پنجاب، کے پی الیکشن ازخود نوٹس: کیس سے الگ ہونے والے ججز نے اپنے نوٹس میں کیا کہا ہے؟

پیر کو از خود نوٹس کی سماعت تاخیر سے شروع ہوئی تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بتایا کہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظاہر علی نقوی، جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ نے بنچ سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ باقی بنچ کیس کی سماعت کرتا رہے گا۔

لائیو کوریج

  1. عمران خان کے خلاف سائفر مقدمے کی سماعت آج راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہو گی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف سائفر مقدمے کی سماعت آج راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں اب سے کچھ دیر کے بعد شروع ہوگی۔

    اس مقدمے کی سماعت کرنے والے جج نے دو روز قبل وزارت قانون کو عمران خان کی سکیورٹی کے بارے میں لکھتے ہوئے اس کی سماعت جیل کے اندر کرنے کے بارے میں این او سی مانگا تھا اور وزارت قانون نے ان کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے سائفر مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل میں کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا۔

    اس مقدمے میں دو ملزمان ہیں جن میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی شامل ہیں۔

    وزارت قانون کا نوٹیفکیشن اس مقدمے کے مرکزی ملزم عمران خان کی سماعت اڈیالہ جیل میں کرنے سے متعلق ہے جبکہ دوسرے ملزم شاہ محمود قریشی کو اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلکس میں خصوصی عدالت کے جج کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

    عمران خان کی لیگل ٹیم میں شامل شعیب شاہین ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ چونکہ اس مقدمے کا چالان عدالت میں جمع کروایا گیا ہے اس لیے عدالت ملزمان کو چالان کی نقول فراہم کرے گی اور آئندہ سماعت پر ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد کی جائے گی۔

    انھوں نے کہا کہ وزارت قانون کے نوٹیفکیشن سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ عمران خان کے خلاف اس مقدمے میں تمام تر عدالتی کارروائی اڈیالہ جیل میں ہی ہوگیگ

  2. صحافی ارشد شریف کی اہلیہ اور ان کے پروڈیوسر کی اسلام آباد کی مقامی عدالت میں عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری, فرحت جاوید، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    ارشد شریف

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے صحافی ارشد شریف کی اہلیہ صومیہ ارشد اور ان کے پروڈیوسر علی عثمان کی عدالت میں عدم حاضری کی بنیاد پر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

    صومیہ ارشد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھیں اس بات کا قطعاً علم نہیں کہ یہ وارنٹ کیوں جاری کیے گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ برس 23 اکتوبر کو پاکستانی صحافی ارشد شریف کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے قریب فائرنگ کے ایک واقعے میں مارے گئے تھے اور ان کی گاڑی پر نو گولیاں لگی تھیں۔

    ارشد شریف کی ہلاکت کی خبر سامنے آنے پر صحافیوں ، صحافتی تنظیموں اور سیاسی شخصیات کی جانب سے اس واقعے کی غیرجانبدارانہ اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ارشد شریف کی اہلیہ نے کہا کہ ’ارشد شریف قتل کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں جاری ہے اور ہم کسی سماعت سے غیرحاضر نہیں ہوئے۔‘

    ان کے مطابق ’مجھے کوئی نوٹس نہیں ملا اور میں نہیں جانتی کہ کون سی عدالت ان کے قتل کی تحقیقات کر رہی تھی۔‘

    خیال رہے کہ دونوں ناقابل ضمانت وارنٹ جوڈیشل مجسٹریٹ عباس علی شاہ نے جاری کیے جنھوں نے اس سے قبل حکم جاری کیا تھا کہ یہ دونوں افراد تھانہ رمنا میں درج اس مقدمے میں پولیس کے سامنے بیان دینے کے لیے پیش ہوں۔

    ارشد شریف کی اہلیہ صومیہ ارشد نے بتایا کہ ’ارشد شریف کے قتل کی ایف آئی آر سپریم کورٹ کے حکم پر درج ہوئی تھی لیکن ہم نے اس ایف آئی آر کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ وہ مقدمہ ہماری مدعیت میں درج ہوا نہ ہی اس میں ان افراد کو نامزد کیا گیا جن پر ہمیں شک تھا۔‘

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ارشد شریف کے پروڈیوسر علی عثمان نے کہا کہ انھیں بھی اس کیس سے متعلق کسی قسم کے نوٹس موصول نہیں ہوئے۔

    ’ہمیں بالکل علم نہیں کہ یہ کونسا کیس تھا اور اس کی کہاں کون سماعت کر رہا تھا۔ ہمیں وارنٹ گرفتاری کی بھی کوئی کاپی وغیرہ موصول نہیں ہوئی ہے۔‘

    خیال رہے کہ صحافی ارشد شریف کے گزشتہ برس کینیا میں قتل کے بعد سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا تھا اور سماعت کے آغاز میں ہی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا۔

    یوں ارشد شریف کے قتل کے تقریبا ڈیڑھ ماہ بعد اسلام آباد کے تھانہ رمنا میں ایس ایچ او رشید احمد کی مدعیت میں ارشد شریف قتل کی ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

    ارشد شریف

    ،تصویر کا ذریعہْْBBC

    ،تصویر کا کیپشنارشد شریف کی گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ کس وقت پیش آیا اس کے حوالے سے متضاد دعوے کیے گئے

    ایف آئی آر میں تین افراد کو نامزد کیا گیا تھا جن کے نام وقار احمد ولد افضل احمد، خرم احمد ولد افضال احمد، طارق احمد وصی ولد محمد وصی ہیں۔

    ایف آئی آر کے مطابق ملزمان کراچی کے رہائشی ہیں جن میں سے دو وقار اور خرم سگے بھائی ہیں جو کینیا میں مقیم ہیں۔

    ایف آئی آر کے متن میں لکھا گیا تھا کہ ’26 اکتوبر کو پمز ہسپتال سے ارشد شریف کا پوسٹ مارٹم کرایا گیا، قتل کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات ہورہی ہیں، پوسٹ مارٹم رپورٹ اورپارسل کے تجزیہ کی روشنی میں مزید کارروائی کی جائے گی، پانچ عدد پارسل مال خانہ میں رکھوا دیے گئے ہیں۔‘

    ایف آئی آر میں کہا گیا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کی موت اسلحہ کے فائر لگنے سے ہوئی، حالات و واقعات کے مطابق ارشد شریف کو نیروبی کینیا میں قتل کیا گیا، جس میں خرم احمد، وقار احمد اور طارق احمداور دیگر نامعلوم ملزمان قتل میں ملوث پائے گئے۔

    ارشد شریف کے قتل کے بعد عمران خان کی کابینہ کا حصہ رہنے والے فیصل واوڈا نےپریس کانفرنس میں دعویِ کیا تھا کہ ’صحافی ارشد شریف کو کینیا میں قتل کیا گیا جس کی منصوبہ بندی پاکستان میں ہوئی۔‘

    ان کے مطابق ارشد ملک واپس آنے کے خواہشمند تھے۔

    اس پریس کانفرنس کے چند ہی روز بعد ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کی جس میں اب تک ہونے والی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ان (ارشد شریف) کا ہمارے ادارے سے رابطہ تھا۔ انھوں نے ہمارے ایک جنرل سے رابطہ رکھا۔ انھوں نے واپسی کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔‘

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ پانچ اگست کو ارشد شریف کے لیے تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے ایک خطرے کا تھریٹ الرٹ جاری کیا گیا جس سے متعلق سکیورٹی اداروں کے پاس کوئی معلومات ہی نہیں تھیں۔‘

    ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے سپیشل جے آئی ٹی بھی تشکیل دی گئی تھی جس نے کینیا کا دورہ کر کے سپریم کورٹ کے رو برو اپنی تحقیقات جمع کروائی تھیں۔

  3. اسحاق ڈار نے نگران وزیراعظم بننے کی خواہش کا اظہار کبھی نہیں کیا، یہ محض قیاس آرائیاں ہیں: خواجہ آصف

    خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسحاق ڈار کے نگران وزیر اعظم بنائے جانے کی خبروں کو قیاس آرائیاں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس خواہش کا اظہار نہ کبھی وزیر خزانہ نے کیا نہ کسی پارٹی اجلاس میں بات ہوئی ہے۔

    خواجہ آصف نے جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ اسحاق ڈار نے نگران وزیراعظم بننے کی خواہش کا اظہار کبھی نہیں کیا اور یہ فیصلہ ہم نے نہ صرف اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر کرنا ہے بلکہ اپوزیشن کو بھی اعتماد میں لینا ہے۔‘

    خواجہ آصف کے مطابق ’اسحاق ڈار کے حوالے سے یہ بات میڈیا میں ہی آئی۔ میڈیا کے کسی زمہ دار صاحب نے اس کا عندیہ دیا جس کے بعد خبر آگے بڑھنا شروع ہوئی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’معاملات کو قیاس آرائیوں کی جانب جانے کے بجائے اس کی تصیح ہونا چاہیے اور ان افواہوں کو پنپنےکے بجائے دم توڑ دینا چاہیے۔‘

    وزیر دفاع نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا ’میں حلفاً آپ کو کہہ رہا ہوں کہ میری اپنی پارٹی کے کسی شخص سے بات نہیں ہوئی۔ میں اپنی سمجھ کے مطابق کہہ رہا ہوں کہ ہم کو اگلے تین میں میں ایسا ماحول رکھنا چاہیے کہ الیکشن پر کی شفافیت پر انگلیاں نہ اٹھیں۔‘

    انھوں نے عمران حان کا نام لیے بغیر ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہایک شخص آئندہ تین چار ہفتے میں ہر حربہ استعمال کرے گا کہ الیکشن پر سوال اٹھایا جا سکے، اسے کوئی موقع نہیں دینا چاہیے۔‘

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’نگران حکومت کے لیے قانون سازی اس لیے کر رہے ہیں کیوں کہ نگران دور میں آئی ایم ایف معاہدے میں رخنہ آنے کا خدشہ ہے، وزارت خزانہ کے لیے ماہر معیشت بھی اتفاق رائے سے تلاش کیا جا سکتا ہے۔`

    خواجہ آصف نے کہا ’میری رائے کے مطابق سیاسی قیادت کے قریب ترین کسی شخصیت کو نگران وزیراعظم کے عہدے پر نہیں ہونا چاہیے۔

    دوسری جانب رہنما پیپلزپارٹی ور وفاقی وزیر شیری رحمان نے اینکر شاہ زیب خانزادہ کےساتھ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے کسی نام پر اعتراض نہیں کیا، نگران وزیراعظم کے نام پر ن لیگ سے اب تک کوئی اتفاق نہیں ہوا،۔‘

    شیری رحمان نے دعویٰ کیا کہ ’ہم میں کوئی دراڑ نہیں، مل کر کام کررہے ہیں تاہم لیڈرشپ نے واضح کہا ہے کہ ہم غیر جانب دار سیٹ اپ کو ترجیح دیتے ہیں۔‘

  4. نو مئی کے بعد مجھ پر مقدمات کی نئی بارش ہو گئی ہے : عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ’کور کمانڈر کے گھر جو کچھ ہوا اس کی آذادانہ تحقیقات کروائی جائیں مگر ہماری کوئی سننے کو تیار نہیں۔‘

    سوشل میڈیا پر خطاب کے دوران عمران خان نے کہا کہ ’ میں چیلینج کرتا ہوں کہ کور کمانڈر کے گھر حملے کی آذادانہ تحقیقات کروائی جائیں تو پتہ چلے گا کتنی بڑی سازش ہوئی ہے۔ سب سے پہلے آئی جی پنجاب سے پوچھا جائے لیکن ان سے کیوں نہیں پوچھا جا رہا۔‘

    عمران خان نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’نو مئی کا انھوں نے پہلے سے پلان بنایا ہوا تھا اور ان کے اپنے بندے پہلے سے موجود تھے۔ان کی پوری کوشش ہے کہ ملک کی بڑی جماعت کو ختم کیا جائے۔‘

    عمران خان کے مطابق ’میرے اوپر اب ذیادہ تر کیسز دہشت گردی کی عدالتوں میں ہیں۔ تحریک انصاف کا کہیں کوئی مظاہرہ ہوتا ہے اس میں عمران حان کے اوپر دہشت گردی کا مقدمہ لگا دیا جاتا ہے۔

    انھوں نے کہا ’پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا کہ نو مئی کو عمران خان کو غیر قانونی طورپر اغوا کیا گیا۔ کمانڈو ایکشن کر کے مجھے اٹھایا گیا۔ کون سے پاکستانی لیڈر کو اس طرح تشدد کر کے اٹھایا گیا۔ مجھے ذلیل کیا گیا جس پر پورے پاکستان سے ری ایکشن آیا ۔ لوگوں نے میرے ساتھ ناانصافی کو جو دیکھا اس پر رد عمل آنا ہی تھا۔‘

    عمران خان نے الزام عائد کیا کہ ’انھوں نے کم از کم 25 لوگوں کو اس پر امن احتجاج میں مار کر قتل کر دیا۔ ہم نے جب 126 دن کا دھرنا دیا اس میں کیا کسی کو مارا گیا لوگ آتے تھے پر امن احتجاج کر کے چلے جاتے تھے تو یہ جو کچھ ہوا اس کی آذادانہ تحقیقات کروائی جائیں مگر ہماری کوئی سن ہی نہیں رہا۔‘

    چیئرمین پی ٹی آئی کے مطابق ’۔ جب بھی ہم کوئی ریلی، کوئی سیاسی سرگرمی کرنا چاہیں، دفعہ 144 نافذ اور عمران خان پر مقدمہ درج ہوجاتا ہے۔ دفعہ 144 لگتی ہی صرف پی ٹی آئی کے لیے ہے، فضل الرحمٰن نے 144 کے دوران ریڈ زون میں سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیا تھا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    عمران خان نے اپنے اوپر موجود کیسز کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ ’آج اوپر جوطاقتور بیٹھے ہوئے ہیں ان کے اربوں روپے کے کیسز معاف ہوئے ہیں۔ مجھ پر الزام ہے کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے چیزیں سستی ملیں تو اس وقت کے کیبنیٹ سیکریٹری اور ایف بی ار کے لوگ بھی موجود ہیں آپ ان کو بلا کر پوچھیں کہ کیا عمران خان نے کبھی کسی سے کہا کہ مجھے یہ تحائف سستی قیمت پر دو۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’توشہ خانہ کیس میں اگر کسی کو پکڑنا ہے تو مریم نواز ، نواز شریف اور آصف زرداری کو پکڑیں۔ توشہ خانہ میں قانون کے مطابق آپ گاڑی نہیں لے سکتے تو انھوں نے قانون توڑا ہوا ہے مگر انکو نہیں پکڑنا۔ ‘

    عمران خان کے مطابق ’توشہ خانہ پر نیب کا بھی کیس ہے اور الیکشن کمیشن میں بھی کیس ہے اور اس پر ایف آئی آر بھی کٹی ہوئی ہے۔ صرف اس لیے کہ عمران خان کو پکڑوانا ہے۔ شہباز شریف نے الزام لگایا کہ میں آرمی چیف کا قتل کروانا چاہتا ہوں۔ جھوٹے الزام لگانے میں یہ ماسٹر ہیں۔‘

  5. اسمبلیاں 13اگست کے بجائے 11 اگست کو بھی تحلیل ہوسکتی ہیں: رانا ثنا اللہ

    رانا ثنا اللہ

    ،تصویر کا ذریعہ@RanaSanaullahPK

    وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ انتخابات کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام ہے تاہم اسمبلیاں 13 اگست کے بجائے 11 اگست کو بھی تحلیل ہوسکتی ہیں۔

    جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ ‘ سوالات کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’’الیکشن کمیشن کو سہولت اور وقت دینے کے لیے اگر یہ اسمبلیاں 13 اگست کے بجائے 11 اگست کو معطل ہوجائیں گی تو انھیں 90 روز مل جائیں گے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انھیں 90 دن کے اندر ہی انتخابات کروانے ہیں بلکہ انتخابات 64 دنوں یا 74 دنوں میں بھی ہوسکتے ہیں۔‘

    رانا ثنا اللہ کے مطابق ’عدم اعتماد تحریک کامیاب ہونے کے بعد مسلم لیگ ن کا واضح موقف تھا کہ ہمیں الیکشن کی جانب جانا چاہیے۔ پارٹی بھی اور پارٹی کے قائد نواز شریف اس بات پر پوری طرح متفق ہیں کہ وقت پر انتخابات ہوں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم دوسرے اتحادیوں کے مؤقف کے ساتھ متفق ہو کر راضی ہوئے کہ ملک کو پہلے ڈیفالٹ کی صورت حال سے محفوظ کیا جائے اور حکومت جاری رکھی جائے۔‘

    رانا ثنا اللہ کے مطابق ’20 یا 30 دن سے کوئی خاص فرق پڑے گا، ہم نے معاملات آئینی تقاضوں کے مطابق پورے کیے ہیں اور کر رہے ہیں۔‘

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’جب انتخابی مہم شروع ہو گی تو میاں صاحب یہاں موجود ہوں گے۔ ٹکٹوں کی تقسیم کو بھی سپروائز کریں گے اور مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم کو لیڈ کریں گے۔‘

    دبئی میں نواز شریف کے ساتھ آصف ذرداری کی ملاقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایک معمول کی ملاقات ہوئی ہے، آصف زرداری اور بلاول بھٹو وہاں موجود تھے اور اس میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’جب سیاست دان بیٹھتے ہیں تو اس وقت کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوتا ہے لیکن وہاں نہ تو کوئی شیڈول ملاقات تھی اور نہ کوئی ایسے فیصلے ہوئے ہیں اور انتخابات کے حوالے سے مکمل وضاحت ہے کہ انتخابات آئین کے مطابق ہوں گے۔‘

  6. بریکنگ, عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں بھی وارنٹ گرفتاری جاری

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بحال کر دیے۔

    ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری توشہ خانہ کیس میں بحال کئے گئے ہیں جس کے بعد عمران خان کے آج دوسرے کیس میں وارنٹ گرفتاری جاری ہو گئے ہیں۔

    اس سے قبل خاتون جج کو دھمکی دینے کے کیس میں وارنٹ جاری ہوچکے ہیں۔

  7. عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی ریلی زمان پارک سے روانہ

    پاکستان تحریک انصاف کی انتخابی ریلی زمان پارک لاہور سے روانہ ہو گئی ہے۔ ریلی کی قیادت عمران خان کر رہے ہیں۔

    عمران خان کے ہمراہ تحریک انصاف کی سینئر قیادت اور کارکنان موجود ہیں

  8. یہ پیج اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ ۔

    یہ پیج اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ تازہ ترین خبروں کے لیے یہاں کلک کریں۔

  9. پنجاب، کے پی الیکشن ازخود نوٹس: کیس سے الگ ہونے والے ججز نے اپنے نوٹس میں کیا کہا ہے؟

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پیر کو پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے کیس کی سماعت سے پہلے سپریم کورٹ میں اعلان کیا گیا کہ 23 فروری کو ہونے والی سماعت کا فیصلہ ویب سائٹ پر اپلوڈ کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ چودہ صفحات پر مشتمل ہے جس میں بینچ سے الگ ہونے والے ججز کے نوٹس شامل ہیں۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل:

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے اپنے اضافی نوٹ میں لکھا ہے کہ انہیں بائیس تاریخ کو رات گئے ایک فائل ملی جس کے مطابق چیف جسٹس نے انتخابات کے معاملے پر ازخود نوٹس لے لیا ہے۔

    یہ ازخود نوٹس غلام محمود ڈوگر کی جانب سے کی گئی ایک پٹیشن پر ہونے و الے فیصلے کی بنیاد پر لیا گیا تھا جس میں عابد زبیری غلام محمود ڈوگر کے وکیل ہیں۔

    اضافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ 'غلام محمود ڈوگر کی پٹیشن پر ابھی فیصلہ نہیں ہوا تھا جب چیف الیکشن کمشنر، جو کہ اس کیس میں فریق نہیں تھے، کو بینچ نے طلب کیا اور پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے سوال پوچھا گیا۔'

    اضافی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 'یہاں یہ قابل ذکر ہے کہ تین آڈیوز منظرعام پر آئیں۔ رپورٹس کے مطابق ان ریکارڈنگز میں سے ایک میں عابد زبیری سابق چیف منسٹر سے غلام محمود ڈوگر کے کیس کے حوالے سے بات کر رہے ہیں، جو کہ میرے خیال میں بہت سنجیدہ (معاملہ) ہے۔'

    اضافی نوٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ دونوں ججز اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی نقوی نے پہلے ہی اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کا انعقاد نوے دن میں ہونا لازمی ہے اور یہ کہ آئین کی خلاف ورزی کا واضح خدشہ موجود ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاملے پر خود چیف جسٹس بھی اپنی رائے دے چکے ہیں۔ نوٹ کے مطابق ایسی حتمی رائے نے اس کیس کا فیصلہ کر دیا ہے اور فیصلہ بھی آئین کی شق 10 اے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

    'لہذا ان حالات میں آرٹیکل 184(3) کے تحت اس معاملے کو چیف جسٹس کے پاس ازخود نوٹس کے لیے بھیجنا مناسب نہیں تھا۔ ازخود نوٹس جسٹفائیڈ نہیں ہے۔'

    جسٹس سید منصور علی شاہ:

    جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے اضافی نوٹ میں لکھا ہے کہ 'یہ اس عدالت کے ہر جج کی آئینی اور قانونی فرض ہے کہ وہ چیف جسٹس کے بنائے گئے اس بینچ میں بیٹھے اور اس وقت تک مقدمے کی سماعت کرے جب تک کہ اس کے پاس اس کیس کی سماعت سے خود کو الگ کرنے کی ایک قانونی جواز موجود نہ ہو۔'

    انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے انہوں نے خود کو اس سماعت سے علیحدہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسے اپنا آئینی اور قانونی حق سمجھتے ہیں کہ وہ اس کیس سے متعلق اپنے تحفظات سامنے لائیں تاکہ ان کی خاموشی کو رضامندی نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 184 تھری کے تحت اس عدالت کے اصل دائرہ اختیار کو موجودہ کیس کے ساتھ ساتھ موجودہ بینچ کی تشکیل پر بھی از خود نوٹس لینے پر تحفظات کا اظہار کیا۔

    اضافی نوٹ میں ان کا مزید کہنا تھا کہ چیف جسٹس کو ازخود نوٹس کی سفارش کرنے والا (دو رکنی) عدالتی حکم ایک ایسے کیس میں دیا گیا تھا جس کا ہمارے سامنے موجود معاملے سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ انہوں نے مزید لکھا کہ اس فیصلے سے عوام میں یہ تاثر گیا کہ دو رکنی بینچ کی اس معاملے میں غیر ضروری دلچسپی ہے۔

    انہوں نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ اس سے منسلک عوام میں ایک تنازع موجود ہے جو مذکورہ (دو رکنی) بینچ کے ایک ممبر سے متعلق آڈیو لیکس سے جڑا ہے۔ تاہم عدالت کے اندر اور باہر سے کی گئی درخواستوں کے باوجود عدالت یا سپریم جوڈیشل کونسل کے آئینی فورم کی طرف سے ان الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

    نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ عوامی اہمیت کے اس معاملے میں مذکورہ بینچ کے ان ججوں کی موجودگی نامناسب ہے اور ان کی بنچ میں میں شمولیت اس لیے بھی زیادہ معانی خیز ہو جاتی ہے جب اس عدالت کے دیگر سینئر ججز بینچ میں شامل نہیں۔

    جسٹس یحیی آفریدی:

    جسٹس یحیی آفریدی نے بھی اپنے اضافی نوٹ میں اس معاملے کو ہائی کورٹ کی انٹرا کورٹ اپیل میں جاری سماعت سے جوڑتے ہوئے کہا کہ یہ عدالتی طور پر مناسب نہیں ہو گا کہ ایک آرٹیکل 184 تھری کے تحت ایک ایسی پٹیشن پر ازخود نوٹس لیا جائے جو پہلے ہی لاہور ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ میں زیرالتوا ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ آئین کے اس آرٹیکل کے تحت عدالت کا دائرہ اختیار آزاد اور حقیقی ہے اور یہ دائرہ اختیار کسی بھی دوسری عدالت یا فورم پر موجود کسی پٹیشن کے التوا سے متاثر نہیں ہو سکتا۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ عدالت کو خاص طور پر ایسے وقت میں صبر اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے جب لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے اس معاملے پر دیا گیا فیصلہ، اور پھر اس کے خلاف انٹراکورٹ اپیل زیرالتوا ہے جبکہ دوسری طرف فریقین کے مخصوص الزامات اور متزلزل بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ لہذا اس سماعت کے دوران کسی بھی قسم کے ریمارکس نہ صرف سیاسی جماعتوں کے جانب سے لگائے گئے الزامات کو بڑھاوا دیں گے بلکہ ہائی کورٹ کی دائرہ اختیار کو بھی متاثر کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ 'اسی لیے میں ان تینوں پیٹیشنز کو ڈس مس کرتا ہوں'۔ ان کا مزید کہنا تھا ان تینوں درخواستوں پر ازخود نوٹس لینا غیرمناسب ہے اور اسی لیے ان کی سماعت کا کوئی فائدہ نہیں۔ تاہم انہوں نے لکھا کہ وہ خود کو بینچ کا حصہ رکھنے یا نہ رکھنے سے متعلق فیصلہ چیف جسٹس پر چھوڑتے ہیں۔

    جسٹس اطہر من اللہ:

    جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا کہ وہ جسٹس یحییٰ آفریدی سے اتفاق کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کا حکم اوپن کورٹ میں جاری کارروائی اور حکم سے مطابقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے خیبرپختونخوا اور پنجاب میں اسمبلیوں کے تحلیل کیے جانے پر اپنے سوالات کو اضافی نوٹ کا حصہ بنایا۔

    انہوں نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ 'ہمارے سامنے اٹھائے گئے سوالات کو علیحدہ کر کے نہیں دیکھ اجا سکتا کیونکہ خیبرپختونخوا اور پنجاب کی صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کے حوالے سے آئینی حیثیت سے متعلق اٹھائے گئے سوالات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اسمبلیوں کی تحلیل کی قانونی حیثیت سے متعلق سوالات میں بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں شامل ہیں'۔

    انہوں نے کہا کہ ان کی تجویز تھی کہ اس معاملے پر غور کرنے سے قبل متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کی آئینی حیثیت کا بھی جائزہ لیا جائے۔

    نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ چیف جسٹس نے آرٹیکل 184 تھری کے تحت لیے گئے از خود نوٹس کے دائرہ اختیار کو قبول کرتے ہوئے مجوزہ سوالات کو غور کے لیے شامل کرلیا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے اسمبلیوں کے تحلیل ہونے سے متعلق تین سوالات اٹھائے ہیں:

    1: کیا صوبائی اسمبلی کی تحلیل کے لیے وزیر اعلیٰ کا مشورہ دینے کا اختیار مطلق ہے اور کیا اس کے استعمال کے لیے کسی ٹھوس آئینی وجہ کی ضرورت نہیں ہے؟

    2: کیا وزیر اعلیٰ اپنی آزادانہ رائے سے ایسا مشورہ دے سکتے ہیں یا کسی دوسرے شخص کی ہدایت پر ایسا مشورہ دے سکتے ہیں؟

    3: اگر ایک یا کسی اور وجہ کی بنیاد پر وزیراعلیٰ کی ایسی تجویز آئینی طور پر غلط ثابت ہوئی تو کیا تحلیل کردہ صوبائی اسمبلی کو بحال کیا جا سکتا ہے؟

    انہوں نے مزید لکھا 'کہ میرے خیال میں آرٹیکل 183 تھری کے دائرہ اختیار میں یہ پنہاں ہے کہ اس غیر معمولی اختیار کو فل کورٹ ہی استعمال کرے۔

    نوٹ میں کہا گیا ہے کہ اس پر چلنے والی کارروائی پر عوام کے اعتماد کو یقینی بنانے اور ہمارے سامنے اٹھائے گئے سوالات کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ آئین کی خلاف ورزی اور اس کی تشریح کے معاملے کی سماعت فل کورٹ کرے۔ لہٰذا اس تناظر میں آئین کے آرٹیکل 184 تھری کی مداخلت کی بھی تشریح درکار ہے۔

  10. ’جہاں گورنر ایڈوائس پر اسمبلی توڑے اور تاریخ نہ دے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ صدر تاریخ دے‘ جسٹس منیب

    سپریم کورٹ میں از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس منیب نے سوال کیا کہ کیا ایسی کوئی شق نہیں ہے کہ ملک میں کچھ بھی جائے الیکشن ملتوی نہیں ہوسکتے؟

    جس پر ڈی جی الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ سیکشن 58 کے تحت نا گزیر حالات میں الیکشن ملتوی ہوسکتا ہے۔

    جسٹس منصور علی نے ریمارکس دیے کہ جہاں گورنر ناکام ہوجائے وہاں صدر آئے گا۔ جس پر جسٹس منیب نے ریمارکس دیے کہ جہاں گورنر ایڈوائس پر اسمبلی توڑے اور تاریخ نہ دے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ صدر تاریخ دے۔ جسٹس منیب نے ریمارکس دیے کہ ایسے صورت میں آپ کو عدالت جانا ہوں گا۔

    جسٹس منیب نے مزید ریمارکس دیے کہ کچھ صورتوں میں آئین خاموش ہو تو پارلیمنٹ ایک منتخب ادارہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 1976 یہ اختیار الیکشن کمیشن کے پاس تھا اور گورنر کے حوالے سے آئین خاموش تھا پھر پارلیمنٹ نے مداخلت کی اور کہا کہ صدر کو اختیار حاصل ہو گا۔

    اس پر جسٹس منصور علی نے ریمارکس دیے کہ تینوں صورتوں میں تاریخ دینے کا اختیار گورنر کا ہی ہو گا۔

    جسٹس منصور علی نے دریافت کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ گورنر تاریخ نہ دے تو الیکشن کمیشن کو بڑھ کر تاریخ دینا چاہیے؟ بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیے کہ الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ گورنر اسمبلی تحلیل کرتا ہے تو تاریخ بھی گورنر دے گا۔

    اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دوسری صورت ہو گی تو الیکشن کمیشن ایکٹ کرے گا۔ جس پر علی ظفر نے دلائل دیے کہ گورنر تاریخ نہ دے تو صدر مملکت تاریخ دے گا۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ گورنر تاریخ دیتے وقت صرف تاریخ دے یا اس پر کوئی غور و فکر کرسکتا ہے ؟ جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن راضی تو ہو لیکن وسائل نہ ہوں تو پھر کیا ہوگا ؟

    جس پر بیرسٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دس سال الیکشن نہ ہوں۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ پورے پاکستان میں کرکٹ ہو رہی ہے لیکن انتخابات نہیں ہو سکتے۔ جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ابھی صرف تاریخ کی بات ہورہی ہے رشتہ نہیں ہوا، اس کی تاریخ بعد میں طے ہو گی۔

    جسٹس منصور علی شاہ کے ان ریمارکس پر کمرہ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھا۔

    اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کل صبح 9 بجے تک ملتوی کر دی ہے۔

  11. جنگ ہو یا کرفیو لگ جائے تو انتخابات کیسے ہوں گے؟ جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ میں از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس منصور نے سوال کیا کہ اگر الیکشن کے دن ملک میں جنگ ہو یا زلزلہ آجائے تو کیا ہو گا؟ ان کا کہنا ہے کہ انتخابات کی تاریخ گورنر دے دے تو بھی قدرتی آفات آسکتی ہیں۔ انھوں نے سوال کیا کہ جنگ ہو یا کرفیو لگ جائے تو انتخابات کیسے ہوں گے؟

    جس پر بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قانون میں سیلاب اور قدرتی آفات کا ذکر ہے جنگ کا نہیں۔ انھوں نے مزید دلائل دیے کہ الیکشن کمیشن مخصوص پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ ملتوی کر سکتا ہے۔

    علی ظفر نے مزید دلائل دیے کہ قانون میں جنگ کا کہیں ذکر نہیں اس کے لیے ایمرجنسی ہی لگائی جاسکتی ہے۔ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ سال 1976 میں آئین خاموش تھا کہ الیکشن کی تاریخ دینا کس کی ذمہ داری ہے۔

    انھوں نے مزید ریمارکس دیے کہ اسمبلی نے ترمیم کرکے صدر اور گورنر کو تاریخ دینے کا اختیار دیا ہے، پنجاب کی حد تک صدر نے شاید تاریخ درست دی ہو۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ سمری آنے پر اسمبلی تحلیل کا حکم جاری کرنا گورنر کی ذمہ داری ہے اور گورنر اپنے حکم میں انتخابات کی تاریخ بھی دے گا۔

    اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے دریافت کیا کہ کیا گورنر تاریخ نہ دے تو الیکشن کمیشن ازخود انتخابات کرا سکتا ہے؟ بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیے کہ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے اور اسے ہی اختیار ہونا چاہیے۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ آئین کو بالکل واضح ہونا چاہیے۔ جس پر چیف جسٹس سے ریمارکس دیے کہ پارلیمان نے الیکشن ایکٹ میں واضح لکھا ہے کہ صدر بھی تاریخ دے سکتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے سوال کیا کہ پارلیمان کی بصیرت کا کیسے جائزہ لیا جا سکتا ہے؟

    جسٹس منصور علی نے دریافت کیا کہ جہاں گورنر کچھ نہیں کرتا اسمبلی تحلیل میں وہاں تاریخ کون دے گا؟ جہاں وزیر اعلی اسمبلی توڑتا ہے، گورنر پکچر میں نہیں، وہاں گورنر کا کیا اختیار ہو گا؟

    انھوں نے مزید ریمارکس دیے کہ فرض کریں اس تاریخ پر جنگ شروع ہوجائے یا کوئی ایسا واقع ہو جائے اور الیکشن کمیشن الیکشن نہیں کرواسکتا تو الیکشن ایسے میں کیا کرے گا۔

    علی ظفر نے دلائل دیے کہ ایسے کسی واقعہ سے کوئی علاقہ یا کچھ علاقے متاثر ہوں تو ان حلقوں مین الیکشن ملتوی ہو سکتا ہے۔ فرض کریں کرفیو لگ جائے تو کیا ہو گا۔

    جس پر بیرسٹر علی ظفر نے جواب دیا کہ اس پر آئین خاموش ہے۔

    جسٹس منصور علی نے سوال کیا کہ ایمرجنسی کا نفاذ کس صورت میں ہو سکتا ہے؟ جس پر علی ظفر نے دلائل دیے کہ یہ صرف جنگ اور سیلابی صورتحال میں ہوسکتا ہے۔

    اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن نے ہائی کورٹ سے سٹاف مانگا ہے، ہائیکورٹ نے کہا ہم نے نہیں دے سکتے ،یہ آرگنائزنگ میں آتا ہے۔

  12. اسلام آباد سے پی ٹی آئی کے تین اراکینِ اسمبلی نے استعفوں کی منظوری کو چیلنج کر دیا

    اسلام آباد سے پی ٹی آئی کے تین منتخب ممبران قومی نے ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے اپنے استعفوں کی منظوری کو چیلنج کیا ہے۔

    درخواست میں الیکشن کمیشن اور سپیکر قومی اسمبلی کے نوٹیفکیشن کو معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

    بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر علی کے ذریعے دائر کی گئی درخواست میں وفاقی حکومت، سپیکر قومی اسمبلی، سیکرٹری قومی اسمبلی اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’الیکشن کمیشن نے 17 جنوری 2023 کو جاری نوٹیفکیشن میں پی ٹی آئی کے چند اراکین کے استعفے قبول کر لیے تھے، ہمارے استعفے 123 ممبران کے تھے اور تمام نے ڈی سیٹ ہونا تھا۔‘

  13. اسمبلی کی تحلیل کا نوٹیفکیشن کون جاری کرتا ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ میں از خود نوٹس کیس کی سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ اسمبلی کی تحلیل کا نوٹیفکیشن کون جاری کرتا ہے؟ جس پر بیرسٹر علی ظفر نے جواب دیا کہ اسمبلی تحلیل کا نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن نے جاری کیا۔

    اس پر جسٹس جمال نے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن اسمبلی تحلیل کا نوٹیفکیشن جاری کر سکتا ہے؟ جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ نوٹیفکیشن کے مطابق 48 گھنٹے گزرنے کے بعد اسمبلی ازخود تحلیل ہوئی۔

    جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا ہے کہ ریکارڈ کے مطابق نوٹیفکیشن حکومت نے جاری کیا ہے۔ جس کے بعد جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ نوٹیفکیشن سے پہلے کسی نے تو حکم جاری کیا ہی ہو گا؟

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ گورنر کا کردار پارلیمانی جمہوریت میں پوسٹ آفس کا ہی ہے۔ انھوں نے دریافت کیا کہ کیا گورنر اپنی صوابدید پر اسمبلی تحلیل کر سکتا ہے؟

    جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ گورنر کی صوابدید ہے کہ وہ کوئی سمری منظور کرے یا واپس بھیج دے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اسمبلی تحلیل پر گورنر کا کوئی صوابدیدی اختیار نہیں ہے اور گورنر اگر سمری منظور نہ کرے تو اسمبلی ازخود تحلیل ہوجائے گی۔

    جس کے بعد جسٹس منصور علی شاہ ریمارکس دیے کہ گورنر کی صوابدید یہ نہیں کہ اسمبلی تحلیل ہوگی یا نہیں۔ جس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ گورنر سمری واپس بھیجے تو بھی اڑتالیس گھنٹے کا وقت جاری رہے گا۔

    جسٹس جمال نے دریافت کیا کہ اگر گورنر سمری واپس بھیجے تو 48 گھنٹے کا وقت کہاں سے شروع ہوگا؟ جس پر بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیے کہ میری نظر میں گورنر اسمبلی تحلیل کی سمری واپس نہیں بھیج سکتا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گورنر اسمبلی تحلیل کی سمری کو واپس نہیں بھیج سکتا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کی تاریخ اور نگران حکومت کے لیے گورنر کو کسی سمری کی ضرورت نہیں ہے۔

    جس پر جسٹس منصور نے سوال کیا کہ کیا آرٹیکل 112تھری کے تحت گورنر ازخود اسمبلی تحلیل کرسکتا ہے؟ انھوں نے دریافت کیا کہ آرٹیکل 112 میں دو صورتیں ہیں کہ گورنر اسمبلی تحلیل کرنے کی منظوری دیتا ہے یا نہیں؟

    انھوں نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 112 کی ذیلی شق ون میں گورنر کی صوابدید ہے کہ تحلیل کریں یا نہیں، اب بتائیں کہ کیا گورنر کے پاس صوابدید ہے یا ان کا کردار مکینیکل ہے؟

    جسٹس جمال نے ریمارکس دیے کہ اگر اسمبلی 48 گھنٹے بعد تحلیل ہوتی ہے تو آئین کے تحت نوٹیفکیشن کون کرتا ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دییے ہوئے کہا کہ گورنر کے صوابدیدی اختیارات پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔

    اس موقع پر جسٹس منصور علی شاہ نے بیرسٹر علی ظفر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا علی صاحب آپ سب کے ہی سوالات پر کہہ رہے ہیں ’جی بالکل‘ کیا آپ سب کے سوالات سے اتفاق کرتے ہیں؟

  14. خیبر پختونخوا میں صورتحال پنجاب سے مختلف ہے: بیرسٹر علی ظفر

    سماعت کے دوران چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ خیبر پختونخوا میں انتخابات کے حوالے سے کیا پیشرفت ہوئی؟ بیرسٹر علی ظفر نے سماعت کے دوران اپنے دلائل میں کہا کہ خیبرپختونخوا میں صورتحال پنجاب سے مختلف ہے کیونکہ وہاں گورنر نے اسمبلی تحلیل کرنے کے فیصلے پر دستخط کیے مگر وہ الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کر رہے۔

    اس پر ایڈوکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ گورنر خیبرپختونخوا کہتے ہیں تاریخ دینے کے لیے 90 روز کی مہلت ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ اگر 90 دن تاریخ کے لیے ہیں تو الیکشن کب ہوں گے۔

    چیف جسٹس عمر بندیال کا کہنا تھا کہ پشاور ہائیکورٹ نے21 دن جواب جمع کروانے کے لیے دیے ہیں جبکہ یہ خالص آئینی سوال ہے اور ’قانونی نکتہ طے کرنا ہے کوئی دیوانی مقدمہ تو نہیں جو اتنا وقت دیا گیا‘۔ عدالت نے اس معاملے میں گورنر خیبرپختونخوا کے سیکرٹری کو پیر کو ہی جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ گورنر خیبر پختونخوا نے اپنے خط میں سکیورٹی کو بنیاد بنایا ہے اور الیکشن کمیشن کو سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا کہا ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ کیا گورنر کہہ سکتا ہے کہ دہشتگردی ہو رہی ہے سو مشاورت کی جائے؟ اس پر بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ’میری نظر میں گورنر کو ایسا خط لکھنے کا اختیار نہیں‘۔

  15. ’پہلے آپ، نہیں پہلے آپ چل رہا ہے جس کا نتیجہ تاخیر ہے‘

    سماعت کے دوران کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق اسمبلی کی تحلیل کے بعد 90 دن میں انتخابات لازمی ہیں اور کوئی آئینی عہدیدار بھی انتخابات میں 90 دن سے زیادہ کی تاخیر نہیں کر سکتا۔ انھوں نے کہا کہ پنجاب میں 90 دن کی آئینی مدت کا وقت 14 جنوری سے شروع ہو چکا ہے۔

    سابق سپیکر پنجاب اسمبلی کے وکیل کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے گورنر پنجاب کو خط لکھ کر پولنگ کی تاریخ دینے کے لیے کہا تو گورنر نے جواب دیا انھوں نے اسمبلی تحلیل نہیں کی تو تاریخ کیسے دیں؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے اور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ انتخابی عمل الیکشن سے پہلے شروع اور بعد میں ختم ہوتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عدالت گورنر یا الیکشن کمیشن کو تاریخ مقرر کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔

    بینچ کے رکن جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ گورنر پنجاب نے معاملہ الیکشن کمیشن کی کورٹ میں پھینک دیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ گورنر کے اسمبلی تحلیل کرنے اور آئینی مدت کے بعد اسمبلی کے ازخود تحلیل ہو جانے میں فرق ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’مختصراً یہ کہ گورنر نے تاریخ دینے سے انکار کر دیا، الیکشن کمیشن نے خط کا جواب دے دیا ہے اور اب بال آپ کے کورٹ میں ہے ، آپ فیصلہ کریں‘۔

    بیرسٹر علی ظفر نے اپنے دلائل میں کہا کہ عدالتی حکم پر ہونے والی الیکشن کمیشن اور گورنر کی ملاقات بےنتیجہ ختم ہوئی جس کے بعد ہی صدرِ پاکستان نے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے خود تاریخ مقرر کی۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ اس کے بعد کیا ہوا ہے جس پر بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ اس کے بعد سے اب تک کچھ نہیں ہوا۔ عدالت نے دریافت کیا کہ پی ٹی آئی نے گورنر کے خلاف درخواست دائر کی اس کا کیا فیصلہ ہوا؟ اس پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اس میں بھی کہا گیا ہے گورنر مشاورت کر کے تاریخ کا فیصلہ کرے۔

    جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ صدر مملکت کا خط ہائیکورٹ حکم سے متضاد ہے،ہائیکورٹ نے گورنر سے مشاورت کے بعد تاریخ دینے کو کہا جبکہ صدر نے الیکشن کمیشن کو تاریخ دینے کے لیے کہا۔

    جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے تو اپنے جواب میں خود لکھا کہ گورنر سے مشاورت آئین میں نہیں اور اگر مشاورت نہیں کرنی تو کمیشن پھر خود الیکشن کی تاریخ دے دیتا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ جو مجھے سمجھ آ رہی ہے اس کے مطابق الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ تاریخ کے لیے مشاورت آئین میں شامل نہیں جبکہ ہائیکورٹ نے گورنر سے مشاورت کا کہہ دیا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ گورنر سے مشاورت کا فیصلہ ہمارے راستےمیں ہے اور کیا الیکشن کمیشن اگر خود تاریخ دیدے تو یہ توہین عدالت ہو گی؟

    سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ ازخود نوٹس میں سوال ہے کہ انتخابات کی تاریخ کون دے گا۔

    جواب میں بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا تاریخ دینا آئینی عمل ہے۔ ’کسی نے تو انتخاب کی تاریخ کا اعلان کرنا ہے اور ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس عمل میں الیکشن دس سال تاخیر کا شکار ہو جائے۔‘

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ دوسرا فریق بتا دے کہ الیکشن کی تاریخ کس نے دینی ہے اور ’جسے یہ کہتے ہیں اسے تاریخ کا اعلان کرنے دیں‘۔ انھوں نے کہا کہ ’پہلے آپ، نہیں پہلے آپ چل رہا ہے جس کا نتیجہ تاخیر ہے‘۔

  16. ’کبھی ریاستیں بھی الفاظ سے کمزور ہوئی ہیں‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  17. بغاوت پر اکسانے کا مقدمہ: تحریک انصاف رہنما شہباز گل پر فرد جرم عائد ہونے کی کارروائی موخر, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں تحریک انصاف رہنما شہباز گل کی جانب سے اداروں کو بغاوت پر اکسانے کے کیس میں فرد جرم عائد ہونے کی کارروائی موخر کر دی گئی۔

    عدالت نے شہباز گل کی حاضری کی استثنا کی درخواست منظور کرتے ہوئے کہا کہ فرد جرم 11 مارچ کو عائد کی جائی گی۔

    شہباز گل نے سپریم کورٹ میں ارشد شریف از خود نوٹس کیس کےفیصلے تک سماعت روکنے کی استدعا کر رکھی تھی۔

  18. پنجاب، کے پی الیکشن ازخود نوٹس کیس: چار ججوں نے خود کو کیس سے الگ کر لیا

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی الیکشن پر ازخود نوٹس کیس میں نو رکنی بنچ میں شامل چار ججوں نے مشاورت کے بعد کیس کی سماعت کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔

    ان ججوں میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظاہر علی نقوی، جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں۔

    پیر کو جب تاخیر کے بعد از خود نوٹس کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے بتایا کہ چار ججوں نے بنچ سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ باقی بنچ کیس کی سماعت کرتا رہے گا۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئین کی تشریح کے لیےعدالت سماعت جاری رکھے گی۔ انھوں نے کہا کہ آئین کیا کہتا ہے اس کا دارومدار تشریح پر ہے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ منگل کو صبح ساڑھے نو بجے سماعت شروع کر کے معاملہ اسی دن نمٹانے کی کوشش کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن کے التوا پر ازخود نوٹس لیا تھا تاہم مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جے یو آئی ایف نے کیس کی سماعت کرنے والے نو رکنی بنچ میں شامل دو ججوں، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس اعجاز الاحسن پر اعتراض کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ ان ججوں کو بنچ سے الگ ہو جانا چاہیے۔

    سوموار کو سماعت سے قبل سپریم کورٹ کی جانب سے ایک مختصر فیصلہ سامنے آیا جس میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس جمال خان مندوخیل کے اضافی نوٹ شامل ہیں۔

    اس عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ 23 فروری کے فیصلے، چاروں ججوں کے اضافی نوٹ اور مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اس کیس کی سماعت کرنے والے بنچ کی تشکیل نو کے لیے چیف جسٹس سے رجوع کیا جائے۔

  19. پنجاب، کے پی الیکشن ازخود نوٹس کیس: چار ججوں کے تحفظات، نئے بنچ کی تشکیل کے لیے چیف جسٹس سے رجوع

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی الیکشن پر ازخود نوٹس کیس میں نو رکنی بنچ میں شامل ججوں نے مشاورت کے بعد چیف جسٹس سے سماعت کرنے والے بنچ کی تشکیل نو کے لیے رجوع کر کیا ہے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن کے التوا پر ازخود نوٹس لیا تھا تاہم مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جے یو آئی ایف نے کیس کی سماعت کرنے والے نو رکنی بنچ میں شامل دو ججوں، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس اعجاز الاحسن پر اعتراض کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ ان ججوں کو بنچ سے الگ ہو جانا چاہیے۔

    سوموار کو سپریم کورٹ کی جانب سے ایک مختصر فیصلہ سامنے آیا جس میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس جمال خان مندوخیل کے اضافہ نوٹ شامل ہیں۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ 23 فروری کے فیصلے، چاروں ججوں کے اضافی نوٹ اور مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اس کیس کی سماعت کرنے والے بنچ کی تشکیل نو کے لیے چیف جسٹس سے رجوع کیا جائے۔

  20. بریکنگ, امجد شعیب تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ سے سرکاری اہلکاروں کو بغاوت پر اکسانے کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے لیفٹیننٹ جنرل( ر) امجد شعیب کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

    امجد شعیب کو پیر کی صبح گرفتار کیا گیا تھا اور انھیں جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

    سماعت کے دوران تھانہ رمنا سے مقدمہ کے تفتیشی افسر اور پراسیکیوٹر عدنان بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے جنھوں نے ایف آئی آر کا متن پڑھ کر سنایا اور کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب پر لگی دفعات کے تحت 5 سال اور 7 سال کی سزا ہو سکتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ملزم کا فوٹوگرامیٹک اور وائس میچنگ ٹیسٹ کروانا ہے اور فوٹوگرامیٹک ٹیسٹ لاہور سے جبکہ وائس میچنگ اسلام آباد سے ہو گی اس لیے سات روزہ ریمانڈ دیا جائے

    عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر پبلک پراسیکیوٹر کی طرف سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو پیر کی دوپہر سنایا گیا۔