اب اہم الیکشن کی طرف بڑھ رہے ہیں، ملک میں سیاسی مفاہمت کی ضرورت ہے: بلاول بھٹو کا موجودہ قومی اسمبلی سے آخری خطاب

پاکستان کے وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں اپنے آخری خطاب میں کہا ہے کہ وہ اپنی اتحادی حکومت کے 16 ماہ میں اداروں کو ان کی حدود تک محدود رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بچپن سے دیکھ رہا ہوں کہ سیاستدان حکومت میں ہوتا ہے یا جیل میں۔ ان کے مطابق اب ہم الیکشن کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اب اپنے بڑوں سے بھی کہتا ہوں کہ سیاسی جماعتوں کو سیاست اس طریقے سے کرنی چاہیے کہ صورتحال کو مفاہمت کی طرف کیسے لے کر جائیں۔

لائیو کوریج

  1. کارکن پرامن احتجاج کریں اور جلاؤ گھیراؤ نہ کریں: شاہ محمود قریشی

    تحریک انصاف کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی نے عمران خان کی گرفتاری پر اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ کارکن پر امن احتجاج کریں اور جلاؤ گھیراؤ نہ کریں۔ آگے کا لائحہ عمل کور کمیٹی کے اجلاس میں آج ہی کریں گے۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’عمران خان کی جو واضح ہدایات ہیں ان کو مد نظر رکھتے ہوئے پر امن انداز میں ہم نے آگے بڑھنا ہے۔ مجھے احساس ہے کہ آج پاکستانی اور پی ٹی آئی سے منسلک ہر کارکن اضطراب کی کیفیت میں ہے۔ آج جو فیصلہ آیا ہے اس کو عوام نے انصاف کے بنیادی تقاضوں کے برعکس جانا ہے۔‘

    شاہ محمود نے کہا ’لوگوں میں اضطراب اور غم و غصہ بھی ہے۔ لوگ عمران خان کے ساتھ اظہار یک جہتی بھی کرنا چاہتے ہیں اور اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کروانا چاہتے ہیں۔ پرامن رہتے ہوئے آپ اپنا حق استعمال کر سکتے ہیں املاک کو نقصان نہیں پہنچانا نہ ہی قانون کو ہاتھ میں لینا ہے لیکن حقیقی آذادی کی جدوجہد کو ہم نے آگے بڑھانا ہے۔‘

    شاہ محمود نے کہا ’عمران خان کا جو فیئر ٹرائل کا بنیادی حق تھا وہ انھیں میسر نہیں آیا۔ مجھے اضطراب کی کیفیت کا علم ہے اور سب نے مل کر ان کی جدوجہد جاری رکھنی ہے قانونی جنگ بھی لڑنی ہے اور سیاسی جدوجہد بھی۔‘

    شاہ محمود کے مطابق ’کور کمیٹی کا اجلاس بھی آج منعقد ہو رہا ہے تاکہ آئیندہ کا لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔ مشاورت اجلاس میں اپنے وکلا اور کور کمیٹی ممبرران سے مشاورت کر کے ہی آگے بڑھیں گے۔‘

  2. انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے چار سال مکمل ہونے پر پاکستان میں یوم استحصال کشمیر کا انعقاد, ایم اے جرال، صحافی

    یوم استحصال کشمیر

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے ختم کیے جانے کو چار سال مکمل ہونے پر پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سمیت دیگر شہروں میں آج کے دن کو یوم استحصال کشمیر کے طور پر منایا گیا۔

    اس موقع پر انڈیا مخالف ریلیوں اور جلسے جلوسوں کا انعقاد کیا گیا جس میں احتجاج میں شریک افراد نے ہاتھوں میں سیاہ جھنڈے اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کیے جانے کے خلاف اور اسکو بحال کرنے کے حق میں تحریر درج تھیں۔

    مظفرآباد میں قانون ساز اسمبلی کے اراکین اور مختلف سیاسی ،مذہبی اور دیگر تنظیموں کے زیراہتمام الگ الگ احتجاجی مظاہرے منعقد ہوئے اور ریلیاں نکالی گئی۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے اراکین کی جانب سے ہائی کورٹ گراونڈ چھتر سے اقوام متحدہ کے مرکزی دفتر تک ایک ریلی نکالی گئی جس کی قیادت اس خطے کے وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے کی ۔

    دوسری جانب پاسبان حریت جموں و کشمیر کی جانب سے علمدار چوک میں بھارت مخالف دھرنا دیا گیا جس میں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    اس دھرنے میں موجود کچھ نوجوانوں نے اپنے ہاتھ میں ہتھکڑیاں اور سروں کو مخصوص انداز سے ڈھانپ کر انوکھا احتجاج کیا۔

    اس موقع پر مظاہرین نے وزیراعظم نیریندہ مودی ،اجیت دوال ،راج ناتھ سنگھ اور امیت شاہ کی تصاویر والے پینافلیکس کو نذر آتش کیا جس کے بعد شرکا نے علمدار چوک سے برہان وانی چوک تک احتجاجی ریلی نکالی۔

    دوسری جانب مرکزی ایوان صحافت مظفرآباد کے سامنے برہان وانی چوک میں یونائیڈ فریڈم مومنٹ کے زیراہتمام آزادی کشمیر کانفرنس کے نام پر ایک جلسے عام کا انعقاد بھی کیا گیا۔

    اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے میں مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو فی الفور بحال کرے ۔

    دریں اثنا پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا اس حوالے سے خصوصی اجلاس قائمقام سپیکر چوہدری ریاض کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں کشمیر کی خصوصی حثیت ختم کرنے کی جہاں مذمت کی گئی وہاں پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

  3. زمان پارک: عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے والے تین کارکن پولیس حراست میں

    گرفتاری

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کے بعد لاہور کے زمان پارک میں واقع ان کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کرنے والے چند افراد کو پولیس نے حراست میں لیا ہے۔

    زمان پارک میں موجود نمائندہ بی بی سی ترہب اصغر کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کی خبر سامنے آنے کے بعد تحریک انصاف کے دو درجن کے لگ بھگ کارکنان احتجاج کی غرض سے عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر جمع ہوئے تھے۔

    ان مظاہرین نے اس دوران نعرہ بازی کی جس کے بعد پولیس نے تین مظاہرین کو حراست میں لے لیا ہے۔

    گرفتاری
  4. ’تمھارے ساتھ ہے کون؟‌ آس پاس تو دیکھو‘ خواجہ آصف کا عمران خان سے سوال

    عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں سزا اور گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ’نواز شریف کو اڈیالہ بھیجنے والے گانے اور ناچنے والے آج کدھر ہیں اور عمران خان کدھر ہے؟

    ’اللہ سے معافی اور مکافات عمل سے پناہ مانگنی چاہیے۔ یہ گانے والا دو دن بھی عمران کے ساتھ نہ کھڑا ہوا۔ اللہ معاف فرمائے۔ تمھارے ساتھ ہے کون؟‌ آس پاس تو دیکھو۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. بریکنگ, آپ نے گھروں میں چپ کر کے نہیں بیٹھنا، میں یہ جدوجہد آپ کے لیے کر رہا ہوں: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کے بعد ایک ویڈیو پیغام جاری کیا گیا ہے جس میں انھوں نے عوام سے اپنی گرفتاری کے بعد احتجاج کرنے کی اپیل کی ہے۔

    ٹوئٹرپر جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’جب تک یہ پیغام آپ تک پہنچے گا، اُس وقت تک یہ مجھے گرفتار کر کے جیل بھیج چکے ہوں گے۔‘

    عمران خان نے پیغام میں کہا کہ ’آپ سے گزارش ہے کہ آپ نے گھروں میں چپ کر کے نہیں بیٹھنا۔ میں اپنی جدوجہد آپ کے لیے اور آپ کے بچوں کے مستقبل کے لیے کر رہا ہوں۔‘

    عمران خان نے کہا کہ پرامن احتجاج آپ کو کرتے رہنا ہے جب تک آپ کو حق نہیں ملتا اور وہ حق ہے ہے حق ووٹ کے ذریعے اپنی مرضی کی حکومت منتخب کرنا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر آپ یہ نہیں کریں گے تو غلامی کی زندگی گزاریں گے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  6. بریکنگ, عمران خان کی گرفتاری سیاسی انتقام نہیں، تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد عدالت نے سزا دی: وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب

    مریم اورنگزیب

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کر ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں گیا بلکہ ان کی گرفتاری تمام قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ اگر کسی کو یہ ابہام ہے کہ عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تو وہ اس تفصیلی فیصلے کو دیکھیں جس میں لکھا ہے کہ عمران خان کو متعدد مواقع دیے گئے کہ وہ اپنا موقف پیش کریں۔

    مریم اورنگزیب کے مطابق ’عمران خان نے بیانیہ بنانے کی کوشش کی، جب جب ان سے سوال کا جواب پوچھا جاتا تو وہ اس کو دوسری چیزوں سے جوڑ دیتے اور اداروں پر حملہ کر دیتے۔ ہر دفعہ جب عمران خان پر جواب دینے کی بات آتی تھی تو ان کے پاس جواب نہیں ہوتا تھا۔‘

    مریم اورنگزیب نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان تمام عرصے میں صرف تین بار عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور عدالتوں میں جھوٹ پر جھوٹ بولتے گئے۔

  7. اسلام آباد کی سکیورٹی ’ہائی الرٹ‘

    ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

    ترجمان نے کہا ہے کہ شہر کے تمام علاقوں میں چیکنگ بڑھا دی گئی ہے جبکہ تمام پولیس افسران کو اپنے اپنے علاقوں میں موجود رہنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔

    پولیس کی جانب سے مطلع کیا گیا ہے کہ شہر میں ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے جبکہ شہری کسی بھی سرگرمی کے متعلق 15 پر اطلاع دیں۔

  8. عمران خان کی گرفتاری کے بعد زمان پارک کی صورت حال

    سابق وزیر اعظم عمران خان کو اسلام آباد کی عدالت کی طرف سے توشہ خانہ کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد زمان پارک، لاہور میں واقع ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق ان کے گھر کے اندر ان کی لیگل ٹیم اور سکیورٹی کے لوگ موجود تھے۔

    ’عمران خان کی سکیورٹی کے مطابق سادہ لباس میں بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار پہلے آئے کیونکہ وہ سادہ کپڑوں میں تھے تو ہم نے اپنا اسلحہ نکالا اور انھوں نے بھی اپنا اسلحہ نکالا مگر کسی قسم کی کوئی مزاحمت نہیں ہوئی۔‘

    ترہب اصغر کے مطابق ’مرکزی گیٹ سے اندر جانے کے بعد وہ گھر کے اندر کا گیٹ پھلانگ کے گئے اورعمران خان کو منہ پر کپڑا ڈال کر گرفتار کر کے لے گئے اور ان کے ساتھ ان کے تین سٹاف کے افراد کو بھی لے گئے۔

    ترہب اصغر کے مطابق عمران خان کی گرفتاری سے قبل بلاک کی گئی سڑک کو اب کھول دیا گیا ہے اور وہاں سے گاڑیوں کی آمد و رفت بھی جاری ہے۔

    ان کے مطابق اس وقت تقریبا دو درجن کارکن وہاں موجود ہیں جو وقفے وقفے سے تھوڑی دیر بعد نعرے بازی کر رہے ہیں لیکن اس وقت تک کارکنوں کی جانب سے کوئی خاص مظاہرہ دیکھنے کو نہیں ملا۔

  9. توشہ خانہ کیس کا تحریری فیصلہ: ’ملزم کی بددیانتی بلا شبہ ثابت ہوئی‘

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    توشہ خانہ کیس میں ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ملزم، یعنی عمران خان، کے خلاف توشہ خانے کے تحائف حاصل کرنے کے باوجود 2018-2019 اور 2019-2020 میں اثاثوں کی جعلی تفصیلات دینے کا الزام ثابت ہوا ہے۔

    اس میں لکھا ہے کہ عمران خان نے سرکاری خزانہ سے فوائد حاصل کیے مگر اسے ’جان بوجھ کر چھپایا‘ جس سے وہ ’بدعنوانی کے مرتکب پائے گئے ہیں۔‘

    ’انھوں نے توشہ خانہ سے تحائف حاصل کرنے کی معلومات چھپائی، (ان کی فراہم کردہ معلومات) بعد میں جھوٹی ثابت ہوئی۔ ان کی بددیانتی بغیر کسی شک کے ثابت ہوتی ہے۔‘

    اس عدالتی فیصلے میں الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 174 کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ انھیں یہ الزام ثابت ہونے پر تین سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جاتی ہے۔

    ’اگر وہ (جرمانے کی) ادائیگی نہ کر سکے تو انھیں مزید چھ ماہ قید کی سزا دی جائے گی۔‘

    جج ہمایوں دلاور فیصلے کے آخری پیراگراف میں لکھا کہ ’ملزم آج عدالت میں موجود نہیں ہیں لہذا گرفتاری کے لیے فیصلے کی کاپی اور وارنٹ آئی جی اسلام آباد کو بھیجا جائے۔‘

    خیال رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج نے فیصلے میں یہ بھی لکھا ہے کہ دوپہر 12 بجے تک ملزم کی جانب سے دلائل دینے کے لیے کوئی بھی عدالت حاضر نہیں ہوا جس کے بعد عدالت نے ساڑھے 12 بجے محفوظ فیصلہ سنایا۔

  10. زمان پارک لاہور میں عمران خان کے گھر کے باہر کے مناظر, فرقان الہی بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، لاہور

    زمان پارک
    زمان پارک
    زمان پارک
    زمان پارک
    زمان پارک
  11. پولیس عمران خان کو لے کر اسلام آباد روانہ ہو گئی: نگران وزیر اطلاعات عامر میر

    پنجاب کے نگران وزیر اطلاعات عامر میر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو گرفتار کر کے پولیس اسلام آباد روانہ ہو گئی ہے۔

    عامر میر کے مطابق پنجاب پولیس نے عمران خان کی گرفتاری میں اسلام آباد پولیس کی معاونت کی اور عدالتی حکم پر عمل درآمد کے لیے ان کو اسلام آباد روانہ کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے عمران خان کو گرفتار کر کے بائی ایئر اسلام آباد لے جایا گیا ہے۔

  12. بریکنگ, ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کا فیصلہ متعصبانہ ہے: ترجمان تحریک انصاف

    توشہ خانہ کیس میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے فیصلے کو تحریک انصاف نے معتصبانہ قرار دے کر مسترد کردیا ہے اور اعلیٰ عدالت کے روبرو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ترجمان تحریک انصاف کی جانب سے جاری بیان کےمطابق ’متعصب جج ہمایوں دلاور کی جانب سے تاریخ میں بیہودہ ترین انداز میں ٹرائل چلایا گیا۔‘

    ترجمان تحریک انصاف کے مطابق ’تاریخ کے اس بدترین ٹرائل میں ایک متعصب جج کے ہاتھوں انصاف کے قتل کی کوشش کی گئی اور مقدمے کے حقائق کو مخصوص ایجنڈے کی بھینٹ چڑھایا گیا۔‘

    ترجمان تحریک انصاف کے مطابق ہمایوں دلاور کا فیصلہ لندن پلان کے تحت لیول پلیئنگ فیلڈ جیسے شرمناک اہداف کے حصول کی مایوس کن کوشش ہے۔

    ترجمان کے مطابق سازش اور انتقام کی ایسی بھونڈی کوشش قوم ہرگز قبول نہیں کرے گی بدترین ریاستی جبر کے سامنے ہرگز سرنگوں نہیں ہوں گے۔

  13. بریکنگ, عمران خان کو زمان پارک سے گرفتار کر لیا گیا

    سابق وزیر اعظم عمران کو اسلام آباد کی عدالت کی سزا سنائے جانے کے بعد ان کو لاہور میں واقع ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق عمران خان کو زمان پاک سے ان کی رہائش گاہ کے اندر سے گرفتار کیا گیا ہے۔

  14. بریکنگ, توشہ خانہ کیس میں عمران خان مجرم قرار، تین سال قید کی سزا سنا دی گئی, سحر بلوچ/ شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت میں محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج ہمایوں دلاور نے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر الزامات درست ثابت ہوئے ہیں ان کو تین سال قید اور ایک لاکھ جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ عمران خان غلط پریکٹسز کے مرتکب ہوئے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز کا کہنا ہے کہ عمران خان اس عدالت سےسزا ملنے کے نتیجے میں پانچ سال تک انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نا اہل ہو جائیں گے اور ان کے مطابق ان کی سزا کا دورانیہ جب شروع ہو گا جب ان کی سزا پوری ہو گی۔

    واضح رہے کہ سنیچر کے روز اسلام آباد کی ضلعی عدالت میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر توشہ خانہ کیس کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی تھی۔

    کیس کی سماعت بارہا ملتوی کی گئی تاکہ عمران حان کے وکیل پیش ہو سکیں تاہم دن دن 12 بجے تک وہ پیش نہ ہوئے تو عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا اور پھر 12:30 بجے فیصلہ سنا دیا گیا۔

  15. بریکنگ, توشہ خانہ کیس قابل سماعت ہونے کا فیصلہ 12:30 بجے سنایا جائے گا

    توشہ خانہ

    عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کے قابل سماعت ہونے سے متعلق اسلام آباد کی ضلعی عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جو اب سے کچھ دیر بعد 12:30 بجے سنایا جائے گا۔

    توشہ خانہ کی سماعت تیسری بار وقفے کے بعد جب سنیچر کو 12 بجے شروع ہوئی تو عمران خان کے وکیل پیش نہ ہوئے۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے دوران سماعت عدالت کو بتایا ’ہمارے وکیل احتساب عدالت میں گئے تھے جہاں آج عمران خان کی پیشی تھی تاہم نہ عمران خان اور نہ ان کے وکیل نیب کے روبرو بھی پیش نہ ہوئے۔‘

    جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس میں کہا کہ ’اس بات کو بھی فیصلے کا حصہ بنایا جائے گا۔‘

    واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج ہمایوں دلاور نے عمران خان کے وکیل کو 12 بجے تک پیش ہونے کی مہلت دی تھی اور کہا تھا کہ اگر وہ پیش نہ ہوئے تو فیصلہ سنا دیں گے۔

    دوسری جانب چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی قانونی ٹیم نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جمعے کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کے وکلا کو حکم دیا تھا کہ سنیچر کو ہونے والی سماعت میں وہ عدالت میں موجود ہوں اور الیکشن کمیشن کی اس درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں دلائل دیں۔

    دوسری جانب عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے سپریم کورٹ میں جمع کروائی ایک کمپلینٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کے وکیل کو سپریم کورٹ کے احاطے سے نا معلوم افراد کی جانب سے اٹھا لیا گیا ہے۔

  16. انتخابات نئی مردم شماری کے مطابق ہوں گے یا پرانی؟ فیصلہ مشترکہ مفادات کونسل کے آج کے اجلاس میں متوقع

    الیکشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس شروع ہو گیا ہے جس میں ڈیجیٹل مردم شماری کے نتائج پیش کئے جائیں گے۔

    اجلاس میں وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ، پنجاب کے نگران وزیر اعلی محسن نقوی، ، وفاقی وزرا اور ادارہ شماریات سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے اہم حکام شریک ہیں۔

    اجلاس میں وزارت منصوبہ بندی ڈیجیٹل مردم شماری کے نتائج پیش کرے گی جس کے بعد ممکنہ طور پر عام انتخابات نئی مردم شماری پر کرانے یا نہ کرانے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

    واضح رہے وزیر اعظم شہباز شریف نے گذشتہ روز نجی ٹی وی چینل ’آج نیوز‘ کے ایک پروگرام میں انٹرویو کے دوران کہا کہ الیکشن کا انعقاد نئی ڈیجیٹل مردم شماری کے تحت ہو گا، الیکشن میں تاخیر کا کوئی جواز نہیں اور الیکشن کا انعقاد الیکشن کمیشن کی صوابدید ہے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ لگ بھگ دو ہفتے قبل ہی وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ نے بڑے واضح انداز میں کہا تھا کہ الیکشن پرانی یعنی 2017 کی مردم شماری کے مطابق ہوں گے۔

  17. بریکنگ, عمران خان کی قانونی ٹیم نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی قانونی ٹیم نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جمعے کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

    خواجہ حارث ایڈووکیٹ کی جانب سے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف باضابطہ درخواست دائر کر دی گئی۔

    چیئرمین تحریک انصاف کی قانونی ٹیم کی جانب سے دائر درخواست پر ڈائری نمبر لگا دیا گیا۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کے وکلا کو حکم دیا تھا کہ سنیچر کو ہونے والی سماعت میں وہ عدالت میں موجود ہوں اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن کی اس درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں دلائل دیں۔

    جمعے کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کو دوسری عدالت منتقل کرنے کی عمران خان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ توشہ خانہ کیس ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور ہی سنیں گے۔

    اس حکم کی روشنی میں اس وقت اسلام آباد کی ضلعی عدالت میں توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان کے وکلا کو 12 بجے تک پیش ہونے کی مہلت دے رکھی ہے۔

  18. بریکنگ, توشہ خانہ کیس: ’عمران خان کو فیئر ٹرائل کا موقع دینا چاہتے ہیں،اگر 12 بجے تک پیش نہ ہوئے تو فیصلہ سنا دیں گے‘, سحر بلوچ، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    ضلعی عدالت

    توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد کی ضلعی عدالت میں جج ہمایوں دلاور نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ اگر 12 بجے تک عمران خان کے وکیل پیش نہیں ہوئے تو فیصلہ سنا دیں گے۔

    عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں 10:30 بجے جب تیسری بار آج عدالت لگی تو عمران خان کی وکلا ٹیم کی جانب سے وکیل خالد یوسف پیش ہوئے اور کہا کہ عمران خان کی لیگل ٹیم کے مرکزی وکیل خواجہ حارث اس وقت ایک دوسرے کیس میں مصروف ہیں اس لیے پیش نہ ہو سکے۔

    ضلعی عدالت کے جج دلاور نے وکیل خالد یوسف کو مخاطب کر کے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ عمران خان کو فیئر ٹرائل کا موقع دیا جائے اس لیے ان کو بار بار مہلت دے رہے ہیں۔ تاہم 12 بجے بھی اگر وکلا پیش نہ ہوئے تو ہم فیصلہ سنا دیں گے۔‘

    عمران خان کے وکلا کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ ’سنیچر کو ہونے والی سماعت میں وہ عدالت میں موجود ہوں اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن کی اس درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں دلائل دیں۔‘

  19. بریکنگ, توشہ خانہ کیس: ’عمران خان کے وکلا تاحال پیش نہ ہوسکے،چاہتے ہیں کہ عدالت ان کو سن کر اپنا فیصلہ دے: وکیل الیکشن کمیشن, سحر بلوچ، بی سی سی اردو ڈاٹ کام،اسلام آباد

    عمران خان کی پیشی

    عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت میں عمران خان کے وکلا تا حال اسلام آباد کی ضلعی عدالت میں پیش نہ ہو سکے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے وکیل سعد حسن نے وہاں موجود میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ’ ہم نے عمران خان اور ان کے وکلا کا کمرہ عدالت میں پہلے 8:30 اور پھر 09:30 بجے انتظار کیا تاہم وہ پیش نہ ہوئے۔‘

    الیکشن کمیشن کے وکیل کے مطابق اب عمران خان کے وکلا کا 10:30 بجے سماعت میں انتظار کریں گے۔

    ان کے مطابق’ یہ کیس پہلے ہی تاخیر کا شکار ہو چکا ہے تاہم ہم عمران خان کو پورا موقع دینا چاہتے ہیں کہ وہ آئیں اور اپنا کیس لڑیں۔‘

    سعد حسن کے مطابق’ ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق آج عمران خان کے وکلا کو اپنے حتمی دلائل دینا ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ عدالت ان کو سن کر اپنا فیصلہ دے۔‘

    الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر پی ٹی آئی کے وکلا اب بھی عدالت میں پیش نہیں ہوتے تو عدالت مقدمے میں فیصلہ محفوظ کر کے بعد میں سنا سکتی ہے۔‘

  20. اسلام آباد کی ضلعی عدالت میں توشہ خانہ کیس کی سماعت سے قبل پولیس کی بھاری نفری تعینات

    ضلعی عدالت میں پولیس کی نفری

    عمران خان کے خلاف اسلام آباد کی ضلعی عدالت میں توشہ خانہ کیس کی سماعت اب سے کچھ دیر میں متوقع ہے۔

    اس موقع پر آج صبح سے ہی اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے اطراف اور عدالت کی عمارت کے احاطے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

    عمران خان کے وکلا کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ سنیچر کو ہونے والی سماعت میں وہ عدالت میں موجود ہوں اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن کی اس درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں دلائل دیں۔

    اسلام آباد کی ضلعی عدالت

    جمعے کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کو دوسری عدالت منتقل کرنے کی عمران خان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ توشہ خانہ کیس ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور ہی سنیں گے۔

    عدالت

    اسلام آباد کی ضلعی عدالت کے احاطے کے اطراف خار دار تاریں بھی لگائی گئی ہیں۔

    خیال رہے کہ ماضی میں ہمایوں دلاور کی سیشن عدالت نے توشہ خانہ کیس کو قابل سماعت قرار دیا تھا جس کے ردعمل میں عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے اس فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی تھی۔