پاکستان میں 31 جولائی کے بعد 90 روز میں عام انتخابات ہوسکتے ہیں: رانا ثنا اللہ

وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں عام انتخابات ڈیجیٹل مردم شماری اور نئی حلقہ بندیوں کے بعد ہی ممکن ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ آئین کے تحت مردم شماری نوٹیفائی ہونے پر چار ماہ تک الیکشن نہیں ہوسکتے بلکہ نئی حلقہ بندیوں میں ’اگر کسی صوبے میں سیٹیں بڑھتی ہیں تو بڑھیں گی۔‘

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, مجھ پر پہلے بھی حملہ ہوا اور دوبارہ حملہ کروایا جائے گا: عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اپنے حامیوں سے خطاب میں کہا ہے کہ مجھے پھر سے قتل کرنے کی کوشش کی جائے گا۔

    انھوں نے کہا انھوں نے خود پر حملہ کروانے والے تین نامزد افراد کے علاوہ دو مزید افراد کے نام ریکارڈ کروا کر رکھے ہیں۔

    انھوں نے کہا پہلے بھی حملہ ہوا اور دوبارہ حملہ کروایا جائے گا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’عدالتوں کو بتایا گیا تھا کہ میری جان کو خطرہ ہے اس لیے عدالتوں میں نہ بلایا جائے یا سکیورٹی دے جائے۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں الیکشن کمیشن کے باہر تھا بھی نہیں اور مجھ پر دہشت گردی کا مقدمہ کیا گیا۔ تین مختلف پیشیوں پر مجھے کوئی سکیورٹی نہیں دی گئی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’میں چیف جسٹس کو خط لکھوں گا کہ نواز شریف کی بیماری پر ہماری حکومت میں وفاقی حکومت کو خط لکھا کہ انھیں کچھ ہوا تو آپ ذمہ دار ہوں گے۔ میں پوچھوں گا کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو کون ذمہ دار ہو گا؟‘

    ’مجھے کون تحفظ دے گا۔‘

  2. جس دن توشہ خانہ کیس عدالت میں گیا کیس ختم ہو جائے گا: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سنیچر سے الیکشن مہم شروع کرنے کا اعلان کیا۔

    اپنے خطاب میں انھوں نے بتایا کہ وہ سنیچر کو اپنا لائحہ عمل پیش کریں گے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ کو کہتا ہوں کہ قوم آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔‘

    عمران حان کا کہنا ہے کہ ’توشہ خانہ کا معاملہ جس دن عدالت میں جائے گا یہ کیس ختم ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ گاڑیاں توشہ خانہ سے نہیں لے جاسکتی، انھوں نے (نواز شریف اور آصف زرادی نے) خود گاڑیاں نکلوائیں۔ ‘

    انھوں نے کہا ’فارن فنڈنگ کیس کے الزام میں فارن فنڈنگ ثابت نہیں ہوئی۔ اس کیس میں سب کو ضمانت ملی لیکن میرے وارنٹ نکال دیے۔ یہ کیس بھی جس وقت عدالت میں جائے گا خارج ہو جائے گا۔‘

    انھوں نے کہا ’میں گھر بیٹھا تھا اور پھر بھی مجھ پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا۔ ‘

    انھوں نے حکومتی جماعتوں کے بارے میں کہا کہ ’جب سے یہ آئے ہیں دس ارب روپے کے کیسز معاف کروا لیے گئے۔‘ انھوں نے سوال کیا کہ ’ہر روز نئی ایف آئی آر درج کرنے سے کیا ہم پیچھے ہٹ جائیں گے؟ ‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’سیاسی قیدیوں سے دہشت گردوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ لوگوں نے خوف کی زنجیریں توڑ دی ہیں۔‘

  3. بریکنگ, فروری کے مہینے میں مہنگائی کی شرح نے 48 سالہ ریکارڈ توڑ دیا, تنویر ملک، صحافی

    مہنگائی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ملک میں فروری کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 31.5 فیصد پر بند ہوئی جو 1975 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

    اپریل 1975 میں مہنگائی کی شرح 29.3 فیص ریکارڈ کی گئی تھی۔

    موجودہ مالی سال میں جنوری کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 27.6 فیصد رہی جب کہ گذشتہ سال فروری کے مہینے میں اس کی شرح 12.2 فیصد تھی۔

    ملک میں موجودہ مالی سال کے پہلے آٹھ مہینوں میں مجموعی طور پر مہنگائی کی شرح 26.19 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    فروری کے مہینے میں بلند مہنگائی کی شرح میں سب سے زیادہ کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں 45 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

  4. مارکیٹ میں ڈالر آٹھ روپے ، انٹر بینک میں 4.61 روپے مہنگا, تنویر ملک ، صحافی

    پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں بدھ کے روز بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 4.61 روپے اضافے کے بعد 266.11 روپے پر بند ہوئی۔

    اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں آٹھ روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب ایک ڈالر کی قیمت 275 روپے پر بند ہوئی۔

    کرنسی ڈیلروں کے مطابق ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ پاکستان سے آئی ایم ایف کے معاہدے میں تاخیر ہے جو مارکیٹ میں منفی اثرات کو جنم دے رہا ہے۔

  5. بریکنگ, کوشش کریں گے کہ عمران خان کو گرفتار کیا جائے: رانا ثنا اللہ

    پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ کا نیوز کانفرنس میں کہنا تھا کہ توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی پیشی کو یقینی بنایا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ عدالت نے عمران خان کی وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔ اس لیے ’کوشش کریں گے کہ عمران خان کو گرفتار کیا جائے۔ ‘

    انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے مقدمات کی پیشی کے دوران عمران خان نے سوشل میڈیا پر کیمپین کر کے حامیوں کو سمجھایا۔ انھوں الزام عائد کیا کہ عدالت میں پیشی کے موقع پر منصوبے کے تحت لوگوں کو جمع کیا گیا تاکہ عدالتوں پر رعب ڈالا جا سکے۔

    انھوں نے کہا اب ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں انتخابات سے متعلق عدالتی حکم پر ان کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ کے فیصلے میں ججز کے درمیاں اختلاف سامنے آیا ہے۔ تاہم حکومت سپریم کورٹ کے فیصلہ کا احترام کرے گی۔‘

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے بدھ کی صبح پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن کے معاملے پر از خود نوٹس کا فیصلہ سناتے ہوئے دونوں صوبوں میں 90 روز کے اندر انتخابات کرانے کا حکم دیا ہے۔

  6. بریکنگ, بلوچستان ہائی کورٹ نے این اے 265 میں ضمنی انتخاب روک دیا

    بلوچستان ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو این اے 265 پر ضمنی انتخاب سے روک دیا ہے۔

    ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے فیصلہ قاسم سوری کی درخواست پر دیا۔ درخواست کی سماعت ہائی کورٹ کےچیف جسٹس نعیم اخترافغان اور جسٹس عامر رانا نے کی جبکہ قاسم سوری کی جانب سے ہائی کورٹ میں پیروی سیداقبال شاہ ایڈووکیٹ اور شمس رند نے کی۔

    قاسم سورینے این اے 265 پر ضمنیانتخاب کو چیلنج کیاتھا۔ قاسم سوری کی جانب سے ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائرکی گئی تھی۔ ہائی کورٹ میں این اے 265 پر ضمنی انتخاب کے حوالے سے درخواست کی سماعت 13 مارچ تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

  7. عمران خان کا سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم اور جیل بھرو تحریک معطل کرنے کا اعلان

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  8. وزیرقانون اور اٹارنی جنرل کو دوبارہ لا سکول میں داخلہ لینے کی ضرورت ہے: فواد چوہدری

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. اکثریتی ججز نے درخواستیں مسترد کر دیں، فیصلے پر نظرثانی کی ضرورت نہیں: وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل

    پاکستان کے اٹارنی جنرل شہزاد عطا الٰہی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے سات ججز نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ سنایا ہے، جن میں سے تین چار نے ان درخواستوں کو خارج جبکہ تین نے ان کے حق میں فیصلہ سنایا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ اب اس فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی ہے۔

    اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلے میں اپنے نوٹ میں یہ لکھا ہے کہ یہ مقدمہ ابتدائی طور پر نو رکنی بنچ نے سنا ہے، جس میں سے دو ججز نے پہلے ہی ان درخواستوں کو خارج کرنے کا فیصلہ سنایا جبکہ دو ججز نے رضاکارانہ طور پر خود کو بنچ سے علیحدہ کر دیا۔

    اٹارنی جنرل کے مطابق اس فٹ نوٹ کے مطابق اس مقدمے میں کل سات ججز نے فیصلہ سنایا ہے، جن میں سے چار نے درخواستیں خارج کرنے جبکہ تین نے ان درخواستوں کے حق میں فیصلہ سنایا ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نے سپریم کورٹ میں کوئی تاریخ نہیں مانگی، وقت نہیں مانگا۔ ہم نے بھرپور تعاون کیا ہے۔ اور اب جو تشریح کر رہے ہیں یہ بھی فیصلے میں ہی لکھا ہے۔

  10. خیبرپختونخوا میں انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ نے کیا کہا؟

    خیبرپختونخوا میں صوبائی انتخابات کے لیے سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ گورنر فوری طور پر الیکشن کمیشن سے مشاورت کے بعد تاریخ کا اعلان کریں۔

  11. پنجاب میں اگر 90 دن میں الیکشن ممکن نہیں تو نئی تاریخ ڈیڈلائن کے قریب ترین ہو: سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے اپنے اکثریتی فیصلے میں کہا ہے کہ عام حالات میں پنجاب کے صوبائی انتخابات صدر مملکت عارف علوی کی دی گئی تاریخ 4 اپریل 2023 کو ہونے تھے۔ عدالت کے مطابق ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ اب 90 روز کی آئینی مدت میں اب انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔

    عدالت کے مطابق ممکنہ طور پر قانون کے بارے میں غلط فہمی کے نتیجے میں الیکشن کمشین نے اس معاملے پر مشاورت کے لیے کوئی اقدام نہیں اٹھایا جیسا کہ اسے الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 57 (1) میں میں ایسا کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔

    اس وجہ سے اب ہم الیکشن کمیشن کو یہ ہدایت دے رہے ہیں کہ الیکشن ایکٹ کے تحت اب وہ اپنی تمام تر توانائی کو بروئے کار لا کر فوری طور پر پنجاب میں انتخابات سے متعلق صدر کو ایسی تاریخ تجویز کرے جو صدر کی طرف سے دی جانے والی تاریخ سے مطابقت رکھتی ہو۔ اگر صدر کی طرف سے دی گئی تاریخ پر انتخابات ممکن نہیں ہیں تو پھر ایسے میں الیکشن کمیشن صدر کی طرف سے دی گئی تاریخ کے قریب کوئی اور تاریخ تجویز کر دے۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ صدر مملکت الیکشن کمیشن سے مشاورت کے بعد پنجاب اسمبلی کے عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں۔

  12. تحریک انصاف آج گرفتاریاں نہیں دے گی: سینیٹر اعجاز چوہدری

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. جن جج صاحبان نے اختلاف کیا وہ بھی الیکشن 90 دن کے اندر کے اصول کو تسلیم کرتے ہیں: فواد چوہدری

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. یہ چار کے مقابلے میں تین ججز کا فیصلہ ہے، اکثریت نے درخواستیں خارج کر دی ہیں: اعظم نذیر تارڑ

    وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے اکثریتی ججز نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات سے متعلق درخواستیں مسترد کری دی ہیں۔

    وزیرقانون نے یہ بھی وضاحت دی ہے کہ وہ یہ رائے بطور وکیل دے رہے ہیں کہ انتخابات سے متعلق چار ججز نے درخواستیں مسترد کی ہیں، تین ججز نے ان درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیا ہے جبکہ دو ججز نے رضاکارانہ طور پر نو کرنی بنچ سے اپنے آپ کو علیحدہ کیا۔

    وزیرقانون کے مطابق جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس یحیٰ آفریدی نے خود نو رکنی بنچ سے اپنے آپ کو علیحدہ نہیں کیا ہے۔ ان کے مطابق وہ اختلافی نوٹ لکھنے کے بعد بھی بنچ میں آ کر بیٹھے تھے اور انھوں نے خود کو بنچ سے علیحدہ نہیں کیا تھا۔ مگر یہ کہا تھا کہ یہ ہمارا فیصلہ ہے اب چیف جسٹس کی صوابدید ہے کہ وہ مزید انھیں بنچ کا حصہ رکھتے ہیں یا نہیں۔

    اعظم نذیر تارڑ کے مطابق جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس یحیٰ آفریدی پہلے ہی اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اور انھوں نے یہ درخواستیں مسترد کی ہیں۔

    ان کے مطابق آج مزید دو ججز نے بھی یہ درخواستیں مسترد کی ہیں اور یوں اب پانامہ مقدمے کی طرح پہلے دو ججز کے اختلافی نوٹ کو بھی ان دو ججز کے اختلافی نوٹ کے ساتھ ملا دیا جائے گا جس سے یہ اکثریتی فیصلہ بن گیا ہے۔

    وزیرقانون کے مطابق پانامہ مقدمے کی سماعت پانچ رکنی بنچ نے کی تھی جس میں سے دو ججز نے اختلافی فیصلہ سنایا تھا مگر جب بعد میں مزید تین ججز نے وزیراعظم کی نااہلی کا فیصلہ سنایا تو پھر ان دو جـجز کا اختلافی نوٹ بھی ملا کر اسے پانچ رکنی بنچ کا فیصلہ کہہ دیا گیا۔

    اعظم نذیر تارڑ نے یہ بھی کہا کہ جب انھیں عدالت کا فیصلہ موصول ہو گا تو پھر وہ اسے پڑھ کر اور کابینہ کو بریفنگ دینے کے بعد ہی میڈیا کو بطور وزیرقانون اپنا مؤقف دیں گے۔

  15. از خود نوٹس جلدی میں لیا گیا ہے، سپیکرز کی درخواستیں ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں: اختلافی نوٹ, شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

    جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ اس معاملے میں از خود نوٹس نہیں بنتا کیونکہ دونوں اسمبلیوں کے سپیکرز کی جانب سے درخواستیں متعلقہ ہائی کورٹس میں زیر سماعت تھیں۔ انھوں نے کہا کہ از ازخود نوٹس جلد بازی میں لیا گیا ہے اور اس معاملے میں وہی ریلیف کے بارے میں بات کی گئی ہے جو کہ سپیکرز کی درخواستوں میں مانگا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ہائی کورٹس میں زیر التوا معاملات پر از خود نوٹس مناسب نہیں ہے۔ واضح رہے کہ اپنے اختلافی نوٹ میں ججز نے جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ کے اختلافی نوٹ سے اتفاق کیا ہے۔

  16. الیکشن 90 دن میں ہوں گے، صدر پنجاب اور گورنر خیبرپختونخوا کے انتخابات کی تاریخ دیں: سپریم کورٹ, شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

    SC

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 90 دن میں انتخابات کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس فیصلے کےمطابق الیکشن کمیشن سے مشاورت کے بعد صدر پنجاب میں اور گورنر خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ دیں گے۔

    عدالت نے انتخابات کے لیے وفاقی اور صوبائی اتھارٹیز کو الیکشن کمیشن سے مکمل تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    واضح رہے کہ یہ فیصلہ تین دو کی تناسب سے آیا ہے یعنی تین ججز نے درخواستیں قابل سماعت قرار دیں جبکہ دو ججز نے اس فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔

    اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’اگر گورنر اسمبلی تحلیل کرے تو تاریخ کا اعلان بھی خود کر سکتا ہے تاہم اگر گورنر اسمبلی تحلیل نہ کرے تو صدر مملکت تاریخ کا اعلان کر سکتے ہیں۔‘ عدالت کا کہنا ہے کہ گورنر خیبر پختونخوا نے انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کر کے آئینی ذمہ داری سے انحراف کیا ہے۔

    فیصلے میں مزید کہا گیا کہ الیکشن کمیشن صدر اور گورنر سے مشاورت کا پابند ہے اس لیے وہ فوری طور پر صدر مملکت سے مشاورت کرے۔ عدالت کا یہ بھی کہنا ہے کہ وفاقی حکومت سمیت تمام متعلقہ ادارے الیکشن کمیشن کی معاونت کریں۔

    سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا میں صدر کی دی گئی الیکشن کی تاریخ کا حکم بھی کالعدم قرار دیا اور کہا خیبر پختونخوا میں انتخابات کے اعلان کا اختیار گورنر کا ہے جبکہ صدر مملکت کی جانب سے دی گئی تاریخ پنجاب پر لاگو ہو گی۔

    عدالتِ عظمیٰ کا یہ بھی کہنا ہے کہ نو اپریل کو انتخابات ممکن نہیں تو مشاورت کے بعد پنجاب میں تاریخ بدلی جا سکتی ہے۔

  17. بریکنگ, سپریم کورٹ کا پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 90 روز میں انتخابات کرانے کا حکم

    Supreme Court

    ،تصویر کا ذریعہBBC/Nayyar Abbas

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت کو پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 90 روز میں انتخابات کرانے کا حکم دیا ہے۔

    پانچ رکنی بنچ کے دو ججز نے اس فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل نے اس فیصلے سے اختلاف کیا ہے جبکہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس منیب اختر اور جسٹس نے 90 روز میں انتخابات سے متعلق درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیا ہے۔

  18. جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس مظاہر نقوی نے وزیراعظم کو گلگت بلتستان میں ججز تعیناتی سے روک دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    سپریم کورٹ میں گلگت بلتستان میں ججز تعیناتی کیخلاف کیس کی سماعت سپریم کورٹ نے وزیراعظم کو گلگت بلتستان میں ججز تعیناتی سے روک دیا ہے۔

    عدالت نے مقدمہ کے فیصلے تک تعیناتیوں پر حکم امتناع جاری کر دیا ہے۔ ججز تعیناتی کے خلاف وزیراعلی گلگت بلتستان نے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

    وفاقی حکومت نے جواب دینے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت طلب کی ہے۔

    وزیراعلیٰ جی بی کے وکیل مخدوم علی خان کی جانب سے وقت مانگنے کی مخالفت کی گئی۔ وکیل نے کہا کہ ’ایک سال سے مقدمہ زیرالتوا ہے، کیس عدالت میں ہے پھر بھی ججز تعیناتیاں کی جا رہی ہیں۔‘

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سوال کیا کہ ’کیا وزیراعلیٰ کی ایڈوائس ججز تعیناتی میں ضروری ہے؟‘

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس نقطے پر تفصیلی دلائل دوں گا،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ’ایک دو ہفتے تعیناتیاں نہ بھی ہوں تو کچھ نہیں ہوگا۔‘

    سپریم کورٹ نے جی بی سپریم اپیلیٹ کورٹ میں تعینات ججز کو کو بذریعہ رجسٹرار نوٹس جاری کر دیا ہے۔

    جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ ججز چارج سنبھال چکے ہیں، انھیں نوٹس دینے کی قانونی حیثیت آئندہ سماعت پر طے کریں گے۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ ججز کو نوٹس کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ جی بی میں ججز تعینات کون کرتا ہے؟

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ججز تعیناتی وزیراعظم پاکستان کرتے ہیں۔ عدالت نے اس کیس کی سماعت 15 مارچ تک ملتوی کر دی ہے۔

  19. الیکشن کمیشن اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی تین نشستوں پر ضمنی انتخابات روک دے: عدالت, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کے رہنماؤں اسد عمر، علی نواز اعوان اور راجہ خرم نواز کے استعفوں کی منظوری کا نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ضمنی انتخابات سے روک دیا ہے۔

    یہ تینوں رہنما اسلام آباد سے قومی اسمبلی کے اراکین منتخب ہوئے تھے۔

    تحریک انصاف کے تین اراکین اسمبلی کا الیکشن کمیشن کے ڈی نوٹیفائی کرنے کے فیصلے کیخلاف درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی۔

    راجہ خرم شہزاد، علی نواز اعوان اور اسد عمر کی جانب سے بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر علی گوہر عدالت پیش ہوئے۔

    چیف جسٹس نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کے وکیل سے پوچھا کہ ’پہلے آپ کہہ رہے تھے استعفیٰ منظور نہیں کیا جا رہا اور اب آپ کہہ رہے کہ غلط منظور کیا۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سپیکر اور الیکشن کمیشن نے معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ’کیا آپ نے صرف ان نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا ہوا ہے؟

    علی ظفر نے کہا کہ ’ہم واپس اسمبلی جانا چاہتے۔‘ ان کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کے ممبران کے استعفے سے متعلق نوٹیفکیشن معطل کر رکھا ہے۔

    ان کے مطابق اسلام آباد کے تین ممبران کی حد تک ہم نے یہاں رجوع کیا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی کے ممبران سے متعلق لاہور ہائی کورٹ میں دو درخواستیں بھی زیر سماعت ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سپیکر قومی اسمبلی کے نوٹیفکیشن کو معطل کردیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد میں ضمنی انتخابات کا بھی نوٹیفکیشن معطل کردیا ہے۔ اس درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹسسز جاری کرکے جواب طلب کرلیا

  20. پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات: سپریم کورٹ تاریخ پر آج فیصلہ سنائے گی

    Supreme Court

    پاکستان کی سپریم کورٹ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے عام انتخابات سے متعلق محفوظ کیا جانے والا فیصلہ آج سنائے گی۔ منگل کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے یہ اعلان کیا تھا کہ دونوں صوبوں میں 90 دن میں انتخابات سے متعلق مقدمے پر سماعت مکمل ہو چکی ہے اور اب اس کیس کا فیصلہ بدھ کو دن گیارہ بجے سنایا جائے گا۔

    چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے اس مقدمے کی سماعت کی تھی۔ ابتدا میں چیف جسٹس نے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے اس معاملے پر نو رکنی بنچ تشکیل دیا تھا مگر حکمران سیاسی اتحاد میں شامل جماعتوں کی طرف سے دو ججز جسٹس اعجازالحسن اور جسٹس مظاہر نقوی کے ناموں پر اعتراض اٹھایا گیا۔ عدالت سے ان دو ججز کے بغیر فل کورٹ بنانے کی استدعا بھی کی گئی۔

    چیف جسٹس نے یہ استدعا نمٹاتے ہوئے بنچ توڑ دیا اور پھر نو رکنی بنچ سے چار جـجز کو نکال کر صرف پانچ رکنی بنچ تشکیل دیا۔ جسٹس یحیٰ آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ دیگر دو ججز تھے جنھیں چیف جسٹس نے بنچ سے نکال دیا۔ ان دونوں ججز نے ابتدائی سماعت کے بعد نوٹ بھی تحریر کیے تھے اور کچھ سوالات بھی اٹھائے تھے۔