انھوں نے اپنے یونیفارم اتارے اور کہیں چھپ گئے۔

    کھربوں ڈالر کی عسکری امداد اور بیس سال کی تربیت والی مغربی ممالک کی حمایت یافتہ افغان حکومت ایسے غائب ہو گئی جیسے کہ برف پگھل جاتی ہے۔

  14. افغانستان کی معیشت: ’لوگ مالی طور پر کمزور ہوگئے ہیں، ہمارے پاس کچھ نہیں‘

    افغانستان کی معیشت کا انحصار بڑی حد تک غیر ملکی امداد اور ترسیلات پر رہا ہے لیکن ملک کا کنٹرول طالبان کے سنبھالنے کے بعد ان دونوں شعبوں میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔

    لوگوں کو ملک میں کام مل نہیں رہا اور روزمرہ اشیا کی قیمتیں ان کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہیں۔

    بی بی سی نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں بسنے والے چند لوگوں سے بات کی اور پوچھا کہ وہ ان مشکل حالات میں کیسے گزر بسر کر رہے ہیں؟

  15. افغانستان کے لیے انسانی امداد: اقوام متحدہ کا اجلاس آج جنیوا میں ہو رہا ہے

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوام متحدہ کے زیراہتمام پیر کو جنیوا میں افغانستان کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس ہونے والی ہے۔

    اس اجلاس سے پہلے، افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے ہنگامی امدادی کوآرڈینیٹر مارٹن گریفتھس کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ’طالبان رہنما افغانستان میں خواتین کے حقوق کے متعلق عالمی برادری کی تشویش کو سمجھتے ہیں۔‘

    آج کی میٹنگ ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کی آدھی آبادی کو امداد کی ضرورت ہے۔

    مارٹن گریفتھس نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ پیر کو طالبان کے نائب وزیر اعظم سے تحریری یقین دہانی حاصل کرنے کی امید کرتے ہیں کہ فلاحی ادارے اور ان کے اتحادی افغانستان میں آزادانہ طور پر کام کر سکیں گے اور انھیں اپنے معاملات پر مکمل کنٹرول حاصل ہو گا۔

    توقع ہے کہ اس کانفرنس میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ اس سال کے آخر تک پانچ ملین افغانیوں کو پانچ ملین ڈالر کی امداد فراہم کریں۔

    گریفتھس نے کہا کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے لیے یہ ایک موقع ہے تاکہ وہ موجودہ مشکل صورتحال میں افغانوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کریں۔

    مارٹن گریفتھس جنھوں نے حال ہی میں ملک میں بے گھر افراد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کابل کا دورہ کیا، نے کہا کہ بے گھر ہونے والوں میں سے دو تہائی نے انھیں بتایا کہ وہ اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں۔

  16. بریکنگ, طالبان حکومت کے قیام کے بعد پی آئی اے کی ’پہلی کمرشل پرواز‘ کابل پہنچ گئی

    PIA

    ،تصویر کا ذریعہPIA

    افغانستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد پی آئی اے کی پہلی ’پہلی بین الاقوامی کمرشل پرواز‘ کابل پہنچ گئی ہے۔

    پی آئی اے کی پرواز پی کے 6249 اسلام آباد سے آج صبح کابل روانہ ہوئی اور مقامی وقت کے مطابق 9:45 پر پہنچی۔

    خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ پہلی کمرشل پرواز ہے تاہم متعدد میڈیا ذرائع اسے مسترد کرتے ہوئے پہلی چارٹرڈ فلائٹ کہہ رہے ہیں۔

    اس پرواز میں پی آئی اے کا عملہ بین القوامی صحافیوں کو کابل لے کر گیا اور عالمی بنک اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی ٹیم کو واپس لے کر آیا۔

    سی ای او پی آئی اے مارشل ارشد ملک کے مطابق کابل میں نئی حکومت کے قیام کے بعد یہ پہلی بین الاقوامی مسافر پرواز تھی۔ پرواز کا مقصد پاکستان اور افغانستان کے مابین خیر سگالی کو فروغ دینا اور انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر آپریشن کو مضبوط کرنا ہے۔

    ارشد ملک کا کہنا ہے کہ پی آئی اے اور پوری دنیا کے لیے یہ آپریشن بہت اہم ہے ’سب ہماری طرف دیکھ رہے ہیں کہ رابطے بحال کیے جائیں اور امید ہے جلد ہم مکمل طور پر آپریشن بحال کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔‘

    PIA

    ،تصویر کا ذریعہPIA

    پی آئی اے کے چیف آپریٹنگ آفیسر ائیر کموڈور جواد ظفر سی ای او پی آئی اے کے نمائندے کی حیثیت سے خود جہاز میں موجود تھے۔

    پی آئی اے کے مطابق کابل ائیرپورٹ پر سروسز کے لیے افغان سول ایویشن اور مقامی پی آئی اے کے عملے نے خصوصی انتظامات سنبھال رکھے تھے اور اس سلسلے میں افغانستان میں پاکستان کے سفیر منصور احمد خان اور دیگر سفارتی عملے کی مدد بھی شامل رہی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    اسلام آباد سے فلائٹ پر سوار خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے ایک صحافی کا کہنا ہے کہ ہوائی جہاز میں تقریباً 10 افراد تھے۔۔۔ مسافروں سے زیادہ عملہ موجود تھا۔

    پی آئی اے کے ترجمان نے سنیچر کے روز کہا تھا کہ پی آئی اے کابل کے لیے عمومی پروازیں شروع کرنے کا خواہش مند ہے مگر ابھی اس میں کچھ وقت ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کابل میں موجود چند اداروں نے پی آئی اے سے رابطہ کیا ہے کہ چارٹر پروازیں آپریٹ کی جائیں، پی آئی اے نے چارٹر پروازیں آپریٹ کرنے کے لیے اجازت نامے بھی طلب کر لیے ہیں تاہم پروازوں کی حتمی روانگی کے لیے کچھ انتظامات کی ضرورت ہے جو ابھی تک مکمل نہیں ہوئے۔

    کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد افراتفری میں ایک لاکھ 20 ہزار افراد کے انخلا کے دوران کابل ایئرپورٹ کو شدید نقصان پہنچا۔ طالبان قطر اور دیگر ممالک کی تکنیکی مدد سے اسے دوبارہ فعام کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

    قطر ایئرویز نے گذشتہ ہفتے کابل سے کئی چارٹر پروازیں چلائی تھیں جن میں زیادہ تر غیر ملکی اور افغانی تھے۔

  17. طالبان کی حامی خواتین کی وائرل تصاویر: کیا سر تا پا سیاہ برقع افغان کلچر ہے؟

  18. نائن الیون حملوں کے 20 برس بعد القاعدہ کہاں کھڑی ہے؟

  19. قطری وزیرِ خارجہ کا دورہ افغانستان، طالبان، حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ سے ملاقاتیں

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    قطر کے وزیرِ خارجہ اور نائب وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے آج افعانستان کا مختصر دورہ کیا ہے جس میں اُنھوں نے ملک کے نئے وزیرِ اعظم ملّا محمد حسن آخوند سے ملاقات کی ہے۔

    قطر کے وزیرِ خارجہ طالبان کی جانب سے افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد یہاں کا دورہ کرنے والی پہلی اعلیٰ سطحی غیر ملکی شخصیت ہیں۔

    اس کے علاوہ اُن کی سابق صدر حامد کرزئی اور سابق چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس حوالے سے تفصیل حاصل نہیں ہو سکی ہے کہ طالبان اور قطر کے درمیان کیا گفتگو ہوئی ہے۔

    افغان نشریاتی ادارے طلوع نیوز کے نامہ نگار عبدالحق عمری نے قطری وزیرِ خارجہ کی آمد کی ویڈیو بھی ٹویٹ کی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہTolo News, Afghanistan

    واضح رہے کہ قطر ایک طویل عرصے سے طالبان اور امریکہ کے درمیان افغانستان کے معاملے پر ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔

    اس وقت امریکہ کی جانب سے افغانستان سے نکالے گئے ہزاروں شہری قطر میں موجود ہیں جو اپنی حتمی منزلوں تک پہنچنے سے پہلے وہاں ٹھہرائے گئے ہیں۔

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    ،تصویر کا کیپشنطالبان حکومت کے وزیرِ اعظم ملّا محمد حسن آخوند
    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہTolo News, Afghanistan

    ،تصویر کا کیپشنقطری وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان کی سابق صدر حامد کرزئی اور سابق چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ سے ملاقات
  20. القاعدہ رہنما الاظواہری کی نئی ویڈیو منظر عام پر، افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا پر بات

    القاعدہ کے رہنما ایمن الاظواہری کی ایک تازہ ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں وہ 9/11 کے حملوں کی بیسویں برسی کا جشن مناتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ خیال رہے کہ اس سے قبل یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ ایمن الاظواہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ایس آئی ٹی ای (سائیٹ) انٹیلیجینس گروپ کا، جو جہادی ویب سائٹس کو مانیٹر کرتا ہے، کہنا ہے کہ یہ ویڈیو سنیچر کو ریلیز کی گئی ہے۔ اس ویڈیو میں القاعدہ رہنما نے کہا ہے کہ وہ یروشلم کو کبھی بھی یہودیت کا مرکز نہیں بننے دیں گے اور انھوں نے القاعدہ کے حملوں کا نہ صرف دفاع کیا ہے بلکہ جنوری میں شام میں روسی فوجیوں پر حملے کی بھی تعریف کی ہے۔

    سائیٹ کے مطابق الاظواہری نے افغانستان سے بیس سال بعد امریکہ فوجیوں کے انخلا پر بھی بات کی ہے۔ سائیٹ کے مطابق اس ویڈیو سے یہ نشاندہی نہیں ہوتی کہ یہ حالیہ ریکارڈنگ ہے کیونکہ طالبان کے ساتھ امریکہ نے انخلا کا معاہدہ فروری 2020 میں کیا گیا تھا۔ الاظواہری نے ویڈیو میں افغانستان پر طالبان کے کنٹرول سے متعلق بھی کچھ نہیں کہا۔ مگر الاظواہری نے جنوری میں شمالی شام کے شہر رقہ میں روسی افواج پر حملے کا ذکر ضرور کیا ہے۔ گذشتہ برس کے آخر میں یہ قیاس آرائیاں زوروں پر تھیں کہ الاظواہری بیماری سے مر گئے ہیں۔ اس کے بعد ان کے زندہ ہونے سے متعلق کوئی ویڈیو یا ثبوت منظر عام پر نہیں آیا تھا۔

    ایمن الاظواہری

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images