الیکشن 2024: حکومت سازی سے متعلق ن لیگ، پی ٹی آئی اور دیگر سے کوئی باضابطہ گفتگو نہیں ہوئی: بلاول بھٹو زرداری
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ لاہور میں اُن کی حکومت سازی کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ ن سمیت کسی سیاسی جماعت سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی ہے۔ ادھر پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیئر رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت قومی اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے عددی اکثریت حاصل کر چکی ہے اور اب پی ٹی آئی وفاق، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں حکومتیں بنائے گی۔
لائیو کوریج
الیکشن کے دن موبائل و ڈیٹا سروسز کی بندش آزادی اظہار رائے کے حق پر حملہ ہے: ایمنٹسی انٹرنیشل
ایمنسٹی انٹرنیشنل جنوبی ایشیا نے پاکستان
میں انتخابات کے روز موبائل و ڈیٹا سروسز کی بندش کو عوام کے آزادی اظہار رائے اور
پرامن اجتماع کے حقوق پر حملہ قرار دیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے سوشل
میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا گیا ہے کہ ملک میں انتخابات
کے دن ٹیلی کمیونیکیشن اور موبائل انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کا فیصلہ آزادی اظہار
اور پرامن اجتماع کے حقوق پر ایک دو ٹوک حملہ ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی
حکام سے انٹرنیٹ تک رسائی پر عائد پابندیوں کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا
ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
انتخابی عملے اور سامان کی بحفاظت الیکشن کمیشن واپسی تک سکیورٹی موجود رہے گی: اسلام آباد پولیس
اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بھی پولنگ سٹیشنز پر سکیورٹی موجود رہے گی۔
اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’الیکشن 2024 کے پہلے مرحلے پولنگ کا عمل پر امن طور پر مکمل ہوگیا ہے۔
سکیورٹی ڈیوٹی پر بدستور موجود رہی گی۔‘
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ’انتخابی عملے اور سامان کی بحفاظت الیکشن کمیشن واپسی تک اسلام آباد پولیس کے اہلکار ڈیوٹی سر انجام دیتے رہیں گے۔‘
آئی سی سی پی او ڈاکٹر اکبر ناصر خاں نے فرائض سر انجام دینے والے تمام افسران، جوان، خواتین اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سراہا۔‘
پاکستان کے سیاسی رہنما بھی ووٹنگ عمل میں سرگرم رہے
2024 کے انتخابات کے لیے پولنگ کا مقررہ وقت ختم ہو گیا ہے،تاہم آج پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی ووٹنگ کے عمل میں سرگرم رہے۔
،ویڈیو کیپشنآج ہونے والے الیکشن میں پاکستان کے مختلف سیاسی پارٹیوں کے راہنماؤں نے اپنے ووٹ دیے
بریکنگ, 2024 کے انتخابات کے لیے پولنگ کا مقررہ وقت ختم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے
پاکستان میں عام انتخابات کے لیے ووٹ ڈالنے کے لیے شام پانچ بجے تک کا مقررہ وقت ختم ہو گیا ہے۔ تاہم جو لوگ پولنگ سٹیشنز کے اندر موجود ہیں وہ ووٹ ڈال سکیں گے۔
خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ پانچ بجے پولنگ سٹیشنز کے دروازے بند کر دیے جائیں گے اور مقررہ وقت کی معیاد نہیں بڑھائی جائے گی۔
پاکستان تحریک انصاف کا پولنگ کا وقت بڑھانے کا مطالبہ
پاکستان تحریک انصاف نے پولنگ کے وقت
میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں باضابطہ درخواست جمع
کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔
پی ٹی آئی چیف آرگنائزر عمر ایوب کی
جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ الیکشن عملے کی جانب سے پولنگ کے عمل کو سست
روی کا شکار کرنے کی بے پناہ شکایات موصول ہوئی ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ پولنگ سٹیشنز
کے باہر اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنے کے لیے موجود ہیں اس لیے الیکشن کمیشن آف
پاکستان پولنگ کے وقت میں کم از کم ایک گھنٹے کی توسیع کرتے ہوئے پولنگ کو چھ بجے
تک جاری رکھنے کا اعلان کرے۔
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ پولنگ کا وقت
بڑھاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ووٹرز کو اپنے ووٹ کے حق کے استعمال میں معاونت کی
جائے اور انھیں ووٹ ڈالنے کا موقع دیا جائے۔
کوئٹہ شہر میں ٹرن آؤٹ کی صورتحال کیا رہی؟, محمد کاظم، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں اب تک ہونے والی پولنگ کے دوران ووٹرز کا ٹرن آؤٹ نسبتاً کم رہنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
نمائندہ بی بی سی محمد کاظم نے جمعرات کی صبح پولنگ کے آغاز کے بعد سے کوئٹہ شہر کے چند علاقوں میں واقع پولنگ سٹیشنز کا دورہ کیا تاکہ ٹرن آؤٹ کی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔
محمد کاظم کے مطابق دن کے آغاز پر پولنگ سٹیشنز پر بالکل گہما گہمی نہیں تھی مگر جیسے جیسے وقت بڑھا تو رش میں کچھ اضافہ ہوا۔
سریاب روڈ پر موجود جمعیت علمائے اسلام ف کے ایک رہنما نے اس صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم کے دوران ہونے والے حملوں اور کالعدم علیحدگی پسند جماعتوں کی جانب سے عوام کو الیکشن کے عمل سے دور رہنے کی دھمکیوں کے باعث ٹرن آؤٹ کم نظر آ رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ جلتی پر تیل کا کام موبائل سروس کی معطلی نے کیا اور اس کے باعث عوام کے خوف میں اضافہ ہوا۔
ووٹنگ کا وقت ختم ہونے کے قریب، ملتان میں قومی اسمبلی کے چھ حلقوں میں پولنگ کی کیا صورتحال ہے؟
پاکستان بھر میں پولنگ کا عمل اس وقت جاری ہے۔ ووٹنگ کا وقت ختم ہونے میں تقریباً 40 منٹ باقی ہیں۔ جنوبی پنجاب میں بھی ووٹرز کی طویل قطاریں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ملتان میں بی بی سی کے نمائندے عمر دراز ننگیانہ موجود ہیں جہاں قومی اسمبلی کی چھ نشستوں پر مقابلہ جاری ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
پولنگ کا وقت بڑھایا نہیں جائے گا، موبائل بندش سے نتائج پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، چیف الیکشن کمشنر
،تصویر کا ذریعہAPP
پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر سکندر
سلطان راجہ کا کہنا ہے کہ ملک میں پولنگ کا وقت بڑھایا نہیں جائےگا، موبائل سروس
کی بندش سے الیکشن کے نتائج یا اس کے عمل پر کوئی فرق نہیں پڑے گا کوشش ہے جلد از
جلد نتائج عوام تک پہنچا دیے جائیں۔
ایک ٹی وی خطاب میں ان کا کہنا تھا ملک
بھر میں انتخابی عمل پرامن طریقے سے جاری ہے، وبائل سروس کی بندش سے ای سی پی کی
ہیلپ لائن 8300 سے ووٹرز کو اپنے ووٹ سے متعلق معلومات لینے میں مشکل پیش آ رہی
ہے۔
اس ضمن میں، الیکشن کمیشن نے 29 جنوری
سے اس ہیلپ لائن پر پولنگ سٹیشن اور دیگر تمام تفصیلات فراہم کر دی تھیں، اور
روزانہ کی بنیاد پر اس نمبر پر 15 سے 20 لاکھ پیغامات آ رہے تھے جس کا مطلب ہے کہ ملک
کے زیادہ تر ووٹرز نے اپنے ووٹ سے متعلق معلومات حاصل کر رکھی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ڈسٹرکٹ
الیکشن کمشنرز کے دفاتر میں یہ تمام معلومات دستیاب ہیں، عوام وہاں رجوع کر سکتے
ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کمپلینٹ مینجمنٹ
سسٹم، الیکشن مینیجمنٹ سسٹم یا الیکشن مانیٹرنگ سسٹم یہ تمام سسٹم مکمل طور پر کام
کر رہے ہیں اور عوام کو یہ معلومات وہاں سے بھی مل سکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں خود بھی ای ایم سی سی سینٹر کا دورہ کیا ہے اور ہمارا عملہ
وہاں عوامی مسائل کو سن رہا ہے اور انھیں حل کیا جا رہا ہے۔
الیکشن کمیشن کا پانچ بجے پولنگ ختم کرنے کا اعلان
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پولنگ کا عمل مقررہ وقت پر شام 5 بجے ختم ہو جائے گا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام پولنگ سٹیشنز کے دروازے شام 5 بجے بند کر دیے جائیں گے
البتہ جو لوگ پولنگ سٹیشن کے احاطہ/ حدود میں پہلے سے موجود ہیں وہ مقررہ وقت کے بعد بھی ووٹ کاسٹ کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب این اے 46 اسلام آباد میں پولنگ کا عمل بلا تعطل جاری ہے۔
ترجمان صوبائی الیکشن کمشنرکے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’میڈیا پر خبر تھی کہ این اے 46 اسلام آباد پولنگ سٹیشن ڈھوک مٹیاری پر فہرستوں کا ردو بدل ہوا ہے۔
میڈیا پر خبر تھی کہ پولنگ کا عمل رک گیا۔‘
ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ریٹرننگ آفیسر این اے 46 اسلام آباد کامران علی چیمہ نے پولنگ کی بلا تعطل عمل کی تصدیق کی۔
ملک میں پولنگ کا عمل پرامن طریقے سے جاری ہے، نگراں وزیر داخلہ گوہر اعجاز
نگراں وزیر داخلہ گوہر اعجاز کا کہنا
ہے کہ ملک میں پولنگ کا عمل پر امن طریقے سے جاری ہے۔
اسلام آباد میں دولت مشترکہ مشن کے
سربراہ ڈاکٹر گڈلک جوناتھن کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نگراں وزیر داخلہ گوہر
اعجاز کا کہنا تھا کہ ’ملک بھر میں کوئی تشویشناک واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی
ہے اور اللہ ہمیں اس الیکشن میں سرخرو کرے۔‘
انھوں نے کہا کہ ملک بھر میں چھ لاکھ
سیکورٹی اہلکار اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔
پولنگ کے روز موبائل سروسز کی بندش کو سکیورٹی کے تناظر میں دیکھا جائے: نگران وزیر اعظم
،تصویر کا ذریعہAPP
نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ ملک میں انتخابات پُرامن ماحول میں ہو رہے ہیں۔
اسلام آباد میں مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ موبائل و انٹرنیٹ سروسز کی بندش کو سکیورٹی کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔
موبائل سروسز کی بندش کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ’مجھے نہیں پتا ابھی تک (لوگوں کو اس کی وجہ سے) کیا مشکلات ہیں لیکن آپ کو پتا ہے ملک میں دہشتگردی کی لہر ہے تو بہت ساری جگہوں پر سکیورٹی کے تناظر میں اگر کوئی فیصلہ ہوا ہے تو اس کو اسی تناظر میں دیکھا جائے۔‘
ٹرن آؤٹ سے متعلق سوال پر انھوں نے اسے ’قبل از وقت‘ قرار دیا مگر ساتھ یہ بھی کہا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ یقیناً اچھا ٹرن آؤٹ ہوگا۔‘
بریکنگ, ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا ملک بھر میں موبائل اور ڈیٹا سروسز کی فوری بحالی کا مطالبہ
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ملک
بھر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایچ آر سی
پی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے نگراں حکومت کو
پولنگ کے دن بلاتعطل انٹرنیٹ سروسز کو یقینی بنانے کی ہدایت کے باوجود سروسز میں مسلسل خلل پیدا ہوا ہے۔
بیان میں پی ٹی اے کے دعویٰ کا حوالہ
دیتے ہوئے کہ اسے حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ سروسز کو بلاک کرنے کی کوئی ہدایات
موصول نہیں ہوئی ہیں، اس بارے میں شفافیت کا فقدان ہے کہ یہ خلل کہاں ہے اور کب تک
جاری رہے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ موبائل اور ڈیٹا سروسز کی بندش سے رائے
دہندگان کے معلومات کے حق اور ممکنہ طور پر نتائج کی ترسیل متاثر ہو گی۔
جن لوگوں نے یہ حکم دیا ان کی شناخت
کی جائے اور ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
’عام انتخابات مکمل طور پر شفاف ہیں، مجھے کبھی بھی فوج سے مسئلہ نہیں رہا‘: نواز شریف کی بی بی سی سے گفتگو, کیرولین ڈیوس، بی بی سی لاہور
سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم
لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ اُن کے خیال میں پاکستان میں آج ہونے والے
عام انتخابات ’مکمل طور پر شفاف‘ ہیں۔
انھوں نے یہ بات لاہور میں قومی
اسمبلی کے حلقے این اے 128 میں اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد نمائندہ بی بی سی کیرولین ڈیوس
سے خصوصی اور مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ان
کا پاکستان کی فوج سے کبھی کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ اس موقع پر نواز شریف کے ساتھ
موجود اُن کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا کہ ان کے والد کی ’پاکستان کے عوام کے
ساتھ ڈیل ہے۔‘
کراچی اور ٹیکسلا میں بھی پولنگ جاری، کراچی میں پولنگ کا عمل تاخیر کا شکار
پاکستان بھر میں پولنگ کا عمل جاری ہے۔ کراچی کے چند پولنگ سٹیشن پر پولنگ عمل تاخیر کا شکار رہا۔ پولنگ ایجنٹس کی ٹریننگ میں مسائل بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔
جبکہ ٹیکسلا میں پولنگ سٹیشن پر بھائی چارہ اور خوشگوار ماحول نظر آیا۔ کراچی کے پولنگ سٹیشن پر ہمارے ساتھی ریاض سہیل جبکہ ٹیکسلا میں ہماری ساتھی سحر بلوچ موجود ہیں۔ ️
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
شمالی وزیرستان: خواتین کے تین پولنگ سٹیشنز پر طالبان کے مبینہ قبضے کے خلاف محسن داوڑ کی الیکشن کمیشن کو درخواست
نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صدر اور شمالی وزیرستان سے قومی
اسمبلی کے حلقے این اے 40 سے نامزد امیدوار محسن داوڑ نے الیکشن کمیشن سے درخواست
کی ہے کہ وہ اس حلقے میں قائم خواتین کے تین پولنگ سٹیشنز پر طالبان کے مبینہ قبضے اور ووٹرز کو دھمکیاں
دینے کے معاملے کا نوٹس لے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر چیف الیکشن کمشنر کے نام
لکھی گئی درخواست پوسٹ کرتے ہوئے محسن داوڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ این اے 40 میں
سکیورٹی کی صورتحال پر وہ پہلے بھی ڈسٹرکٹ ریٹرنگ آفیسر کو خط لکھ چکے تھے تاہم اس
پر توجہ نہیں دی گئی۔
چیف الیکشن کمشنر کے نام خط میں محسن داوڑ نے دعویٰ کیا ہے
کہ این اے 40 کے علاقے ’ٹپی‘ میں قائم خواتین کے چار میں سے تین پولنگ سٹیشنز پر
طالبان کے جمعرات کی صبح دھاوا بولا جس کے بعد وہاں موجود پولنگ عملہ اپنی جان بچا
کر بھاگ گیا اور طالبان نے ان پولنگ سٹیشنز پر قبضہ کر لیا۔
محسن داوڑ نے چیف الیکشن کمشنر سے استدعا کی ہے کہ وہ فی
الفور صورتحال کا نوٹس لیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 50: ٹی ایل پی کے کارکن پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار کے خلاف جیت کے لیے سرگرم عمل, سحر بلوچ، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اٹک
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 50 سے مذہبی
جماعت تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی انتخاب لڑ رہے ہیں۔
بی بی سی کی نامہ نگار سحر بلوچ کے
مطابق اس حلقے میں دس مختلف مساجد سے تحریکِ لبیک پاکستان کے حق میں اعلانات کیے گئے
ہیں۔ سعد رضوی کے مد مقابل تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار ایمان وسیم ہیں۔ پی ٹی آئی کارکنان کے مطابق جّبی
کسراں یہاں کا پہلا پولنگ سٹیشن ہے جہاں پر ووٹروں کی تعداد کم دکھائی دے رہی ہے۔
مقامی افراد نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر ووٹرز
کی تعداد کم بھی ہے تو بھی زیادہ تر افراد سعد رضوی کو ووٹ دینا چاہتے ہیں جس کے لیے
بہت سے افراد چار دن پہلے اپنے اپنے علاقوں میں پہنچے ہیں۔
ٹی ایل پی کے کارکنان بتاتے ہیں ان کے
حلقے سے سے زیادہ تر ووٹ ٹی ایل پی یا پی ٹی آئی کو ڈالے جاتے ہیں۔
ایک سیاسی کارکن محمد ارشد نے کہا کہ ’اس
وقت ہم دونوں جماعتوں کی حالت ایک ہے۔ نیٹ بند ہونے کی وجہ سے تعداد کم ہے لیکن
شام تک لگ رہا ہے حالات بہتر ہوجائیں۔‘
حلقہ این اے 50 کے کل رجسٹرز ووٹرز کی
تعداد 708151 ہے اور سنہ 2018 میں یہ حلقہ این اے 56 اٹک تھا۔
سنہ 2018 میںیہاں سے پی ٹی آئی کے امیدوار طاہر صادق کامیاب
ہوئے تھے جبکہ مسلم لیگ ن کے ملک سہیل خان دوسرے نمبر پر رہے تھے۔
اس مرتبہ یہاں سے مسلم لیگ ن کے ملک
سہیل ، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار ایمان طاہر اور تحریک لبیک کے
سربراہ سعد رضوی مدمقابل ہیں۔
موبائل سروس کی بندش: امیدواروں اور ووٹرز کو مشکلات کا سامنا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام
،تصویر کا کیپشنموبائل سروس کی بندش کے باعث لوگوں کو اپنے ووٹ کی تفصیلات جاننے میں مشکلات درپیش ہیں
ملک بھر میں موبائل سروسز معطل ہونے کی وجہ سے جہاں عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے وہیں اسلام آباد میں موجود مختلف امیدواروں کو بھی اپنے ووٹرز کو پولنگ سٹیشنز تک لانے میں دشواری ہیش آرہی ہے۔
آسیہ بی بی اسلام آباد کے سیکٹر جی-سیون ٹو میں خواتین کے پولنگ بوتھ کے باہر واقع ایک پولنگ کیمپ کی نگران ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے ووٹ کی جانچ پڑتال کے لیے متعارف کی گئی ہیلپ لائن 8300 پر مسیجز نہیں جا رہے جس کی وجہ سے لوگوں کو اپنا ووٹ اور پولنگ بوتھ تلاش کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
انھوں نے قیاس آرائی کرتے ہوئے کہا کہ موبائل سروس کی معطلی کی وجہ سے اس مرتبہ ووٹر ٹرن آوٹ 30 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگا۔
پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار کے پولنگ کیمپ میں موجود نوید احمد نے الزام عائد کیا ہے کہ موبائل فون کی بندش پری پول ریگنگ ہے۔ انھوں نے کہا کہ جن ووٹرز کو اپنے ووٹ تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، ان کے ووٹ میونئیل طریقے اور ووٹر لسٹ سے تلاش کرکے انھیں ووٹ ڈالنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
بریکنگ, بلاول بھٹو نے لاڑکانہ میں اپنا ووٹ ڈال دیا،’عوام سے کہتا ہوں نکلو، آپ کا ووٹ آپ کی طاقت ہے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین
اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کے شہر لاڑکانہ میں ایک پولنگ سٹیشن
پر اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ملک بھر میں
موبائل فون سروس کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے فوری طور پر بحال کرنے
کا مطالبہ کیا ہے اور ان کی پارٹی نے موبائل فون بندش پر الیکشن کمیشن سے رجوع کیا
ہے۔
لاڑکانہ میں اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’میں پاکستان کی عوام سے درخواست کرتا ہوں کے نکلو، آپ کا ووٹ، آپ کی طاقت ہے، اس کا بھرپور استعمال کریں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ موبائل سروسز کی بندش سے نہ صرف ووٹر ٹرن آوٹ بلکہ پولنگ ڈے کی کوآرڈینیشن پر بھی پر اثر پڑے گا۔
’سب سے بڑھ کر جب گنتی ہوگی اور آراوز کے ساتھ پولنگ ایجنٹس بیٹھے ہوں گے، تو فارم 45 کی کوآرڈینیشن کے وقت پر بہت سی مشکلات ہوں گی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگرسکیورٹی کا کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو ہم تک اس کی اطلاع پہنچنے میں تاخیر ہو گی۔
ایک سوال کے جواب میں کہ انھوں نے ایک جلسے میں کہا تھا کہ اگر ان کا مینڈیٹ چرایا گیا تو وہ عمران خان سے زیادہ مزاحمت کریں گے، بلاول بھٹو نے کہا کہ ’میرا مینڈیٹ کسی کو نہیں دیا جا سکتا۔ جس تعداد میں عوام نکلی ہے، پاکستان پیپلز پارٹی ضرور کامیاب ہو گی۔‘
’موبائل سروس بدستور بند رہے گی، دن تین بجے سکیورٹی صورتحال کا دوبارہ جائزہ لے کر سروس معطل رکھنے یا بحال کرنے سے متعلق فیصلہ ہو گا‘, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی وزارت داخلہ نے ملک بھر میں
موبائل فون سروس معطل رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ اب اس ضمن میں دن
تین بجے سکیورٹی صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد سروس کی بحالی کے
بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ وزارت داخلہ نے پولنگ شروع
ہونے سے ایک گھنٹہ قبل سکیورٹی خدشات کی بنا پر ملک بھر میں موبائل فون سروس معطل
کر دی تھی اور ساتھ ہی دن 12 بجے اس کے بارے میں دوبارہ جائزہ لینے کا اعلان کیا
تھا۔
وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق 12
بجے سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیے جانے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ سروس بدستور دن
تین بجے تک بند رکھی جائے گی۔
اہلکار کا کہنا ہے کہ تین بجے صورتحال
کا دوبارہ جائزہ لینے کے بعد اس ضمن میں مزید فیصلہ لیا جائے گا۔
موبائل سروس معطل ہونے کے بعد ووٹرز
کو پریشانی کا سامنا ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت چند سیاسی جماعتوں نے اس
فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے نگراں حکومت سے سروس فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ
کیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سروس
کی فوری بحالی کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست بھی دائر کی گئی ہے جبکہ پارٹی
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ اس ضمن میں عدالت سے رجوع کریں گے۔
تاہم جمعرات کی علی الصبح چیف الیکشن
کمشنر سکندر سلطان راجہ نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ موبائل
سروس کی بندش الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں نہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ یہ سکیورٹی
اداروں کا فیصلہ ہے اور الیکشن کمیشن اس ضمن میں اداروں کو صرف گزارشات دے سکتا ہے
لیکن سروس کو بحال کرنا حکومت کی صوابدید ہے۔
موبائل سروس کی بحالی سے متعلق وفاقی
حکومت کو درخواست دینے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں چیف الیکشن کمشنر کا کہنا
تھا ’بالکل نہیں دیں گے، اس پر اگر ہم حکم دیتے ہیں اور کوئی واقعہ ہو جاتا ہے تو
کون ذمہ دار ہو گا؟‘
لاہور میں موجود نمائندہ بی بی سی کیرولین ڈیوس
نے شہر کے ایک پولنگ سٹیشن پر موجود ووٹرز سے موبائل سروس بند ہونے پر رائے مانگی
تو بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے انھیں اُن کے مطلوبہ
پولنگ سٹیشن تک پہنچنے میں مُشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
وہیں موجود چند ووٹرز نے کہا کہ پولنگ
سٹیشن تک پہنچنے کے لیے آن لائن ٹیکسی سروس کی ایپس کے استعمال میں انھیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
بلوچستان کے علاقے خاران میں لیویز فورس کی گاڑی پر بم حملہ
لیویز فورس کے ایک اہلکار نے بی
بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ خاران
میں ایک بم حملے میں لیویز فورس کے دو اہلکار ہلاک جبکہ چھ اہلکار زخمی ہو گئے
ہیں۔
اہلکار کے مطابق اس بم حملے میں
ہلاک ہونے والے اہلکاروں میں سے ایک لیویز فورس جبکہ دوسرے کا تعلق سپیشل برانج سے
تھا۔
تاہم اس بم حملے میں زخمیوں میں لیویز
فورس کے رسالدار میجر بھی شامل ہیں۔ اس حملے میں زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے
لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔