افغانستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد پی آئی اے کی پہلی ’پہلی بین الاقوامی کمرشل پرواز‘ کابل پہنچ گئی ہے۔
پی آئی اے کی پرواز پی کے 6249 اسلام آباد سے آج صبح کابل روانہ ہوئی اور مقامی وقت کے مطابق 9:45 پر پہنچی۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ پہلی کمرشل پرواز ہے تاہم متعدد میڈیا ذرائع اسے مسترد کرتے ہوئے پہلی چارٹرڈ فلائٹ کہہ رہے ہیں۔
اس پرواز میں پی آئی اے کا عملہ بین القوامی صحافیوں کو کابل لے کر گیا اور عالمی بنک اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی ٹیم کو واپس لے کر آیا۔
سی ای او پی آئی اے مارشل ارشد ملک کے مطابق کابل میں نئی حکومت کے قیام کے بعد یہ پہلی بین الاقوامی مسافر پرواز تھی۔ پرواز کا مقصد پاکستان اور افغانستان کے مابین خیر سگالی کو فروغ دینا اور انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر آپریشن کو مضبوط کرنا ہے۔
ارشد ملک کا کہنا ہے کہ پی آئی اے اور پوری دنیا کے لیے یہ آپریشن بہت اہم ہے ’سب ہماری طرف دیکھ رہے ہیں کہ رابطے بحال کیے جائیں اور امید ہے جلد ہم مکمل طور پر آپریشن بحال کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔‘
پی آئی اے کے چیف آپریٹنگ آفیسر ائیر کموڈور جواد ظفر سی ای او پی آئی اے کے نمائندے کی حیثیت سے خود جہاز میں موجود تھے۔
پی آئی اے کے مطابق کابل ائیرپورٹ پر سروسز کے لیے افغان سول ایویشن اور مقامی پی آئی اے کے عملے نے خصوصی انتظامات سنبھال رکھے تھے اور اس سلسلے میں افغانستان میں پاکستان کے سفیر منصور احمد خان اور دیگر سفارتی عملے کی مدد بھی شامل رہی۔
اسلام آباد سے فلائٹ پر سوار خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے ایک صحافی کا کہنا ہے کہ ہوائی جہاز میں تقریباً 10 افراد تھے۔۔۔ مسافروں سے زیادہ عملہ موجود تھا۔
پی آئی اے کے ترجمان نے سنیچر کے روز کہا تھا کہ پی آئی اے کابل کے لیے عمومی پروازیں شروع کرنے کا خواہش مند ہے مگر ابھی اس میں کچھ وقت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کابل میں موجود چند اداروں نے پی آئی اے سے رابطہ کیا ہے کہ چارٹر پروازیں آپریٹ کی جائیں، پی آئی اے نے چارٹر پروازیں آپریٹ کرنے کے لیے اجازت نامے بھی طلب کر لیے ہیں تاہم پروازوں کی حتمی روانگی کے لیے کچھ انتظامات کی ضرورت ہے جو ابھی تک مکمل نہیں ہوئے۔
کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد افراتفری میں ایک لاکھ 20 ہزار افراد کے انخلا کے دوران کابل ایئرپورٹ کو شدید نقصان پہنچا۔ طالبان قطر اور دیگر ممالک کی تکنیکی مدد سے اسے دوبارہ فعام کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
قطر ایئرویز نے گذشتہ ہفتے کابل سے کئی چارٹر پروازیں چلائی تھیں جن میں زیادہ تر غیر ملکی اور افغانی تھے۔