’طالبان نے حکم دیا ہے گھر چھوڑ دو۔ مگر ہمارے پاس جانے کے لیے کوئی دوسری جگہ نہیں ہے۔‘ قندھار کی رہائشی زارہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو یہ بتایا ہے۔ ان کے مطابق یہ گھر طالبان کے جنگجوؤں کو دیے جائیں گے۔
افغانستان کے دوسرے سب سے بڑے شہر قندھار میں سینکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ طالبان نے انھیں اپنے گھر چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔
قندھار کے مرکزی علاقے میں قریب تین ہزار خاندان ایک ایسی زمین پر مقیم ہیں جو اطلاعات کے مطابق وزارت دفاع کی ملکیت ہے۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں مردوں اور خواتین کو یہ دعویٰ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے کہ طالبان نے انھیں اپنے گھر چھوڑنے کے لیے دو دن کا وقت دیا ہے۔
شہر کے حکام کا کہنا ہے کہ قندھار میں کئی برسوں سے مقیم افراد وہاں رہنے کا حق رکھتے ہیں۔
قندھار کے ایک مقامی صحافی کے مطابق اس حکومتی زمین پر بعض لوگوں نے خود اپنے پیسوں سے گھر تعمیر کیے تھے۔ ان میں سے اکثر خاندان غریب ہیں اور بعض کا کوئی سربراہ بھی نہیں ہے۔
جب سے طالبان نے افغانستان میں اقتدار سنبھالا ہے، کچھ خاندانوں نے شکایت کی ہے کہ طالبان نے ان سے گھر چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کچھ جنگجو وہاں رہائش پذیر بھی ہو رہے ہیں۔
خیال ہے کہ سابقہ افغان حکومت نے لوگوں کو ان علاقوں سے نکال کر یہاں پارک تعمیر کرنے تھے مگر وہ اس میں ناکام رہی۔
بی بی سی نے اس پر طالبان کے ترجمان سے ردعمل جاننے کی کوشش کی ہے مگر اب تک ان کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
قندھار کو طالبان کا گڑھ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی تحریک ابتدائی طور پر وہیں سے شروع ہوئی تھی۔
قندھار کے گورنر نے مقامی رہنماؤں سے بات چیت کے بغیر کسی کو گھر سے نکالنے کی کارروائی روک دی ہے۔ ایک بیان کے مطابق یہ تمام گھر حکومتی کوارٹر نہیں بلکہ کچھ گھر لوگوں نے خود تعمیر کیے ہیں۔