آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عمران خان: ہم امریکہ سے ایسے تعلقات چاہتے ہیں جیسے اس کے انڈیا سے ہیں
پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان ایک تاریخی دو راہے پر ہے۔ 'ہماری دعا ہے کہ یہ 40 سال بعد امن کی راہ پر چلا جائے اور اگر طالبان تمام دھڑوں کو ساتھ لے کر حکومت بنائیں تو یہ ممکن ہو سکتا ہے۔'
لائیو کوریج
ازبک سرحد پر طالبان نے بائیو میٹرک آلات نصب کر دیے, بی بی سی مانیٹرنگ
ریڈیو لبرٹی کی ازبک سروس ازودلک کے مطابق طالبان کی جانب سے افغان ازبک سرحد پر بائیو میٹرک ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے مخصوص آلات لگائے گئے ہیں۔
ازودلک کے ذرائع نے ازبکستان کے جنوب میں سرحد سے متصل شہر ترمز سے اطلاع دی ہے کہ یہاں نصب کیے گئے بائیو میٹرک آلات بنیادی طور پر اس وقت افغانستان سے ازبکستان جانے والے افراد کی اکثریت کا ڈیٹا حاصل کر سکیں گے۔
ویب سائٹ کے مطابق کاروباری شخصیات اور دیگر سامان کو آمو دریا کے ذریعے افغانستان میں لایا جاتا ہے۔ ویب سائٹ کو مزارِ شریف سے ایک ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ خصوصی آلات پانچ ستمبر کو نصب کیے گئے تھے۔
ان کے مطابق ’انھیں افغان سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے چلایا جا رہا ہے جو گذشتہ حکومت کے ساتھ بھی منسلک تھے۔ وہ مجرمان، جلا وطن کیے گئے اور غیر ملکیوں کے ساتھ کام کرنے والے افراد کی ایسی فہرستوں کو مرتب کر رہے ہیں جو گذشتہ حکومت نے بنائی تھیں۔
’طالبان ان فہرستوں سے ایسے نام بھی نہیں نکال رہے جن کے ازبک ویزے ہیں۔‘
اس سے قبل یہ اطلاعات بھی آتی رہی ہیں کہ طالبان نے گھر گھر جا کر ایسے لوگوں کی تلاش کی ہی جنھوں نے غیرملکی افواج کے ساتھ تعاون کیا تھا یا وہ پنجشیر کے مزاحمتی محاذ سے منسلک تھے۔‘
اشرف غنی کی حکومت کے آخری چند گھنٹے کیسے تھے؟
چند ہی گھنٹوں میں صدر اور اعلیٰ عہدے دار فرار ہو چکے تھے۔ افغان فوج اور پولیس کے اہلکاروں میں جو بچ گئے، انھوں نے اپنے یونیفارم اتارے اور کہیں چھپ گئے۔ مختلف ذرائع سے انٹرویو کر کے بی بی سی نے افغان حکومت کے آخری چند گھنٹوں کی کہانی جاننے کی کوشش کی ہے۔
سی آئی اے کے ڈائریکٹر کی آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقات
امریکہ کی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی ( سی آئی اے) کے ڈائریکٹر ولیم جوزف برنز نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید سے ملاقات کی ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے معاملات، خطے میں سلامتی اور افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق فوجی حکام کی جانب سے یہ باور کروایا گیا کہ پاکستان اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کی خطے میں امن کے لیے معاونت کرنے کے لیے تیار ہے اور افغان عوام کے ایک مستحکم اور خوشحال مستقبل کا خواہاں ہے۔
اعلامیے کے مطابق سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے افغانستان کی صورتحال میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی، خاص کر انخلا کے کامیاب آپریشن، خطے میں استحکام کی کوششوں کو سراہا گیا۔
پاکستانی گلوکارہ کے کیسٹ کور میں ’سمگل‘ کی گئی سراج حقانی کی تصویر
افغانستان کے حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی ایسی شخصیت ہیں جن کی شاید ایک ہی تصویر منظرِ عام پر آ سکی ہے۔ مگر یہ تصویر کہاں سے آئی؟
طالبان کا صحافیوں پر تشدد: ’کابینہ کے اعلان کے بعد اب حکومتی عہدیدار مار پیٹ کریں گے؟‘
وہ پاکستانی مدرسہ جس کے سابق طلبہ نئی طالبان کابینہ میں بھی شامل ہیں
پاکستان میں وہ کون سا مدرسہ ہے جس سے فارغ التحصیل متعدد طلبہ افغانستان اور پاکستان کے سیاسی منظر نامے اور عسکری تحریکوں میں پیش پیش رہتے ہیں؟
پاکستانی سی 130 طیارہ امداد لے کر کابل پہنچ گیا
طالبان کی نئی حکومت کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
افغانستان کے دارالحکومت کابل پر قبضے کے 23 دن بعد افغان طالبان کے ترجمان نے وزیراعظم اور ان کے دو معاونین سمیت طالبان کی 34 رکنی عبوری کابینہ اور حکومت کا اعلان کیا جس میں 20 وزرا اور سات نائب وزرا شامل ہیں۔ مگر افغان طالبان کی نئی حکومت اور کابینہ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
کابل میں لوگ بیرون ملک جانے کے لیے پھر قطاروں میں, ملک مدثر، بی بی سی کابل
کابل کے سرینا ہوٹل کے باہر ایک بار پھر چھ سے سات بسیں موجود ہیں اور لوگ قطاروں میں لگ کر اپنا اندراج کروا رہے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ جو افراد امریکہ کے انخلا کے پروگرام میں بیرون ملک نہیں جا پائے تھے اور ان کے پاس پاسپورٹ اور غیر ملکی شہریت اور ویزہ موجود ہے وہ اب باہر جا سکیں گے۔
خیال رہے کہ کابل ایئر پورٹ انٹرنیشنل اور کمرشل پروازوں کے لیے ابھی فعال نہیں ہو سکا۔
اس حوالے سے حکام نے ابھی تفصیلات تو فراہم نہیں کیں تاہم اس سے قبل یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ 200 افراد کابل سے بیرون ملک ایک چارٹر طیارے کے ذریعے جا سکیں گے۔
سابق افغان حکومت نے طالبان کابینہ کو مسترد کر دیا, نیاز فاروقی، بی بی سی اردو، نئی دہلی
نئی دہلی میں افغانستان کے سفارت خانے نے افغان وزارت خارجہ کی جانب سے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں طالبان کے ’نام نہاد کابینہ‘ کو ’ناجائز اور بلا جواز‘ قرار دیا گیا ہے۔
اس بیان میں جو کہ گذشتہ حکومت کی نمائندگی کرتا ہے کہا گیا ہے کہ ’اسلامی جمہوریہ افغانستان، جو لوگوں کی آزاد مرضی کا تنیجہ ہے اور لاکھوں شہریوں کے بصارت اور خواہشات کی علامت ہے جنہوں نے اپنے ملک کی آزادی، خودمختاری اور جمہوریت کے مقصد کے لیے حتمی قربانی دی ہے۔‘
اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ افغانستان کے عوام کی اکثریت، بین الاقوامی معاہدوں، متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی قراردادوں کے خلاف ہے۔
اس بیان میں مزید کہا گیا کہ ’یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ طالبان نے ایک بار پھر واضح طور پر بنیادی حقوق اور افغان خواتین اور معاشرے کے دیگر طبقات کے اہم کردار کی خلاف ورزی کی تصدیق کی ہے۔
یہ بیان طالبان حکومت کی جواز اور سابقہ حکومت کی طرف سے بھیجے گئے افغانستان کے مشن پر سوالانیہ نشان کھڑے کرتا ہے۔
انڈیا کی طرف سے، جو کہ یو این ایس سی کا غیر مستقل رکن ہے اور یو این ایس سی کی پابندیوں کی کمیٹی کی قیادت کر رہا ہے، ابھی تک نہ ہی طالبان حکومت کے اعلان پر اور نہ ہی انڈیا میں افغان سفارتخانے کے بیان پر کوئی ردعمل سامنے آیا ہے۔
انڈیا نے طالبان پر ’ویٹ اینڈ واچ‘ کی پالیسی اختیار کی ہے اور عوامی طور پر طالبان کے ساتھ صرف ایک ملاقات ہونے کی خبر کی تصدیق کی ہے۔ اگست کو قطر میں انڈیا کے سفیر دیپیک متل نے 31 شیر محمد عباس ستانکزئی سے ملاقات کی جو کہ نئی حکومت میں نائب وزیر خارجہ مقرر کئے گئے ہیں اور انڈین ملٹری اکیڈمی کے سابق طالب علم رہ چکے ہیں۔
چین کا افغانستان کے لیے تین کروڑ ڈالر امداد کا اعلان
چین نے افغسنستان کے لیے تین کروڑ دس لاکھ ڈالر کی امدادی اشیا دینے کا وعدہ کیا ہے جس میں خوراک اور کورونا کی ویکسین شامل ہیں۔
خیال رہے کہ اس امداد سے پہلے چین نے اعلان کیا تھا کہ وہ طالبان کی حکومت کے ساتھ اپنے رابطے برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔
افغانستان میں نئی عبوری حکومت کے قیام کو چین نے نظم و ضبط کی بحالی کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا تھا۔
چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے بدھ کو ایک میٹنگ جس میں افغانستان کے متعدد ہمسایہ ممالک پاکستان، تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان بھی شامل تھے، کے موقع پر افغانستان کے لیے امدادی اقدامات کا اعلان کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ان ممالک سے کہا ہے کہ وہ افغانستان کی مدد میں تعاون کریں۔
انھوں نے بتایا کہ چین افغانستان کو کورونا وائرس ویکسین کی کی تیس لاکھ خوراکیں فراہم کرے گا۔
طالبان: حقانی خاندان کے افراد کو امریکی بلیک لسٹ میں شامل کرنا دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے
منگل کو طالبان کی کابینہ کے اعلان کے بعد کئی حلقوں نے یہ نکتہ اٹھایا کہ نئی حکومت کے کئی اراکین ابھی بھی امریکہ کے اہداف کی فہرست یا بلیک لسٹ میں شامل ہیں۔
جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں طالبان کے ترجمان نے کہا کہ ’(جلال الدین) حقانی کے اہل خانہ کو امریکی اہداف کی فہرست میں شامل کرنا۔۔۔ دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔‘
ترجمان نے بیان میں کہا کہ حقانی کا خاندان بھی طالبان کی ’اسلامی امارات‘ کا حصہ ہیں اور ان کی کوئی علیحدہ شناخت یا تنظیم نہیں۔
بیان کے مطابق دوحہ معاہدے میں طے ہوا تھا کہ طالبان کے تمام حکام کو امریکی اور اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے خارج کر دیا جائے گا اور یہ مطالبہ اب بھی برقرار ہے۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی عالمی مطلوب افراد کی فہرست میں کابینہ کے 27 اراکین میں سے کم سے کم 14 افراد اقوامِ متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل ہیں تاہم یہ تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لیے انعامی رقم 50 لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ ڈالر کر دی ہے۔
’طالبان صحافیوں کی گرفتاریاں، ان پر تشدد فوری طور پر بند کریں‘
صحافیوں کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو دنوں میں طالبان نے تقریباً 14 صحافیوں کو گرفتار کیا جو کابل میں مظاہرے کی کوریج کر رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق چھ صحافیوں کو گرفتار کرنے کے بعد ان پر تششد کیا گیا۔
بہت سے صحافیوں، جن میں بی بی سی سے منسلک صحافی بھی شامل ہیں، کو گذشتہ روز کیے جانے والے احتجاج کی تصاویر یا ویڈیوز بنانے سے روکا گیا۔
سی جے پی کے ایشیا میں پروگرام کوارڈینیٹر سٹیون بٹلر نے کہا ہے کہ طالبان نے یہ بہت جلدی ہی ثابت کر دیا ہے کہ ان کی جانب سے کیے جانے والے وعدے، کہ وہ میڈیا کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیں گے، بے معنی ہیں۔
’ہم طالبان پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنے پہلے کیے جانے وعدوں کو پورا کریں۔ رپورٹرز کو مارنا اور گرفتار کرنا روک دیں، انھیں ان کا کام کرنے دیں اور میڈیا کو بنا کسی انتقامی کارروائی کے خوف کے کام کرے۔‘
لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق کابل میں جاری مظاہروں کی کوریج کرنے والے ویڈیو ایڈیٹر تقی دریابی اور ویڈیو رپورٹر نعمت اللہ نقدی کو طالبان نے گرفتار کر رکھا ہے۔
ذرائع کے مطابق ان ددنوں صحافیوں کو پولیس سٹیشن لے جایا گیا تھا اور انھیں وہاں الک الگ کمرے میں رکھا گیا۔ ان کے ساتھ برا سلوک کیا گیا اور انھیں تاروں کے ساتھ مارا پیٹا گیا۔
لاس اینجلس ٹائمز کا کہنا ہے کہ صحافیوں پرحراست کے دوران تشدد کیا گیا تاہم سی پی کے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔
’احمد مسعود اور امراللہ صالح افغانستان میں ہی ہیں‘
تاجکستان میں افغانستان کی سابق حکومت کے سفیر نے کہا ہے کہ قومی مزاحمتی فرنٹ کے رہنما احمد مسعود اور سابق نائب صدر امر اللہ صالح ملک سے فرار نہیں ہوئے اور ان کی افواج اب بھی طالبان سے لڑ رہی ہیں۔
دوشنبے میں سابق افغان سفیر ظاہر اغبار نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ وہ امر اللہ صالح کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور سکیورٹی وجوہات کی بنا پر وہ عام رابطوں میں نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’فرار مزاحمتی فورسز کی لغت کا حصہ نہیں ہے۔ اگر احمد مسعود اور امراللہ صالح نے فرار ہونا ہوتا تو وہ پہلے دن ہی فرار ہو جاتے۔‘
یاد رہے کے طالبان نے گذشتہ دنوں پنجسیر کو مکمل طور پر فتح کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم مزاحمتی افواج نے شکست تسلیم نہیں کی۔
طالبان کے عورتوں سے رویے پر اقوام متحدہ کی تشویش
کابل میں اقوام متحدہ کی ایک اہلکار نے کہا ہے افغان عورتوں کے حقوق اور احترام کے حوالے سے طالبان اپنے وعدوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے خواتین کے لیے ذیلی ادارے یو این ویمین کی ترجمان ایلیسن ڈیویڈین کا کہنا ہے کہ طالبان نے اپنے بیان میں اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ اسلام کے مطابق عورتوں کے حقوق کا احترام کریں گے۔
نیویارک میں صحافیوں سے ایک ویڈیو کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس کی مثالیں یہ ہیں کہ عورتوں کو محرم کے بغیر سفر کرنے کی اجازت نہیں ہے اور کچھ ایسے صوبے ہیں جہاں عورتیں کام پر نہیں جا سکیں۔
یاد رہے کہ منگل کو طالبان نے اپنی عبوری حکومت کا اعلان کیا تھا جس میں ایک بھی عورت شامل نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب وقت ہے کہ طالبان بتائیں کہ ان کی حکومت سب طالبان کے لیے ہے۔
بریکنگ, 200 مزید امریکی شہریوں کو افغانستان سے نکلنے کی اجازت
ایک امریکی افسر نے کہا ہے کہ امریکہ کے انخلا پروگرام کے ختم ہونے کے بعد بھی افغانستان میں موجود امریکی شہریوں میں سے 200 کو چارٹر طیارے سے اپنے ملک لے جانے کی اجازت دی گئی ہے۔
امریکی افسر نے یہ بات خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان پر امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خالد زاد نے دباو ڈالا تھا۔
امریکی انخلا کے پروگرام کے ختم ہونے کے بعد اس چارٹر طیارے کی پرواز آج جمعرات کو متوقع تھی۔ حکام نے یہ تصدیق نہیں کی کہ کیا یہ وہی امریکی اور دیگر ممالک کے شہری ہیں جو مزار شریف میں پھنسے ہوئے تھے اور ان کے پرائیویٹ چارٹرز کو اڑنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
افغانستان کی تازہ ترین صورتحال پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج
صبح بخیر اور بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔
افغانستان پر طالبان کے قبضے کے حوالے سے ہماری کوریج جاری ہے اور یہاں آپ کو اس اہم خبر سے جڑی تازہ ترین معلومات، خبریں اور تجزیے ملیں گے۔
اب تک کی تازہ ترین صورتحال کچھ یوں ہے:
- حکومت کی جانب سے ملک میں مظاہروں پر پابندی، پیشگی اجازت لازمی قرار۔
- طالبان مخالف قوتوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کنئی حکومت کو تسلیم نہ کریں۔
- آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ اگر طالبان کی حکومت نے خواتین کو اس کھیل سے دور رکھا تو وہ افغانستان کے ساتھ ایک طے شدہ ٹیسٹ میچ نہیں کھیلیں گے۔
- امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ افغان طالبان سے رابطے کریں گے مگر افغانستان میں ان کی نئی حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے۔
- چین اور پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک و عالمی تنظیمیں افغانستان کے عوام کے لیے خوراک اور ادویات سمیت دیگر امداد بھیج رہے ہیں۔
گذشتہ چند روز میں کیا، کیا ہوا؟ جاننے کے لیے کلک کیجیے۔
وہ پاکستانی مدرسہ جس کے طلبہ طالبان کابینہ میں بھی شامل رہے
کیا 111 سالہ بڑھیا کی کہانی نے بابر کو ہندوستان کی فتح کا خواب دکھایا؟