عمران خان: ہم امریکہ سے ایسے تعلقات چاہتے ہیں جیسے اس کے انڈیا سے ہیں
پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان ایک تاریخی دو راہے پر ہے۔ 'ہماری دعا ہے کہ یہ 40 سال بعد امن کی راہ پر چلا جائے اور اگر طالبان تمام دھڑوں کو ساتھ لے کر حکومت بنائیں تو یہ ممکن ہو سکتا ہے۔'
لائیو کوریج
’عمران خان کو غصہ آیا جب شاعر نے ظالم کہا‘
پاکستان میں ’روپوش‘ افغان گلوکار جنھیں طالبان کے ڈر سے افغانستان چھوڑنا پڑا
افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد وسطی ایشیائی ممالک کی خارجہ حکمت عملی کیا ہے؟
جب کنپٹی پر کلاشنکوف نہیں، راکٹ کی نوک محسوس ہوئی
میونسپلٹی کی ملازم خواتین گھر پر رہیں، صرف کچھ خواتین کام پر آ سکتی ہیں، طالبان
’اشرف غنی کے ملک سے بھاگ جانے سے طالبان سے معاہدہ ٹوٹا‘: زلمے خلیل زاد

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ سابق صدر اشرف غنی کے ملک سے اچانک نکل جانے کے باعث طالبان کے ساتھ معاہدہ ٹوٹا جس کے تحت طالبان کے کابل میں داخلے کو روکنا اور سیاسی حکومت کی منتقلی پر مذاکرات ہونا تھے۔
افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد فنانشل ٹائمز کو دیئے گئے اپنے پہلے انٹرویو میں زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ طالبان اس بات پر آمادہ ہو گئے تھے کہ وہ دو ہفتوں تک کابل کے باہر رہیں گے اور نئی حکومت کا قیام کریں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’حتی کہ آخری وقت میں بھی ہمارا طالبان کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا کہ وہ کابل میں داخل نہیں ہوں گے۔‘
واضح رہے کہ زلمے خلیل زاد افغان مفاہمتی عمل میں امریکہ کے خصوصی نمائندے رہے اور سنہ 2020 میں طالبان اور امریکہ میں فوجیوں کے انخلا کا معاہدہ کروانے میں کامیاب ہوئے تھے۔
انھوں نے فنانشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے مزید کہا کہ ’لیکن اشرف غنی 15 اگست کو ملک سے بھاگ گئے اور طالبان نے اس دن سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل فرینک میک کینزی سے پہلے سے طے شدہ ملاقات میں پوچھا کہ کیا امریکی فوجی کابل کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے کیونکہ حکومتی گر گئی ہے۔ اور کیا آپ جانتے ہیں کہ اس وقت کیا کہا گیا؟ ہم اس کی ذمہ داری نہیں لیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ صدر جو بائیڈن نے اصرار کیا کہ امریکی فوجی صرف امریکی شہیریوں اتحادیوں کے انخلا پر کام کریں گے اور امریکہ کی اس طویل ترین جنگ کو مزید طول نہیں دیں گے۔‘
زلمے خلیل زاد کے بیان پر امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کابل میں ’ایک لمحہ بھی زیادہ رہنا ممکن نہیں تھا۔‘
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے رپورٹرز کو بتایا کہ ’اس وقت امریکہ کا افغانستان میں مزید رہنا کبھی بھی حقیقت پسندانہ، قابل عمل اور عملی آپشن نہیں تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ایک واضح تاثر دیا گیا تھا کہ اگر افغانستان میں امریکہ اپنی موجودگی کو طول دینے کی کوشش کرتا ہے تو ہمارے فوجی دوبارہ طالبان اور داعش جیسے گروہوں کے دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنیں گے۔‘
حقانی اگر قبیلہ نہیں تو کون ہیں؟ عمران خان کی طرف سے ان کو ’پشتون قبیلہ‘ کہنے پر شدید بحث
فرانسیسی صدر اور ابو ظہبی کے ولی عہد کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر گفتگو

،تصویر کا ذریعہEPA
فرانس کے صدر امانوئیل میکخواں اور ابو ظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید النہیان کے درمیان فرانس میں ملاقات ہوئی ہے جس میں دونوں ممالک نے ’انتہاپسندی اور دہشتگردی‘ کے خلاف لڑنے اور ’سکیورٹی اور دفاع‘ کے شعبے میں اپنا تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دونوں فریقین نے ’خواتین اور لڑکیوں اور ساتھ ساتھ اقلیتوں کے حقوق‘ کا احترام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
شیخ محمد بن زاید نے بات چیت کے بعد ٹویٹ میں لکھا کہ ’ہم نے متحدہ عرب امارات اور فرانس کے درمیان طویل عرصے سے قائم مضبوط اور سٹریٹجک تعلقات میں مزید گہرائی لانے میں ہماری مشترکہ دلچسپی پر بات کی۔‘
کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ فرانسیسی صدر میکخواں اور شیخ محمد بن زاید دونوں ہی مشرقِ وسطیٰ میں اسلام پسند سیاسی جماعتوں کے حوالے سے تحفظات رکھتے ہیں۔
اس کے علاوہ دونوں ہی ممالک کے ترکی کے ساتھ تعلقات بھی کچھ خاص گرمجوشی پر مبنی نہیں ہیں جبکہ ترکی اور طالبان نے گذشتہ چند دنوں میں اکثر ایک دوسرے کے بارے میں مثبت بیانات دیے ہیں۔
عمران خان: ’چین کے ساتھ تعلقات امریکہ کے ساتھ تعلقات پر منحصر نہیں‘
چین سے تعلقات کے بارے میں عمران خان نے کہا کہ اُن کے چین کے ساتھ تعلقات امریکہ کے ساتھ تعلقات پر منحصر نہیں ہیں۔
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ یہ پاکستان تھا جس نے 1970 کی دہائی میں چین اور امریکہ کے درمیان برف پگھلانے میں کردار ادا کیا۔
بریکنگ, عمران خان: امریکہ کا ساتھ دینے پر بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے
عمران خان نے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو امریکہ کا ساتھ دینے کی وجہ سے دہشتگردی کی مد میں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ اس دوران بینظیر بھٹو بھی ایک حملے میں ہلاک ہوئیں اور پاکستان کو 150 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
پاکستان کو لاحق خدشات کے بارے میں اُنھوں نے کہا کہ اس وقت سب سے بڑا خدشہ پناہ گزین ہیں جو پہلے ہی 30 لاکھ کی تعداد میں یہاں موجود ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ افغانستان میں موجود داعش کے دہشتگرد جو وہاں کی سرزمین یہاں حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں، بلوچ درانداز، اور اس کے علاوہ پاکستان طالبان، سب سے حملوں کا خطرہ ہے۔
عمران خان نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت ان دونوں حوالے سے خدشات ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس تمام دور میں پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات انتہائی خراب تھے۔ امریکہ کہتا تھا کہ اس نے ہماری مدد کی ہے اور انھوں نے ہمیں 9 ارب ڈالر کی غیر فوجی اور 11 ارب ڈالر کی فوجی امداد دی۔ ’ہم ایک طرح کی ہائرڈ گن تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ اس طرح کے تعلقات ہوں جیسے اس کے انڈیا کے ساتھ ہیں، ایک کثیر الجہتی تعلق۔ انھوں نے کہا کہ ایسا تعلق نہیں ہونا چاہیے جس میں وہ ہمیں ان کے لیے لڑائی کرنے کے پیسے دیں ’ہم نارمل تعلق چاہتے ہیں۔‘
عمران خان: افغانستان کی حکومت کی مدد نہ کرنے کے علاوہ کیا چوائس ہے؟
عمران خان نے کہا کہ انٹیلیجنس ایجنسیوں کا کام ہر کسی سے تعلق رکھنا اور بات کرنا ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب پاکستانی طالبان پہلے ہی پاکستان کے خلاف حملے کر رہے تھے تو کیا ایک اور ملٹری ایکشن لیا جا سکتا تھا۔
عمران خان نے کہا کہ کیا اس وقت اس حوالے سے کوئی چوائس ہے کہ افغانستان کی حکومت کی مدد نہ کی جائے؟
اُنھوں نے کہا کہ یہ طالبان سے متعلق نہیں بلکہ افغانستان کے عوام سے متعلق ہے۔
بریکنگ, ’ہم سے توقع کی گئی کہ ہم پناہ گزین کیمپوں کی تلاشی کریں کہ کون طالبان ہے یا نہیں‘
جب عمران خان سے گذشتہ روز امریکی سینیٹ میں حقانی نیٹ ورک سمیت طالبان کو پناہ فراہم کرنے کے الزام کے بارے میں سوال کیا گیا تو عمران خان نے کہا کہ یہ انتہائی لاعلمی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ امریکیوں کو معلوم نہیں تھا کہ حقانی نیٹ ورک کیا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ یہ افغانستان میں رہنے والا پشتون قبیلہ ہے۔ ’ہم نے پچاس لاکھ افغان لوگوں کو جب پناہ دی تو اُن میں حقانی بھی تھے۔ کئی یہاں پناہ گزین کیمپوں میں پیدا ہوئے۔‘
’ہم سے توقع کی گئی کہ ہم پناہ گزین کیمپوں کی تلاشی کریں کہ کون طالبان ہے یا نہیں۔‘
عمران خان نے کہا کہ پاکستان کا 50 ارب ڈالر بجٹ ہے جو 22 کروڑ لوگوں پر خرچ ہوتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایک اور جنگ کے لیے پیسے نہیں تھے، ہم بمشکل ہی اپنے اخراجات پورے کر سکتے تھے۔
عمران خان: امریکہ نے اتحادی ہوتے ہوئے پاکستان پر 480 ڈرون حملے کیے
عمران خان نے کہا کہ سوویت یونین کے خلاف مجاہدین کو سکھایا گیا کہ غیر ملکی قبضے کے خلاف لڑنا مقدس جنگ ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اب وہ مغربی فورسز کے خلاف حملے کر رہے ہیں تو اسے دہشتگردی کہا جاتا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ پشتون بیلٹ کی ہمدردیاں طالبان سے مذہبی بنیادوں پر نہیں ہیں بلکہ پشتون قومیت کی وجہ سے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں امریکہ کی جانب سے 480 ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ سب اتحادی ہوتے ہوئے کیا گیا ہے۔
’کسی نے توقع نہیں کی تھی کہ افغانستان میں یہ ہوگا‘
عمران خان نے افغانستان سے امریکی انخلا کے بارے میں سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے امریکہ کے صدر سے افغانستان سے انخلا کے بعد سے اب تک بات نہیں کی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ جو بائیڈن ’ایک مصروف آدمی ہیں۔‘
جب اُن سے یہ پوچھا گیا کہ بائیڈن کا کال نہ کرنا کیا پاکستان کو طالبان کی حمایت کرنے پر سزا دینا ہے، تو اُنھوں نے کہا کہ یہ اُن سے پوچھا جانا چاہیے۔
عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے گیارہ ستمبر کے بعد امریکہ کا ساتھ دینے پر بے پناہ مشکلات اٹھائیں۔ ’ایک موقع پر 50 عسکریت پسند ہمارے خلاف حملے کر رہے تھے۔‘
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, عمران خان: افغانستان تاریخی دو راہے پر ہے، کوئی پیش گوئی نہیں کر سکتا آگے کیا ہوگا

،تصویر کا ذریعہCNN/Becky Anderson
پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان ایک تاریخی دو راہے پر ہے۔ ہماری دعا ہے کہ یہ 40 سال بعد امن کی راہ پر چلا جائے اور اگر طالبان تمام دھڑوں کو ساتھ لے کر حکومت بنائیں تو یہ ممکن ہو سکتا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی بیکی اینڈرسن کو اسلام آباد میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پر اگر دوسرے راستے پر گیا تو ایک بہت بڑا انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے اور ہمیں اس حوالے سے بہت فکر ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ امریکہ یہاں دہشتگردوں سے لڑنے کے لیے آیا تھا، اور غیر مستحکم افغانستان، پناہ گزینوں کا بحران، اور دوبارہ یہاں سے دہشتگردی (کا خدشہ ہے۔) اُنھوں نے کہا کہ افغانستان میں صورتحال ’باعثِ تشویش‘ ہے۔
عمران خان نے کہا کہ اس وقت کوئی بھی پیش گوئی نہیں کر سکتا کہ افغانستان کہاں جائے گا۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اُنھوں نے کہا کہ طالبان نے جو مثبت وعدے کیے ہیں ان سے لگتا ہے کہ وہ بین الاقوامی طور پر خود کو تسلیم کروانا چاہتے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ افغانستان کو کبھی بھی باہر سے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، اس لیے اُنھیں کنٹرول کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے اُنھیں فوائد کی پیشکش کرنی چاہیے۔
عمران خان نے کہا کہ موجودہ حکومت یہ واضح طور پر سمجھتی ہے کہ بین الاقوامی طور پر مدد کے بغیر وہ عوام کی مدد نہیں کر سکتے اور اس بحران سے نہیں نمٹ سکتے اس لیے ہمیں انھیں فوائد فراہم کرنے چاہییں۔
بیکی اینڈرسن نے سوال کیا کہ طالبان نے کہا ہے کہ خواتین کو کرکٹ نہیں کھیلنا چاہیے، کوئی بھی کھیل نہیں کھیلنا چاہیے، خواتین باہر نکلنے سے خوفزدہ ہیں، کیا آپ اس مقصد کی حمایت کرتے ہیں؟
اس سوال پر اُنھوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سوچنا غلطی ہے کہ باہر سے بیٹھ کر کوئی افغان خواتین کو حقوق دے سکتا ہے۔
عمران خان نے خواتین کے حقوق کے بارے میں کہا کہ افغان خواتین مضبوط ہیں، اُنھیں وقت دینا چاہیے، اُنھیں حقوق مل جائیں گے۔
اُنھوں نے کہا کہ خواتین کو ہر شعبے میں شریک ہونا چاہیے مگر جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ خواتین کو حقوق نہ دینے پر طالبان کی حمایت نہیں کریں گے، تو اُنھوں نے کہا کہ نہیں وہ صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ خواتین کو حقوق باہر سے بیٹھ کر نہیں دیے جا سکتے۔
بلوچستان: غیر قانونی طریقے سے آنے والوں اور اُنھیں پناہ دینے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

،تصویر کا ذریعہGovt of Balochistan
بلوچستان کے حکام نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا ہے کہ صوبے میں غیر قانونی طریقے سے آنے والے لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور کہا ہے کہ غیر ملکی باشندوں کو پناہ دینے والے لوگوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
یہ فیصلہ چیف سیکرٹری بلوچستان مطہر نیاز رانا کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں لیا گیا۔
اس اجلاس میں آئی جی پولیس محمد طاہر رائے، جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل آئی بی دوست علی بلوچ، بریگیڈیئر عابد، سپیشل سیکریٹری داخلہ، کمشنر کوئٹہ ڈویژن سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
حکام نے صوبے میں امن وامان کی مجموعی صورتحال، بالخصوص غیر ملکی باشندوں کا غیر قانونی طریقے سے صوبے میں آمد، داخلی راستوں پر کڑی چیکنگ سمیت دیگر اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔
چیف سیکریٹری بلوچستان نے صوبے کے تمام داخلی راستوں پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی طور پر صوبے میں داخل ہونے والے غیر ملکی باشندوں کے خلاف فارنرز ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
طالبان کا بینکوں میں ’ماضی سے بہتر آپریشنز‘ کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہReuters
افغانستان کے مرکزی بینک میں طالبان کے تعینات کردہ قائم مقام سربراہ حاجی محمد ادریس کا کہنا ہے کہ ملک کے بینک محفوظ ہیں اور ان میں ’ماضی سے بہتر‘ آپریشنز چلائے جا رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اگر مغربی ممالک نے مرکزی بینک کے اثاثے منجمد رکھے اور مغربی بینکوں نے افغان ہم منصبوں سے تعلقات محدود رکھے تو افغان بینک اور کمپنیوں میں جلد پیسے ختم ہونے کا خطرہ ہے۔
حاجی محمد ادریس نے اپنے بیان میں یقین دہانی کرائی ہے کہ ’ملک میں تمام کمرشل بینک سنجیدہ سرپرستی میں کام کر رہے ہیں اور پہلے سے بہتر آپریشنز چلا رہے ہیں۔‘
’ملک میں معاشی صورتحال کے پیش نظر تمام بینک، ملکی تاجر اور تمام فارن ایکسچینج کمپنیاں جلد معمول کے مطابق باقاعدگی سے چل سکیں گے اور وہ مکمل اعتماد کے ساتھ اپنے کاروباری امور چلا سکیں گے۔‘
خیال رہے کہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے کابل کے بینکوں کے باہر لوگوں کی لمبی قطاریں دیکھی گئی ہیں۔
ایران اور افغانستان کے درمیان پروازیں بحال: ایرانی میڈیا

،تصویر کا ذریعہReuters
ایران کے سرکاری چینل العالم کے مطابق ایران اور افغانستان کے درمیان مسافر پروازیں بحال کر دی گئی ہیں۔
بدھ کو ایران کی ایئر لائن ماہان ایئر کا طیارہ کابل پہنچا جس میں 19 مسافر سوار تھے۔
گذشتہ ماہ طالبان کی جانب سے افغانستان پر قبضے کے بعد ایران اور افغانستان کے درمیان مسافر پروازیں معطل کر دی گئی تھیں۔
کابل میں دولتِ اسلامیہ کے ’ہمدرد‘ سمجھے جانے والے مذہبی رہنما کے قتل کے محرکات کیا ہیں؟
