پنجاب، کے پی الیکشن ازخود نوٹس: کیس سے الگ ہونے والے ججز نے اپنے نوٹس میں کیا کہا ہے؟

پیر کو از خود نوٹس کی سماعت تاخیر سے شروع ہوئی تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بتایا کہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظاہر علی نقوی، جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ نے بنچ سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ باقی بنچ کیس کی سماعت کرتا رہے گا۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, وزیرِ اعظم شہباز شریف کا سالانہ 200 ارب روپے کے بچت پلان کا اعلان، توشہ خانہ کا ریکارڈ پبلک کرنے کا فیصلہ

    sharif

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے سرکاری سطح پر بچت کے حوالے سے اقدامات کی تفصیل بتائی ہے۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے نتیجے میں مزید مہنگائی ہو گی اور ان سے کیے گئے معاہدے میں تمام شرائط مکمل کر دی گئی ہیں، اس حوالے سے بات چیت آخری مراحل میں ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 25 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مطابق اس حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کے تحت سالانہ 200 ارب روپے کی بچت ہو گی۔ ان اقدامات میں:

    • اس حکومت کے تمام وفاقی وزرا، مشیر اور معاونین خصوصی نے رضاکارانہ طور پر تنخواہیں اور مراعات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
    • تمام وزرا گیس، بجلی، پانی کے بل جیب سے ادا کر رہے ہیں
    • کابینہ ارکان کے زیرِ اتنظام تمام گاڑیاں واپس لی جائیں گی اور نیلام کی جائیں گی۔
    • وزرا کو سکیورٹی کی صرف ایک گاڑی دی جائے گی
    • وفاقی وزرا اندرون و بیرونِ ملک اکانومی کلاس میں سفر کریں گے، ان کے ساتھ معاون اہلکاروں کو جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔
    • بیرونِ ملک دوروں کے دوران کابینہ کے ارکان فائیو سٹار ہوٹلوں میں قیام نہیں کریں گے۔
    • تمام وزارتوں، ڈویژنز اور محکموں اور دفاتر کے اخراجات میں 15 فیصد کمی کی جائے گی۔
    • جون 2024 تک تمام پرتعیش اشیا اور نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی ہو گی۔
    • سرکاری افسران کو صرف ناگزیر نوعیت کے بیرونِ ملک دوروں کی اجازت ہو گی۔
    • کار مونیٹائزیشن کی سہولت حاصل کرنے والے اہلکاروں سے گاڑی واپس لے لی جائے گی۔
    • سرکاری اہلکاروں کے پاس موجود سکیورٹی گاڑیاں واپس لی جائیں گی اور وزیرِ داخلہ سکیورٹی تھریٹ کے حساب سے فیصلہ کرے گی۔
    • ٹیلی کانفرنسنگ کو ترجیح دی جائے گی تاکہ سفری اور قیام کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔
    • وفاقی حکومت میں کوئی نیا ذیلی محمکہ نہیں بنایا جائے گا، کوئی نیا ڈویژن، تحصیل وغیرہ نہیں بنایا جائے گا۔
    • بجلی اور گیس کی بجت کے لیے گرمیوں میں صبح سرکاری دفاتر ساڑھے سات بجے کھلیں گے۔
    • سرکاری ملازمین کو ایک سے زیادہ پلاٹ الاٹ نہیں کیے جائیں گے۔
    • انگریز دور کے سرکاری گھروں کے حوالے سے تجویز یہ ہے کہ ان کے لیے ٹاؤن ہاؤسز بنائیں اور ان گھروں کی فروخت کی جائے۔
    • کھانے کے موقع پر تمام حکومتی تقاریب میں ون ڈش کی پابندی اختیار کی جا رہی ہے، چائے کے ساتھ صرف بسکٹ دیے جائیں گے۔ غیر ملکی مہمانوں کے لیے یہ پابندی نہیں ہو گی۔
    • کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ آج کے بعد صرف تین سو ڈالر کا تحفہ رکھ سکتے ہیں یعنی 80 ہزار کا تحفہ رکھ سکتے ہیں۔ اس سے اوپر کا تحفہ جمع ہو جائے گا۔ توشہ خانہ کا ریکارڈ پبلک کر رہے ہیں۔
  2. بریکنگ, جو کارکنان گرفتاریاں دینا چاہتے ہیں وہ قیدیوں کی گاڑیوں میں بیٹھ سکتے ہیں: پولیس کا اعلان

    پنجاب پولیس کی جانب سے مال روڈ پر پی ٹی آئی کارکنوں کو قیدیوں کی گاڑی میں بیٹھنے کی آفر کر دی گئی ہے۔

    ایک ویڈیو میں پولیس کے ایک اہلکار کو لاؤڈ سپیکر کے ذریعے اعلان کرتے دیکھا جا سکتا ہے وہ کہہ رہے ہیں ’جو کارکنان گرفتاریاں دینا چاہتے ہیں وہ قیدیوں کی گاڑیوں میں بیٹھ سکتے ہیں۔

    ’قیدیوں کی گاڑیوں موجود ہیں جس نے گرفتاری دینی ہے دے دے۔‘

  3. بریکنگ, جیل بھرو تحریک: شاہ محمود قریشی، اسد عمر نے گرفتاری دے دی، ’تاحال گرفتاری کا حکم نہیں آیا‘، پولیس

    shah

    لاہور میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی اور اسد عمر جیل وین میں جا کر بیٹھ گئے ہیں اور گرفتاری دے دی ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں تاحال اس حوالے سے اعلیٰ افسران نے گرفتاری کا حکم نہیں دیا ہے۔

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی نے جیل بھرو تحریک کا آغاز آج لاہور سے کیا ہے جس کے تحت مال روڈ پر چیئرنگ کراس کے مقام پر ایک ریلی نکالی گئی ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ’پولیس کو سمجھ نہیں آ رہی کہ انھوں نے کرنا کیا ہے۔ اگر یہ گرفتاری نہیں لیتے تو ہم دھرنا دیں گے، جو آج رات تک چلے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’لاہور کی ساری قیادت اس وقت مظاہروں میں ہے اور وہ اپنے اپنے وقت میں گرفتاری دیں گے۔‘

  4. بریکنگ, سائفر کی تحقیقات کے لیے دائر تینوں اپیلیں مسترد: ’مستقبل میں کوئی حملہ ہو تو کیا سپریم کورٹ جنگ کا اعلان کرے گی‘

    سپریم کورٹ نے سائفرکی تحقیقات کے لیے دائر تینوں اپیلیں مسترد کر دی ہیں۔

    رجسٹرار آفس کے اعترضات کی ان چیمبر سماعت کے دوران بات کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ حکومت اگر چاہے تو دنیا بھرکے ساٸفر پبلک کر سکتی ہے کوٸی دوسرا ایسا کرے گا توسیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’وزیراعظم اختیارات استعمال کر کے دنیا سے تعلقات ختم بھی کر سکتے ہیں بطور وزیر اعظم عمران خان چاہتے تو سائفر پر کمیشن بنا سکتے تھے۔‘

    خیال رہے کہ یہ اپیلیں ایڈووکیٹ ذوالفقاربھٹہ،سید طارق بدراورنعیم الحسن نے دائر کی تھیں۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کہ کیا فارن افیئرز ڈیل کرنا عدالت کا کام ہے؟ کیا بطور وزیراعظم عمران خان نے معاملے پر تحقیقات کا کوئی فیصلہ کیا؟

    انھوں نے سوال کیا کہ کیا عمران خان کے پاس تحقیقات کروانے کے تمام اختیارات تھے۔ وزیراعظم کے ماتحت تمام اتھارٹیز ہوتی ہیں۔ سائفر کے معاملے میں عدالت کیا کرے؟

    جسٹس فائز عیسیٰ نے درخواست گزاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سائفر سے آپ کی اور میری زندگیوں پرکیا اثر پڑا؟

    ’اس کیس میں بنیادی حقوق کا کوئی معاملہ نہیں۔‘

    جسٹس قاضی فائر عیسی نے مزید کہا کہ ’کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ دنیا بھر کے سائفر وزارت خارجہ کے بجائے سپریم کورٹ کو بھیجے جائیں؟

    ’مستقبل میں کوئی حملہ ہوتوکیا سپریم کورٹ جنگ کا اعلان کرے گی؟‘

    جسٹس قاضی فاٸز عیسیٰ نے کہا کہ ’اگر کوٸی وزیراعظم بننے کا بھی اہل نہیں تو اس کا بھی حل ہے، جس کا کام ہے اس کو کرنے دیا جائے۔ عدلیہ ایگزیکٹو کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔‘

  5. وزیر دفاع خواجہ آصف اور آئی ایس آئی کے سربراہ ندیم انجم کا دورہِ کابل، ملا عبدالغنی برادر سے ملاقات

    @FDPM_AFG

    ،تصویر کا ذریعہ@FDPM_AFG

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم افعانستان کے دورے پر ہیں جہاں انھوں نے افغانستان میں اقتصادیات کے نائب وزیر ملا عبدالغنی برادر سے ملاقات کی ہے۔

    ملا عبدالغنی برادر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ آج نائب وزیر نے پاکستان کے وزیر دفاع سے ملاقات کی جو ایک اعلیٰ سطحی وفد کی سربراہی میں کابل آئے تھے۔

    پریس ریلیز کے مطابق اس ملاقات میں فریقین نے دوطرفہ تعلقات، تجارت، علاقائی روابط اور اقتصادی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔

    ادھر پاکستان کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیر دفاع کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد آج کابل میں ہے جہاں وہ افغان عبوری حکومت کے حکام سے ملاقات کر رہا ہے جس میں انسداد دہشت گردی کے اقدامات سمیت سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    ملا عبدالغنی برادر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ وزارت اقتصادیات کے نائب نے ملاقات کے دوران کہا کہ افغانستان اور پاکستان دو پڑوسی ممالک ہیں اور انھیں ایک دوسرے کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے چاہئیں اور امارت اسلامیہ افغانستان پاکستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات پر زور دیتی ہے اور ایسے تعلقات کو دونوں ممالک کے مفاد میں سمجھتی ہے۔

    نائب وزیر نے کہا کہ تجارتی اور معاشی مسائل کو سیاسی اور سیکورٹی مسائل سے الگ کرنا ضروری ہے تاکہ یہ سیاست کا شکار نہ ہوں۔ ملاقات میں اخند کے بھائی ملا عبدالغنی نے کہا کہ امارت اسلامیہ ان افغانوں کی رہائی چاہتی ہے جو اس وقت پاکستانی جیلوں میں قید ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ طورخم کے تمام مسافروں کے لیے سپن بولدیک میں ضروری سہولیات فراہم کی جائیں اور فوری مریضوں کی آمدورفت کے لیے خصوصی سہولیات شروع کی جائیں۔

    پریس ریلیز کے مطابق پاکستانی فریق نے امارت اسلامیہ افغانستان کو مذکورہ مسائل کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور مزید کہا کہ متعلقہ وزارتیں اور مقرر کردہ کمیٹیاں اس معاملے پر تیزی سے کام کریں گی۔

    @FDPM_AFG

    ،تصویر کا ذریعہ@FDPM_AFG

  6. جیل بھرو تحریک کا آغاز عمران خان کی گرفتاری سے ہونا چاہے، مریم اورنگزیب

    MarriyumAurangzebPMLN

    ،تصویر کا ذریعہMarriyumAurangzebPMLN

    وفاقی وزیرِاطلاعات مریم اورنگزیب نے تحریکِ انصاف کی جیل بھرو تحریک پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جیل بھرو تحریک کا آغاز عمران خان کی گرفتاری سے ہونا چاہے۔

    انھوں نے کہا کہ گذشتہ نو ماہ سے ملک میں تماشہ لگا ہوا ہے۔ جس وقت ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر کرنے کی بات ہوتی ہے یہ ایک تماشے کا اعلان کر دیتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ان کے پاس اب کرنے کو کچھ نہیں، ہر روز خود اپنے بیانیے کو دفن کرتے ہیں۔

    مریم اورنگزیب نے الزام لگایا اور کہا کہ یہ تحریکِ پاکستان کے خلاف سازش ہے۔

    مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ جیل بھرو تحریک ضمانت سے شروع نہیں ہوتی، یہ جیل بھرو تحریک نہیں، جیل بچو تحریک ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی لا اور آرڈر کی صورتحال کو چیلنج کرے گا تو ملک کا قانون حرکت میں آئے گا اور یہ کوئی سیاسی گرفتاری نہیں ہو گی۔

  7. یہ احتجاج اس آئین شکنی کے خلاف ہے جو وفاقی حکومت کر رہی ہے، شاہ محمود قریشی

    ب

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ آج لاہور سے جیل بھرو مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے اور اس کو دیگر شہروں میں بھی پھیلایا جائے گا۔

    تحریک کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی پارٹی آفس جیل روڈ پر پریس کانفرنس کر رہے تھے۔

    ان کا کہنا ہے کہ آج پرامن طریقے سے گرفتاری کے لیے جایا جائے گا اور یہ احتجاج اس آئین شکنی کے خلاف ہے جو وفاقی حکومت کر رہی ہے۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ صدر پاکستان نے خط کے ذریعے آئینی ذمہ داری کو یاد کروایا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ہمارے کارکنوں اور رہنماؤں پر جھوٹے مقدمات درج کئے گئے ہیں اور ہم اس کے خلاف پر امن احتجاج کر رہے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ملک کے معاشی حالات دن بدن خراب ہو رہے ہیں۔

    bb
  8. اسلام آباد کا کام ہے کہ اپنی معاشی مشکلات سے نکلنے کا راستہ تلاش کرے، انڈین وزیر خارجہ جے شنکر

    گیٹی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے کہا ہے کہ پاکستان کا مستقبل بڑی حد تک اس کے اپنے اقدامات اور انتخاب سے طے ہوگا اور یہ اسلام آباد کا کام ہے کہ وہ اپنی معاشی مشکلات سے نکلنے کا راستہ تلاش کرے۔

    اے این آئی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں انھوں نے سری لنکا میں معاشی بحران کے دوران انڈیا کی جانب سے مدد کا حوالہ دیا اور کہا یہ یہ ایک مشکل رشتہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں پاکستان کا مستقبل بڑی حد تک پاکستان کے اقدامات اور پاکستان کے انتخاب سے طے ہوتا ہے۔ کوئی بھی ملک مشکل حالات میں اچانک اور بلا وجہ نہیں پہنچتا۔ انھیں اس سے نکلنے کا راستہ نکالنا ہے۔ آج ہمارا رشتہ ایسا نہیں ہے جہاں ہم براہ راست پاکستان کے حالات سے متاثر ہو سکیں۔‘

    ان کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان معاشی بحران کا شکار ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ قرض پروگرام کو بحال کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اگر میں سری لنکا سے اس کا موازنہ کروں، تو یہ بہت مختلف رشتہ ہے۔ سری لنکا میں اب بھی کافی حد تک انڈیا کے لیے خیر سگالی کا جذبہ موجود ہے۔ فطری طور پر پڑوسیوں کے بارے میں ہمیں تشویش اور پریشانی ہے اور ایک احساس بھی ہے کہ ہمیں اس سے نکلنے میں ان کی مدد کرنی ہوگی۔ کل اگر کسی دوسرے پڑوسی کو کچھ ہوا تو ایسا ہی ہوگا۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کے لیے ملک میں کیا جذبات ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ انڈیا کے چین کو چھوڑ کر بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، کیونکہ چین نے سرحدی معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

    جے شنکر نے کہا ’بڑی طاقتوں کے ساتھ انڈیا کے تعلقات اچھے ہیں۔ چین اس سے مستثنیٰ ہے کیونکہ اس نے معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔‘

  9. عمران خان کی پاکستانیوں سے جیل بھرو تحریک میں شامل ہونے کی اپیل: ’جیل بھرو تحریک ایک جہاد کا نام ہے‘

    عمران خان نے پاکستانیوں سے اپیل کی ہے کہ حقیقی آزادی کے لیے ہماری جیل بھرو تحریک میں شامل ہوں۔

    اپنے ویڈیو بیان میں انھوں نے کہا ہے کہ یہ دراصل آپ کو ادھر لے کر جائے گا جدھر ایک آزاد اور خوشحال پاکستان بنے گا اور وہ تب بنے گا جب ایک ریاست آپ کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرے گی۔

    انھوں نے کہا ’جیل بھرو تحریک ایک جہاد کا نام ہے، ایک آزادی کا نام ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ میں سے جتنے بھی اس میں شرکت کریں گے تو اتنی جلدی ہم اپنے مقصد پر پہنچ جائیں گے کہ اپنے ملک کو حقیقی طور پر آزاد کر لیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا مسلم لیگ ن کے لیے رویہ متعصبانہ ہے، رانا ثنا اللہ کا الزام

    Rana Sana Ullah Khan

    ،تصویر کا ذریعہRana Sana Ullah Khan

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ نے الزام لگایا ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا مسلم لیگ (ن) کے لیے رویہ متعصبانہ ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن نوازشریف کے خلاف مقدمے میں نگران جج رہے، ان سے انصاف کی توقع نہیں۔

    رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی آیڈیو لیک کا ناقابلِ تردید ثبوت سامنے آچکا ہے، ان کی غیرجانبداری پر سوال اٹھ چکا ہے دونوں جج نواز شریف، شہباز شریف سے متعلق درجنوں مقدمات میں مخالفانہ فیصلے دے چکے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ پانامہ، پارٹی لیڈرشپ، پاک پتن الاٹمنٹ کیس، رمضان شوگر ملز کے مقدمات اس فہرست میں شامل ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ قانون اور عدالتی روایت ہے کہ متنازعہ جج متعلقہ مقدمے کی سماعت سے خود کو رضاکارانہ طور پر الگ (ریکیوز) کر لیتے ہیں متاثرہ فریق کی درخواست پر بھی متنازعہ جج بینچ سے الگ کر دیے جانے کی روایت ہے۔

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی قانونی ٹیم دونوں ججوں کو نوازشریف اور پارٹی کے دیگر راہنماؤں کے مقدمات کی سماعت کرنے والے بینچوں سے الگ ہونے کا کہے گی، دونوں ججوں سے کہا جائے گا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے مقدمات نہ سنیں۔

  11. ہمیں جعلی مقدموں اور دورانِ حراست تشدد کا سامنا ہے، عمران خان

    پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جیل بھرو تحریک کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں جعلی مقدموں اور دورانِ حراست تشدد کا سامنا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ حقیقی آزادی کے لیے آج ہم دو بنیادی محرّکات و اہداف کےتحت جیل بھرو تحریک کا آغاز کررہےہیں:

    اوّل: یہ ہمیں آئین کے تحت میسّر بنیادی حقوق پر یلغار کے خلاف ایک پرامن اور غیرمتشدد احتجاج ہے۔ ہمیں جعلی ایف آئی آر، نیب کےمقدموں، زیرِحراست تشدد، اور میڈیا و سماجی میڈیا سے وابستہ افراد پر حملوں کا سامنا ہے۔

    دوم: یہ قوم کے اربوں روپے لوٹ کرمنی لانڈرنگ کے ذریعے باہربھجوانے اور خود این آر او لے کر عوام خصوصاً غریب اور متوسط طبقے کو بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروزگاری کے بوجھ تلے کچلنے والے مجرموں کے اس ٹولے کے خلاف ہے جنھوں نے قوم کو بدترین معاشی تباہی کے سپرد کیا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  12. چوہدری پرویز الٰہی کا ق لیگ کے 10 ساتھیوں سمیت پاکستان تحریکِ انصاف میں شمولیت کا اعلان

    bbc

    پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما اور سابق وزیرِ اعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی سمیت 10 سابق اراکینِ صوبائی اسمبلی پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے ہیں۔

    اس بات کا اعلان پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری کی جانب سے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا جس کی تصدیق ساتھ کھڑے چوہدری پرویز الٰہی نے کی۔

    فواد چوہدری نے یہ اعلان بھی کیا کہ چوہدری پرویز الٰہی کو پی ٹی آئی کا مرکزی صدر بنانے کی بھی سینیئر قیادت نے منظوری دی ہے اور پارٹی کے آئین کے مطابق اس حوالے سے پیش رفت ہو گی۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ ’پرویز الٰہی اور ق لیگ کے کردار کو پی ٹی آئی سراہتی ہے اور ان کی قربانیاں بے پناہ ہیں۔‘

  13. نیب نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو نو مارچ کو طلب کر لیا, شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    قومی احتساب بیورو نے سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں نو مارچ کو طلب کر لیا ہے۔

    نیب کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق عمران خان کو نیب میں پیش ہو کر بیان ریکارڈ کروانے کا حکم دیا گیا ہے۔

    عمران خان کے بنی گالہ کے پتے پر نیب حکام کی طرف سے بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ نیب حکام کی طرف سے ایسے افراد کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جو توشہ خانہ سے تحائف کم قیمت پر خرید کر انھیں فروخت کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔

    نوٹس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو بطور وزیرِاعظم غیر ملکی دوروں کے دوران ان ملکوں کے سربراہانِ مملکت سے جو تحائف ملے ہیں ان کے بارے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے نو مارچ کو پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کروائیں۔

    اس نوٹس میں ان تحائف کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو کہ عمران خان کو بطور وزیر مختلف سربراہان مملکت نے تحفے میں دیے تھے۔

    اس میں چھ گھڑیاں بھی شامل ہیں جس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف سے عمران کو تحفے میں دی گئی وہ گھڑی (کعبہ ایڈشن) بھی شامل ہے جس کے بارے میں مقامی میڈیا پر یہ خبریں بھی چلتی رہی ہیں کہ عمران خان نے مبینہ طور پر یہ گھڑی پانچ کروڑ روپے میں فروخت کی تھی جبکہ مارکیٹ میں اس کی قمیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔

    دیگر اشیا میں سونے کا پین، کف لنکس اور ایک بغیر سلہ ہوا سوٹ بھی شامل ہے۔

    اس کے علاوہ عمران خان کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ اس آئی فون کے بارے میں بھی بتائیں جو انھیں قطر کی مسلح افواج کے سربراہ نے تحفے میں دیا تھا۔ نیب حکام کی طرف سے اس معاملے کی تحقیقات 22 نومبر سے شروع کی گئی تھیں اور اس میں متعلقہ افراد کے بیانات بھی قلم بند کیے گئے ہیں۔

  14. انتخابات کی تاریخ: الیکشن کمیشن نے مشاورت کے لیے اٹارنی جنرل کو کل بلا لیا

    الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس آج چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی صدارت میں ہوا، جس میں معزز ممبران الیکشن کمیشن بھی شریک ہوئے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق بغیر کسی دباؤ کے فیصلہ کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔

    بیان کے مطابق الیکشن کمیشن ہر وقت آئین اور قانون کے تحت 90 دن میں الیکشن کروانے کے لیے تیار رہتا ہے مگر آئین اور قانون میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ الیکشن کی تاریخ کمیشن دے گا مگر مجاز اتھارٹی کی طرف سے تاریخ مقرر کرنے کے بعد کمیشن فوراً الیکشن شیڈول دے کر الیکشن کروانے کا پابند ہے۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدر پاکستان کی طرف سے الیکشن کی تاریخ مقرر کرنے کے بعد آج کمیشن کے اجلاس میں اس پر تفیصلاً غور کیا گیا اور اٹارنی جنرل آف پاکستان اور دیگر قانونی ماہرین سے مزید رہنمائی لینے کا فیصلہ کیا گیا۔

    الیشکن کمشین نے اس سلسلے میں اٹارنی جنرل آف پاکستان کو 22 فرور ی 2023 کو دعوت دی ہے اور مشاورت کے لیے دوآئینی و قانونی ماہرین کا انتخاب بھی کیا جا رہا ہے۔

  15. نیب میں دیگر اداروں کی مداخلت برداشت نہیں کر سکتا تھا، آفتاب سلطان

    یب کے مستعفی ہونے والے چیئرمین آفتاب سلطان نے کہا ہے کہ وہ نیب میں دیگر اداروں کی مداخلت برداشت نہیں کر سکتے تھے۔

    مستعفی ہونے کے بعد نیب افسران سے خطاب کرتے ہوئے آفتاب سلطان نے کہا کہ ایک ایک پلاٹ والے کے لیے کہا جاتا ہے اسے اندر کر دیں جبکہ اربوں روپے والے باہر ہیں۔

    آفتاب سلطان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں نہ کچھ لے کر آیا تھا اور نہ ہی کچھ لے کر جا رہا ہوں۔‘

    انھوں نےکہا کہ نیب افسران صرف قانون کی سنیں، کسی کی مداخلت برداشت نہ کریں اور ڈٹ کر آزادی سے کام کریں۔

  16. چیئرمین نیب آفتاب سلطان اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے

    چیئرمین نیب آفتاب سلطان اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ استعفے میں انھوں نے ذاتی وجوہات کا ذکر کیا ہے۔

    آفتاب سلطان ڈی جی انٹیلیجنس بیورو کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں اور موجودہ حکومت نے نیب کے سابق چئیرمین جاوید اقبال کے بعد انھیں اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔

    وزیراعظم آفس کے اعلامیہ کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے چیئرمین نیب آفتاب سلطان کا استعفی منظور کر لیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ نے انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) کے سابق سربراہ اور ریٹائرڈ پولیس افسر آفتاب سلطان کی بطور چیئرمین نیب تین سال کے لیے جولائی 2022 میں تقرری کی تھی۔

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے ان کی بطور چیئرمین نیب تعیناتی کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ ’وہ انتہائی آزاد، دیانتدار اور شفاف افسر رہے ہیں۔‘

    تاہم تحریک انصاف کے سینیئر رہنما شفقت محمود نے شہباز شریف پر ’اپنے وفادار‘ کو نیب چیئرمین تعینات کرنے کا الزام لگایا تھا۔

    آفتاب سلطان سابق بیوروکریٹ چوہدری قمر زمان کے بعد ایسے دوسرے سابق بیوروکریٹ رہے جنھیں اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔

    آفتاب سلطان کو سابق چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعد اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔

  17. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    پاکستان کے سیاسی منظرنامے سے متعلق تازہ ترین خبروں کے حوالے سے بی بی سی اردو کا خصوصی لائیو پیج جاری ہے۔