آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

عمران خان: ہم امریکہ سے ایسے تعلقات چاہتے ہیں جیسے اس کے انڈیا سے ہیں

پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان ایک تاریخی دو راہے پر ہے۔ 'ہماری دعا ہے کہ یہ 40 سال بعد امن کی راہ پر چلا جائے اور اگر طالبان تمام دھڑوں کو ساتھ لے کر حکومت بنائیں تو یہ ممکن ہو سکتا ہے۔'

لائیو کوریج

  1. پشاور میں ماحول کیسا ہے؟, جان سمپسن، ایڈیٹر، ورلڈ افیئرز

    درّہ خیبر ایک ہیبت ناک جگہ ہے جہاں ماضی کے تنازعے کی علامات جا بجا نظر آتی ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان یہاں طورخم کی سرحدی چیک پوسٹ ہے اور یہاں پاکستان میں داخل ہونے کی آس لیے سینکڑوں افغان شہری جمع ہیں۔

    یہاں پاکستانی اور طالبان سپاہی ایک دوسرے کے آمنے سامنے موجود ہیں اور ایک طرف پاکستان کا سبز پرچم ہے تو دوسری جانب طالبان کا سفید پرچم۔ صرف اُن لوگوں کو پاکستان میں داخل ہونے دیا جا رہا ہے جن کے پاس دستاویزات ہیں کہ اُنھیں پاکستان میں علاج کی ضرورت ہے۔

    جو لوگ داخل نہیں ہو پاتے، وہ کامیاب ہونے والوں کو حسرت و حسد بھری نگاہوں سے دیکھتے رہتے ہیں۔

    طالبان سپاہی بات کرنے پر رضامند تھے مگر جس سے میں بات کر رہا تھا اسے اُس کے کمانڈر نے ڈپٹ کر بھگا دیا۔

    میں اب جن طالبان سے مل رہا تھا وہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے وقت کے طالبان سے ایک پوری نسل بعد کے تھے۔

    میں نے گیارہ ستمبر کے حملوں سے پہلے اور بعد میں طالبان کے ساتھ بہت وقت گزارا ہے اور یہ اب بھی ویسے ہی معلوم ہو رہے ہیں جیسے کہ پہلے ہوا کرتے تھے۔

    لگتا نہیں کہ ان میں کچھ بھی تبدیل ہوا ہے، اُن کا رویہ اور تصورات تو بالکل بھی نہیں۔

  2. گیارہ ستمبر حملوں کو بیس سال مکمل، امریکہ میں تقریبات جاری

    دنیا کی دوسری جانب امریکہ میں آج گیارہ ستمبر کے حملوں کو 20 سال مکمل ہونے پر یادگاری تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔

    اس حوالے سے مرکزی تقریب نیو یارک شہر میں ہو رہی ہے جہاں صدر جو بائیڈن اور خاتونِ اوّل جِل بائیڈن بھی شریک ہیں۔

    اُن کے ہمراہ سابق صدور بارک اوبامہ اور بل کلنٹن بھی موجود ہیں۔

    اس موقع پر دو مرتبہ ایک ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جاتی ہے جب ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹاورز سے طیارے ٹکرائے تھے۔

    گیارہ ستمبر 2001 کو آٹھ بج کر 46 منٹ پر پہلا طیارہ شمالی ٹاور سے ٹکرایا تھا اور پھر نو بج کر 3 منٹ پر جنوبی ٹاور سے دوسرا طیارہ ٹکرایا تھا۔

    ان حملوں کے نتیجے میں تین ہزار کے قریب لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ اب اس جگہ پر ایک میوزیم اور ون ورلڈ ٹریڈ سینٹر نامی بلند و بالا عمارت قائم ہے۔

    ورلڈ ٹریڈ سینٹر حملوں کے فوراً بعد امریکہ نے القاعدہ نامی شدت پسند تنظیم کو ان حملوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے افغانستان پر حملہ کر دیا۔

    امریکہ کا مؤقف تھا کہ طالبان نے القاعدہ کو محفوظ ٹھکانہ فراہم کیا جس کے باعث وہ امریکہ پر حملہ کرنے میں کامیاب رہے۔

    افغانستان پر حملے کے بعد دسمبر 2001 میں طالبان کی حکومت ختم ہو گئی تھی اور مئی 2011 میں القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ایک امریکی آپریشن میں ہلاک ہوئے۔

    بیس سال تک جاری رہنے والی افغان جنگ کا اختتام 31 اگست کو اس وقت ہوا جب آخری امریکی فوجی بھی افغان سرزمین سے چلے گئے۔

    اس سے پہلے 15 اگست کو ہی طالبان کابل سمیت پورے ملک کا قبضہ سنبھال چکے تھے۔

  3. سوشل میڈیا نے 9/11 سے متعلق سازشی نظریات کو کیسے بڑھاوا دیا

  4. طالبان کی نئی عبوری کابینہ میں کون کون شامل ہے؟

    افغانستان میں طالبان کی نئی عبوری کابینہ کی حلف برداری کی تقریب 11 ستمبر کو متوقع تھی لیکن طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ حلف برداری کی تقریب ’اب پلان کا حصہ نہیں-‘

    تاہم اس عبوری کابینہ میں کون کون سے اہم طالبان لیڈر شامل ہیں؟ جانیے خدائے نور ناصر اور محمد ابراہیم کی اس ویڈیو میں۔

  5. ’لیتھیم کا سعودی عرب‘ کہلائے جانے والے افغانستان کی معیشت کا مستقبل کیا ہو گا؟

    افغانستان کی معیشت کی حالت ’نازک‘ ہے اور اس کا انحصار بیرونی مالی امداد پر ہے۔

    طالبان کی جانب سے افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے چند ماہ پہلے ہی ورلڈ بینک نے افغانستان کی معیشت کے بارے میں یہ پریشان کُن تجزیہ پیش کیا تھا۔

    افغانستان کی معیشت کا مستقبل اب مزید غیر یقینی کا شکار ہو گیا ہے کیونکہ اس کو ملنے والی مالی امداد مستقبل میں بھی ملتی رہے گی یا نہیں اس پر شک و شبہات کے گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں۔

    عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے افغانستان کی تیزی سے بدلتی صورتحال کے تناظر میں امداد دینے کا عمل عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔

    افغانستان کے پاس کافی تعداد میں معدنی وسائل ہیں لیکن موجودہ سیاسی صورتحال نے اُن کا صحیح استعمال کرنے کی سارے امکانات کو دھندلا دیا ہے۔

    افغانستان جس طرح سے بیرونی مالی امداد پر انحصار کرتا ہے یہ ایک حیران کُن بات ہے، سنہ 2019 میں ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق ترقیاتی کاموں کی مد میں ملنے والی امداد ملک کی گراس نیشنل آمدن کا 22 فیصد تھی۔

    یہ اعدادوشمار بہت گھمبیر ہیں لیکن آج سے دس برس قبل ورلڈ بینک نے ہی اس شرح کو 40 فیصد بتایا تھا۔

    لیکن اب یہ مالی امداد جاری رہے گی یا نہیں اس بارے میں غیر یقینی پائی جاتی ہے۔

    سکیورٹی خدشات اور بڑے پیمانے پر بدعنوانی افغانستان کا ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ جس کا سیدھا مطلب ہے کہ افغانستان میں بیرونی سرمایہ کاری بہت کم ہے۔ تو اب افغانستان کی معیشت کا مستقبل کیا ہو گا؟ پڑھیے بی بی سی کے نامہ نگار برائے اقتصادی امور، اینڈریو واکر کی یہ تحریر >>

  6. بریکنگ, پی آئی اے کی وضاحت: کابل کے لیے پروازوں کی بحالی میں ابھی کچھ وقت لگے گا

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے وضاحت کی ہے کہ کابل کے لیے پروازوں کی بحالی میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔

    ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کابل کے لیے عمومی پروازیں شروع کرنے کا خواہش مند ہے مگر ابھی اس میں کچھ وقت ہے۔

    خیال رہے کہ کچھ دیر قبل ترجمان پی آئی اے نے بی بی سی کو تصدیق کی تھی کہ پی آئی اے پیر سے کابل کے لیے پروازیں بحال کر رہا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ کابل میں موجود چند اداروں نے پی آئی اے سے رابطہ کیا ہے کہ چارٹر پروازیں آپریٹ کی جائیں، پی آئی اے نے چارٹر پروازیں آپریٹ کرنے کے لیے اجازت نامے بھی طلب کر لیے ہیں تاہم پروازوں کی حتمی روانگی کے لیے کچھ انتظامات کی ضرورت ہے جو ابھی تک مکمل نہیں ہوئے۔

    ترجمان پی آئی اے کا مزید کہنا ہے کہ پروازوں کی روانگی سے قبل اس بارے میں مکمل معلومات مہیا کی جائیں گی اور چارٹر پروازوں کے حصول کے لیے پی آئی اے کے کابل یا اسلام آباد آفس سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

  7. کیا پاکستانی کرنسی میں تجارت افغانستان کی معیشت ’کنٹرول‘ کرنے کی کوشش ہے؟

  8. 1997 میں طالبان کا افغانستان کیسا تھا؟

    سنہ 1997 میں صحافی محمود جان ایک گاڑی میں چند سینئر صحافیوں کے ہمراہ طورخم بارڈر کی جانب جا رہے تھے۔

    افغانستان میں طالبان حکومت کا یہ دوسرا سال تھا اور محمود جان چند سنی سنائی باتوں کی خود جانچ کرنا چاہتے تھے۔

    اپنے اس سفر پر انھوں نے افغانستان میں کیا دیکھا؟ جانیے اس آڈیو سٹوری میں جسے پیش کر رہے ہیں خدائے نور ناصر ایڈٹ: محمد ابراہیم

  9. پاکستان کی طرف سے امدادی سامان کی تیسری کھیپ خوست پہنچا دی گئی

    پاکستان کی جانب سے افغانستان کے لیے انسانی امداد بھیجنے کا عمل جاری ہے اور اب سےکچھ دیر قبل امدادی سامان کی تیسری کھیپ صوبہ خوست پہنچا دی گئی ہے۔

    پاکستانی سفیر برائے افغانستان منصور احمد خان کے مطابق پاکستان سے ایک اور C-130 تھوڑی دیر پہلے خوراک، ادویات سمیت امدادی سامان لے کر خوست پہنچا ہے۔

    امدادی سامان کی اس کھیپ کو خوست کے صوبائی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

  10. طالبان کا افغانستان: 23 برس قبل جب طالبان نے مزارِ شریف فتح کیا

    15 اگست 2021 کو طالبان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل پر قبضہ کر لیا اور ملک کے صدر اشرف غنی افغانستان چھوڑ کر چلے گئے۔

    طالبان اس سے قبل نوے کی دہائی میں افغانستان میں برسراقتدار رہ چکے ہیں۔ جانیے اس وقت کا مرتضیٰ بلخی کا آنکھوں دیکھا حال

  11. کیا طالبان کی واپسی افغانستان کو ایک مرتبہ پھر القاعدہ اور دہشتگرد تنظیموں کا گڑھ بنا دے گی؟

    افغانستان کے کنڑ صوبے کے دور دراز علاقوں میں اور آن لائن جہادی چیٹ رومز میں شدت پسندوں بالخصوص القاعدہ کے حامی افراد طالبان کی ‘تاریخی کامیابی‘ کا جشن منا رہے ہیں۔

    وہ فوج جس نے 20 برس پہلے طالبان اور القاعدہ کو نکال باہر کیا تھا، اُسی فوج کے شرمناک انخلا نے مغرب مخالف جہادیوں کا دنیا بھر میں حوصلہ بڑھایا ہے۔

    ان جہادیوں کے لیے افغانستان میں حکومتی عملداری اور کنٹرول سے باہر علاقے ایک انعام ہیں، جہاں وہ چھپ سکتے ہیں، خاص طور پر نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے عسکری گروہوں کے لیے، جو شام اور عراق میں اپنی خود اعلانیہ خلافت کی شکست کے بعد ایک نیا گڑھ ڈھونڈ رہے ہیں۔

    مغربی جنرلز اور سیاستدان خبردار کر رہے ہیں کہ القاعدہ تنظیم اب افغانستان میں مضبوط ہو گی۔

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد کہا کہ مغربی ممالک کو متحد ہو کر افغانستان کو بین الاقوامی دہشتگرد تنظیموں کی آماجگاہ بننے سے روکنا ہو گا۔

  12. پی آئی اے کا پیر سے کابل کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے اگلے ہفتے اسلام آباد سے کابل کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ایئرلائن کے ترجمان نے سنیچر کے روز خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان کی جانب سے گذشتہ ماہ اقتدار پر قبضے کے بعد یہ پہلی غیر ملکی کمرشل سروس ہے۔

    پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان نے کہا ’ہمیں فلائٹ آپریشن کے لیے تمام تکنیکی منظوری مل گئی ہے۔ ہمارا پہلا کمرشل طیارہ ، (ای) ایئربس اے 320، 13 ستمبر کو اسلام آباد سے کابل کے لیے روانہ ہوگا۔‘

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پی آئی اے کے ترجمان نے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔

  13. چمن سرحد: ’خطرہ مول نہیں لینا چاہتے‘

    چمن اور سپن بولدک کی سرحد سے ہزاروں کی تعداد میں بارڈر کراس کرکے پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کا کیا کہنا ہے۔

    ویڈیو: شمائلہ جعفری اور کامل دیان ایڈیٹنگ: نیئر عباس

  14. خواتین کے معاملے پر ترکی نے طالبان کو کیا مشورہ دیا؟

    ترک وزارت خارجہ نے جمعہ کو ایک بیان جاری کیا جس میں خواتین کی حقوق کے معاملے پر افغانستان کی عبوری حکومت کو ایک اہم مشورہ دیا گیا۔

    ترکی کے ساتھ ساتھ میکسیکو، انڈونیشیا، جنوبی کوریا، آسٹریلیا کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے افغانستان میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

    بیان میں حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی گئی اور حملے میں ہلاک ہونے والے افغان، امریکی اور برطانوی عوام کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

    اس مشترکہ بیان میں طالبان سے کہا گیا ہے کہ افغانستان کی خواتین کی شرکت کے ساتھ ساتھ ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

    افغانستان کی عبوری حکومت کی کابینہ میں خواتین کی کوئی موجودگی نہیں ہے اور طالبان نے بارہا کہا ہے کہ خواتین حکومت میں بطور وزیر موجود نہیں ہوں گی۔

    اس کے ساتھ ہی ہرات سے کابل تک خواتین کے برقعے میں دکھائی دینے کی اطلاعات ہیں۔

    ترکی نے ان تمام ممالک کے ساتھ مل کر طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ پچھلے سالوں میں افغانستان کی خواتین کی طرف سے کی گئی پیش رفت کو ضائع نہ ہونے دیں۔

  15. ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی خود کو حراست میں لیے جانے کی تردید

    افغانستان کی قومی مصالحتی کونسل کے سابقہ چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے خود کو حراست میں لیے جانے کی تردید کی ہے۔

    گذشتہ روز انڈین میڈیا نے دعوی کیا تھا کہ طالبان نے ڈاکٹر عبداللہ کو گرفتار کر لیا ہے۔

    انڈین خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے صحافی نوین کپور نے ٹویٹ کیا کہ ’چند منٹ پہلے ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

    ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے اس خبر کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں اس صحافی سے کہتا ہوں کہ وہ پیشہ ورانہ انداز میں کام کریں اور شائع کرنے سے پہلے حقائق کو چیک کر لیا کریں۔

  16. لوگر: افغان افواج اور طالبان کی جنگ میں گھرے افغانستان کے دیہی علاقوں کے عام لوگ

    افغانستان کے دیہی علاقوں نے پچھلے کچھ برسوں میں افغان افواج اور طالبان کے درمیان شدید لڑائی دیکھی ہے، وہاں رہنے والے بہت سے لوگ اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھ کر راحت محسوس کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ امن ہو گا تو معیشت بھی بہتر ہو گی۔ دیکھیے بی بی سی کے سکندر کرمانی اور مدثر ملک کی افغانستان کے مشرقی صوبے لوگر میں ایسے ہی ایک گاوں سے یہ رپورٹ۔

  17. زلمے خلیل زاد: امریکیوں کے انخلا میں مدد اور تعاون کے لیے قطر اور طالبان کا شکریہ

    امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین دنوں میں امریکی شہریوں سمیت 250 سے زائد غیر ملکیوں نے کابل چھوڑا ہے۔

    ٹویٹ میں قطر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ افراد قطری پروازوں کے ذریعے بغیر کسی رکاوٹ کے کابل روانہ ہوئے۔

    ’ان پروازوں میں سہولت فراہم کرنے کے لیے قطر کا شکریہ اور ہم اس اہم کوشش میں طالبان کے تعاون کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘

    زلمے خلیل زاد کا مزید کہنا تھا کہ ہم اپنے شہریوں، دیگر غیر ملکیوں اور افغانیوں کے لیے محفوظ راستے کو یقینی بنانے کے لیے قطر کی حکومت، طالبان اور دیگر سے بات چیت جاری رکھیں گے۔

    اس سے قبل امریکہ نے جمعرات کو طالبان کی تعریف کی تھی کہ انھوں نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد امریکیوں کو پروازوں کی سہولت فراہم کرنے میں تعاون کرنے کے ساتھ ساتھ بہترین رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔

    قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایملی ہورن نے اسے ’ایک مثبت پہلا قدم‘ قرار دیا تھا۔

    انھوں نے ایک بیان میں کہا ’طالبان امریکی شہریوں اور مستقل ویزا رکھنے والوں کی روانگی میں سہولت فراہم رہے ہیں، انھوں نے لچک دکھائی ہے اور اس کوشش میں انھوں نے کاروباری اور پیشہ ورانہ رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔‘

  18. افغانستان کوریج کے لیے گئے پاکستانی صحافی جنھیں طالبان نے جاسوس سمجھا

  19. پنجشیر کے علاقہ مکینوں کو ’طالبان کا نقل مکانی کرنے کا حکم‘

    افغان سوشل میڈیا پر پنجشیر وادی کے اندر گاڑیوں کے ایک بڑے قافلے کی تصاویر وائرل ہیں، کہا جا رہا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو طالبان کے کہنے پر صوبہ چھوڑ رہے ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق پنجشیر کے ایک رہائشی نے بتایا کہ طالبان نے پنجشیر کے مختلف علاقوں میں خاندانوں سے کہا تھا کہ ’وہ اپنے گھر چھوڑ کر کابل چلے جائیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ طالبان پنجشیر کے لوگوں پر ظلم کر رہے ہیں اور انھیں بھاگنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

    ایک ویڈیو میں پنجشیر وادی میں کھڑی بسوں اور ٹرکوں سمیت درجنوں کاریں دکھائی گئی ہیں۔

    سڑک کے کنارے قافلے کا انتظار کرنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ طالبان نے قافلے کو جو سینکڑوں خاندانوں پر مشتمل ہے، گھنٹوں کیوں روکا۔

    ایک اور نے بتایا ’متعدد خاندانوں کے افراد جنھیں زبردستی کابل منتقل کیا گیا تھا، طالبان نے انھیں حراست میں لے لیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔‘

    قومی مزاحمتی محاذ کے بیرونی تعلقات کے ذمہ دار علی نظاری نے فون کے ذریعے ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو کی ریلیز کے ساتھ لکھا کہ ہزاروں افراد کو ان کے گھروں پنجشیر سے نکال دیا گیا ہے۔

    انھوں نے لکھا ’طالبان نسلی قتلِ عام کر رہے ہیں اور دنیا بے حسی سے دیکھ رہی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ہم عالمی برادری سے ان جنگی جرائم کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

  20. کابل کی میک اپ آرٹسٹ: ’ہر لمحے ایسا لگتا ہے طالبان مجھے ڈھونڈتے ہوئے آ جائیں گے‘

    جس دن طالبان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل پر غلبہ حاصل کیا، بیوٹی پارلروں کے باہر لگے خواتین کے عروسی ملبوسات کے اشتہارات پر رنگ پھیر دیا گیا اور شہر بھر میں سیلون بند کر دیے گئے۔

    کئی مالکان کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی اپنا کاروبار کھول لیں گی لیکن بعض کو مستقبل کے بارے میں شدید خدشات لاحق ہیں۔

    افسوں (فرضی نام) ایک میک اپ آرٹسٹ بتاتی ہیں کہ افغان خواتین کے لیے بیوٹی کی صنعت کس قدر اہم ہے۔

    دری زبان میں 'تکان جوردم' لفظ کا کسی اور زبان میں ترجمہ کرنا مشکل ہے۔