برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو کے ڈائریکٹر جنرل نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے قبضے سے برطانیہ کے نام نہاد شدت پسندوں کو شہ مل سکتی ہے۔
کین میک کولم نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ دہشت گردی کا خطرہ راتوں رات نہیں بدلے گا، لیکن انتہا پسندوں کے ’حوصلے بڑھ سکتے ہیں‘۔
انھوں نے کہا کہ برطانیہ کو دہشت گردی میں اضافے سے ’چوکس‘ رہنا ہوگا۔
میک کالم نے کہا کہ گذشتہ چار سالوں میں برطانیہ میں 31 دہشت گردانہ حملوں کے منصوبوں کو ناکام بنایا گیا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اس میں صرف وبائی مرض کورونا کے دوران ناکام بنائے گئے چھ منصوبے بھی شامل ہیں۔
اگرچہ وہ بڑی حد تک اسلامی انتہا پسندانہ سازشیں تھیں ، لیکن ان میں دائیں بازو کے انتہا پسند شدت پسندوں کی طرف سے حملوں کی ’بڑھتی ہوئی تعداد‘ بھی موجود تھی۔
انھوں نے مزید کہا ’مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہے کہ برطانیہ کے لیے دہشت گردی کا خطرہ ایک حقیقی اور پائیدار چیز ہے۔‘
میک کولم نے 11 ستمبر کے حملوں کی 20 ویں برسی کے موقع پر بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام میں بتایا کہ چھوٹے پیمانے پر دہشت گردانہ کارروائیاں ایم آئی فائیو کو درپیش خطرات کی سب سے بڑی تعداد ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان میں ہونے والے واقعات نے ان میں سے کچھ شدت پسندوں کو حوصلہ دیا ہو گا اور ہماری توجہ اسی قسم کے خطرات پر مرکوز رہی ہے۔