سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبر پختونخوا الیکشن از خود نوٹس کیس کی سماعت جاری ہے۔
کامران مرتضی، وکیل جے یو آئی ف کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اب صدر پاکستان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل کا آغاز کیا ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے کہ الیکشن ایکٹ کے تحت صدر کو اختیار آئین کے مطابق دیا گیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کی تاریخ دینے کے لیے صدر اور گورنر کو ایڈوائس کی ضرورت نہیں۔
سلمان اکرم راجہ دلائل دیے کہ صدر کو صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن کی تاریخ دینے کا بھی اختیار ہے۔ جس پر جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ صدر کے اختیار پر آپ کا موقف آ گیا۔
جسٹس جمال مندوخیل نے سلمان اکرم راجہ سے سوال کیا کہ کیا آپ سپیکرزکی درخواستوں کو قابل سماعت سمجھتے ہیں؟ سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ درخواستیں 90 روز میں انتخابات کے لیے ہیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نےسوال کیا کہ صدر نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف کیسے تاریخ دے دی۔ جس پر سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے کہ صدر ہائی کورٹ میں فریق نہیں تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں سیکشن 57 کا حوالہ نہیں تھا اور صدر کو قانونی مشورہ دیا گیا اپنا آئینی اختیار استعمال کریں۔
سلمان اکرم راجہ نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ گورنر کے پی کے تاریخ دینے کا اختیار استعمال نہیں کر رہے تھے۔
صدر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ صدر تسلیم کرتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں الیکشن کے لیے انھیں تاریخ نہیں دینی چاہیے تھی۔ صدر کو کے پی الیکشن کے لیے تاریخ دینے کا اختیار نہیں تھا اور صدر مملکت اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں گے۔
سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ گورنر کے پی کا موقف معاملے کو پیچیدہ بناتا ہے، پنجاب میں صدر کو اختیار تھا کے پی میں نہیں۔
جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ان سے سوال کیا کہ صدر کو رائے آپ نے کس بنیاد پر دی یہ بتاٸیں؟
سلامن اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ صدر کا حکم کوٸی نہیں مان رہا اس لیے عدالتی کاررواٸی کی حمایت کر رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 2013 اور 2018 میں انتخابات کا اعلان صدر نے وزیراعظم کی ایڈواٸس پر کیا۔
الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا ہے کہ صدر مملکت لاہور ہاٸی کورٹ کے حکم سے باخبر تھے۔ جس پر صدر کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے کہ صدر نے الیکشن کمیشن کو مشاورت کے بلوایا تھا مگر الیکشن کمیشن نے مشاورت سے انکار کر دیا۔
سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے کہ صدر مملکت نے آئین و قانون کے مطابق تاریح دی۔ ان کا کہنا ہے کہ نوے روز میں ہر صورت انتحاب ہونے چاہیں۔
صدر کے وکیل کا کہنا ہے کہ عدالت ازخود نوٹس لینے اور درخواستیں سننے کے لیے بااختیار ہے۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ صدر کو آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کی دھمکیاں مل رہی ہیں، کابینہ نے صدر کو کہا ہے کہ آپ کے خلاف کاروائی ہوسکتی ہے۔
جس جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ جہاں آرٹیکل چھ لگتا ہے وہاں لگاتے نہیں۔
اس کے ساتھ ہی صدر پاکستان کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلاٸل مکمل ہو گئے ہیں۔