اب اہم الیکشن کی طرف بڑھ رہے ہیں، ملک میں سیاسی مفاہمت کی ضرورت ہے: بلاول بھٹو کا موجودہ قومی اسمبلی سے آخری خطاب

پاکستان کے وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں اپنے آخری خطاب میں کہا ہے کہ وہ اپنی اتحادی حکومت کے 16 ماہ میں اداروں کو ان کی حدود تک محدود رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بچپن سے دیکھ رہا ہوں کہ سیاستدان حکومت میں ہوتا ہے یا جیل میں۔ ان کے مطابق اب ہم الیکشن کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اب اپنے بڑوں سے بھی کہتا ہوں کہ سیاسی جماعتوں کو سیاست اس طریقے سے کرنی چاہیے کہ صورتحال کو مفاہمت کی طرف کیسے لے کر جائیں۔

لائیو کوریج

  1. عمران خان: تحریکِ انصاف کے کپتان کا سیاسی کریئر ’تضادات کا مجموعہ‘

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہImranKhan/ Face book

    عمران خان بالآخر عدمِ اعتماد کے ذریعے اپنی حکومت گرائے جانے کے تقریباً 18 مہینے کے بعد توشہ خانہ کیس میں سزا وار ٹھہرے، انھیں تین سال کی قید سنائی گئی، ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوا۔

    عمران خان کرکٹ ہی کی اصطلاح میں ہمیشہ بتاتے رہے ہیں کہ وہ ڈٹ کے کھڑے ہیں اور آخری گیند تک کھیلیں گے۔ اور یہ حقیقت بھی کہ وہ آخری گیند تک کھیلے بس ان کی خواہش یہی رہی کہ امپائر بھی ہمیشہ ان کا ساتھ دیں۔ کم از کم پانچ اگست 2023 کی صبح ایسا نہیں ہوا۔

    عمران خان کی کہانی بھی پویلین سے پچ تک کی کہانی جیسی ہے اور اس دوران انھوں نے اپنے سیاسی مخالفین کے وہ چھکے چھڑائے ہیں کہ وہ شاید اُن کے ساتھ کھیلی گئی اننگز کبھی نہ بھولیں۔

  2. عمران خان کو اٹک جیل میں کیا سہولیات میسر ہوں گی؟, عماد خالق، بی بی سی اردوڈاٹ کام، اسلام آباد

    جیل کی کیٹیگری

    ،تصویر کا ذریعہPUNJAB PRISON DEPT

    پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو گرفتار کر کے صوبہ پنجاب کے سرحدی ضلعے اٹک کی جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کو تین کیٹگریز میں رکھا جاتا ہے۔ جیل کے قوانین کے مطابق عمران خان کو سابق وزیراعظم ہونے کی وجہ سے ’اے کلاس کیٹیگری‘ دی جا سکتی ہے لیکن اٹک کی جیل کے وارڈن نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس جیل میں اے یا بی کلاس کیٹیگری کی سہولت دستیاب ہی نہیں ہے۔

  3. عمران خان کو فیئر ٹرائل کا حق ملنا چاہیے تھا: شیخ رشید احمد

    شیخ رشید

    ،تصویر کا ذریعہSHEIKH RASHEED

    سابق وفاقی وزیر داخلہ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے عمران خان کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔

    ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ’عمران خان کی گرفتاری اور اُن کو اٹک جیل منتقل کرنے پر مجھے انتہائی دکھ اور افسوس ہوا۔ میں اس کی پُرزور مذمت کرتا ہوں۔‘

    شیخ رشید کے مطابق ’عمران خان کو فئر ٹرائل کا حق ملنا چاہئے تھا امید ہے عمران خان کو ہائیکورٹ سپریم کورٹ سے انصاف ملے گا اور انھیں جلد رہائی ملے گی۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    شیخ رشید کے مطابق ’ملک الیکشن کی طرف جا رہا ہے اور الیکشن ہی مسائل کا واحد حل ہے۔ صاف اور شفاف الیکشن ہونے کے لیے نفرتیں کم کرنا ہوں گی۔

  4. توشہ خانہ کیس ہے کیا اور سزا کے بعد عمران خان کے پاس اب کیا راستہ ہے؟

    توشہ خانہ

    ،تصویر کا ذریعہTWITTER

    اسلام آباد کی ضلعی عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں مجرم قرار دیتے ہوئے تین سال قید اور ایک لاکھ جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔ یہ فیصلہ سامنے آنے کے بعد عمران خان کو لاہور کی زمان پارک میں واقع ان کی رہائشگاہ سے گرفتار کر لیا گیا اور اس وقت وہ اٹک کی جیل میں ہیں۔

    عمران خان کو جس مقدمے میں سزا سنائی گئی ہے وہ توشہ خانہ ریفرنس کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    اس ریفرنس کے تحت گذشتہ برس اکتوبر میں الیکشن کمیشن کی جانب سے عمران خان کو نااہل قرار دیا گیا تھا، نااہلی کی یہ مدت موجودہ اسمبلی تک تھی۔

    الیکشن کمیشن نے عمران خان کو نااہل قرار دیتے ہوئے اُن کے خلاف فوجداری مقدمہ قائم کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔ آئیے پہلے جان لیتے ہیں کہ توشہ خانہ ریفرنس آخر ہے کیا؟

  5. عمران خان کی گرفتاری پی ٹی آئی اور پاکستانی سیاست پر کیا اثرات چھوڑے گی؟

  6. عمران خان گرفتاری کے بعد اٹک جیل منتقل: عدالتی فیصلے کے بعد سے گرفتاری تک کب کیا ہوا

    عمران حان کی گرفتاری کے بعد احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد کی ضلعی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد اس وقت صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک کی جیل میں ہیں۔

    اسلام آباد کی ضلعی عدالت کے فیصلے میں سزا سنائے جانے کے فوری بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے بذریعہ موٹر وے ایلیٹ فورس کے سخت پہرے میں اسلام آباد منتقل کیا گیا تھا جس کے بعد سرکاری ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں طبی معائنے کے بعد انھیں اٹک کی ضلعی جیل لے جایا گیا۔

    سنیچر کے روز دوپہر 12:30 بجے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس میں محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر کرپٹ پریکٹیسز کے تمام الزامات درست ثابت ہوئے ہیں ، ان کو تین سال قید اور ایک لاکھ جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے۔

    اسلام آباد کی ضلعی عدالت کا فیصلہ سنائے جانے کے آدھے گھنٹے کے اندر ہی عمران خان کو لاہور میں ان کی رہائش گاہ زمان پارک سے گرفتار کر لیا گیا اور عدالت کا تحریری فیصلہ منظر عام پر آنے سے پہلے ہی میڈیا پر عمران کی گرفتاری کی بریکنگ نیوز سامنے آ گئی۔

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے فیصلے کو تحریک انصاف نے معتصبانہ قرار دے کر مسترد کیا اوراعلیٰ عدالت کے روبرو اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    آپ نے گھروں میں چپ نہیں بیٹھنا اور پرامن احتجاج کرتے رہنا ہے: عمران خان کا وڈیو پیغام

    توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کے بعد عمران خان کا ایک پہلے سے ریکاڈ کیا ہوا ویڈیو پیغام سامنے آیا جس میں انھوں نے عوام سے اپنی گرفتاری کے بعد احتجاج کرنے کی اپیل کی۔

    اپنے پیغام میں انھوں نے کہا ’جب تک یہ پیغام آپ تک پہنچے گا، اُس وقت تک یہ مجھے گرفتار کر کے جیل بھیج چکے ہوں گے آپ سے گزارش ہے کہ آپ نے گھروں میں چپ کر کے نہیں بیٹھنا اور پرامن احتجاج کرتے رہنا ہے جب تک آپ کو آپ کا حق نہیں ملتا۔‘

    عمران خان کی سزا اور گرفتاری کے خلاف تحریک انصاف کا ملک گیر احتجاج کا اعلان

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا ہنگامی اجلاس شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں منعقد ہوا۔

    تحریک انصاف نے کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا جس میں جس میں توشہ خانہ کیس کے فیصلے اور عمران خان کی گرفتاری کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا گیا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا گیا: مریم اورنگزیب

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کر ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں گیا بلکہ ان کی گرفتاری تمام قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد عمل میں لائی ہے۔

    زمنان پارک کے مناظر

    منہ پر کالا کپڑ ڈال کرعمران خان کوگرفتار کیا گیا: عمران خان کی سکیورٹی کا دعویٰ

    عمران خان کو ان کی لاہور کی رہائش گاہ زمان پارک سے گرفتاری کا احوال جاننے کے لیے نامہ نگار ترہب اصغر نے ان کی سکیورٹی پر مامور افراد اور وہاں موجودعمران خان کی لیگل ٹیم سے بات کی۔

    عمران خان کی سکیورٹی کے مطابق ’سادہ لباس میں بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار پہلے عمران خان کے گھر میں آئے۔ مرکزی گیٹ سے اندر جانے کے بعد وہ گھر کے اندر کا گیٹ پھلانگ کے گئے اورعمران خان کو منہ پر کپڑا ڈال کر گرفتار کر کے لے گئے اور ان کے ساتھ ان کے تین سٹاف کے افراد کو بھی لے گئے۔ ‘

    اسلام آباد کی ضلعی عدالت

    عمران خان نے سرکاری خزانہ سے فوائد حاصل کیے مگر اسے ’جان بوجھ کر چھپایا‘ جس سے وہ ’بدعنوانی کے مرتکب پائے گئے ہیں۔‘ توشہ خان کیس کا تحریری فیصلہ

    • توشہ خانہ کیس میں ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ملزم، یعنی عمران خان، کے خلاف توشہ خانے کے تحائف حاصل کرنے کے باوجود 2018-2019 اور 2019-2020 میں اثاثوں کی جعلی تفصیلات دینے کا الزام ثابت ہوا ہے۔
    • فیصلہ میں لکھا ہے کہ عمران خان نے سرکاری خزانہ سے فوائد حاصل کیے مگر اسے ’جان بوجھ کر چھپایا‘ جس سے وہ ’بدعنوانی کے مرتکب پائے گئے ہیں۔‘
    • عمران خان نے توشہ خانہ سے تحائف حاصل کرنے کی معلومات چھپائی، (ان کی فراہم کردہ معلومات) بعد میں جھوٹی ثابت ہوئیں۔ ان کی بددیانتی بغیر کسی شک کے ثابت ہوتی ہے۔‘
    • اس عدالتی فیصلے میں الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 174 کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ انھیں یہ الزام ثابت ہونے پر تین سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جاتی ہے۔
    • ’اگر وہ (جرمانے کی) ادائیگی نہ کر سکے تو انھیں مزید چھ ماہ قید کی سزا دی جائے گی۔‘
    • جج ہمایوں دلاور فیصلے کے آخری پیراگراف میں لکھا کہ ’ملزم آج عدالت میں موجود نہیں ہیں لہذا گرفتاری کے لیے فیصلے کی کاپی اور وارنٹ آئی جی اسلام آباد کو بھیجا جائے۔‘
    • خیال رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج نے فیصلے میں یہ بھی لکھا ہے کہ دوپہر 12 بجے تک ملزم کی جانب سے دلائل دینے کے لیے کوئی بھی عدالت حاضر نہیں ہوا جس کے بعد عدالت نے ساڑھے 12 بجے محفوظ فیصلہ سنایا۔ ۔

    خیبر پختونخوا میں درجنوں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاری کا دعویٰ

    عمرانن خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے پشاور میں احتجاج کی کال دی گئی ۔

    اس احتجاج کے بعد خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت میں پولیس حکام کے مطابق اب تک پشاور سے پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ جبکہ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے درجنوں گرفتاریوں کا دعویٰ کیا ہے۔

    پولیس حکام نے بتایا ہے احتجاج کے لیے کوئی زیادہ لوگ باہر نہیں نکلے تاہم ہشتنگری کے علاقے سے پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

    جی ٹی روڈ پر پیر عبدالطیف فلائی اوور پر بھی پی ٹی آئی کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے لیکن وہ فوری طور پر منتشر ہو گئے تھے۔

    ادھر تحریک انصاف کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ صوبے بھر میں کارکنان نے عمران خان کی گرفتاری پر احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا تاہم ان میں سے درجنوں افراد کو پولیس کی جانب سے حراست میں لیا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  7. عمران خان کو اٹک جیل میں کیا سہولیات میسر ہوں گی؟

  8. خیبر پختونخوا میں درجنوں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاری کا دعویٰ

    حراست، پشاور

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت میں پولیس حکام کے مطابق اب تک پشاور سے پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ جبکہ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے درجنوں گرفتاریوں کا دعویٰ کیا ہے۔

    پولیس حکام نے بتایا ہے احتجاج کے لیے کوئی زیادہ لوگ باہر نہیں نکلے تاہم ہشتنگری کے علاقے سے پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ جی ٹی روڈ پر پیر عبدالطیف فلائی اوور پر بھی پی ٹی آئی کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے لیکن وہ فوری طور پر منتشر ہو گئے تھے۔

    ادھر تحریک انصاف کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ صوبے بھر میں کارکنان نے عمران خان کی گرفتاری پر احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا تاہم ان میں سے درجنوں افراد کو پولیس کی جانب سے حراست میں لیا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی کے رہنما ندیم شاہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ پشاور، چارسدہ، باجوڑ، تخت بائی اور بنوں سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مردان سے 26 کارکنان کو زیر حراست لیا گیا۔

  9. تحریکِ انصاف کے کپتان کا سیاسی کریئر ’تضادات کا مجموعہ‘ رہا

  10. ’توشہ خانہ کیس کے فیصلے سے انصاف کو بُلڈوز کیا گیا‘

    عمران خان کے وکیل شعیب شاہین کا کہنا ہے کہ توشہ خانہ کیس کے فیصلے کے ذریعے ’انصاف کو بُلڈوز کیا گیا‘ اور ایسے جج کو ’منصف کی کرسی پر نہیں ہونا چاہیے۔‘

    انھوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’آج کی فاشسٹ حکومت آئین کی گولڈن جوبلی منا رہی تھی، اس نے آئین کو معطل کر دیا۔ کارکنان کو کرش کیا جا رہا ہے۔‘

    فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’جب آپ ہمارے گواہ نہیں آنے دیتے تو اسے فیئر ٹرائل کیسے کہہ سکتے ہیں۔ گواہ پیش کرنا ہمارا بنیادی حق ہے۔ یہ حق ہمیں نہیں ملا۔‘

    ’جج ہمایوں دلاور نے بدنیتی اور تعصب دکھایا۔ انھوں نے گواہان کو غیر متعلقہ قرار دیا۔ سینیئر وکلا کے خلاف ریمارکس دیے گئے۔‘

  11. عام انتخابات میں 90 روز کے ساتھ مزید دو سے ڈھائی ماہ درکار ہوں گے: وزیر قانون

    اعظم نذیر تارڑ

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ نئی مردم شماری کی منظوری کے بعد آئندہ عام انتخابات کے لیے 90 روز کے ساتھ اضافی دو سے ڈھائی ماہ درکار ہوں گے۔

    جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اس کا انحصار الیکشن کمیشن پر ہے کہ وہ نئی حلقہ بندیوں کا عمل کتنی جلدی کرتے ہیں۔ اس میں زیادہ سے زیادہ تین سے چار ماہ لگ سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات میں ’90 روز میں مزید دو سے ڈھائی ماہ‘ لگ سکتے ہیں۔

    ’سیٹوں کی تقسیم پر فرق نہیں پڑے گا‘

    اعظم بذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 51 کے مطابق عام انتخابات شائع کردہ مردم شماری کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان کے دور میں سی سی آئی نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا تھا کہ آئندہ الیکشن نئی مردم شماری کے تحت ہوں گے کیونکہ گذشتہ مردم شماری پر صوبوں کو اعتراضات تھے جس میں بعض سیاسی جماعتیں بھی شامل تھیں۔

    ان کے مطابق نئی مردم شماری کی متفقہ منظوری سے ’آئینی بحران کی کیفیت کو درست کر دیا گیا ہے۔ اب یہ معاملہ الیکشن کمیشن کی صوابدید پر ہے۔‘

    وزیر قانون کا کہنا تھا کہ سی سی آئی اجلاس میں ایک بات واضح ہوئی ہے کہ صوبوں کا نشستوں میں حصہ وہی رہے گا جو آئینِ پاکستان میں درج ہے۔ ’مردم شماری کے نتائج سے سیٹوں کی تقسیم پر فرق نہیں پڑے گا۔‘

  12. بریکنگ, سی سی آئی نے متفقہ طور پر نئی مردم شماری کی منظوری دی

    مردم شماری

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) نے ساتویں مردم شماری کی متفقہ طور پر منظوری دی ہے جس کا مطلب ہے کہ آئندہ عام انتخابات نئی مردم شماری کے نتائج کے مطابق ہوں گے۔

    وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدرات سی سی آئی کے پچاسویں اجلاس میں (نئی مردم شمار کے) نتائج کی متفقہ منظوری دی گئی۔ ’چاروں وزرائے اعلیٰ، تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے مردم شماری کے نتائج سے مکمل اتفاق کیا۔‘

    اس موقع پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں پہلی ڈیجیٹل مردم شماری بہترین طور سے مکمل ہوئی جو خوش آئند ہے۔ صوبائی حکومتوں اور پاکستان ادارہ شماریات نے اس قومی فریضے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔‘

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ساتویں مردم شماری کے مطابق پاکستان کی موجودہ مجموعی آبادی 241.49 ملین ہے۔ ملکی آبادی کی سالانہ شرح نمو 2.55 فیصد رہی جبکہ بلوچستان کی آبادی کی شرح نمو باقی صوبوں سے زیادہ یعنی 3.2 فیصد رہی۔

    وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ’گذشتہ 6 سال میں آبادی میں 3.5 کروڑ کا اضافہ ہوا جو باعث فکر ہے۔ پاکستان کی آبادی کے اضافے کا تناسب پاکستان کی معاشی ترقی سے کہیں زیادہ ہے۔

    ’آبادی میں اضافہ متعدد قسم کی مشکلات پیدا کرتا ہے۔ یہ پاکستان میں آئندہ منتخب شدہ حکومت اور مستقبل کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ہمیں نہ صرف آبادی میں اضافے کو روکنا ہوگا بلکہ پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار کو بڑھا کر ان چیلنجز پر قابو پانا ہوگا۔‘

    اجلاس کو بتایا گیا 2023 میں خیبر پختونخوا کی آبادی 40.85 ملین، پنجاب کی آبادی 127.68 ملین، سندھ کی آبادی 55.69 ملین، بلوچستان کی آبادی 14.89 ملین اور اسلام آباد کی آبادی 2.36 ملین ریکارڈ کی گئی۔

  13. مخالفین پر بہتان تراشی، جھوٹے کیسز اور گالم گلوچ کرنے والے آج اپنے انجام کو پہنچ گئے: حمزہ شہباز

    سابق وزیراعلی پنجاب اور مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز نے عمران خان کی سزا کے فیصلے اور ان کی گرفتاری پر رد عمل میں کہا ہے کہ عدالت نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی بے ایمانی ، جھوٹ اور کرپشن پر مہر ثبت کر دی ہے۔

    حمزہ شہباز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مخالفین پر بہتان تراشی، جھوٹے کیسز اور گالم گلوچ کرنے والے آج اپنے انجام کو پہنچ گئے۔ تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود جج ہمایوں دلاور کو جرات مندانہ فیصلے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

    حمزہ شہباز نے کہا کہ عدالت کی جانب سے بار بار مواقع فراہم کرنے کے باوجود عمران خان اپنا دفاع کرنے سے بھاگتے رہے۔ عمران نیازی نے فوج پر حملے اور ملک دشمنی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔

  14. بریکنگ, تحریک انصاف نے عمران خان کی گرفتاری کے خلاف ملک گیر پر امن احتجاج کی کال دے دی

    پاکستان تحریک انصاف کی کورکمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں توشہ خانہ کیس کے فیصلے اور عمران خان کی گرفتاری کے خلاف ملک گیر احتجاج کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا ہنگامی اجلاس میں توشہ خانہ کیس میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے فیصلے اور چیئرمین تحریک انصاف کی گرفتاری پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    کور کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ ’پاکستان تحریک انصاف نے ملک گیر پرامن احتجاج کی کال دے دی۔ تحریک انصاف اپنے چیئرمین کی تلقین و ہدایات کی روشنی میں مکمل طور پر پرامن اور آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کرے گی۔‘

    اعلامیے کے مطابق ’تحریک انصاف کی کور کمیٹی عدالتِ عظمیٰ سے تحریک انصاف کی نظرِثانی درخواست کی بلاتاخیر سماعت کی بھی اپیل کرتی ہے۔ ٹھوس شواہد کے باوجود ایک متعصب جج کے نہایت ناقص فیصلے کو پوری قوم نے مسترد کیا ہے۔‘

    اعلامیے کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف کی طے شدہ منصوبے کے تحت گرفتاری پر پوری قوم میں شدید ردِعمل کی کیفیت ہے۔

    تحریک انصاف کور کمیٹی نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ چیئرمین عمران خان کے خلاف فیصلے کی اپیل پر بلاتاخیر سماعت کرے۔

    اعلامیے کے مطابق ’ تحریک انصاف کے ذمہ داران چیئرمین کی ہدایات کی روشنی میں سفاک امپورٹڈ سرکار کے ہاتھوں گرفتار ہوئے بغیر سیاسی و تنظیمی حکمتِ عملی آگے بڑھائیں گے۔‘

  15. ’صرف 29 دنوں کا ہی تو فرق ہے،‘ سیشنز عدالت میں توشہ خانہ کیس کی سماعت کا احوال

  16. توشہ خانہ مقدمے کے ذریعے نظامِ عدل پر سوالیہ نشان لگایا گیا: حلیم عادل شیخ

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ ‏توشہ خانہ کیس میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کا نہایت متعصبانہ فیصلہ ہے اور تاریخ کے اس بدترین ٹرائل میں انصاف کا قتل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

    حلیم عادل شیخ کے بیان کے مطابق ’سیشن عدالت کا فیصلہ سیاسی انتقام اور انجینئرنگ کی بدترین مثال ہے، پوری قوم عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے۔

    حلیم عادل شیخ نے کہا کہ عوام کے ووٹ سے خوفزدہ حکمران اوچھے ہتھکنڈوں سے عمران خان کو ہٹانا چاہتے ہیں تاہم ملک کی تقدیر کے فیصلے عوام کریں گے۔

  17. توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو سزا: آج جوڈیشل کمپلیکس میں کیا ہوا؟

  18. عمران خان کو لاہور سے اسلام آباد اور پھر اٹک منتقل

    اسلام آباد کی ضلعی عدالت کے فیصلے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے موٹر وے سے اسلام آباد لایا گیا ہے۔

    عمران خان کو ایلیٹ فورس کے سخت پہرے میں اسلام آباد منتقل کیا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق اس سے قبل ان کو بذریعہ جہاز اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا تاہم موسم کی خربی کے باعث ان کو موٹر وے سے اسلام آباد لایا گیا ہے۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں طبی معائنے کے بعد انھیں اٹک کی ضلعی جیل لے جایا گیا ہے۔

  19. عمران خان کو جس عجلت میں سزا سنائی گئی وہ فیئر ٹرائل اور متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی ہے: لاہورہائی کورٹ بارایسوسی ایشن

    لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو اسلام آباد کی ضلعی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس عجلت میں یہ سزا سنائی گئی ہے وہ فیئر ٹرائل اور قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

    ہائئ کورٹ بار ایسو سی ایشن کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سزا سناتے وقت ضلعی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو بھی نظر انداز کیا۔

    اعلامیے کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس فیصلے کے پیچھے وہ قوتیں ہیں جو ملک میں جمہوری عمل کو چلنے نہیں دینا چاہتیں۔

    اعلامیہ

    ،تصویر کا ذریعہLahore highcourt Bar

    ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اعلامیے کے مطابق ’سیاسی معاملات میں درپردہ قوتوں کے کردار پر تشویس ہے اور ہم قانون کی بالا دستی میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ ‘

  20. ’آج ایک اور سابق وزیراعظم جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ گیا، ہم دائروں میں سفر کرتے رہیں گے‘