پنجاب، کے پی الیکشن ازخود نوٹس: کیس سے الگ ہونے والے ججز نے اپنے نوٹس میں کیا کہا ہے؟

پیر کو از خود نوٹس کی سماعت تاخیر سے شروع ہوئی تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بتایا کہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظاہر علی نقوی، جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ نے بنچ سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ باقی بنچ کیس کی سماعت کرتا رہے گا۔

لائیو کوریج

  1. ممنوعہ فنڈنگ کیس: بینکنگ کورٹ کا عمران خان کو 28 فروری کو پیش ہونے کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد کی ایک بینکنگ کورٹ نے تحریک انصاف چیئرمین عمران خان کو 28 فروری کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

    عمران خان کے خلاف فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت مقدمہ کی سماعت ہوئی جس میں بینکنگ کورٹ کی جج رخشندہ شاہین کے سامنے عمران خان کے معاون وکیل پیش ہوئے۔

    عمران خان کے وکیل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 22 فروری کے آرڈر کی کاپی عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ نے 28 تاریخ کو عمران خان کو عدالت پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

    بینکنگ کورٹ نے ہائیکورٹ فیصلہ کی روشنی میں عمران خان کو 28 فروری کو پیش ہونے کا حکم جاری کر دیا۔

  2. پاکستان کو چین سے سات سو ملین ڈالرز موصول

    Dollar

    ،تصویر کا ذریعہGetty

    وزیر خزانہ اسحق ڈار نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں اعلان کیا ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کو چین سے سات سو ملین ڈالرز موصول ہوگئے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    اس سے قبل 22 فروری کو ایک ٹوئیٹ میں اسحق ڈار نےچین ڈویلپمنٹ بینک کے بورڈ کی جانب سے پاکستان کے لیے 700 ملین امریکی ڈالر کی منظوری کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ ’امید ہے کہ اس رقم سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو جائے گا۔‘

  3. اگر ہم خود اپنے گھر کے حالات ٹھیک نہیں کریں گے تو کوئی ہماری مدد کو نہیں آئے گا: شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے دہشت گردی کے خلاف جامع حکمت عملی تشکیل دینے کا عزم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہم خود اپنے گھر کے حالات ٹھیک نہیں کریں گے تو کوئی ہماری مدد کو نہیں آئے گا۔

    انھوں نے یہ بات اسلام آباد میں نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) اور قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی (نیکٹا) سے متعلق اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

    شہباز شریف نے کہا کہ آج کا اجلاس نیکٹا کے حوالے سے تھا جو کہ ایک غیر فعال ادارہ بن چکا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سابقہ حکومت نے سٹیک ہولڈرز کو ایک جامع بحث کے لیے مدعو کیا تھا جس کی وجہ سے نیکٹا کا منصوبہ تشکیل پایا تھا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پشاور میں ہونے والے سانحے پر میں نے تمام سیاسی سٹیک ہولڈرز کو مدعو کیا لیکن انھوں نے آنا مناسب نہیں سمجھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’چند لوگ ایک کمرے میں بیٹھ کر ایسے معاملات پر بات کرنے سے انکار کرتے ہیں اور آج جب ہم ایک کمرے میں بیٹھے ہیں تو ایک حصہ سڑکوں پر جانا چاہتا ہے اور معاملات خراب کرنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔‘

  4. لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں پنجاب کی 27 قومی اسمبلی نشستوں کا انتخابی شیڈول معطل

    الیکشن کمیشن نے اراکین قومی اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں پنجاب کے 27 قومی اسمبلی حلقوں میں جاری کردہ انتخابی شیڈول معطل کرنے کا اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔

    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 52،53،54 جو کہ اسلام آباد کی حدود میں واقع ہیں؛ وہاں انتخابی سرگرمیاں جاری رہیں گی اور 16 مارچ کو ضمنی انتخاب کا انعقاد کیا جائے گا۔

    اسلام آباد کے مذکورہ حلقوں پر لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ لاگو نہیں ہوتا۔

  5. ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی، تین ہفتوں میں ساڑھے سولہ روپے گر گیا, تنویر ملک، صحافی

    ملک کی کرنسی مارکیٹ میں جمعے کے روز پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں 94 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    موجودہ ہفتے کے آخری کاروباری روز ڈالر کی قیمت 259.99 روپے پر بند ہوئی۔

    ڈالر کی قیمت میں گذشتہ تین ہفتوں میں 16.51 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    تین فروری کو ڈالر کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچی تھی جب ایک ڈالر کی قیمت 276.58 روپے پر بند ہوئی تھی تاہم اس کے بعد ڈالر کی قیمت میں کمی کا رجحان دیکھا گیا اور تین ہفتوں میں ڈالر کی قیمت 16.51 روپے کمی کے بعد جمعے کے روز کاروبار کے اختتام پر 259.99 پر بند ہوئی۔

    ڈالر کی قیمت میں تسلسل سے کمی کے رجحان پر تبصرہ کرتے ہوئے مالیاتی امور کے ماہر سمیع اللہ طارق نے کہا کہ ’جب جنوری کے آخر میں ڈالر کی قیمت پر لگے مصنوعی کنٹرول کو ختم کیا گیا تو ڈالر کی قیمت میں اضافے سے بلیک مارکیٹ سے ڈالروں کی آمد قانونی چینل کی طرف ہوئی اور انٹر بنک میں ڈالر کی سپلائی بڑھی جس نے روپے کی قدر کو مضبوط کرنے میں مدد فراہم۔‘

    انھوں نے پاکستان کےآئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے امکانات نے بھی روپے کی قدر کو سہارا دیا جس سے ڈالر کی قیمت میں کمی واقع ہوئی۔

  6. خواجہ آصف کی سپریم کورٹ سے فل بنچ بنانے کی درخواست

    قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں الیکشن پر ازخود نوٹس کا معاملہ فل کورٹ کا متقاضی ہے۔

    مسلم لیگ ن رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ ’پورا سپریم کورٹ بیٹھ کر اس مسئلے کا حل تلاش کرے اور فریقین سے بات کرے تاکہ ایسا حل دے جو آنے والے وقت میں لاحق امراض کا بندوبست کر دے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں نہیں چاہتا کہ عدلیہ کو محسوس ہو کہ ایک پارلیمینٹیریئن ان کی حدود میں دخل اندازی کر رہا ہے لیکن متاثرہ فریق ہونے کی حیثیت سے بات کر رہا ہوں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’عدالت کو چاہیے کہ پورا بنچ بنا کر پانامہ کے معاملے سے آغاز کرے کہ کہاں کہاں زیادتی ہوئی۔‘

  7. پنجاب، کے پی الیکشن ازخود نوٹس کیس: ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا دو ججوں پر اعتراض، سپریم کورٹ کا فل بنچ بنانے کی تجویز, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن پر ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی سے اس کیس سے الگ ہونے کی درخواست کی جبکہ سپریم کورٹ کا فل بنچ بنانے کی تجویز بھی سامنے آئی۔

    جمعے کے دن کیس کی سماعت کا آغاز ہوا تو فاروق ایچ نائیک نے ن لیگ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ایف کا مشترکہ بیان پڑھتے ہوئے دو ججز، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی، پر اعتراض کیا اور کہا کہ دونوں ججز اپنی رائے کا اظہار ڈوگر کیس میں پہلے ہی کر چکے ہیں، اس لیے ان کو بنچ سے الگ ہو جانا چاہیے۔

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ دونوں ججز سے کوئی ذاتی عناد نہیں تاہم جسٹس جمال مندوخیل کے نوٹ کے بعد جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی اپنے آپ کو بینچ سے الگ کر دیں۔

    فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے تشکیل کا معاملہ ہے، دیکھنا ہے کہ بینچ کی تشکیل کیسے ہوئی۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ کیوں نہ معاملہ فل کورٹ میں سنا جائے۔ فاروق نائیک کا کہنا تھا کہ میرا بھی یہی خیال ہے کہ معاملہ فل کورٹ میں سنا جائے۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ سیاسی معاملات کو پارلیمنٹ میں حل ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی جماعتوں سے کہیں کہ یہ معاملہ عدالت کیوں سنے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ فاروق نائیک نے جو حکم پڑھا ہے وہ 16 فروری کا ہے جبکہ ازخود نوٹس 22 فروری کو لیا گیا اور اسی دوران بہت سنگین معاملات سامنے آئے جن میں صدر کی جانب سے تاریخ کا اعلان اور سپیکرز کی جانب سے درخواست کا آنا شامل ہیں۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ازخود نوٹس لینا چیف جسٹس کا دائرہ اختیار ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 184 تین کے ساتھ اسپیکرز کی درخواستیں بھی آج سماعت کیلئے مقرر ہیں اور عدالت سپیکرز کی درخواستوں میں اٹھائے گئے قانونی سوالات بھی دیکھ رہی ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’محسوس ہوا کہ آئین خود اس عدالت کا دروازہ کھٹکٹا رہا ہے۔‘ کیس کی سماعت سوموار تک ملتوی کر دی گئی۔

  8. عدلیہ اور اداروں کو دھمکانے کا مقدمہ: گوجرانوالہ کی عدالت نے وفاقی وزیرِ داخلہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے

    گوجرانوالہ کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے عدلیہ اور اداروں کو مبینہ طور پر دھمکانے کے مقدمے میں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

    واضح رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ کے خلاف ایک شہری شہکار اسلم نے تھانہ انڈسٹریل ایریا گجرات میں مقدمہ درج کروایا تھا کہ انھوں نے مبینہ طور پر عدلیہ اور اداروں کو دھمکی دی ہے تاہم گجرات پولیس نے تفتیش کے بعد مقدمہ خارج کرنے کی رپورٹ عدالت میں جمع کروائی تھی۔

    جمعے کے دن گوجرانوالہ کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت کے جج رانا زاہد اقبال نے مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے پولیس کی اخراج رپورٹ کو مسترد کر دیا اور رانا ثناءاللہ کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

    عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ رانا ثناء اللّٰہ کو 7 مارچ کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔

    عدالت نے مقدمہ کی اخراج رپورٹ مرتب کرنے پر ایس پی انوسٹی گیشن، متعلقہ ڈی ایس پی اور تفتیشی افسر کو شو کاز نوٹس بھی جاری کر دیا جس کے بعد مقدمہ کی سماعت 7 مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔

  9. گرفتار پی ٹی آئی رہنماؤں کی رہائی کی درخواست: ’آپ عدالتوں کے ساتھ کیوں کھیل رہے ہیں، لاہور ہائیکورٹ

    LHC

    ،تصویر کا ذریعہLahore High Court

    پاکستان تحریک انصاف کی جیل بھرو تحریک میں لاہور سے گرفتار ہونے والے پی ٹی آئی رہنماؤں کی رہائی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست کی سماعت کے دوران عدالت کا کہنا ہے کہ ’آپ تو خود کہہ رہے تھے گرفتار کرو اب جلدی کیا ہے۔‘

    پاکستان تحریک انصاف کی جیل بھرو تحریک میں لاہور سے گرفتار ہونے والے پی ٹی آئی رہنماؤں کی رہائی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس شہرام سرور نے درخواست گزار زین قریشی کے وکیل سے استفسار کیا کہ ’آپ کے لوگ کیوں پکڑے ہیں۔ جس پر وکیل کا کہنا تھا کہ ہم نے جیل بھرو تحریک شروع کی تھی۔

    جسٹس شہرام سرور نے استفسار کیا کہ آپ عدالتوں کے ساتھ کیوں کھیل رہے ہیں۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ یہ علامتی گرفتاریاں تھیں۔ ہم ضمانت نہیں مانگ رہے۔ ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے عدالت آئے ہیں۔ جس پر عدالت نے کہا کہ آپ تو خود کہہ رہے تھے کہ گرفتار کرو۔ اب گرفتار کر لیا تو کیا جلدی ہے۔

    یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما زین قریشی کی جانب سے والد شاہ محمود قریشی کو عدالت میں پیش کرنے کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ شاہ محمود قریشی کو حبس بے جا میں رکھا گیا ہے، شاہ محمود کو کل حراست میں لیا گیا لیکن نہیں بتایا جا رہا کہ وہ کہاں ہیں۔

    سماعت کے دوران شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے گرفتار نہیں کیا لیکن میرے والد کو گرفتار کر لیا گیا۔ اور مجھے ملاقات نہیں کرنے دے رہے۔‘

    عدالت نے اس پر انھیں جواب دیا کہ ’جہاں دفعہ 144 نافذ ہے وہاں چلے جائیں۔ آپ کو پکڑ کر لے جائیں گے اور ملاقات بھی ہو جائے گی۔‘

    اس پر زین قریشی نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو پھر ہم پٹیشن دائر کریں گے۔ جس پر لاہور ہائیکورٹ کے جج شہرام سرور نے کہا کہ اب پٹیشن دائر نہ کریں۔ آپ کہہ رہے کہ گرفتار ہونے جا رہے ہیں۔ عدالتیں ہمیں بلا لیں۔ ایسے تو عدالتوں کے کام میں اضافہ کریں گے۔ کیونکہ آپ تو خود گرفتار ہونے گئے ہیں۔

    اس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ گرفتار کیے گئے افراد کو حکومت سامنے لائے۔ اس حوالے سے کچھ تو پیش کرے۔

    جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ حکومت کیا نوٹس پیش کرے۔ آپ ہوم ڈیپارٹمنٹ کو درخواست کر دیں کہ گھروں میں نظر بند کر دے۔ جس پر وکیل نے کہا کہ سر آج کے لیے ہی رپورٹ مانگ لیں۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ آج کے لیے نہیں کریں گے۔ کل بھی تین بار کیس لگایا لیکن کوئی نہیں تھا۔ جس کے بعد عدالت نے سرکاری وکیل کو پیر کو ہدایت لے کر پیش ہونے کی ہدایت کر دی

  10. پنجاب اور کے پی انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ از خود نوٹس کی سماعت آج

    SC

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی انتخابات سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت آج (جمعے) کو بھی ہو گی۔

    گذشتہ روز سماعت میں چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ہم آئین کی خلاف ورزی برداشت نہیں کریں گے اورچاہتے ہیں انتخابات وقت پر ہوں۔

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا نو رکنی لارجر بینچ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

    سپریم کورٹ نے از خود نوٹس میں تین سوالات اٹھائے ہیں، پہلا سوال اسمبلی تحلیل ہونے پر الیکشن کی تاریخ دینا کس کی ذمہ داری ہے؟ دوسرا سوال انتخابات کی تاریخ دینے کا آئینی اختیار کب اور کیسے استعمال کرنا ہے؟ تیسرا سوال یہ ہے کہ عام انتخابات کے حوالے سے وفاق اور صوبوں کی ذمہ داری کیا ہے؟

    سماعت میں اٹارنی جنرل نے وقت دینے کے لیے استدعا کی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جمعے کو ہم صرف چند ضروری باتوں تک محدود رہیں گے، کیس کی تفصیلی سماعت اگلے ہفتے کریں گے۔

    تاہم گذشتہ روز سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

  11. طالبان یقینی بنائیں کہ داعش، ٹی ٹی پی اور دیگر خطے کا امن خراب نہ کریں، نیڈ پرائس

    نیڈ پرائس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے میڈیا بریفینگ میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف امریکہ اور پاکستان کے مفادات مشترک ہیں، اور طالبان یہ یقینی بنائیں کہ داعش، ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند تنظیمیں خطے کا امن خراب نہ کریں۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے اقتصادی تعلقات بھی مضبوط ہیں۔ ’ہم پاکستان کے ساتھ اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مثالی بنانا چاہتے ہیں،‘ پاکستان- امریکہ سرمایہ کاری کے لیے وزارتی اجلاس جاری ہے۔

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ دو دہائیوں میں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والوں میں امریکہ سرفہرست ہے، پاکستان کے ساتھ توانائی،زرعی آلات،دیگر شعبوں میں تجارت کے فروغ کی ضرورت ہے۔

    نیڈ پرائس نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ایک سال میں ہماری سرمایہ کاری میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا۔

  12. جیل بھرو تحریک: شاہ محمود قریشی 30 روز کے لیے نظر بند

    ڈپٹی کمشنر لاہور کی سفارش پر محکمہ داخلہ پنجاب نے تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو 30 روز کے لیے نظر بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

  13. آج انھوں نے جیلیں نہیں کھولیں، ہم گرفتاری کے لیے تیار تھے: شہرام خان ترکئی

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پی ٹی آئی کے رہنما شہرام خان ترکئی کا کہنا ہے کہ ’آج انھوں نے جیلیں نہیں کھولیں۔ خان کی ڈائریکشن کے مطابق ہم گرفتاری کے لئیے تیار تھے۔

    ’تمام کارکن اگلی کال کا انتظار کریں۔ ہم پھر آئیں گے اور بھرپور طریقے سے آئیں گے۔‘

  14. سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف اس قسم کی زبان استعمال کرنے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے: عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ ججز سے کہتا ہوں یہ فیصلہ کن وقت ہے۔ سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف اس قسم کی زبان استعمال کرنے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے۔

    انھوں نے جیل بھرو تحریک کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’70 کی دہائی میں بھی گرفتاریاں دی جاتی تھیں لیکن پانچ لوگ گرفتاری دیتے تھے، لیکن اتنی بڑی تعداد میں ایسا اس سے پہلے کبھی دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جس طرح کے ہتھکنڈے اس حکومت نے ہمارے ساتھ گذشتہ سال میں استعمال کیے ہیں، ایسا میں نے جنرل مشرف کے مارشل لا میں بھی نہیں دیکھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’شہباز گل کے ساتھ انھوں نے جو کیا، وہ بار بار کہہ رہے تھے کہ کہو کہ یہ بھی عمران خان نے کیا ہے۔

    ’یہ سب کچھ اس لیے کیا جا رہا ہے کہ کیونکہ یہ الیکشن سے بھاگ رہے ہیں، کیونکہ آپ کو معلوم ہے کہ عوام آپ کے ساتھ نہیں ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آپ آئین میں تبدیلی کیسے کر سکتے ہیں کہ 90 دن کے بعد الیکنشن نہیں ہو سکتے۔

    ’سیاسی قیدیوں کو جس طرح سے رکھا جا رہا ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ کوئی دہشتگرد ہیں لیکن وہ ڈٹے رہیں گے۔ کیا ایسا کرنے سے پبلک ڈر جائے گی۔‘

  15. عمران خان کو واپس لانے کا بیڑہ سپریم کورٹ کے دو ججوں نے اٹھا لیا ہے: مریم نواز کا الزام

    مریم نواز

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان مسلم لیگ نواز کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے الزام عائد کیا ہے کہ عمران خان کا بوجھ اب جب اسٹیبلشمنٹ نے اپنے کاندھوں سے اتار کر پھینک دیا تو یہ بوجھ سپریم کورٹ کے دو، تین ججوں نے اٹھا لیا ہے اور عمران خان کو پے در پے ملنے والی حالیہ ناکامیوں کے بعد ان ججوں نے انھیں (عمران خان) واپس لانے کا بیڑہ اٹھا لیا ہے۔

    سرگودھا میں مسلم لیگ ن کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کی سربراہی میں ’پانچ کا ٹولہ‘ نواز شریف کے خلاف سازش میں ملوث تھا۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’فیض حمید کو چونکہ آرمی چیف بننا تھا اس لیے انھیں ایک مہرے اور سیاسی چہرے کی ضرورت تھی۔ نواز شریف وہ مہرہ نہیں بن سکتے تھے اس لیے اس مقصد کے لیے عمران خان کا انتخاب کیا گیا۔‘

    انھوں نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کے عوام کو پتا ہے کہ بینچ فکسنگ ہو رہی ہے تو یہ سب آپ کو کیوں نہیں پتا چل رہا۔‘

    ’سپریم کورٹ نے انتہائی سینیئر دو ججوں کو چھوڑ کر ان ججوں کو شامل کیا گیا جن کے خلاف تحقیقات ہونی چاہییں تھیں۔ انھوں نے سپریم کورٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ الیکشن کے سلسلے میں صدر پاکستان، وفاقی حکومت، الیکشن کمیشن اور دیگر اداروں کی ذمہ داری کو ضرور جانچیں مگر یہ بھی جانچیں کہ آپ کی بنیادی ذمہ داری کیا ہے، آپ کی ذمہ داری غیر متنازع بینچ بنانا ہے، کیا آپ نے وہ ذمہ داری پوری کی؟‘

  16. بریکنگ, سپریم کورٹ میں بعض ایسے معاملات ہوئے ہیں جن کی بنیاد پر وہاں سے انصاف کی توقع نہیں کی جا سکتی: رانا ثنا اللہ

    رانا ثنا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ میں بعض ایسے معاملات ہوئے ہیں کہ جن کی بنیاد پر وہاں سے انصاف کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

    سرگودھا میں مسلم لیگ ن کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ملک میں صرف انصاف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔

    ’اگر عدالتیں ایک فرد واحد کا چار، چار دن انتظار کریں گی تو اس سے جو بات عوام کے ذہنوں میں جائے گی وہ انصاف کے اداروں کے لیے مناسب نہیں ہو گی۔ ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور ماضی میں آزاد عدلیہ کی بحالی کے لیے لانگ مارچ کر چکے ہیں۔ مگر ہمیں اس بات کا افسوس ہے کہ عدلیہ کے حوالے سے عوام کے ذہنوں میں منفی خیالات کیوں آ رہے ہیں۔‘

    سپریم کورٹ کے ججوں کا نام لیے بغیر ان کا کہنا تھا کہ ’بعض صاحبان (جج) ایسے ہیں کہ جن کا ایک ماضی ہے۔ جب انھوں نے مانیٹر جج بن کر اس بات کو یقینی بنایا کہ میاں نواز شریف کو ایک جھوٹے کیس میں سزا دی جائے۔ مرحوم ارشد ملک کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اب بھی موجود ہے کہ جس میں وہ کہتے ہیں کہ ایک جج نے مجھے بلا کر کہا کہ نواز شریف کو 14، 14 سال کی سزا دیں۔۔۔‘

    وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ’اگر ایسے الزامات کی تحقیق نہیں ہو گی اور پوچھ گچھ نہیں ہو گی تو لوگوں کے ذہنوں میں عدلیہ کے احترام میں کمی آئے گی۔‘

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جنرل الیکشن کے لیے آئین میں صرف 90 دن میں الیکشن کروانے کی بات نہیں لکھی بلکہ یہ بھی لکھا ہے کہ پورے ملک میں، وفاق اور چاروں صوبوں میں، کیئر ٹیکر سیٹ اپ کے تحت انتخابات ہوں۔ ’اگر آئین میں بیان کی گئی سکیم کے تحت الیکشن نہیں ہوں گے تو سیاسی پارٹیاں ان کو قبول نہیں کریں گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ الیکشن مہم کا آغاز کر چکی ہے۔ ’ہم آج سے الیکشن مہم کا ناصرف آغاز کر چکے ہیں بلکہ تحریک انصاف کو شکست دے کر پنجاب میں اپنی حکومت بنائیں گے۔ ہم کبھی عوام میں جانے سے نہیں گھبراتے مگر ہماری رائے ہے کہ پورے ملک میں الیکشن ایک ساتھ ہونا چاہییں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ الیکشن کا نتیجہ سب تسلیم کریں۔ صاف و شفاف الیکشن ہوں جن میں دھاندلی کا کوئی شائبہ نہ ہو۔‘

  17. جسٹس مندوخیل کے ازخود نوٹس اور لارجر بینچ میں دو ججوں کی شمولیت پر اعتراضات: ’اس بینچ میں شامل دو ججز پہلے ہی اس معاملے پر اپنی رائے قائم کر چکے ہیں‘

    جمال مندوخیل

    ،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے نو رکنی لارجر بینچ کی جانب سے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں صوبائی الیکشن کے معاملے پر لیے گئے ازخود نوٹس کیس کی پہلی سماعت کے دوران بینچ میں شامل جسٹس جمال مندوخیل نے کہا ہے کہ انھیں اس از خود نوٹس پر تحفظات ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ یہ از خود نوٹس بعد میں لیا گیا مگر اس سے قبل دو اسمبلیوں (پنجاب، خیبرپختونخوا) کے سپیکروں کی درخواستیں دائر ہو چکی تھیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ چیف جسٹس نے یہ ازخود نوٹس جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے نوٹ پر لیا جبکہ اس کیس میں چیف الیکشن کمشنر کو بھی بلایا گیا ہے جو کہ فریق نہیں ہیں۔

    اُنھوں نے ریمارکس دے کہ ان حالات میں اُن کی رائے میں یہ کیس 184(3) کا نہیں بنتا۔

    جسٹس جمال جان مندوخیل کا کہنا تھا کہ گذشتہ دنوں کچھ آڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں سپریم کورٹ بار کے صدر عابد زبیری سپریم کورٹ کے کچھ ججز کے حوالے سے بات کر رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ اس بینچ میں شامل دو ججز پہلے ہی اس معاملے پر اپنی رائے قائم کر چکے ہیں اور اس ازخود نوٹس کو لیتے ہوئے 10 (a) جو کے فری ٹرائل کے متعلقہ ہے کو نظر انداز کیا گیا۔

    چیف جسٹس آف پاکستان نے اس موقع پر جسٹس مندوخیل کو کہا کہ ’یہ آپ کا نوٹ ہے‘، تاہم بینچ کے سربراہ نے ان اعتراضات پر مزید کوئی بات نہیں کی۔

  18. اگر اسمبلی توڑنے کے لیے آئینی تقاضے پورے نہیں ہوئے تو انھیں بحال بھی کیا جا سکتا ہے: جسٹس منصور علی شاہ

    اس از خود نوٹس کی سماعت کے دوران بینچ میں موجود جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ عدالت کو یہ بھی دیکھنا ہے کہ آئین میں اسمبلیوں کی مدت پانچ سال ہے اور لوگوں نے اپنے نمائندوں کو پانچ سال کے لیے منتخب کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عدالت نے یہ بھی دیکھنا ہے کہ آیا وزیر اعلیٰ نے اسمبلی آئین میں رہتے ہوئے توڑی یا کسی سیاسی شخصیات کے کہنے پر توڑی۔

    انھوں نے کہا کہ ’اگر عدالت سماعت کے دوران اس نتیجے پر پہنچے کہ اسمبلی توڑنے کے لیے آئینی تقاضے پورے نہیں کیے گئے تو ان اسمبلیوں کو بحال بھی کیا جا سکتا ہے۔‘

    بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ‏آرٹیکل 224 کہتا ہے کہ 90 روز میں انتخابات ہوں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’وقت جلدی سے گزر رہا ہے اور ہائیکورٹ میں معاملہ زیر التوا تھا مگر کوئی فیصلہ نہیں ہو پا رہا تھا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’عدالت کسی طور پر بھی آئین کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گی۔‘

    اس موقع پر جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ عدالت کے سامنے پہلا سوال یہ ہو گا کہ آیا اسمبلی آئین کے تحت تحلیل ہوئی بھی ہے یا نہیں۔

  19. پنجاب، خیبرپختونخوا میں الیکشن کا معاملہ: ازخود کیس میں صدر پاکستان، وفاقی حکومت، الیکشن کمیشن و دیگر کو نوٹسز جاری, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہSC

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے نو رکنی لارجر بینچ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں صوبائی الیکشن میں تاخیر پر لیے گئے ازخود نوٹس کیس کی پہلی سماعت کے دوران صدر پاکستان، وفاقی حکومت، الیکشن کمیشن آف پاکستان، پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار، چاروں صوبوں کے ایڈوکیٹ جنرلز و دیگر کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

    چیف جسٹس کی سربراہی میں بننے والے نو رکنی لارجر بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہرعلی اکبرنقوی، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں۔

    جمعرات کی دوپہر ہونے والی سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ آئین کے ‏آرٹیکل 224 کے مطابق انتخابات کا انعقاد 90 روز میں ہونا لازمی ہے۔ انھوں نے ریمارکس دے کہ وقت جلدی سے گزر رہا ہے جبکہ دوسری جانب چونکہ ہائیکورٹ میں یہ معاملہ زیر التوا تھا مگر اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہو پا رہا تھا۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت کسی طور پر بھی آئین کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گی۔ بینچ میں موجود جسٹس منصور علی شاہ نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ عدالت کو یہ بھی دیکھنا ہے کہ آئین میں اسمبلیوں کی مدت پانچ سال درج ہے اور گذشتہ عام انتخابات میں لوگوں نے اپنے نمائندوں کو پانچ سال کے لیے منتخب کر کے اسمبلیوں میں بھیجا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ عدالت نے یہ بھی دیکھنا ہے کہ آیا وزیر اعلیٰ نے اسمبلی آئین میں رہتے ہوئے تحلیل یا کسی سیاسی شخصیت کے کہنے پر توڑی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ اگر عدالت اس ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ اسمبلی توڑنے کے لیے آئینی تقاضے پورے نہیں کیے گئے تو ان اسمبلیوں کو بحال بھی کیا جا سکتا ہے۔

    مختصر سماعت کے اختتام پر بینچ کے سربراہ نے پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کو بھی عدالت کی معاونت کرنے کی ہدایت کی۔

    اس کیس کی آئندہ سماعت جمعہ (کل) کی صبح 11 بجے ہو گی۔

  20. زین قریشی نے شاہ محمود قریشی کی بازیابی کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    /SMQureshi.Official

    ،تصویر کا ذریعہSMQureshi.Official

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی نے اپنے والد کو عدالت میں پیش کرانے کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ شاہ محمود قریشی کو کو کل پولیس نے حراست میں لیا ہے اور انھیں حبس بے جا میں رکھا گیا ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہمیں نہیں بتایا جا رہا شاہ محمود قریشی کہاں ہیں۔