اب اہم الیکشن کی طرف بڑھ رہے ہیں، ملک میں سیاسی مفاہمت کی ضرورت ہے: بلاول بھٹو کا موجودہ قومی اسمبلی سے آخری خطاب

پاکستان کے وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں اپنے آخری خطاب میں کہا ہے کہ وہ اپنی اتحادی حکومت کے 16 ماہ میں اداروں کو ان کی حدود تک محدود رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بچپن سے دیکھ رہا ہوں کہ سیاستدان حکومت میں ہوتا ہے یا جیل میں۔ ان کے مطابق اب ہم الیکشن کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اب اپنے بڑوں سے بھی کہتا ہوں کہ سیاسی جماعتوں کو سیاست اس طریقے سے کرنی چاہیے کہ صورتحال کو مفاہمت کی طرف کیسے لے کر جائیں۔

لائیو کوریج

  1. قبائلی گرینڈ جرگے کا باجوڑ واقعے پر آل پارٹیز بلانے کا مطالبہ: ’ہم ایک جنگ میں ہیں اور یہ چلتی رہے گی‘, محمد بلال، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

    گرینڈ جرگہ

    ،تصویر کا ذریعہJUIF

    جے یو آئی ف کے زیر اہتمام گرینڈ قبائلی جرگہ کے اعلامیہ میں شرکا نے مطالبہ کیا ہے کہ کئی سالوں سے آپریشنز کے نتائج سے عوام مطمین نہیں، قیام امن کے لیےآل پارٹی کانفرنس طلب کی جائے اور ریاست ایسے فسادات کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

    پشاور میں ہونے والے گرینڈ قبائلی جرگے میں پشتون بیلٹ کے سیاسی اور قبائلی عمائدین شریک ہوئے جس میں امن و امان کی صورتحال پر غور کیا گیا۔

    جرگے کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے جمیعت العما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قبائلی گرینڈ جرگہ باجوڑ واقع پر غم و رنج کا اظہار کرتا ہے اور پولیس لائن باڑہ اور مختلف کاروائیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی ہدایت کرتا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق مختلف کئی سالوں سے آپریشنز کے نتائج سے عوام مطمئن نہیں۔ قبائلی عوام کی سہولیات مہیا کی جائیں اور قبائلی عوام کی احساس محرومی کو ختم کیا جائے۔

    مولانا فضل الرحمان نے اپنے جرگے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’ہمیں اس بات کا اعتراف کرنا ہوگا کہ ہماری قربانیاں اور جدوجہد اور خون سے ہمارا ماضی لکھا گیا۔ ہمارے کے خلاف سازشیں باہر کے لوگوں نے بھی اور ہمارے لوگ بھی شامل ہوئے۔ ہم ایک جنگ میں ہیں اور یہ چلتی رہے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’باجوڑ واقعے میں زخمی ہونے والے افراد سے ملاقات کے بعد ان کے حوصلوں پر فخر ہوا۔ کرم ضلع میں فرقہ ورانہ فسادات بھڑکائے گئے۔ ریاست ایسے فسادات کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔‘

  2. عمران خان کے خلاف اسلام آباد کی ضلعی عدالت میں توشہ خانہ کیس کی سماعت آج، القادر ٹرسٹ کیس میں نیب کا بھی عمران خان کو آج پیش ہونے کا حکم

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہsocial media

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کی سماعت آج اسلام آباد کی ضلعی عدالت میں ہو گی جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں وکلا اپنے حتمی دلائل دیں گے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ الیکشن کمیشن کی اس درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں فیصلے دے گی۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی درخواست پر جمعے کی روز سماعت میں اپنے فیصلے میں سیشن عدالت کو یہ ہدایت کی تھی کہ وہ توشہ خانہ کیس کے قابل سماعت ہونے کے معاملے پر دلائل سن کر دوبارہ فیصلہ کرے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کے وکیل کو حکم دیا تھا کہ وہ سنیچر کو ہونے والی سماعت میں عدالت میں موجود ہوں اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن کی اس درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں دلائل دیں۔

    جمعے کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کو دوسری عدالت منتقل کرنے کی عمران خان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ توشہ خانہ کیس ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور ہی سنیں گے۔

    خیال رہے کہ ماضی میں ہمایوں دلاور کی سیشن عدالت نے توشہ خانہ کیس کو قابل سماعت قرار دیا تھا جس کے ردعمل میں عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے اس فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی تھی۔

    دوسری جانب نیب نے القادر ٹرسٹ کیس میں 190 ملین پاونڈ کی کرپشن کے الزام پر عمران خان کو آج طلب کر رکھا ہے۔

    نیب کی جانب سے عمران خان کو جاری نوٹس میں ان کو سنیچر کے روز 11:30 بجے پیش ہونے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔

  3. پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر مزید آٹھ ارکان کو پارٹی سے نکال دیا

    پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کو ووٹ ڈالنے پر مزید آٹھ ارکان کو پارٹی سے نکال دیا ہے۔

    پی ٹی آئی سندھ کی جانب سے نکالے جانے والے ارکان میں رکن سندھ اسمبلی بلال احمد، کریم بخش گبول، محمد علی عزیز، عمر اماڑی ، رابعہ اظفر نظامی، سچانند لکھوانی سچل، سید عمران علی شاہ، سنجے گنگوانی کی بنیادی پارٹی رکنیت ختم کر دی ہے۔

    ارکان کو پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کو ووٹ دینے پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق مقرر مدت کے اندر نوٹس کا تسلی بخش جواب موصول نہ ہونے کی صورت میں ارکان کی بنیادی رکنیت ختم کی گئی ہے۔

    سیکٹری جنرل تحریک انصاف عمر ایوب کے دستخط سے برطرفی کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ تمام رہنماؤں کو کسی بھی طرح سے پارٹی کا نام اور عہدہ استعمال کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  4. سیشن عدالت توشہ خانہ کیس کے قابل سماعت ہونے پر دوبارہ فیصلہ کرے: اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیشن عدالت کو یہ ہدایت کی ہے کہ وہ توشہ خانہ کیس کے قابل سماعت ہونے کے معاملے پر دلائل سن کر دوبارہ فیصلہ کرے۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے عمران خان کی درخواست پر توشہ خانہ کیس کو قابل سماعت قرار دینے کا سیشن کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا ہے۔

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ہائیکورٹ نے کیس دوسری عدالت منتقلی کی درخواست مسترد کی ہے اور اس کے فیصلے کے تحت توشہ خانہ کیس ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور ہی سنیں گے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے حق دفاع بحال کرنے کی درخواست پر آئندہ ہفتے کے لیے نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

    دوسری عدالت میں کیس منتقل کرنے سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمرا ن خان کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناقابل تردید شواہد اور غیر معمولی حالات کی پیش نظر ہی مقدمہ دوسری عدالت میں منتقل کیا جاتا ہے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ اگر عام حالات میں مقدمات ایک عدالت سے دوسری عدالت میں منتقل ہونا شروع ہوگئے تو اس سے نہ صرف عدلیہ کا وقار تباہ ہو جائے گا بلکہ لوگوں کو یہ موقع مل جائے گا کہ وہ ایسے معاملات کو عدالتوں میں لے کر جائیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ اگر کسی مقدمے کا ٹرائیل تیزی سے چل رہا ہو تو یہ اس بات کی نشاندہی نہیں کرتا کہ جج جابندار ہے۔

    خیال رہے کہ ماضی میں ہمایوں دلاور کی سیشن عدالت نے توشہ خانہ کیس کو قابل سماعت قرار دیا تھا جس کے ردعمل میں عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے اس فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی تھی۔

    دریں اثنا چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور کے فیس بُک اکاؤنٹ پر مبینہ پوسٹیں ایف آئی اے کے مطابق جعلی ہیں۔ عدالت نے ایف آئی اے کو معاملے کی مزید تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ طلب کی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد ایڈشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے سابق وزیر اعظم کے خلاف توشہ خانہ کی سماعت شروع کی تو الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے کیس میں یہ فیصلہ دیا ہے کہ اگر ٹرائل کورٹ میں مقدمہ دوبارہ بھیجا جائے تو عدالت ان معاملات کو اپنے حتمی فیصلے میں نشاندہی کرے گی جو مقدمہ دی ریمانڈ ہونے کے بعد سامنے آئے ہوں۔

    عدالت نے عمران خان کے وکلا کی ٹیم کو حکم دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ سنیچر کے روز مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت میں موجود ہوں۔

  5. منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کاؤنٹر فنانسنگ اتھارٹی کے قیام کا بل سینیٹ سے منظور: ’ہمیں ربر سٹامپ نہ بنایا جائے‘

    منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کاؤنٹر فنانسنگ اتھارٹی کے قیام کا بل سینیٹ نے بل منظور کر لیا ہے۔

    اس بل پر آج سینیٹ میں ووٹنگ ہوئی تو اس کے خلاف نو اور حق میں 28 ووٹ آئے۔

    بل کے خلاف سینیٹرز رضا ربانی، طاہر بزنجو، کامران مرتضی سمیت دیگر نے بل کے خلاف ووٹ دیا۔ بل کے فوری منظور کیے جانے کے حوالے سے پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی نے احتجاج کیا ہے۔

    حنا ربانی کھر نے یہ بل سینیٹ میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل قومی اسمبلی سے منظور ہو کر آیا ہے اور اس کے تحت اتھارٹی قائم کی جائے گی۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ’ہم نے ایف اے ٹی ایف کو مستقبل کا پلان دیا ہے۔

    تاہم سینیٹر محسن عزیز کا کہنا تھا کہ ’بارہ بلز ایک دن میں کس طرح پڑھے جا سکتے ہیں ہمیں ربر سٹامپ نہ بنایا جائے۔ دنیا ہمارا تمسخر اڑا رہی ہے۔

  6. توشہ خانہ کیس: توقع ہے ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ قانون کے مطابق چلیں گی، سپریم کورٹ

    islamabad

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ میں عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں ٹرائل روکنے کے لیے حکم امتناع دینے کی اپیل پر سماعت میں درخواست نمٹاتے ہوئے عدالت نے کہا ہے کہ توقع ہے کہ ہائی کورٹ اور سیشنز کورٹ قانون کے مطابق فیصلے کرے گی۔

    سماعت کرنے والے بینچ کی سماعت جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی جس کے آغاز پر انھوں نے الیکشن کمیشن اور عمران خان کے وکیل کو روسٹرم پر بلا لیا۔

    عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ ’ہائی کورٹ نے کل درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے پوچھا کہ ’کیا ہائی کورٹ نے حکم امتناع دیا ہے؟‘

    ’تو خواجہ حارث نے بتایا کہ ہائی کورٹ نے کوئی حکم امتناع نہیں دیا۔‘

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ’مقدمہ ٹرانسفر کرنے کی درخواست ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔ توقع ہے ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ قانون کی روح کے مطابق چلیں گی۔‘

  7. عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت، وکیل الیکشن کمیشن نے حتمی دلائل کا آغاز کر دیا

    چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیرِ اغظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ میں جاری ہے جہاں الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز حتمی دلائل دے رہے ہیں۔

    اس کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں جاری ہے جہاں عمران خان کی جانب سے وکیل نیاز اللہ نیازی ایڈووکیٹ بھی عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔

    وکیل نیاز اللہ نے عدالت کو سماعت کے آغاز پر بتایا کہ ’ہمارے کیسز سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں، اس لیے عدالت ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کر لے۔

    جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ ’میں نے آج کا ٹائم دیا تھا، الیکشن کمیشن اپنے دلائل شروع کرے۔ خواجہ حارث کی مرضی وہ دلائل دیتے ہیں یا نہیں۔

    اس پر وکیل نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ ’ہم دلائل دیں گے لیکن ہمارے نیب، سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں کیس لگے ہوئے ہیں۔‘

    تاہم عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو دلائل شروع کرنے کی ہدایت کر دی جس کے بعد وکیل امجد پرویز نے حتمی دلائل کا آغاز کر دیا ہے۔

    وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز کے دلائل

    وکیل امجد پرویز نے نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’تمام تر دستاویزات ملزم عمران خان نے اپنے دستخط کے ساتھ جمع کروائے ہیں، اس لیے ان کے قابل قبول ہونے سے متعلق کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا۔

    ’اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا گیا کہ سپیکر قومی اسمبلی کی جناب سے ریفرنس بھیجا گیا۔‘

    وکیل کا دلائل دیتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ ’توشہ خانہ کے تحائف سے نہ انکار کیا گیا نہ اقرار کیا گیا اور کہا گیا یہ ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

    ’توشہ خانہ سے لیے گئے تحائف اور قومی خزانے میں جمع کروائے گئے چالان بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ تحائف کی شناخت کا معاملہ عدالت کے سامنے ہے۔ عمران خان نے اپنے جواب میں تسلیم کیا کہ انھوں نے کون کون سے تحائف لیے۔‘

    امجد پرویز نے دلائل کے دوران دعویٰ کیا کہ ’58 تحائف عمران خان اور ان کی اہلیہ کو ملے جبکہ 14 تحائف کی مالیت 30 ہزار سے زیادہ لگائی گئی جو خریدے گئے۔

    ’ان کے مطابق دو کروڑ 16 لاکھ 64 ہزار 600 روپے مالیت کے چار تحائف خریدے گئے جن میں ایک گھڑی، کف لنکس، ایک انگوٹھی، رولکس گھڑیاں، آئی فون شامل ہیں۔

    امجد پرویز کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کی جانب سے اپنے جواب میں کہا گیا کہ استغاثہ نے کوئی شہادت پیش نہیں کی کہ تحائف کی مالیت 107 ملین تھی۔ یہ بات درست نہیں ہے کہ استغاثہ نے شواہد پیش کیے ہیں، اور تحائف کی فہرست کو تسلیم کیا گیا ہے۔ 2018 سے 2019 کے درمیان تحائف 20 فیصد رقم ادا کر کے لیے گئے۔

  8. عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس: کب کیا ہوا؟

    tausa

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو اسلام آباد کی مقامی عدالت نے توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا سنائی ہے جس کے بعد انھیں لاہور میں زمان پارک میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی بیرسٹر محسن نواز رانجھا نے چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف ایک ریفرنس دائر کیا۔

    • سپیکر قومی اسمبلی کے پاس آئین کے آرٹیکل 63 (2) کے تحت دائر ہونے والے ریفرنس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عمران خان نے سرکاری توشہ خانہ سے تحائف خریدے مگر الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے اثاثہ جات کے گوشواروں میں انھیں ظاہر نہیں کیا، اس طرح وہ ’بددیانت‘ ہیں، لہٰذا انھیں آئین کے آرٹیکل 62 ون (ایف) کے تحت نااہل قرار دیا جائے۔
    • یہ ریفرنس موصول ہونے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے چار اگست 2022 کو الیکشن کمیشن کو یہ ریفرنس بھیجا جس میں آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کی نااہلی کی سزا کی استدعا کی گئی تھی۔
    • الیکشن کمیشن نے اس ریفرنس پر کارروائی کی اور 21 اکتوبر 2022 کو دیے گئے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ سابق وزیرِ اعظم نے تحائف کے بارے میں ’جھوٹے بیانات اور بے بنیاد‘ اعلانات کیے ہیں۔
    • الیکشن کمیشن نے عمران خان کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف فوجداری کارروائی کے آغاز کا فیصلہ دیا۔
    • اس فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کی سیشنز کورٹ میں اس ضمن میں درخواست دائر کی جس میں سابق وزیراعظم کے خلاف فوجداری قانون کے تحت کارروائی کرنے کی استدعا کی گئی۔
    • سیشنز عدالت کے جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں اس کے بعد سے اس کیس کی سماعت کا آغاز ہوا اور رواں برس 10 مئی کو عمران خان پر فردِ جرم عائد کر دی گئی۔ یہ وہ دن تھا جب عمران خان القادر ٹرسٹ کیس میں زیر حراست تھے۔
    • سیشنز عدالت کی اس کارروائی کے خلاف چیئرمین تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جس پر فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے سیشنز کورٹ کو فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی معطل کرتے ہوئے فریقین کو دوبارہ سننے اور سات روز میں فیصلہ دینے کا حکم دیا تھا۔
    • خیال رہے کہ عمران خان کے وکلا اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ بھی جا چکے ہیں، تاہم سپریم کورٹ نے یہ درخواست یہ کہہ کر مسترد کر دی تھی کہ عدالت ماتحت عدالتوں کی کارروائی میں مداخلت نہیں کر سکتی۔
    • سیشنز عدالت میں اس کیس کی سماعتوں میں رواں ہفتے دوبارہ تیزی آئی۔ رواں ہفتے ہی اس کیس میں عمران خان نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا جبکہ الیکشن کمیشن کے گواہان پہلے ہی اپنے اپنے بیانات ریکارڈ کروا چکے ہیں۔
    • عدالت کی جانب سے عمران خان کو اپنے گواہان پیش کرنے کا حکم دیا گیا جس کے جواب میں چار گواہان کی فہرست عدالت میں پیش کی گئی تاہم عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے پیش کردہ گواہان کو کیس سے غیرمتعلقہ قرار دیتے ہوئے ان کے بیانات ریکارڈ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
    • اسی دوران عمران خان کے وکلا نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں توشہ خانہ کیس کے قابلِ سماعت ہونے، اس کیس کو کسی دوسری عدالت میں بھیجنے اور اس مقدمے میں دفاع کے حق سے متعلق درخواستیں جمع کروائی تھیں۔
    • گذشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس حوالے سے فیصلہ دیتا ہوئے اس مقدمے کو دوبارہ جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں بھیجا تھا اور ان سے اس مقدمے کے قابلِ سماعت ہونے کے ساتھ مقدمے پر فیصلہ سنانے کی ہدایت دی تھی۔
    • سنیچر کو عمران خان کے وکلا جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور عدالت کی جانب سے متعدد مرتبہ سماعت میں وقفہ کیا گیا تاہم 12 بجے بالآخر عدالت کی جانب سے فیصلہ محفوظ کیا گیا جسے ساڑھے 12 بجے سنایا گیا۔
    • فیصلے کے مطابق عدالت نے عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں بددیانتی کا الزام ثابت ہونے پر تین برس قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
  9. توشہ خانہ کیس میں مجھے فیئر ٹرائل کا حق نہیں دیا جا رہا: عمران خان

    imran

    ،تصویر کا ذریعہYoutube/Screenshot

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اورسابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ میرے خلاف توشہ خانہ کیس میں بہت تیزی سے کارروائی کی جا رہی ہے اور مجھے فیئر ٹرائل کا حق نہیں دیا جا رہا۔

    جمعرات کی شام یوٹیوب پر خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ عدالتی چھٹیوں میں بھی میرے خلاف توشہ خانہ مقدمے کی کارروائی کو جلد از جلد نمٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اسلام آباد کی مقامی عدالت کے جج ہمایوں دلاور نے میرے گواہوں کو ختم کیا۔ ہمیں ایک گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا کہ اپنے اکاؤنٹنٹ کو پیش کرنے کے لیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے اس مقدمے میں فیئر ٹرائل کے حق سے محروم رکھا گیا ہے۔ جو سوالات دیے گئے وہ ٹیکس سے متعلقہ تھے۔

    انھوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی اس کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس پر مجھے اعتماد نہیں ہے۔ جس طرح مجھے ان کی عدالت سے غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا تھا وہ سب سے سامنے ہے۔ اور انھوں نے اسے قانونی قرار دے دیا۔

    عمران خان نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی شکایت ہے کہ وہ میرے اس مقدمے کو لٹکا رہی ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ٹیئرین وائٹ کیس کو بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں اب تک لٹکایا ہوا ہے۔

    اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے حال ہی میں جو دو بل پیش کیے ہیں سیکریسی ایکٹ اور ایکٹسریم وائلنٹ ایکٹ۔۔۔اس دونوں کے پیچھے حکومت کی بدنیتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ کسی آزاد معاشرے میں نہیں ہو سکتی۔ کیا اب انٹیلیجنس ایجنسیاں کسی بھی گھر میں گھس کر وہاں صحیح اور غلط کا فیصلہ کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ جنرل مشرف کے مارشل لا سے بھی برا ہے۔ حکومت الیکشن نہیں کروانا چاہتی۔ اس لیے لوگوں کو قابو کرنے کے لیے یہ بل لائے گئے ہیں۔

    انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں خیبرپختونخوا کی فکر کرنی چاہیے۔ وہاں دہشت گردی بڑھتی جا رہی ہے۔ فیصلہ سازوں کو اندازہ ہے کہ نچلی سطح پر عوام میں کیا غصہ ہے۔ یہ حالات کس طرف جا رہے ہیں۔

  10. 19 کروڑ پاونڈ سکینڈل کیس میں عمران خان آج نیب کے سامنے پیش ہوں گے

    نیب نے 19 کروڑ پاونڈ کے سکینڈل میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو آج طلب کر لیا ہے۔

    چئیرمین پی ٹی آئی کو بطور ملزم آج نیب دفتر پیشی کی ہدایت کی گئی ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی کو القادر ٹرسٹ سے متعلق دستاویزات ہمراہ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    نیب راولپنڈی نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی طلبی کا سمن جاری کر دیا ہے۔

    وفاقی پولیس نے عمران خان کو 5 مقدمات میں آج طلب کر رکھا ہے

    وفاقی پولیس نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو 5 مقدمات میں آج طلب کیا ہوا ہے۔

    سابق وزیراعظم کو طلبی کے باقاعدہ نوٹس جاری کر دیے گئے۔

    چیئرمین تحریک انصاف کو تھانہ ترنول میں درج دو مقدمات میں طلب کیا گیا ہے جبکہ تھانہ کراچی کمپنی میں دو اور تھانہ کوہسار میں درج ایک مقدمہ میں بھی طلب کیا گیا ہے۔

    نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’آپ کو پہلے بھی چار مرتبہ بذریعہ نوٹس طلب کیا گیا لیکن حاضر نہیں ہوئے۔ شامل تفتیش ہو کر اپنا مؤقف پیش کریں اور مقدمے سے متعلق شواہد بھی فراہم کریں۔‘

  11. آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل انصاف کی اقدار کے خلاف ہے، حکومت اسے فوری طور پر واپس لے: پاکستان بار کونسل

    پاکستان بار کونسل نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں ترمیم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے خلاف کسی بھی اقدام کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔

    بار کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وکلا برادری نے ہمیشہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے جدوجہد کی۔

    پاکستان بار کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ ’وفاقی حکومت فوری طور پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل واپس لے۔‘

    بار کا کہنا ہے کہ ’آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل سے خفیہ اداروں کو کسی بھی شہری کی حراست میں لینے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ ‘

    اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے خفیہ اداروں کو کسی عدالت کے سرچ وارنٹ کے بغیر کسی بھی شہری یا کسی بھی جگہ تلاشی لینے کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔

    بار کا موقف ہے کہ ’آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں ترمیم نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ انصاف کی اقدار کے بھی خلاف ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں ترمیم آئین پاکستان سے بھی متصادم ہے۔‘

    اعلامیے میں توقع ظاہر کی گئی سینٹ کی قائمہ کمیٹی مجوزہ ترمیم کو مسترد کر دے گی۔

  12. واٹر گیٹ سکینڈل: چوری کی ایک ’چھوٹی سی واردات‘ جس کا خاتمہ امریکی صدر کے استعفے پر ہوا

  13. مشرف، پیپلز پارٹی اور اب تحریک انصاف: عبدالحفیظ شیخ کون ہیں؟