پشاور میں ماحول کیسا ہے؟, جان سمپسن، ایڈیٹر، ورلڈ افیئرز
درّہ خیبر ایک ہیبت ناک جگہ ہے جہاں ماضی کے تنازعے کی علامات جا بجا نظر آتی ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان یہاں طورخم کی سرحدی چیک پوسٹ ہے اور یہاں پاکستان میں داخل ہونے کی آس لیے سینکڑوں افغان شہری جمع ہیں۔
یہاں پاکستانی اور طالبان سپاہی ایک دوسرے کے آمنے سامنے موجود ہیں اور ایک طرف پاکستان کا سبز پرچم ہے تو دوسری جانب طالبان کا سفید پرچم۔ صرف اُن لوگوں کو پاکستان میں داخل ہونے دیا جا رہا ہے جن کے پاس دستاویزات ہیں کہ اُنھیں پاکستان میں علاج کی ضرورت ہے۔
جو لوگ داخل نہیں ہو پاتے، وہ کامیاب ہونے والوں کو حسرت و حسد بھری نگاہوں سے دیکھتے رہتے ہیں۔
طالبان سپاہی بات کرنے پر رضامند تھے مگر جس سے میں بات کر رہا تھا اسے اُس کے کمانڈر نے ڈپٹ کر بھگا دیا۔
میں اب جن طالبان سے مل رہا تھا وہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے وقت کے طالبان سے ایک پوری نسل بعد کے تھے۔
میں نے گیارہ ستمبر کے حملوں سے پہلے اور بعد میں طالبان کے ساتھ بہت وقت گزارا ہے اور یہ اب بھی ویسے ہی معلوم ہو رہے ہیں جیسے کہ پہلے ہوا کرتے تھے۔
لگتا نہیں کہ ان میں کچھ بھی تبدیل ہوا ہے، اُن کا رویہ اور تصورات تو بالکل بھی نہیں۔