پنجاب، کے پی الیکشن ازخود نوٹس: کیس سے الگ ہونے والے ججز نے اپنے نوٹس میں کیا کہا ہے؟

پیر کو از خود نوٹس کی سماعت تاخیر سے شروع ہوئی تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بتایا کہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظاہر علی نقوی، جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ نے بنچ سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ باقی بنچ کیس کی سماعت کرتا رہے گا۔

لائیو کوریج

  1. پی ٹی آئی کے 24 رہنما اور کارکن ڈسٹرکٹ جیل لیہ، 24 کو ڈسٹرکٹ جیل بھکر اور 25 راجن پور جیل منتقل

    PTIofficial

    ،تصویر کا ذریعہPTIofficial

    پاکستان تحریک انصاف کی جیل بھرو تحریک کے دوران گذشتہ روز لاہور سے گرفتار کیے گئے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کو صوبے کی دور دراز جیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی کے 24 رہنما اور کارکن ڈسٹرکٹ جیل لیہ منتقل کیے گئے ہیں جبکہ 24 کو ڈسٹرکٹ جیل بھکر اور 25 کو راجن پور جیل منتقل کیا گیا ہے۔

    شاہ محمود قریشی کو اٹک جیل جبکہ اعظم سواتی کو رحیم یار خان جیل منتقل کیا گیا ہے۔

    مراد راس کو ڈی جی خاں، سینٹر ولید اقبل کو لیہ اور عمر سرفراز چیمہ کو بھکر جیل منتقل کیا گیا ہے۔

    محمد مدنی کو بہاولپور اور اشد عمر کو راجن پور منتقل کیا گیا ہے۔

  2. سپریم کورٹ کے ججز کا کوڈ آف کنڈکٹ کیا ہے؟, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ کے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس عدالت عظمیٰ کے ججوں کے کوڈ آف کنڈکٹ (ضابطہ اخلاق) کی مبینہ خلاف ورزی کے تحت دائر کیا گیا ہے۔

    ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ میں یہ لکھا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے کسی بھی جج کا رویہ ایسا ہونا چاہیے کہ وہ خود کو قوم کا جج بنا کر پیش کرے۔ اس کے علاوہ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جج کو خدا کا خوف رکھنے والا، قانون کی پاسداری کرنے والا، اور سچ بولنے والا ہونا چاہیے۔

    ضابطہ اخلاق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی معاملے میں کسی جج کا ذاتی مفاد وابستہ ہو یا اگر وہ محسوس کرے کہ اس معاملے سے اس کو فائدہ پہنچ سکتا ہے تو وہ ایسے معاملے کی سماعت نہ کرے یا ایسے معاملے کی سماعت کرنے والے بینچ سے خود کو الگ کر لے۔

    ضابطہ اخلاق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا جج اپنے عزیزوں اور قریبی دوستوں سے ایک حد تک تحائف وصول کر سکتا ہے اور یہ تحفے صرف وہی ہو سکتے ہیں جو کہ روایت کے مطابق ہوں۔ عدالتی امور سرانجام دیتے ہوئے جج کا رویے میں نرمی ہونی چاہیے اور یہی رویہ دیگر ججز کے ساتھ بھی ہونا چاہیے۔

    اس ضابطہ اخلاق میں یہ بھی کہا ہے کہ جج انصاف کی فراہمی کے لیے فوری اور جلد اقدامات کرے۔

  3. بریکنگ, کوڈ آف کنڈکٹ کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    مظاہر نقوی

    ،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج جسٹس سید مظاہر علی نقوی کے خلاف کوڈ آف کنڈکٹ کی مبینہ خلاف ورزی کے الزامات کے تحت شکایت سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کر دی گئی ہے۔

    درخواست گزار میاں داؤد کی جانب سے دائر کردہ شکایت (جوڈیشل ریفرنس) میں جسٹس مظاہر نقوی پر مبینہ مس کنڈکٹ، بدعنوانی، ٹیکس تفصیلات میں ردوبدل، اقربا پروری اور ایک سیاسی جماعت کے لیے نرم گوشہ رکھنے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    یہ شکایت آئین پاکستان کے آرٹیکل 209 (5) کے تحت چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل (چیف جسٹس آف پاکستان) کے دفتر میں فائل کی گئی ہے اور اس میں جسٹس مظاہر علی نقوی کے خلاف الزامات کی جانچ پڑتال کے لیے انکوائری شروع کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ دنوں ایک آڈیو منظر عام پر بھی آئی تھی جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس میں بات کرنے والے افراد سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ اور جسٹس مظاہر نقوی ہیں۔

    یہ تفصیلات منظر عام پر آنے کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن نے جسٹس مظاہر نقوی کی غیرجانبداری پر سوالات اٹھائے تھے۔

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے گذشتہ روز کہا تھا کہ مسلم لیگ کے وکلا سپریم کورٹ سے استدعا کریں گے جسٹس مظاہر کو ن لیگ سے متعلقہ کیسز سننے والے عدالت عظمیٰ کے بینچوں کا حصہ نہ بنایا جائے۔

    دوسری جانب پاکستان بار کونسل نے بھی مبینہ آڈیو لیک سامنے آنے کے بعد عندیہ دیا تھا کہ وہ جسٹس مظاہر کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کریں گے۔

  4. ملک کے مختلف شہروں میں ’جیل بھرو تحریک‘ کا شیڈول جاری

    پاکستان تحریکِ انصاف نے ملک کے مخلتف شہروں میں جیل بھرو تحریک کا شیڈول جاری کیا ہے۔

    پی ٹی آئی کے مطابق جیل بھرو تحریک کے سلسلے میں آج پشاور میں عوام اور تحریک انصاف کے قائدین رضاکارانہ گرفتاریاں دیں گے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. پارٹی قائدین اور کارکنوں کو جن جیلوں میں لے جایا جائے گا ان جیلوں کے باہر احتجاجی کیمپ لگائیں گے، فواد چوہدری

    فواد

    ،تصویر کا ذریعہFawad Chaudhry

    تحریک انصاف کے رہنماوں کی مختلف جیلوں میں منتقلی کے حوالے سے تحریک انصاف نے جیلوں کے باہر احتجاجی کیمپ کی کال دی ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما فواد چودھری کے مطابق جن جیلوں میں پارٹی قائدین اورکارکنوں کو لے جایا جائے گا ان جیلوں کے باہر احتجاجی کیمپ لگیں گے۔

    ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکن ان تمام جیلوں کے باہر صدائے احتجاج بلند کریں گے۔

    فواد چودھری کے مطابق پی ٹی آئی کی مقامی تنظیمیں پارٹی رہنماوں اورکارکنوں والی جیلوں کے باہر کیمپ لگائیں گی۔

    ان کا کہنا ہے کہ لاہور سے 214 کارکن گرفتار ہوئے لیکن صرف 81 کی گرفتاری ظاہر کی جارہی ہے اور باقی گرفتار کارکنوں کے بارے نہیں بتایا جارہا۔

  6. گرفتار قائدین کے حوالے سے قانونی حکمت عملی، عمران خان نے لیگل ٹیم کا اجلاس طلب کر لیا

    PTIofficial

    ،تصویر کا ذریعہPTIofficial

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے لیگل ٹیم کا اجلاس آج زمان پارک میں طلب کر لیا ہے۔

    اجلاس میں پارٹی کے گرفتار قائدین کے حوالے سے قانونی حکمت عملی اختیار کی جائے گی اور جن پارٹی رہنماوں اور کارکنوں کی گرفتاریاں پولیس نے ظاہر نہیں کیں ان پر لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

    اجلاس میں مختلف بارز کے وکلا بھی عمران خان سے ملاقات کریں گے اور تحرِیکِ انصاف کے چیئرمین ان سے سیاسی اور قانونی محاذ پر متعدد معاملات بارے مشاورت کریں گے۔

  7. یہ ملک تب قائم رہ سکے گا جب یہ آئین و قانون کے مطابق چلے گا، اسد قیصر

    PTIofficial

    ،تصویر کا ذریعہPTIofficial

    سابق سپیکر قومی اسمبلی و مرکزی رہنما پاکستان تحریک انصاف اسد قیصر جیل بھرو تحریک کے حوالے سے گرفتاری دینے پشاور پہنچ گٸے ہیں۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ آج ہم حقیقی آزادی کے لیے نکلے ہیں اور جیل بھرو تحریک کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہم آئین کے مطابق ملک کو چلانا چاہتے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ یہ ملک تب قائم رہ سکے گا جب یہ آئین و قانون کے مطابق چلے گا۔

    اسد قیصر کا کہنا ہے کہ انھیں خوشی ہے کہ سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لے لیا ہے اور یہ سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کی حفاظت کرے اور ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ اپنا بنیادی کردار ادا کرے گا۔

    یاد رہے پاکستان تحریک انصاف کی جیل بھرو تحریک کے دوسرے روز آج خیبرپختونخواکے شہر پشاور سے پی ٹی آئی رہنما اور کارکناں گرفتاریاں دیں گے۔

    پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے پشاور کے کارکنان کو آج 11 بجے پشاور المنصور ہوٹل گلبہار پولیس سٹیشن پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  8. حراستی ملزمان کو عدالتوں میں پیش نہ کرنے پر سیشن جج لاہور تنویر اکبر کا نوٹس

    گذشتہ روز لاہور میں پاکستان تحریکِ انصاف کی جیل بھرو تحریکِ کے دوران گرفتار کیے گئے ملزمان کو عدالتوں میں پیش نہ کرنے پر سیشن جج لاہور تنویر اکبر نے نوٹس لے لیا ہے۔

    سیشن جج نے سی سی پی او کی طرف سے ملزمان پیش نہ کرنے کا مراسلہ واپس بھجوا دیا ہے۔

    سیشن جج کا کہنا ہے کہ حراستی ملزمان کو جیل سے عدالتوں میں پیش نہ کرنا غیر قانونی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حراستی ملزمان کو تاریخ پر پیش کرنا بنیادی حق ہے جس سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

    سیشن جج لاہور کا کہنا ہے کہ حراستی ملزمان کو ہر تاریخ پر عدالت میں پیش کرنا لازم ہے۔

    سیشن جج نے جوابی مراسلے میں کہا ہے کہ اگر کوئی مجبوری ہو تو باقاعدہ ایک دو روز پہلے آگاہ کیا جائے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ اچانک لیٹر بھجوا دیا جائے کہ ملزمان پیش نہیں کئے جا سکتے۔

    سیشن جج نے آئی جی پنجاب کو فوری معاملے پر نوٹس لینے کی ہدایت کی ہے۔

  9. ’عمران خان کے لیے ہم اپنی روایات کو توڑ کر جیل جانے کو تیار ہیں‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    خیبرپختونخوا سے پی ٹی آئی کی ریجنل واٸس پریذیڈنٹ گل نسرین کا کہنا ہے کہ ہمارے کلچر میں خواتین کے لیے گھروں سے نکلنا اور جیل جانے کو بہت برا سمجھا جاتا ہے لیکن عمران خان جیسے لیڈر کے لیے ہم اپنی روایات کو توڑ کر جیل جانے کے لیے تیار ہیں۔

  10. ہر حلقے کا ایم پی اے دو سو کارکنوں کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر گرفتاری دے گا، پی ٹی آئی خیبرپختونخوا

    پاکستان تحریکِ انصاف خیبرپختونخوا کے مطابق آج سے مرحلہ وار گرفتاریاں دی جائیں گی۔

    پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر، پرویز خٹک، عاطف خان اور اشتیاق ارمڑ سمیت لیڈر شپ گرفتاری دے گی۔پاکستان تحریکِ انصاف خیبرپختونخوا کے مطابق ہر حلقے کا ایم پی اے دو سو کارکنوں کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر گرفتاری دے گا۔

    سٹی صدر پشاور عرفان سلیم کا کہنا ہے کہ حکومت نے دفعہ 144 لگا کر خود ہی ہمیں ایک موقع دے دیا ہے اور ہم قانون کی بالادستی کے لیے نکلے ہیں۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ مختلف کیمپوں میں ہزاروں افراد رجسٹریشن کروا چکے ہیں۔

  11. بریکنگ, صدر عارف علوی نے فنانس (سپلیمنٹری) بل 2023 کی منظوری دے دی

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے فنانس (سپلیمنٹری) بل 2023 کی منظوری دے دی ہے۔

    یہ منظوری آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت دی گئی ہے۔

  12. جیل بھرو تحریک کا دوسرا دن آج پشاور کے نام، ہتھکڑی کو چوم کر آزادیوں کا پیغام دیں گے: فواد چوہدری

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ جیل بھرو تحریک کا دوسرا دن آج پشاور کے نام ہے اور تحریک انصاف خیبر پختونخواہ کی قیادت اور کارکنان آج پشاور میں گرفتاریاں دیں گے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ہتھکڑی کو چوم کر آزادیوں کا پیغام دیں گے، انشااللہ لاہور کی طرح پشاور بھی انصاف کے لیے اور مہنگائی کے خلاف گرفتاریوں کی اس تحریک کے لیے باہر نکلے گا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. خیبرپختونخوا میں جیل بھرو تحریک: پشاور سے پی ٹی آئی کارکنان آج گرفتاریاں دیں گے

    پاکستان تحریک انصاف کی جیل بھرو تحریک کے دوسرے روز آج خیبرپختونخواکے شہر پشاور سے پی ٹی آئی رہنما اور کارکناں گرفتاریاں دیں گے۔

    پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے پشاور کے کارکنان کو آج 11 بجے پشاور المنصور ہوٹل گلبہار پولیس سٹیشن پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔

    سابق گورنر خیبر پختونخواہ شاہ فرمان، عاطف خان، شہرام خان ترکئی سمیت سات سابق صوبائی وزرا بھی آج گرفتاری پیش کریں گے۔

    سابق وزرا سید محمد اشتیاق فضل الہی، ارباب وسیم اور ملک واجد بھی پارٹی کارکنوں کے ساتھ گرفتاری پیش کریں گے۔

    پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کا کہنا ہے کہ صوبائی قیادت اور کارکنان بڑی تعداد میں اپنی گرفتاریاں پیش کرکے ملک میں صاف شفاف انتخابات کے لیے تحریک کا آغاز کریں گے۔

    یاد رہے پی ٹی آئی نے گذشتہ روز لاہور میں گرفتاریاں پیش کی تھیں اور کل راولپنڈی میں گرفتاریاں پیش کرے گی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. بمشکل 80 افراد جیل میں موجود، ہم نے 500 کا انتظام کیا تھا، رانا ثنا اللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ جیل بھرو تحریک اپنی نمائش کے پہلے گھنٹے میں ہی مسترد ہو گئی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ بمشکل 80 افراد جیل میں موجود ہیں، ہم نے 500 کا انتظام کیا تھا۔

    انھوں نے لاہور کی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’25 مئی کو بھی اور اب بھی عوام نے انھیں (پاکستان تحریکِ انصاف) مسترد کیا ہے۔‘

  15. خوف کا بت ٹوٹ چکا ہے، فواد چوہدری

    تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ جیل بھرو تحریک کے پہلے مرحلے میں سات سو لوگ گرفتار ہوئے لیکن صرف اکاسی کے لگ بھگ گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ۔باقی لوگ یا تو رہا ہو گئے یا مختلف تھانوں میں ہیں۔

    فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ابھی مکمل معلومات حاصل کر رہے ہیں کہ کس کارکن کو کہاں رکھا گیا۔۔ بہرحال خوف کا بت ٹوٹ چکا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. پاکستان کا آئین اس وقت خطرے میں ہے اور سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے کہ آئین کو اصل حالت میں بحال رکھے، فواد چوہدری

    تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان کا صوبائی انتخابات کے معاملے پر سوموٹو لینا انتہائی خوش آئند ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کا آئین اس وقت خطرے میں ہے اور صرف سپریم کورٹ ہی وہ ادارہ ہے جس سے توقع بھی ہے اور ادارے کی ذمہ داری بھی ہے کہ آئین کو اصل حالت میں بحال رکھے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  17. پشاور میں دفعہ 144 نافذ، پانچ یا پانچ سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد

    صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت صوبہ بھر میں ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر دفاتر کھل گئے ہیں اور ڈپٹی کمشنر پشاور نے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔

    پشاور میں پانچ افراد کے ایک ساتھ اکٹھے ہونے پر پابندی عائد ہے اور خلاف ورزی پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    جیل بھرو تحریک کے حوالے سے اگر کوئی گرفتاری دینا چاہے تو قریبی ڈی سی آفس، اے سی آفس یا قریبی تھانہ میں جانا ہو گا۔

    DC Office

    ،تصویر کا ذریعہDC Office

  18. بریکنگ, سپریم کورٹ کا پنجاب، خیبرپختونخوا کے انتخابات میں تاخیر پر ازخود نوٹس، نو رکنی بینچ تشکیل

    supreme

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات میں تاخیر سے متعلق ازخود نوٹس لیتے ہوئے نو رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے جس کی سماعت کل سے شروع ہو گی۔

    چیف جسٹس کی جانب سے یہ نوٹس سپریم کورٹ کے دو ججز اعجاز الااحسن اور مظاہر نقوی کی طرف سے لکھے گئے نوٹ پر لیا گیا ہے۔

    یہ نو رکنی بینچ کل سے اس از خود نوٹس کی سماعت کرے گا۔

    نو رکنی بینچ میں جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے از خود نوٹس میں کہا ہے کہ ’عدالت کے دو رکنی بینچ کی جانب سے 16 فروری 2023 کو ایک کیس میں آئین کے آرٹیکل 184 تھری کے تحت از خود نوٹس لینے کی درخواست کی گئی تھی۔‘

    اس بینچ میں سینیئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود شامل نہیں ہیں۔

    خیال رہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں بالترتیب 14 جنوری اور 18 جنوری کو تحلیل کی گئیں تھیں۔

    چیف جسٹس کی طرف سے ازخود نوٹس میں لارجر بینچ کے لیے تین سوالات رکھے گئے ہیں جن پر غور کیا جائے گا۔ ان سوالات میں:

    • مختلف حالات میں صوبائی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد آئین میں صوبائی اسمبلی کے عام انتخابات کے انعقاد کے لیے تاریخ مقرر کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے؟
    • یہ آئینی ذمہ داری کب اور کیسے ہو گی؟
    • عام انتخابات کے انعقاد کے لیے وفاق اور صوبوں کی آئینی ذمہ داریاں اور فرائض کیا ہیں؟

    واضح رہے کہ 20 فروری کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں 9 اپریل کو انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا تھا۔

  19. لوگوں کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو باہر رکھا ہوا چوری کا پیسہ واپس لے آئیں: عمران خان, عمران خان کا شہباز شریف کی پریس کانفرنس پر ردِعمل

    imran

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    شہباز شریف کی پریس کانفرنس کے جواب میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ آج میرے دورِ حکومت سے تین گنا زیادہ مہنگائی ہے، وزیر اعظم کہہ رہے ہیں ابھی مزید مہنگائی ہو گی۔

    انہوں نے کہا کہ ’دس مہینے میں ان لوگوں نے پاکستان کے ساتھ جو کیا وہ دشمن بھی نہیں کرتا۔‘

    سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ ’آج شہباز شریف قوم کو کہہ رہے ہیں کہ مزید مہنگائی کے لیے تیار ہو جائیں، جب ہماری حکومت تھی تو آپ نے کس قسم کی تقریریں کیں؟

    عمران خان نے مزید کہا کہ ’دس اپریل سے حقیقی آزادی کی تحریک شروع کی ہوئی ہے، آج ہمارے دور سے تین گنا زیادہ مہنگائی ہے، مجھے لگا شہباز شریف نے کوئی بڑا فیصلہ کیا ہو گا، عوام کی فکر ہو گی، یہ 30 سال سے پیسہ چوری کر کے ملک سے باہر لے جا رہے ہیں، اگر عوام کی تکلیف کا احساس ہے تو چوری کا پیسہ واپس لائیں، کچھ کرنا چاہتے ہیں تو باہر سے پیسہ لے کر آئیں۔‘

    انہوں نے کہا کہ جیل بھرو تحریک خوف کی زنجیر توڑنے کے لیے شروع کی گئی، 90 دن کے بعد نگران حکومت نہیں رہ سکتی، چیف الیکشن کمشنر پر آرٹیکل 6 لگنا چاہیے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ جو مرضی کر لیں، حکومت ہماری ہی آنی ہے، 90 دن سے آگے الیکشن گئے تو پوری قوم کو نکلنا ہو گا، عوام نے اس ملک کے آئین کی حفاظت کرنی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’لگتا ہے جو جج ان کے خلاف فیصلہ کرے گا اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں، یہ مافیاز ہیں، یہ کبھی آزاد اور مضبوط عدلیہ برداشت نہیں کریں گے، جنھوں نے این آر او لینا ہے وہ کبھی قانون کی بالادستی نہیں ہونے دیں گے۔‘

  20. شاہ محمود قریشی اور اسد عمر سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں نے گرفتاری دے دی

    تحریک انصاف کی جیل بھرو تحریک قافلہ لاہور کے سی سی پی او آفس گرفتاریاں دینے پہنچا ہے۔ وہاں موجود ہماری نامہ نگار ترہب اصغر صورت حال سے آگاہ کر رہی ہیں اس فیس بک لائیو میں