تحریک انصاف کی جانب سے 26 نومبر کو پریڈ گراؤنڈ میں عمران خان کے ہیلی کاپٹر لینڈنگ سے متعلق باضابطہ طور پر اسلام آباد انتظامیہ کو درخواست دے دی گئی ہے۔
تحریک انصاف 26 نومبر کو فیض آباد کے مقام پر عوامی اجتماع کا انعقاد کرے گی۔
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کا ہیلی کاپٹر پریڈ گراؤنڈ اسلام آباد میں لینڈ کرے گا جہاں سے وہ حقیقی آزادی مارچ کی قیادت کرنے کے لیے راولپنڈی روانہ ہوں گے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل، اسلام آباد میں دھرنے اور احتجاج سے متعلق پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے جو درخواست دائر کی گئی تھی وہ ضلعی انتظامیہ کے مطابق اب غیر مؤثر ہو چکی ہے۔
خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی پی ٹی آئی کو ضلعی انتظامیہ کو درخواست دینے کا کہا اور اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ کسی سیاسی جماعت کو جلسے کی اجازت دینے کا اختیار ضلعی انتظامیہ کے پاس ہے۔
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے ایڈووکیٹ جنرل کے توسط سے عدالت کو بتایا کہ ضلعی انتظامیہ روات کے قریب پی ٹی آئی کو جلسہ کرنے کی اجازت دے سکتی ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کے دوران بھی سپریم کورٹ نے یہ واضح کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی کوئی غیر قانونی کام کرتی ہے تو عدالت کا 25 مئی کا فیصلہ موجود ہے جو کہ عدالت نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے متعلق دیا تھا۔
سپریم کورٹ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو روکنے سے متعلق جمیعت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کی درخواست کو یہ کہہ کر مسترد کر چکی ہے کہ عدالت کسی بھی اقدام کو ہونے سے قبل اس بارے میں کوئی حکم جاری نہیں کرسکتی۔
سپریم کورٹ نے یہ آبزرویشن بھی دی کہ حکومت کے پاس لانگ مارچ کو روکنے کے لیے بہت سے قانونی اختیارات موجود ہیں۔
دوسری جانب سنہ 2018 میں فیض آباد پر ایک مذہبی جماعت کے دھرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے کے بارے میں ایک درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے اور اس درخواست میں وزارتِ دفاع اور وزارت داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے۔