الیکشن 2024: حکومت سازی سے متعلق ن لیگ، پی ٹی آئی اور دیگر سے کوئی باضابطہ گفتگو نہیں ہوئی: بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ لاہور میں اُن کی حکومت سازی کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ ن سمیت کسی سیاسی جماعت سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی ہے۔ ادھر پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیئر رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت قومی اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے عددی اکثریت حاصل کر چکی ہے اور اب پی ٹی آئی وفاق، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں حکومتیں بنائے گی۔

لائیو کوریج

  1. قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے کامیاب ہونے والے بڑے نام

    khursheed shah

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    پاکستان پیپلزپارٹی نے قومی اسمبلی میں اب تک کے نتائج کے اعتبار سے 34 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔

    کامیاب ہونے والے امیدوارں میں این اے 151 سے سید علی موسیٰ گیلانی کامیاب ہوئے۔ این اے 201 سے سید خورشید شاہ، این اے 191 سے سید خورشید شاہ، این اے 207 سے آصف علی زرداری، این اے 202 سے نفیسہ شاہ، این اے 212 سے میر منور علی تالپور شامل ہیں۔

  2. قومی اسمبلی میں جانے والے مسلم لیگ ن کے بڑے نام

    NAWAZ SHARRIF

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے کل 43 امیدواروں نے قومی اسمبلی میں کامیابی حاصل کی ہے۔

    اب تک سامنے آنے والے ناموں میں این اے 11 سے مسلم لیگ ن کے رہنما امیر مقام، این اے 46 میں مسلم لیگ ن کے انجم عقیل خان کامیاب ہوئے۔

    اسی طرح این اے 47 میں طارق فضل چوہدری، این اے 76 میں احسن اقبال، این اے 114 میں رانا تنویر حسین نے کامیابی حاصل کی۔

    شہباز شریف این اے 123 لاہور سے کامیاب ہوئے جبکہ نواز شریف این اے 130 لاہور سے کامیاب ہوئے۔

  3. پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کے پاس اس جیت کے بعد کیا آپشنز ہیں؟

  4. نتائج کی تاخیر پر مسلم لیگ ن کو تحفظات ہیں: عرفان صدیقی

    مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ نتائج کی تاخیر پر مسلم لیگ ن کو بھی شدید تحفظات ہیں لیکن دس بارہ فی صد نتیجوں کی بنیاد پرکسی کی جیت یا کسی کی ہار کا حتمی تاثر بنا دینا شاید ہی ذمہ دارانہ طرزعمل ہو۔

    سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ `کوئی نہیں بتا رہا کہ قومی اسمبلی میں ساٹھ خواتین اور دس اقلیتی مخصوص نشستوں کا سب سے بڑا حصہ مسلم لیگ ن کو ملے گا جو پہلے ہی وفاق کی سب سے بڑی اکثریتی جماعت بن چکی ہے، فقط چند گھنٹے انتظار کر لیا جائے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. مسلم لیگ ن قومی اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت ہے: اسحاق ڈار کا دعویٰ

    ishaq dar

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ ن قومی اسمبلی کی اکثریتی جماعت ہے۔

    جب بی بی سی کی جانب سے ان سے پوچھا گیا کہ آزاد امیدواروں کی تعداد تو اس وقت تک کے سرکاری نتائج میں زیادہ ہے تو ان کا کہنا تھا کہ آزاد امیدوار کوئی جماعت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد امیدواروں میں سے کچھ تو پہلے ہی مسلم لیگ ن سے رابطہ کر چکے ہیں۔

    انھوں نے مسلم لیگ ن سے رابطہ کرنے والے آزاد امیدواروں کی تعداد بتانے سے انکار کیا اور اس بات سے بھی انکار کیا کہ مسلم لیگ ن نے خود آزاد امیدواروں سے رابطے کیے ہیں۔

  6. امیر حیدر خان ہوتی نے شکست تسلیم کرتے ہوئے پارٹی کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کر دیا

    عوامی نینشل پارٹی کے سینیئر نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر خان ہوتی نے شکست تسلیم کرتے ہوئے جماعت کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔

    جمعے کوسماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کامیاب امیدواروں کو مبارکباد دی ہے اور کہا کہ اب ان کی ذمہ داری ہے کہ حلقے کے لوگوں کی خدمت کریں۔

    امیر حیدر خان ہوتی نے لکھا کہ ’ اپنے آبائی ضلع مردان کے تمام حلقوں پر اے این پی کی شکست کی ذمہ داری کھلے دل سے تسلیم کرتا ہوں.`

    انھوں نے شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا اور لکھا کہ ’ پارٹی کے ادنیٰ رکن کی حیثیت سے باچاخان کے قافلے کا حصہ رہوں گا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  7. نواز شریف شام 5 بجے کارکنوں سے خطاب کریں گے

    پاکستان مسلم لیگ ن نے اعلان کیا ہے کہ پارٹی قائد میاں محمد نواز شریف آج شام پانچ بجے کارکنوں سے خطاب کریں گے۔

    یاد رہے کہ انتخابی نتائج آنے کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔

  8. بریکنگ, شہریوں کے تحفظ کے لیے موبائل سروس بند کی، یہ فیصلہ دوبارہ بھی کرنا پڑا تو کروں گا: نگران وزیر داخلہ

    گوہر اعجاز

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    نگران وزیر داخلہ گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ الیکشن سے ایک روز قبل 28 ہلاکتوں کے بعد پولنگ کے دوران موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ شہریوں کی جانیں بچائی جاسکیں۔

    انھوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’اگر یہ فیصلہ دوبارہ بھی کرنا پڑے تو میں کروں گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس فیصلے پر ہم پر تنقید کی گئی۔ اس فیصلے میں الیکشن حکام کی شراکت نہیں تھی۔ سکیورٹی ایجنسیوں نے انھیں بتایا کہ یہ ہمارے لیے بہت ضروری ہے، تاکہ لوگوں کی جانوں کی حفاظت کریں۔‘

    گوہر اعجاز نے کہا کہ ’ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں اگر ایک گاڑی میں بم پھٹ جاتا تو ہزاروں لوگوں کی جانیں چلی جاتیں۔۔۔ موبائل سروس اور موبائل انٹرنیٹ بند کرنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا، اگر یہ فیصلہ دوبارہ بھی کرنا پڑے، ان 28 شہادتوں کے بعد، اگر 12 یا 16 گھنٹوں کی قربانی دینی پڑے تو ہر بار یہ فیصلہ کروں گا۔‘

    نگران وزیر داخلہ نے کہا کہ ’سکیورٹی ایجنسیوں نے بہترین انداز سے نظام چلایا تاکہ کسی کو کوئی خوف نہ ہو۔ اس کے باوجود کل 56 واقعات ہوئے ہمارے تین فوجی جوان، دو لیویز، سات پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ دو شہریوں اور دو معصوم بچوں کی ہلاکت ہوئی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت نے وہ فیصلے کرنے ہوتے ہیں جو قوم کے لیے بہتر ہوں۔ سکیورٹی اولین ترجیح ہے۔‘

    اس معاملے پر کہ موبائل سروس فوراً کیوں نہیں کھولی گئی، ان کا کہنا تھا کہ انٹیلیجنس کی رپورٹس موجود تھیں کہ بیلٹ بوکسز لے جانے والے انتخابی عملے پر آئی ای ڈی ڈیوائسز کے ذریعے حملہ ہوسکتا ہے۔

    ’فیصلہ ضروری تھا کہ جب تک بوکسز اپنی جگہ پر نہیں پہنچ جاتے اور لوگ محفوظ نہیں ہوجاتے، ہمیں کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہیے۔‘

    گوہر اعجاز نے کہا کہ تمام چیلنجز کے باوجود انٹرنیٹ سروس کو بحال رکھا گیا۔

  9. این اے 15: مانسہرہ میں نواز شریف کو تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کے ہاتھوں شکست

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایک بڑے انتخابی اپ سیٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کو قومی اسمبلی کے ایک حلقے سے شکست دے دی ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ غیرسرکاری غیرحتمی نتائج کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقے این اے 15 مانسہرہ میں شہزادہ محمد گشتاسپ خان نے نواز شریف کو بھاری مارجن سے شکست دی ہے۔

    شہزادہ گشتاسپ نے 105249 ووٹ حاصل کیے جبکہ نواز شریف 80382 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ نواز شریف لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقے 130 سے بھی مسلم لیگ کے امیدوار تھے جہاں انھوں نے کامیابی حاصل کی۔

  10. پی ٹی آئی رہنماؤں کا نتائج میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پشاور ہائیکورٹ سے رجوع

    ‏پاکستان تحریک انصاف کے خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے چند امیدواروں نے انتخابی نتائج میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

    پشاور ہائیکورٹ میں مبینہ دھاندلی کے خلاف درخواست دائر کرنے والوں میں محمود جان، تیمور جھگڑا، کامران بنگش،عاصم ارباب جہانداد،علی زمان اور ملک حشمت شامل ہیں۔

    پشاور ہائیکورٹ میں دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ فارم 45 میں نتائج تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کے حق میں تھے تاہم مبینہ طور پر فارم 47 تبدیل کر دیے گئے ہیں۔

    ان رہنماؤں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ الیکشن کمیشن کو حتمی نتائج جاری کرنے سے روک دیا جائے۔

    تحریک انصاف کے رہنما تیمور جھگڑا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے درخواست دائر کرنے کی تصدیق کی ہے۔

  11. ’مسلم لیگ ن کو قومی و پنجاب اسمبلی میں اکثریت حاصل‘ مسلم لیگ ن کا دعویٰ

    پاکستان مسلم لیگ ن نے ایکس پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ میڈیا نے گذشتہ شب پانچ سے 10 فیصد ووٹوں کی بنیاد پر رائے قائم کی تاہم ’نتائج کی ترسیل کے ساتھ یہ واضح ہو رہا ہے کہ مسلم لیگ ن پنجاب اور قومی اسمبلی میں اکثریتی حاصل کر چکی ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  12. مسلم لیگ ن کے رہنماؤں مرتضی جاوید عباسی، جاوید لطیف اور سعد رفیق کو شکست کا سامنا

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہPID

    پاکستان میں قومی اسمبلی کے کئی حلقوں سے غیرمتوقع نتائج سامنے آ رہے ہیں جہاں سے معروف سیاسی رہنماؤں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    این اے 16 ایبٹ آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار علی اصغر خان نے مسلم لیگ کے سینئر رہنما مرتضی جاوید عباسی کو شکست دی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ غیرسرکاری و غیرحتمی نتائج کے مطابق علی اصغر نے 104993 ووٹ حاصل کیے جبکہ مرتضی جاوید عباسی 86276 ووٹ حاصل کر سکے۔

    این اے 18 ہری پور سے پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار عمر ایوب خان نے مسلم لیگ کے امیدوار بابر نواز خان کو بھاری مارجن سے شکست دی ہے۔ عمر ایوب نے 192948 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدمقابل بابر نواز نے 112389 ووٹ حاصل کیے۔

    اسی طرح این اے 115 شیخوپورہ سے مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما جاوید لطیف کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انھوں نے 94144 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدِمقابل تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار خرم شہزاد ورک نے 130255 ووٹ حاصل کیے۔

  13. کراچی کے نتائج کے اعلان میں تاخیر پر پیپلز پارٹی کو تشویش، چیف الیکشن کمشنر سے رابطہ

    پیپلز پارٹی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان پیپلز پارٹی کے سینٹرل الیکشن سیل کے سربراہ سینیٹر تاج حیدر نے کراچی کے نتائج کے اعلان میں تاخیر پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر سے رابطہ کیا ہے اور نتائج کی فوری ترسیل کا مطالبہ کیا ہے۔

    جماعت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کو موبائل فون پر بھیجے گئے اپنے پیغام میں سینیٹر تاج حیدر نے کہا ہے کہ ’کراچی نے غیر معمولی دھاندلی اور اونچ نیچ کے ہتھکنڈے دیکھے ہیں جن میں سے زیادہ تر پولنگ کے وقت اور بعد میں کراچی میں انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے گھنٹوں تک سامنے نہیں آسکے۔‘

    ان کا دعویٰ ہے کہ ’ہمارے امیدواروں کے پاس ان کے خلاف ہونے والی دھاندلی کے چونکا دینے والے ثبوت ہیں۔‘ تاہم یہ شواہد تاحال منظر عام پر نہیں لائے گئے اور نہ ہی اب تک الیکشن کمیشن نے ان دعوؤں پر ردعمل دیا ہے۔

    سینیٹر تاج نے کہا کہ ’نتائج کے اعلان میں تاخیر ہمارے خلاف کارروائیوں میں اضافہ کرتی ہے۔ انتخابی نتائج کا فوری اعلان کیا جائے۔ تاخیر قانون کے تحت زیادہ سے زیادہ سے کہیں زیادہ ہے۔‘

  14. موبائل سروس کی معطلی سے انتخابی نتائج میں تاخیر مگر نگران حکومت کی ترجیح ’شہریوں کی سلامتی‘

    الیکشن

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    نگران وفاقی وزیر داخلہ ڈاکٹر گوہر اعجاز کا کہنا ہے کہ ’ہمیں پوری طرح معلوم تھا کہ موبائل سروس کی معطلی سے پورے پاکستان میں انتخابی نتائج کی ترسیل متاثر ہوگی اور اس عمل میں تاخیر ہوگی۔

    ایک بیان میں وہ مزید کہتے ہیں کہ ’تاہم اس تاخیر اور ہمارے شہریوں کی سلامتی کے درمیان موبائل سروسز کی معطلی کا انتخاب کافی واضح تھا اور اس کا فیصلہ کیا گیا۔‘

    گوہر اعجاز نے کہا کہ ’حساس علاقوں خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پولنگ سٹیشنوں کے راستے میں آئی ای ڈیز کے امکان کو روکنے کے لیے مناسب بم ڈسپوزل کلیئرنس کرنا پڑی جس میں کافی وقت ضائع ہوا۔ وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے پولنگ سٹیشنوں اور خاص طور پر بلوچستان، خیبر پختونخوا اور یہاں تک کہ پنجاب اور سندھ کے دیہی علاقوں سے انتخابی نتائج کی فزیکل نقل و حمل، اس طرح کے وسیع حفاظتی اقدامات کے ساتھ ایک محنت طلب اور وقت طلب مشق تھی۔‘

    نگران وزیر داخلہ نے متنبہ کیا ہے کہ ’ذاتی مفادات رکھنے والے تفرقے کو بھڑکاتے رہیں گے کیونکہ وہ انتشار کو پروان چڑھاتے ہیں۔

    ’ہم شہریوں اور سیاسی رہنماؤں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ انتخابی عملے کو بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے فرائض سرانجام دینے دیں اور پولنگ سٹیشنز سے آر او آفس جانے والی سڑکوں کو بند کر کے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے کام میں مزید تاخیر نہ کریں۔‘

  15. این اے 44: علی امین گنڈا پور نے مولانا فضل الرحمان کو شکست دے دی

    علی امین

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ غیرسرکاری و غیرحتمی نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار علی امین گنڈا پور نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو شکست دے دی ہے۔

    علی امین نے93443 ووٹ حاصل کیے جبکہ مولانا فضل الرحمان 59922 ووٹ حاصل کیے۔ اسی حلقے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے 35567 ووٹ حاصل کیے اور وہ تیسرے نمبر پر رہے۔

  16. این اے 56: حنیف عباسی کامیاب قرار، شیخ رشید پانچویں نمبر پر

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما حنیف عباسی راولپنڈی کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 56 سے کامیابی حاصل کر لی ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے فراہم کردہ غیرسرکاری و غیرحتمی نتائج کے مطابق حنیف عباسی نے 96649 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدِ مقابل تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار شہریار ریاض 82613 ووٹ حاصل کر پائے۔

    اسی حلقے سے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید بھی امیدوار تھے اور انھیں 5725 ووٹ ملے اور وہ پانچویں نمبر پر رہے۔ جماعت اسلامی اور تحریک لبیک کے امیدواروں نے شیخ رشید سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔

  17. مردان کے تمام حلقوں پر شکست تسلیم کرتے ہیں، ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہو رہا ہوں: امیر حیدر خان ہوتی

    عوامی نیشنل پارٹی کے سینیئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی نے ضلع مردان کے تمام حلقوں پر اپنی پارٹی کی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے پارٹی عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔

    ایکس پر پوسٹ کیے گئے اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’میرے آبائی ضلع مردان کے تمام حلقوں پر اے این پی کی شکست کی ذمہ داری کھلے دل سے تسلیم کرتا ہوں۔ میرے حلقہ اور مردان کے عوام نے اگر ہم پر اعتماد نہیں کیا، اور اس شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے میں پارٹی کے مرکزی سیینئر نائب صدر کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتا ہوں اور پارٹی کے ادنیٰ رکن کے حیثیت سے باچاخان کے قافلے کا حصہ رہوں گا۔‘

    یاد رہے کہ عوامی نیشنل پارٹی اب تک صوبہ خیبرپختونخوا میں صوبائی اسمبلی کی ایک بھی نشست جیتنے میں ناکام رہی ہے۔

  18. این اے 119: مریم نواز لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقے سے کامیاب قرار

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان مسلم لیگ ن کی سینیئر نائب صدر مریم نواز لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 119 سے کامیاب قرار پائی ہیں۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ غیرحتمی نتیجے کے مطابق مریم نواز نے 83855 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدِمقابل پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار شہزاد فاروق نے 68376 ووٹ حاصل کیے ہیں۔

  19. ’شکست تسلیم کرتے ہیں‘: جہانگیر ترین اور سعد رفیق کی جیتنے والے امیدواروں کو مبارکباد

    استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیر ترین قومی اسمبلی کے حلقے این اے 149 میں اپنے حریف سے شکست کھا چکے ہیں۔

    تحریک انصاف سے راہیں جدا کر کے اپنی پارٹی بنانے والے جہانگیر ترین کو پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار عامر ڈوگر نے شکست دی ہے۔

    جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین نے عامر ڈوگر کو جیت پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے سیاسی حریف کو اس جیت پر مبارکباد دیتے ہیں۔

    اسی طرح پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے بھی اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار سردار لطیف کھوسہ کو مبارکباد پیش کی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  20. قومی اسمبلی میں پارٹی پوزیشن

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے 70 حلقوں کے غیرسرکاری اور غیرحتمی نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔ 195 حلقوں کے نتائج ابھی آنا باقی ہیں جبکہ ایک حلقے میں امیدوار کی موت کے باعث الیکشن ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

    پارٹی پوزیشن کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی اب تک 24 نشستوں پر کامیاب قرار پائی ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ 24 آزاد امیدوار بھی کامیاب ٹھہرے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن اب تک 18 سیٹیں جیت پائی ہے۔

    متحدہ قومی موومنٹ، جمعیت علمائے اسلام (ف)، مسلم لیگ (ق) اور بلوچستان نیشنل پارٹی اب تک ایک ایک نشست جیت پائی ہے۔