’نہیں چاہتے فوج شہریوں پر بندوق اٹھائے، فوج کو غیر آئینی اقدام سے روکیں گے‘: چیف جسٹس
عام شہریوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ عدالت فوج کو پابند کرے گی کہ وہ غیر آئینی اقدام نہ کرے۔ ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ انھوں نے اپوزیشن اور حکومت میں ہوتے ہوئے بہت سے سپہ سالاروں سے ملاقاتیں کیں لیکن ان کا ایک ہی مقصد ہوتا تھا کہ ملک ترقی کرے۔
لائیو کوریج
دریائے ستلج میں کشتی ڈوبنے سے متعدد افراد کے ڈوبنے کا خدشہ، سات کو بچا لیا گیا
دریائے ستلج میں کشتی ڈوبنے سے متعدد افراد کے ڈوبنے کا خدشہ ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عمران قریشی نے انتظامیہ کو ریسکیو آپریشن تیز کرنے کی ہدایت دی گے۔
کشتی الٹنے سے دریا میں ڈوبنے والے سات افراد کو بچا لیا گیا جبکہ باقی افراد کی تلاش جاری ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ڈی جی عمران قریشی نے ہدایات کی ہیں کہ تمام افراد کو تلاش کرنے تک انتظامیہ مستعد رہے۔
فوج سمیت انتظامیہ کی امدادی ٹیمیں ریسکیو آپریشن میں شامل ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق ریسکیو آپریشن کی لمحہ بہ لمحہ معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
وفاقی پولیس نے عمران خان کو 5 مقدمات میں چار اگست کو طلب کر لیا
وفاقی پولیس نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو 5 مقدمات میں طلب کر لیا ہے۔
سابق وزیراعظم کو طلبی کے باقاعدہ نوٹس جاری کر دیے گئے۔
چیئرمین تحریک انصاف کو تھانہ ترنول میں درج دو مقدمات میں طلب کیا گیا ہے۔ جبکہ تھانہ کراچی کمپنی میں دو اور تھانہ کوہسار میں درج ایک مقدمہ میں بھی طلبی سابق وزیراعظم کو 4 اگست 3 بجے آئی سی ٹی کمپلیکس پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہیں۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’آپ کو پہلے بھی چار مرتبہ بذریعہ نوٹس طلب کیا گیا لیکن حاضر نہیں ہوئے۔‘
’شامل تفتیش ہو کر اپنا موقف پیش کریں اور مقدمے سے متعلق شواہد بھی فراہم کریں۔‘
بریکنگ, توشہ خانہ کیس میں مجھے فیئر ٹرائل کا حق نہیں دیا جا رہا: عمران خان

،تصویر کا ذریعہYoutube
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اورسابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ میرے خلاف توشہ خانہ کیس میں بہت تیزی سے کارروائی کی جا رہی ہے اور مجھے فیئر ٹرائل کا حق نہیں دیا جا رہا۔
جمعرات کی شام یوٹیوب پر خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ عدالتی چھٹیوں میں بھی میرے خلاف توشہ خانہ مقدمے کی کارروائی کو جلد از جلد نمٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اسلام آباد کی مقامی عدالت کے جج ہمایوں دلاور نے میرے گواہوں کو ختم کیا۔ ہمیں ایک گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا کہ اپنے اکاؤنٹنٹ کو پیش کرنے کے لیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے اس مقدمے میں فیئر ٹرائل کے حق سے محروم رکھا گیا ہے۔ جو سوالات دیے گئے وہ ٹیکس سے متعلقہ تھے۔
انھوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی اس کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس پر مجھے اعتماد نہیں ہے۔ جس طرح مجھے ان کی عدالت سے غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا تھا وہ سب سے سامنے ہے۔ اور انھوں نے اسے قانونی قرار دے دیا۔
عمران خان نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی شکایت ہے کہ وہ میرے اس مقدمے کو لٹکا رہی ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ٹیئرین وائٹ کیس کو بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں اب تک لٹکایا ہوا ہے۔
اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے حال ہی میں جو دو بل پیش کیے ہیں سیکریسی ایکٹ اور ایکٹسریم وائلنٹ ایکٹ۔۔۔اس دونوں کے پیچھے حکومت کی بدنیتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کسی آزاد معاشرے میں نہیں ہو سکتی۔ کیا اب انٹیلیجنس ایجنسیاں کسی بھی گھر میں گھس کر وہاں صحیح اور غلط کا فیصلہ کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ جنرل مشرف کے مارشل لا سے بھی برا ہے۔ حکومت الیکشن نہیں کروانا چاہتی۔ اس لیے لوگوں کو قابو کرنے کے لیے یہ بل لائے گئے ہیں۔
انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں خیبرپختونخوا کی فکر کرنی چاہیے۔ وہاں دہشت گردی بڑھتی جا رہی ہے۔ فیصلہ سازوں کو اندازہ ہے کہ نچلی سطح پر عوام میں کیا غصہ ہے۔ یہ حالات کس طرف جا رہے ہیں۔
19 کروڑ پاؤنڈ کا سکینڈل، نیب نے عمران خان کو طلب کرلیا
نیب نے 19 کروڑ پاونڈ کے سکینڈل میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو کل طلب کرلیا ہےگ
چئیرمین پی ٹی آئی کو بطور ملزم کل نیب دفتر پیشی کی ہدایت کی گئی ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی کو القادر ٹرسٹ سے متعلق دستاویزات ہمراہ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نیب راولپنڈی نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی طلبی کا سمن جاری کردیا ہے۔
آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل انصاف کی اقدار کے خلاف ہے، حکومت اسے فوری طور پر واپس لے: پاکستان بار کونسل
پاکستان بار کونسل نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں ترمیم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے خلاف کسی بھی اقدام کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔
بار کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وکلا برادری نے ہمیشہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے جدوجہد کی۔
پاکستان بار کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ ’وفاقی حکومت فوری طور پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل واپس لے۔‘
بار کا کہنا ہے کہ ’آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل سے خفیہ اداروں کو کسی بھی شہری کی حراست میں لینے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ ‘
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے خفیہ اداروں کو کسی عدالت کے سرچ وارنٹ کے بغیر کسی بھی شہری یا کسی بھی جگہ تلاشی لینے کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔
بار کا موقف ہے کہ ’آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں ترمیم نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ انصاف کی اقدار کے بھی خلاف ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں ترمیم آئین پاکستان سے بھی متصادم ہے۔‘
اعلامیے میں توقع ظاہر کی گئی سینٹ کی قائمہ کمیٹی مجوزہ ترمیم کو مسترد کر دے گی۔
بریکنگ, توشہ خانہ ریفرنس: اسلام آباد ہائی کورٹ میں فیصلہ محفوظ، ٹرائل کورٹ میں سماعت کل تک ملتوی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس میں درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
جمعرات کو حق دفاع ختم کرنے کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر چیف جسٹس عامر فاروق نے وفقے کے بعد دوبارہ سماعت کا آغاز کیا تو عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ گواہوں کو غیر متعلقہ قرار دے کر فہرست کو مسترد کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پہلے تین گواہ ٹیکس کنسلٹنٹ تھے جبکہ چوتھا گواہ ٹیکس کنسلٹنٹ نہیں تھا۔
وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ چوتھا گواہ پی ٹی آئی کا سینٹرل انفارمیشن سیکرٹری تھا۔ خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت میں ملزم گواہوں کا کیس سے تعلق ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ’وہ کہتے ہیں کیس اثاثوں اور ڈیکلریشن کا ہے، ہمارے گواہ کیس سے متعلقہ ہیں۔‘
انھوں نے دلائل دیے کہ ٹیکس کنسلٹنٹ کا اس کیس سے تعلق بنتا ہے، ٹیکس کنسلٹنٹ ہی بتا سکتا ہے کیونکہ ٹیکس فارم وہی بھرتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ٹیکس فارم چیئرمین پی ٹی آئی خود نہیں بھرتے بلکہ اپنے ٹیکس کنسلٹنٹ کو دستاویزات فراہم کرتے ہیں۔
سماعت کے دوران خواجہ حارث نے ٹرائل کورٹ میں بھی توشہ خانہ کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے جج نے کہا کہ آج حتمی دلائل سن کر فیصلہ کریں گے۔ اور وہ ابھی بھی اس کورٹ کے آرڈر کا انتظار کر رہے ہیں۔
جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
جبکہ دوسری طرف اسلام آباد کی مقامی عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس وقفہ کے بعد دوبارہ شروع ہوئی توایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے پی ٹی آئی کی وکیل آمنہ علی کو روسٹرم پر بلا لیا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہمایوں دلاور نے پی ٹی آئی وکیل آمنہ علی سے استفسار کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے کیا اپڈیٹ ہے۔ جس پر آمنہ علی نے عدالت کو بتایا کہ دلائل مکمل ہو چکے ہیں اور عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ فیصلہ ابھی سناتا ہوں۔
اس پر وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ ہائیکورٹ میں فیصلہ سننے کے لیے انتظار کیا جا رہا ہے یہ ایک منٹ اوپر ہونے پر اعتراض اٹھایا جاتا ہے۔
جس پر مقامی عدالت کے جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیے کہ ایسا کرتے ہیں کیس کو کل صبح 8:30 بجے رکھ لیتے ہیں۔
جس کے بعد مقامی عدالت نے کیس کی سماعت کل صبح 8:30 تک ملتوی کر دی۔
بریکنگ, ’نہیں چاہتے فوج شہریوں پر بندوق اٹھائے، عدالت فوج کو غیر آئینی اقدام سے روکے گی‘: چیف جسٹس, شہزاد ملک، بی بی سی نامہ نگار

،تصویر کا ذریعہSCP
عام شہریوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ عدالت فوج کو پابند کرے گی کہ وہ غیر آئینی اقدام نہ کرے۔
جمعرات کو فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے خلاف مقدمات کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ملک نازک صورتحال سے گزر رہا ہے اور یہ عدالت بھی۔
انھوں نے کہا کہ نو مئی کو جو کچھ ہوا وہ بہت سنجیدہ ہے اور میں کبھی نہیں چاہوں گا اس ملک کی فوج اپنے شہریوں پر بندوق اٹھائے۔ انھوں نے کہا کہ فوج سرحدوں کی محافظ ہے اور جب میانوالی ایئربیس پر حملہ کیا گیا تو وہاں معراج طیارے کھڑے تھے۔
اٹارنی جنرل منصور عثمان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عام شہریوں کا کسی جرم میں آرمڈ فورسز سے تعلق ہو تو ملٹری کورٹ ٹرائل کر سکتی ہے۔
جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون اور آئین فورسز میں واضح لکھا ہے یہ قانون ان افراد سے متعلق ہے جو آرمڈ فورسز کے خلاف جنگ کرتے ہیں۔
بینچ میں موجود جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ خصوصی دائرہ اختیار ملٹری کورٹس کواس لیے دیا گیا تا کہ کوئی کہہ بھی نہ سکے کی انسداد دہشتگری کے عدالت ٹرائل کیوں نہیں کر رہے؟
بینچ میں موجود جسٹس یٰحیٰ آفریدینے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں تو یہی سمجھا ہوں کہ آپ کہہ رہے ہیں ملٹری کورٹس عدالت کی کیٹیگری میں آتے ہی نہیں۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ماضی میں آئین میں ترمیم اس لیے کرنا پڑی تب ملزمان کا آرمڈ فورسز سے تعلق نہیں تھا اور اس کے ساتھ ساتھ اب اپ یہ کہہ رہے ہیں کہ آئینی ترمیم اس لیے ضروری نہیں کہ موجودہ واقعات میںملزمان اور آرمڈ فورسز کے درمیان تعلق موجود ہے
انھوں نے کہا کہ آرمڈ فورسز سے تعلق پر ٹرائل ہو تو یہ بھی دیکھنا ہو گا۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ دشمن ممالک کے جاسوس اور دہشت گردوں کے لیے ملٹری کورٹ کا ہونا ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم عدالت کو یقین دہانی کروا چُکے ہیں کہ کن وجوہات پر مشتمل فیصلے دیں گے۔ انھوں نے اس تاثر کو ضائل کرنے کی کوشش کی آئین وقانون کو پس پشت ڈالنے کی کوئی کوشش ہو رہی ہے۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اعتزاز احسن صاحب نے بتایا کہ پارلمینٹ بہت جلدی میں ہے جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اعتزاز احسن اور میرے والد ایم آر ڈی میں تھے، جیلوں میں بھی جاتے تھے مگر ان لوگوں نے فوجی تنصیبات پرحملے نہیں کئے۔ انھوں نے کہا کہ نو مئی کو جو کچھ ہوا آپ کے سامنے ہے۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ایک بات یاد رکھیں وہ فوجی ہیں ان پر حملہ ہو تو ان کے پاس ہتھیار ہیں اور وہ ہتھیاروں سے گولی چلانا ہی جانتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا فوجی اہلکاروں پر کہیں حملہ ہو رہا ہو تو وہ پہلے ایس ایچ او کے پاس شکایت جمع کرائیں۔
بینچ میں موجود جسٹس مظاہر علی نقوی نے استفسار کیا کہ فوج نے گولی چلائی کیوں نہیں یہ بتائیں جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ہم نہیں چاہتے وہی صورتحال پیدا ہو کہ اگلی مرتبہ گولی بھی چلائیں اس لیے ٹرائل کر رہے ہیں، یقین دہانی بھی کروا رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میں نہیں چاہتا کہ افواج پاکستان شہریوں پر بندوقیں تان لیں کیونکہ فوج کا کام شہریوں کی حفاظت کرنا ہے۔
بینچ کے کچھ ارکان کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان درخواستوں کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی گئی۔
بلوچستان ہاکی ایسوسی ایشن کے صدر ہارون رئیسانی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

بلوچستان ہاکی ایسوسی ایشن کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی کے بھتیجے نوابزادہ ہارون رئیسانی کو ضلع مستونگ میں ان کے آبائی علاقے کانک میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ وہ گذشتہ شب کوئٹہ میں ایک دکاندار کو مبینہ طور پر جرمانہ کرنے کے تنازع پر ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہوئے تھے۔
فائرنگ سے نوابزادہ ہارون رئیسانی کے گن مین کے علاوہ بلوچستان کے معروف ٹرانسپورٹر میر فیروز لہڑی کے پوتے براہمداد لہڑی بھی مارے گئے تھے۔ نوابزادہ ہارون رئیسانی بلوچستان فوڈ اتھارٹی میں ڈپٹی ڈائریکٹر تھے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ نوابزادہ ہارون رئیسانی کے قتل کا واقعہ بظاہر کارسرکار میں مداخلت کے باعث پیش آیا۔ سریاب پولیس سرکل کے ڈی ایس پی سلیم شاہوانی نے بتایا کہ یہ واقعہ سریاب روڈ پر واقع سب سے بڑے نجی بس ٹرمینل کے باہر پیش آیا اور اس حوالے سے مختلف پہلوئوں سے تحقیقات ہو رہی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ بتایا جا سکے گا کہ اس واقعے کا محرک کیا بنا۔ تاہم ایک اور پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ واقعہ بظاہر کار سرکار میں مداخلت کے باعث پیش آیا کیونکہ ہارون رئیسانی نے ٹرمینل سے متصل ایک دکاندار کو مبینہ طور پرممنوعہ پان مسالہ فروخت کرنے پر جرمانہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس دوران ہارون رئیسانی اوربراہمداد لہڑی کے درمیان تلخ کلامی کے بعد فائرنگ ہوئی جس میں ہارون رئیسانی اور براہمداد لہڑی کے علاوہ نوابزدہ ہارون رئیسانی کا سرکاری گن مین مارا گیا۔ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹرجنرل نعیم بازئی نے الزام عائد کیا کہ اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر نوابزادہ ہارون رئیسانی کو دوران ڈیوٹی قتل کیا گیا۔
بی بی سی سے بات کرتے ڈی جی بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے کہا کہ نوابزادہ ہارون رئیسانی کی نگرانی میں دوٹیمیں کام کر رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہارون رئیسانی نے ایک دکاندارکو ممنوعہ اشیا فروخت کرنے پر 1500روپے کا جرمانہ کیا گیا مگر کار سرکار میں مداخلت کرتے ہوئے دکان کے مالکان کی طرف سے ہارون رئیسانی اور ان کے سرکاری گن پر حملہ کیا گیا جس میں وہ دونوں مارے گئے۔
اس واقعے کے حوالے سے ہلاک ہونے والے افراد کے خاندانوں کا موقف تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے سریاب روڈ پرپیش آنے والے فائرنگ کے واقعے میں نوابزادہ ہارون رئیسانی،براہمدغ لہڑی اور لیویز فورس کے اہلکارکے مارے جانے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
انھوں نے اس واقعے کے بارے میں انسپیکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کی ہے۔ نوابزادہ ہارون رئیسانی نوابزادہ اسداللہ رئِیسانی کے بیٹے اورس ابق وزیراعلیٰ اور چیف آف ساراوان نواب اسلم رئِیسانی کے بھتیجے تھے۔ وہ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔
نوابزادہ ہارون رئیسانی نے یونیورسٹی آف بلوچستان سے ماس کمونیکیشن میں ایم اے کیا تھا۔ وہ سرکاری ملازم تھے اور بلوچستان فوڈ اتھارٹی میں ڈپٹی ڈائریکٹر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ وہ چند ہفتے قبل بلوچستان ہاکی ایسوسی ایشن کے صدرمنتخب ہوئے تھے۔
جبکہ براہمداد لہڑی بلوچستان کے معروف ٹرانسپورٹر میر فیروز لہڑی کے پوتے اور میر دولت خان لہڑی کے بیٹے تھے۔ وہ اپنے خاندان کے دیگرافراد کے ساتھ کاروبارکرتےتھے۔
’سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل متوازی عدالتی نظام کے مترادف‘ جسٹس منیب اختر
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا لارجر بینچ شہریوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کے خلاف درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ’سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل متوازی عدالتی نظام کے مترادف ہے۔‘
جسٹس یحیی آفریدی نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ’آرٹیکل 175 اور آرٹیکل 175/3 کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟‘
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ’کورٹ مارشل آرٹیکل 175 کے زمرے میں نہیں آتا۔‘
جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ ’کیا آئین میں ایسی اور کوئی شق ہے جس کی بنیاد پر آپ بات کر رہے ہیں۔ کیا آپ پھر میرے سوال سے ہٹ رہے ہیں؟‘
جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ’بنیادی انسانی حقوق مقننہ کی صوابدید پر نہیں چھوڑے جا سکتے۔ بنیادی انسانی حقوق کا تصور یہ ہے کہ ریاست چاہے بھی تو واپس نہیں لے سکتی۔‘
جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ ’انصاف تک رسائی بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے۔‘
اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’فوجی عدالتیں ٹریبیونل کی طرح ہیں جو آرمڈ فورسز سے وابستہ افراد اور دفاع کے متعلق ہے۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ہم اب آئینی طریقہ کار کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ کیسے ملٹری کورٹس میں کیس جاتا ہے۔‘
جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ’یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک پارلیمنٹ کچھ جرائم کو آرمی ایکٹ میں شامل کرے اور دوسری پارلیمنٹ کچھ جرائم کو نکال دے یا مزید شامل کرے۔‘
’بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت تو آئین پاکستان نے دے رکھی ہے۔‘
جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ ’آرٹیکل 175 کے تحت ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کا ذکر ہے۔‘
اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں کہا کہ ’فوجی عدالتوں کا قیام ممبرز آف آرمڈ فورسز اور دفاعی معاملات کے لیے مخصوص ہیں۔‘
’آپ چڑیا کا نشان لے لیں، یہ بھی شاہین کی طرح پرندہ ہی ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
الیکشن کمیشن نے آئندہ انتخابات کے لیے 23 سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشانات الاٹ کر دیے ہیں۔
ممبر نثار درانی کی زیر صدارت چار رکنی کمیشن کی سماعت کے دوران کمیشن نے استحکام پاکستان پارٹی اور آل پاکستان مسلم لیگ کی انتخابی نشان کی درخواست پر فیصلہ روک دیا۔
الیکشن کمیشن نے استحکام پاکستان پارٹی کو چڑیا کا انتخابی نشان تجویز کیا۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ’استحکام پاکستان پارٹی نے شاہین کا نشان مانگا جو پہلے سے آل پاکستان مسلم لیگ کے پاس ہے۔ استحکام پاکستان پارٹی نے ترجیحی لسٹ میں چڑیا کا نشان تیسرے نمبر پر رکھا۔‘
ممبر الیکشن کمیشن نے استحکام پاکستان پارٹی کے نمائندے سے کہا کہ ’آپ چڑیا کا نشان لے لیں، یہ بھی شاہین کی طرح پرندہ ہی ہے۔‘
الیکشن کمیشن نے استحکام پاکستان پارٹی کو شاہین کا انتخابی نشان الاٹ کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
استحکام پاکستان پارٹی کی تاحال رجسٹریشن زیر التوا ہے جبکہ الیکشن کمیشن نے استحکام پاکستان پارٹی کو متعلقہ دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
الیکشن کمیشن نے پیپلز پارٹی کو تلوار، جے یو ائی ایف کو کتاب، رابطہ جمیعت اسلام کو انگوٹھی، کسان اتحاد کو بالٹی، ہزاری ڈیموکریٹک پارٹی کو چاند، پاکستان عوامی لیگ کو ہاکی، پاکستان تحریک انسانیت کو چاقو، پاکستان امن تحریک کو میزائل، تحریک تحفظ پاکستان کو پستول، پاکستان پیپلز پارٹی بھٹو شہید کو وکٹری، پاکستان فلاحی تحریک کو واسکٹ، جے یو آئی نظریاتی کو تختی، جدید عوامی پارٹی کو ہیلمٹ، تحریک عوام پاکستان کو ٹیلیفون، پاکستان فلاحی تحریک کو تھرموس اور اللہ اکبر تحریک کو جگ کے انتخابی نشانات الاٹ کیے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے آل پاکستان مسلم لیگ کے شاہین کے نشان کو انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد سے مشروط کر دیا ہے۔
توشہ خانہ کیس میں آج عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے توشہ خانہ کیس میں آج عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی ہے۔
عدالت نے کیس کی سماعت میں 1:30 بجے تک وقفہ کر دیا ہے۔
عمران خان کے وکیل سعد حسن نے کہا کہ ’اسلام آباد ہائیکورٹ نے آج کے لیے آرڈر کرنے سے 3:30 تک روکا ہے۔
توشہ خانہ کیس: ’یہ اب آئین کا کیس بن چکا ہے، سب سے بڑا بوجھ اس عدالت پر ہے‘, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو، اسلام آباد

اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ کیس کو قابل سماعت قرار دینے کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل مکمل ہوگئے ہیں۔
ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر سماعت کر رہے ہیں۔ توشہ خانہ کیس بیک وقت تین فورمز یعنی سیشن عدالت، ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔
خواجہ حارث نے دلائل میں کہا کہ ’ہم نے گواہوں کو پیش کرنے کے لیے ایک دن کا وقت مانگا۔ ہمارا حقِ دفاع ہی ختم کر دیا گیا اور حتمی دلائل کا کہا گیا۔ سمجھ نہیں آ رہی کہ روزانہ کی بنیاد پر کیس چلانے کی جلدی کیا ہے۔ جج صاحب نے کہا کہ اگر آج حتمی دلائل نہ دیے تو فیصلہ محفوظ کر لوں گا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ جج صاحب کرنا کیا چاہ رہے ہیں۔ جج کو معلوم ہے کہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں بھی یہ معاملہ زیر سماعت ہے۔‘
چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’میڈیا پر ایف آئی اے کی ایک رپورٹ آئی ہے۔ آپ کی کیس منتقلی کی درخواست جج کی مبینہ پوسٹوں کی وجہ سے تھی۔ میں نے ابھی ایف آئی اے رپورٹ دیکھی ہے، وہ بھی پریشان کن سی ہی ہے، یہ اچھی بات نہیں کہ غلط طور پر جج سے متعلق سب کچھ کہا گیا۔‘
وکیل خواجہ حارث نے دلائل میں کہا کہ ایف آئی اے نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہی کچھ نہیں ہے۔ ’وہ پوسٹ اب ڈیلیٹ ہو گئی ہو گی، ایف آئی اے نے کہا کہ اب موجود نہیں ہے۔‘
چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ’اگر پوسٹ ڈیلیٹ ہو بھی گئی ہو تو وہ ٹریش میں مل جانی چاہیے، یہ بات کوئی اچھی نہیں لگی، آپ لوگ سینئر وکیل ہیں۔‘
وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایف آئی اے نے فیس بُک پوسٹوں کا فرانزک کیا ہے مگر خواجہ حارث نے کہا کہ ’اب دیکھنا یہی ہے کہ ایف آئی اے نے پوسٹوں کی موجودگی کو کس حد تک دیکھا۔‘
عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ’ہماری کیس منتقلی کی درخواست صرف تعصب کی بنیاد پر نہیں تھی۔ متعلقہ جج صاحب نے وکلا اور میرے متعلق بھی عجیب ریمارکس دیے۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’اب اگر یہ سب ججز سے متعلق کہا جائے گا تو وہ جواب میں کچھ تو کہے گا نا۔‘ انھوں نے کہا کہ بار عدلیہ کی نرسری ہے، میں بھی وہیں سے یہاں آیا ہوں۔
چیف جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ ’ہمارا سسٹم پرفیکٹ نہیں ہے، اس میں خامیاں موجود ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میری خواہش ہے کہ کیسز کے ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر چلائے جائیں مگر ملزم کو فیئر ٹرائل ضرور ملنا چاہیے۔‘
عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’ہم عدالتوں میں انصاف کے حصول کے لیے آتے ہیں۔ آج ہم یہاں ہیں اور جج صاحب ہمارا قانونی حق ختم کر کے فیصلہ محفوظ کر لیں گے؟‘
چیف جسٹس نے خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’خواجہ صاحب فکر نہ کریں، میں اس بات کا خیال رکھوں گا۔‘ سابق وزیر اعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ استدعا ہے کہ حق دفاع ختم کرنے کے خلاف ہماری درخواست آج ہی سماعت کے لیے مقرر کر لیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم عدالتوں میں انصاف کے لیے آتے ہیں، ہمارا مقصد کسی کو برا بھلا کہنا نہیں۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ کیس اب سی آر پی سی، الیکشن وغیرہ کا نہیں بلکہ آئین کا کیس بن چکا ہے۔ سب سے بڑا بوجھ اب اس عدالت پر ہے۔‘
خواجہ حارث نے کہا کہ ’اس ہائیکورٹ نے ہماری درخواستوں پر فیصلہ کرنا ہے اور پہلی درخواست توشہ خانہ کیس کو قابل سماعت قرار دینے کے فیصلے کے خلاف ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہماری دوسری درخواست دائرہ اختیار سے متعلق ہے۔‘
خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ’ہم نے بتایا ہے کہ یہ معاملہ قانون کے مطابق مجسٹریٹ کی عدالت میں جانا تھا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہائیکورٹ نے ہماری کیس قابلِ سماعت قرار دینے کے خلاف اپیل منظور کی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہائیکورٹ نے اگر کیس ریمانڈ بیک کیا تھا تو کسی اور جج کو بھیجا جانا چاہیے تھا۔‘
چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کہہ رہے ہیں کہ کسی دوسرے جج کو آپ کی درخواست دوبارہ سن کر فیصلہ کرنا چاہیے تھا؟‘
عمران خان کے وکیل نے جواب دیا کہ ’مجھے کیس کو ایک دن وقفے کے بعد لگانے پر اتنا زیادہ زور لگانا پڑتا ہے۔‘ اس پر الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ وکلا جا کر پریس کانفرنسز کریں تو اس سے کیا اثر پڑے گا۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی کیسز سے متعلق ایک بحث صبح یہاں ہوتی ہے اور ایک شام کو ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ شام میں جو بحث ہوتی ہے اس کا یہاں ہونے والی بحث سے زیادہ اثر ہوتا ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ شام کو ہونے والی بحث سے عوامی رائے بنتی ہے، ان کے دیکھنے سننے والے زیادہ ہوتے ہیں جبکہ اس عدالت کی سماعت میں تو زیادہ سے زیادہ پچاس سے ستر لوگ موجود ہوں گے۔
عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پارلیمان کو سوچنا اور قوانین بنانے چاہییں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکٹرانک میڈیا سے متعلق پیمرا کا کوڈ اینڈ کنڈکٹ موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ زیرسماعت مقدمات پر تبصرہ نہیں ہو گا۔
’کیا جج کو انصاف نہیں ملنا چاہیے؟‘
سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی شکایت قانون کے مطابق درست طور پر دائر نہیں کی گئی۔
انھوں نے کہا کہ یہ شکایت براہ راست سیشن عدالت میں دائر نہیں ہو سکتی تھی۔ خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ اس نجی شکایت کو مجسٹریٹ کی عدالت میں دائر کیا جا سکتا تھا۔
چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ ’مجسٹریٹ نے ابتدائی طور پر کرنا کیا ہوتا ہے؟ اس میں منطق کیا ہے؟‘ خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ مجسٹریٹ نے دستاویزات کی سکروٹنی کرنی ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’میں بھی یہ سوچتا ہوں کہ منطق کیا ہے لیکن قانون کے مطابق یہی طریقہ کار ہے۔‘ چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے دلائل کا آغاز کر دیا۔
انھوں نے کہا کہ جج پر فیس بُک پوسٹوں کے الزام سے متعلق ایف آئی اے کی رپورٹ آ گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’کیا رپورٹ کی بنیاد پر توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہونی چاہیے تھی؟‘
انھوں نے کہا کہ ’کیا عمران خان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج نہیں کیا جانا چاہیے تھا؟‘ انھوں نے کہا ’کیا جج کو انصاف نہیں ملنا چاہیے؟‘
امجد پرویز کا کہنا تھا کہ انھوں نے جج پر الزام لگانے سے پہلے فیس بُک پوسٹوں کا فرانزک کیوں نہیں کرایا۔ انھوں نے کہا کہ قانون کے مطابق جج پر ایسے الزامات کے ساتھ بیان حلفی لگایا جاتا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان درخواستوں کی سماعت میں تین بجے تک کا وقفہ کر دیا ہے۔
سٹاک ایکسچینج میں تیزی: 100 انڈیکس چھ سال کی بلند ترین سطح پر
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعرات کی صبح تیزی کا رجحان جاری ہے اور 100 انڈیکس میں اب تک 500 پوائنٹس سے زائد اضافے کے بعد 49000 کی حد عبور کر چکا ہے۔ 100 انڈیکس گذشتہ چھ سال کی بلند ترین سطح پر موجود ہے اور اس وقت مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص خریداری میں دلچسپی کا رجحان جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق سٹاک مارکیٹ نے 49000 کی حد آخری مرتبہ جون 2017 میں عبور کی تھی۔
جمعرات کے روز کاروبار کا آغاز 48764 پوائنٹس پر ہوا، جو دن 12 بجے تک 578 پوائمٹس کے اضافے کے بعد اب 49342 کی سطح پر موجود ہے۔
ذاتی مفاد کے لیے سپہ سالاروں سے ملاقاتیں نہیں کیں: شہباز شریف

،تصویر کا ذریعہPMO
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ماضی اور موجودہ دور میں ان کی فوجی سربراہان سے ملاقاتوں کا مقصد ذاتی مفادات نہیں بلکہ ہمیشہ ملک کی ترقی رہا ہے۔
بارہ کہو بائی پاس کی افتتاح کے موقع پر شہباز شریف نے کہا کہ ’اس منصوبے کی کامیابی میں جنرل عاصم منیر کا بڑا کردار ہے۔ میں ان کا بے حد شکر گزار ہوں۔۔۔ کل بھی میری ملاقات ہوئی تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’38 سال میں حکومت اور اپوزیشن میں ہوتے ہوئے میری بہت سے سپہ سالاروں سے ملاقاتیں رہیں۔ ایک ہی مقصد ہوتا تھا کہ ملک ترقی کرے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کی اسٹیبلشمنٹ مل کر فیصلہ کریں اور پاکستان کو وہاں لے کر جائیں جس کا قائد اعظم نے جواب دیکھا تھا۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ ’پاکستان کے بہترین مفاد میں بڑے بڑے سپہ سالاروں سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔۔۔ ایک ہی مقصد تھا سیاستدان اور ادارے مل کر ملک کو عظیم بنائیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’لوگ مجھے اسٹیبلشمنٹ کا آدمی کہتے تھے مگر ان چیزوں سے میری صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اگر مقصد ذاتی مفادات ہوتے تب بات تھی۔
’جنرل مشرف کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ شہباز شریف اس کے بہت قریب تھا۔ اس سے مجھے کیا ملا؟ نواز شریف جیل گئے، میں بھی جیل گیا۔‘
سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران آفیشل سیکرٹس ایکٹ کا ذکر

،تصویر کا ذریعہEPA
سپریم کورٹ میں شہریوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران آفیشل سیکرٹس ایکٹ ترمیمی بل پر بھی بات کی گئی ہے۔
سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے درخواست گزار اعتزاز احسن نے کہا ’میں چار لائنیں پڑھنا چاہتا ہوں۔ پارلیمنٹ میں ایک نیا قانون منظور ہوا ہے، خفیہ ادارے کسی بھی وقت کسی کی بھی تلاشی لے سکتے ہیں۔ انٹیلیجنس ایجنسیوں کو بغیر وارنٹ تلاشی کا حق قانون سازی کے ذریعے دے دیا گیا۔‘
انھوں نے لارجر بینچ کے چھ ججز سے استدعا کی کہ ’سپریم کورٹ آفیشل سیکریٹس ایکٹ کے خلاف از خود نوٹس لے۔‘
اعتزاز احسن نے کہا کہ ’اس قانون سے تو لا محدود اختیارات (انٹیلیجنس اداروں کو) سونپ دیے گئے ہیں۔ اس وقت سپریم کورٹ کے چھ ججز کی حیثیت فل کورٹ جیسی ہے۔‘
چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ یہ ایکٹ بل ہے یا قانون۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’بل پارلیمنٹ کے دوسرے ایوان میں زیر بحث ہے۔ ہمیں اس بارے میں زیادہ علم نہیں، صرف اخبار میں پڑھا ہے۔
’لارجر بینچ کا فیصلہ ہے کہ اکیلا چیف جسٹس از خود نوٹس نہیں لے سکتا۔ خوش قسمتی سے بل ابھی بھی ایک ایوان میں زیر بحث ہے۔‘
دلائل ہوں یا نہیں عدالت آج توشہ خانہ کیس کا فیصلہ محفوظ کر لے گی: جج ہمایوں دلاور

،تصویر کا ذریعہPTI
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج ہمایوں دلاور نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کا فیصلہ آج محفوظ کر لیا جائے گا۔
ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے آج کیس کی ابتدائی سماعت کے بعد 12:30 بجے تک کا وقفہ دیا مگر اس دوران ریمارکس دیے کہ ’عدالت آج فیصلہ نہیں سنا رہی لیکن دلائل دیتے ہیں یا نہیں فیصلہ محفوظ کر لے گی۔‘
سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن نے کہا کہ ’ہائیکورٹ میں کیس زیر سماعت ہے۔‘
عدالت نے وکیل الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ ’آپ کونسل نہیں ہیں۔‘
سعد حسن نے کہا کہ ’میرے موکل کا مؤقف ہے کہ امجد پرویز صاحب دلائل دیں۔‘
جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کا کام صرف لقمہ دینے کا ہے۔‘
جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ اگر وکلا ’12:30 تک نہیں آتے تو میں بغیر سنے فیصلہ محفوظ کر لوں گا۔‘
عمران خان کے وکلا نے استدعا کی کہ خواجہ حارث ہائیکورٹ میں ہیں لہذا وقفہ کیا جائے۔ اس پر جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ ’کورٹ آج فیصلہ نہیں سنا رہی لیکن دلائل دیتے ہیں یا نہیں فیصلہ محفوظ کر لے گی۔‘
عدالت نے کیس کی سماعت میں 12:30 بجے تک وقفہ کیا ہے۔
جولائی میں مبینہ جبری گمشدگیوں کے مزید 157 کیسز درج ہوئے: کمیشن
پاکستان میں جبری گمشدگیوں کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن کا کہنا ہے کہ رواں سال جولائی میں مبینہ جبری گمشدگیوں کے 157 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
اس کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لاپتہ افراد کی تعداد 9736 سے بڑھ کر 9893 ہوگئی ہے۔ جبکہ 7616 کیس ڈسپوز آف کر دیے گئے ہیں۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ 2277 جبری گمشدگیوں کے کیسز حل ہونا باقی ہے۔
’افتخار درانی کو رات گئے بغیر وارنٹ گرفتار کیا گیا‘ عمران خان کا دعویٰ
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
سابق وزیر اعظم عمران خان کا دعویٰ ہے کہ ان کی جماعت کے رہنما افتخار درانی کو رات گئے بغیر وارنٹ کے گرفتار کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ افتخار درانی کا نو مئی کے واقعات سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ ’پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے ہر شخص کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ یہ واضح ہونا چاہیے کہ پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاون کا نو مئی کے واقعات سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ پی ٹی آئی کو ختم کرنے کے لندن پلان سے جڑا ہے۔‘
توشہ خانہ کیس کی کارروائی روکنے کی درخواست پر سماعت ابھی مکمل نہیں ہوئی: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے عمران خان کی جانب سے توشہ خانہ کیس کی کارروائی روکنے کی درخواست مسترد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں لکھا ہے کہ کیس کے میرٹس پر دلائل ابھی نہیں دیے گئے اور بدھ کی سماعت کو مکمل سماعت نہ سمجھایا جائے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ ’موسم گرما کی تعطیلات کی وجہ سے ممکن ہے یہ بینچ دستیاب نہ ہو۔ آئندہ سماعت پر کسی اور بینچ کے سامنے کیس مقرر ہوسکتا ہے۔‘
کیس کی آئندہ سماعت سپریم کورٹ میں 4 اگست کو ہوگی۔
