جنرل قمر باجوہ نے پاکستانی فوج کی کمان جنرل عاصم منیر کے حوالے کر دی

جنرل عاصم منیر پاکستان کے 17 ویں فوجی سربراہ بن گئے ہیں۔ اپنے آخری خطاب میں اُنھوں نے نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ دوسری طرف اسلام آباد کی عدالت نے متنازع ٹویٹس کے مقدمے میں سینیٹر اعظم سواتی کا مزید چار روز کا ریمانڈ منظور کر لیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, جو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ فوج اور عوام میں دراڑ ڈال دیں گے وہ بھی ہمیشہ ناکام ہوں گے: قمر باجوہ

    آرمی چیف نے کہا کہ ’کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک میں ایک بیرونی سازش ہو اور مسلح افواج ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہیں گی؟ یہ ناممکن ہے بلکہ یہ گناہ کبیرہ ہے۔‘

    ’جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ فوج اور عوام میں دراڑ ڈال دیں گے وہ بھی ہمیشہ ناکام ہوں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ فوج کی قیادت کے پاس اس نامناسب یلغار کا جواب دینے کے لیے ذرائع اور مواقع موجود تھے لیکن فوج نے ملک کے وسیع تر مفاد میں حوصلے کا مظاہرہ کیا اور کوئی بھی منفی بیان دینے سے اجتناب کیا۔

    قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ’لیکن یہ بات سب کو ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اس صبر کی بھی ایک حد ہے۔ میں اپنے اور فوج کے خلاف اس نامناسب اور جارحانہ رویے کو درگزر کر کے آگے بڑھنا چاہتا ہوں کیونکہ پاکستان سب سے افضل ہے باقی سب کچھ آتی جاتی رہتی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’فوج نے تو اپنا کیتھراسس شروع کر دیا ہے مجھے امید ہے کہ ہماری سیاسی پارٹیاں بھی اپنے رویے پر نظر ثانی کریں گی۔ ’ہمیں غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے اور آگے بڑھنا چاہیے۔‘

  2. بریکنگ, جعلی اور جھوٹے بیانیے سے اب راہ فرار اختیار کیا جا رہا ہے: آرمی چیف

    آرمی چیف نے یہ بھی کہا کہ تنقید سیاسی پارٹیوں کا حق ہے لیکن الفاظ کا چناؤ اور استعمال میں احتیاط برتی جانی چاہیے۔

    ’ایک جعلی اور جھوٹا بیانیہ بنا کر ملک میں ہیجان کی کیفیت پیدا کی گئی اور ابھی اسی جھوٹے بیانیے سے راہ فرار اختیار کی جا رہی ہے۔‘

    آرمی چیف نے مزید کہا کہ سینیئر لیڈر شپ کو نامناسب القابات سے پکارا گیا۔

    ’میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ فوج کی قیادت کچھ بھی کر سکتی ہے مگر کبھی بھی ملک کے مفاد کے خلاف نہیں جا سکتی۔‘

  3. بریکنگ, چند حلقوں نے فوج کے سیاست میں عدم مداخلت کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور غیر شائستہ زبان استعمال کی: قمر باجوہ

    اپنی تقریر کے اختتام پر آرمی چیف نے کہا کہ وہ آج ملک کے موجودہ سیاسی حالات پر بھی بات کرنا چاہیں گے۔

    ’میں کافی سال سے اس بات پر غور کر رہا تھا کہ دنیا میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہندوستانی فوج کرتی ہے مگر ہم کم و بیش ہی ان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں‘

    ’اس کے برعکس ہماری فوج جو قوم کی خدمت میں مصروف رہتی ہے، تنقید کا نشانہ بنتی ہے۔‘

    ’میرے نزدیک اس کی سب سے بڑی وجہ گذشتہ 70 سال کی فوج کی سیاست میں مداخلت ہے جو کہ غیر آئینی ہے۔ اس لیے پچھلے سال فروری میں کافی سوچ و بچار کے بعد فوج نے فیصلہ کیا کہ آئندہ فوج کسی سیاسی معاملے میں مداخلت نہیں کرے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس پر سختی سے کاربند ہیں تاہم اس آئینی عمل کا خیرمقدم کرنے کے بجائے چند حلقوں نے آرمی کو شدید تنقید کا نشانہ بنا کر بہت غیر شائستہ زبان کا استعمال کیا۔‘

  4. بریکنگ, سابقہ مشرقی پاکستان ایک فوجی نہیں سیاسی ناکامی تھی: قمر جاوید باجوہ

    پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یوم شہدا کی تقریب سے خطاب میں یہ بھی کہا کہ ’میں آج آپ کے سامنے ایک اور موضوع پر بھی بات کرنا چاہتا ہوں جس پر عموماً لوگ بات کرنے سے گریز کرتے ہیں اور یہ بات ہماری 1971 کی فوج کی کارکردگی سے متعلق ہے۔‘

    آرمی چیف نے کہا کہ ’سابقہ مشرقی پاکستان ایک فوجی نہیں سیاسی ناکامی تھی۔ لڑنے والے فوجیوں کی تعداد 92 ہزار نہیں صرف 34 ہزار تھی، باقی لوگ حکومت کے مختلف محکموں میں تھے اور ان 34 ہزار کا مقابلہ ڈھائی لاکھ انڈین آرمی، دو لاکھ مکتی باہنی کی ٹرینڈ آرمی سے تھا۔‘

    ’اس سب کے باوجود ہماری فوج بہت بہادری سے لڑی اور بے مثال قربانیاں پیش کیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کی قربانیوں اور بہادری کا اعتراف انڈین آرمی چیف نے بھی کیا۔

    ’ان بہادر سپاہیوں کی قربانیوں کا اعتراف آج تک کسی نے نہیں کیا جو ایک بڑی زیادتی ہے۔‘

  5. بریکنگ, میں یوم شہدا کی تقریب سے بطور آرمی چیف آخری بار خطاب کر رہا ہوں: قمر جاوید باجوہ

    پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یوم شہدا کی تقریب سے خطاب میں کہا ہے کہ ’بطور آرمی چیف میں آخری بار خطاب کر رہا ہوں۔‘

    انھوں نے راولپنڈی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’جیسا کہ آپ جانتے ہوں گے کہ میں فوج کے لیے اپنی 44 سالہ زندگی کے بعد ریٹائر ہو رہا ہوں۔‘

    ’میں شہدا کی عظمت کو سلام پیش کرتا ہوں اور ان کے لواحقین کے صبر اور حوصلے کو داد دیتا ہوں اور انھیں یقین دلاتا ہوں کہ فوج کبھی انھیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔ ہم آپ کی قربانیوں کا صلہ نہیں دے سکتے مگر آپ کے پیاروں کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔‘

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یہ بھی کہا کہ ’فوج کا بنیادی کام جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت ہے مگر پاکستان فوج اپنی استعدداد سے بڑھ کر قوم کی خدمت میں مصروف رہتی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ریکوڈک کا معاملہ ہو یا کارکے کا جرمانہ، فیٹف کے نقصان ہوں یا فاٹا کا انضمام، سرحد پر باڑ لگانا یا قطر سے سستی گیس منگوانا یا دوست ملکوں سے قرض کا اجرا ہو یا کووڈ کا معاملہ، سیلاب کے دوران امدادی کام ہو یا کچھ اور فوج نے ہمیشہ اپنی استعدداد سے بڑھ کر کام کیا ہے۔‘

  6. عمران خان اور لانگ مارچ کے شرکا پر حملہ ہو سکتا ہے، تحریک انصاف عوامی اجتماع مؤخر کرے: وزارت داخلہ

    وفاقی وزارتِ داخلہ نے پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل اسد عمر کو حالیہ دہشتگردی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انھیں ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا ہے۔

    مراسلے میں حکومت کی جانب سے ان خدشات کا اظہار کیا گیا ہے کہ انتہا پسند جماعتیں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر دہشتگردی کا حملہ کر سکتی ہیں۔

    حکومت نے حملے میں بیرونی عناصر کی جانب سے بھی کارروائی کا بھی اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ اس مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ عوامی اجتماعات میں خودکش یا بم حملہ بھی ہو سکتا ہے۔

    اس مراسلے میں ’ذرائع‘ سے ملنے والی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اور ’حقیقی آزادی مارچ‘ کے شرکا کی زندگیوں کو شدید خطرہ اب بھی لاحق ہے۔ ان تمام خدشات کا اظہار کرتے ہوئے وزارتِ داخلہ نے پاکستان تحریک انصاف سے راولپنڈی میں عوامی اجتماع کو موخر کرنے کی اپیل کی ہے۔

  7. عمران خان کے لیے ہیلی پیڈ کی اجازت دینا انتظامیہ کا کام ہے، ہائیکورٹ کا نہیں: چیف جسٹس عامر فاروق

    ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے پی ٹی آئی کے جلسے اور پریڈ گراؤنڈ میں ہیلی کاپٹر اتارنے کی اجازت سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ ’ہیلی پیڈ سروسز ہائی کورٹ نہیں دے سکتی۔‘

    وکیل پی ٹی آئی نے مؤقف اپنایا کہ 26 نومبر کے لیے پی ٹی آئی نے راولپنڈی جلسے کی کال دی ہے اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ہیلی کاپٹر پر اسلام آباد آئیں گے۔ ’اس کی بھی اجازت مانگی ہے۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کی استدعا ہے میں ان کو وہ ہدایات دوں جو میں نہیں دے سکتا، یہ انتظامیہ کا کام ہے۔ جو درخواست آپ نے انتظامیہ کو دی وہ مسترد تو نہیں ہوئی ابھی؟‘

    چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ’ہائی کورٹ اس میں کیا کر سکتی ہے؟ ہیلی پیڈ سروسز ہائی کورٹ تو نہیں دے سکتی۔‘

    وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ ’آپ انتظامیہ کو ہدایت دیں کہ وہ قانون کے مطابق ہماری درخواست پر فیصلہ کریں۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’وہ تو انھوں نے قانون کے مطابق ہی کرنا ہے، میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ قانون کے مطابق نہ کریں۔‘

  8. دھرنوں کی پچھلی قسط میں جس کا بھی قصور ہوا اس کے خلاف کارروائی ہوگی: لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ

    تحریک انصاف، فیض آباد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ میں پی ٹی آئی مے احتجاجی دھرنوں کے خلاف درخواستوں پر سماعت جسٹس مرزا وقاص رؤف نے کی ہے۔

    اس موقع پر کمشنر راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر، سی پی او، سی ٹی او، ڈی آئی جی موٹروے، وزارت مواصلات کا نمائندہ اور آئی بی کا سیکشن افسر عدالت میں پیش ہوئے۔

    پی آئی کے جانب سے سے ایڈووکیٹ فیصل چودھری عدالت میں پیش ہوئے۔ ڈی جی آئی بی نے احتجاجی دھرنوں سے متعلق لفافہ بند رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’ڈی جی آئی بی سے پوچھیں، لفافہ بند رپورٹ کو ڈی سیل کیا جاسکتا ہے کہ نہیں۔ لفافہ بند رپورٹ درخواست گزاروں کو بھی فراہم کرنا ہوں گی۔‘

    دوسری طرف وزارت مواصلات، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ اور آر پی او راولپنڈی نے بھی عدالت میں رپورٹس جمع کرا دیں۔

    وکیل درخواست گزار ایڈووکیٹ ملک صالح محمد نے دلائل دیے کہ پی ٹی آئی 26 تاریخ کو دھرنہ دے رہی ہے اور ضلعی انتظامیہ تعلیمی اداروں کو بند کرنا چاہ رہی ہے۔

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’کل جو بھی صورت حال پیدا ہوگی، عدالت اس کو دیکھے گی۔ دھرنوں کی پچھلی قسط میں کس کا کیا کردار رہا، عدالت اس کو بھی دیکھے گی۔‘

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ جس کا بھی قصور ہوا قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

    کیس کی سماعت پانچ دسمبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

  9. جی ایچ کیو میں یوم شہدا، راولپنڈی میں تمام موبائل نیٹ ورکس کے سگنل چار بجے تک معطل

  10. آرمی چیف کی تعیناتی: پی ایم آفس کو سمری موصول، ’وزیر اعظم طریقہ کار کے تحت فیصلہ کریں گے‘

    وزیر اعظم آفس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسے آرمی چیف اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی سمری وزرات دفاع سے موصول ہوگئی ہے۔ ’وزیر اعظم تعیناتیوں کا فیصلہ وضع کردہ طریقہ کار کے مطابق کریں گے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. آرمی چیف کی تعیناتی کی سمری وزارتِ دفاع سے وزیرِ اعظم ہاؤس کو موصول: خواجہ آصف

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  12. آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے سمری وزارتِ دفاع بھجوا دی گئی ہے، آئی ایس پی آر

    آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور آرمی چیف کی تقرری کے لیے چھ سینیئر ترین جنرلز کے ناموں پر مشتمل سمری وزارتِ دفاع بھجوا دی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ قاعدے کے مطابق یہ سمری وزارتِ دفاع کے ذریعے وزیرِ اعظم تک پہنچائی جانی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. خواجہ آصف: آرمی چیف کی تعیناتی کی سمری موصول نہیں ہوئی

    وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ وزیرِ اعظم ہاؤس کو جی ایچ کیو سے آرمی چیف کی تقرری سے متعلق سمری موصول ہو گئی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. پاکستان انگلینڈ کرکٹ سیریز سے قبل برطانوی ہائی کمشنر اور رمیض راجہ کی عمران خان سے ملاقات

    Cricket

    ،تصویر کا ذریعہScreengrab

    انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان سے قبل پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر کرسٹیان ٹرنر نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیض راجہ کے ہمراہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ان کی لاہور میں واقع زمان پارک کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ہے۔

    خیال رہے کہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ میچز کی سیریز دسمبر میں کھیلی جائے گی جس کے لیے برطنوی ٹیم 27 نومبر کو پاکستان آئے گی۔

    اس ملاقات سے متعلق برطانوی ہائی کمشن نے بی بی سی کو بتایا کہ عمران خان کے ساتھ ہونے والی اس ملاقات میں انھیں برطانوی ہائی کمشنر اور چیئرمین پی سی بی کی طرف سے انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے جلد پاکستان کے دورے سے متعلق بتایا گیا ہے، جس میں دونوں ٹیمیں ٹیسٹ میچز میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گی۔

    PCB

    ،تصویر کا ذریعہScreengrab

    انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان پہلا ٹیسٹ ٹاکرا یکم دسمبر کو راولپنڈی میں ہوگا۔

    برطانوی ہائی کمیشن کے ترجمان کے مطابق ’یہ ملاقات انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے دورے اور دونوں ممالک کے درمیان جامع سیاسی روابط کے تناظر میں برطانیہ اب اس کرکٹ سیریز کے ذریعے پاکستان کے ساتھ اپنے کھیل اور ثقافتی تعلقات کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔

    اس ملاقات میں موجود تحریک انصاف کے ایک رہنما نے بی بی سی کو بتایا کہ عمران خان نے یہ اس سیریز کے کامیاب انعقاد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ چونکہ ان دنوں تحریک انصاف موجودہ حکومت کے خلاف ایک تحریک چلا رہی ہے اور 26 تاریخ کو راولپنڈی میں ایک بڑا احتجاج بھی ہو گا تو ایسے میں پاکستان کے کرکٹ بورڈ اور برطانیہ کو یہ تحریک انصاف سے یقین دہانی بھی درکار تھی۔

    عمران خان کے بھانجے حسان نیازی نے رابطہ کرنے پر بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس ملاقات میں کرسٹیان ٹرنر اور رمیض راجہ نے عمران خان کی خیریت دریافت کی اور لاہور کے قذافی سٹیڈیم کو لیز پر دینے سے متعلق بات چیت ہوئی ہے۔

  15. وزیراعظم شہباز شریف سے آصف زرداری کی ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال

    PM OFFIC

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے منگل کو وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ہے۔ وہ خود چل کر وزیراعظم ہاؤس گئے، جہاں شہباز شریف نے ان کا استقبال کیا۔

    سابق صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی مزاج پرسی کی۔ واضح رہے کہ حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف میں دوسری بار کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے سابق صدر کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ سرکاری بیان کے مطابق دونوں قائدین نے مجموعی ملکی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

  16. میرے خیال میں اگلے 24 گھنٹے تک سمری وزیراعظم تک پہنچ جائے گی: وزیردفاع

    COAS

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگلے 48 گھنٹوں میں آرمی چیف کی تقرری کا کام ہوگا۔

    ان کے مطابق کل تک وزارت دفاع کے پاس کل سینیئر افسران کے نام آ جائیں گے، ہم نام وزیراعظم کے حوالے کریں گے اور پھر وہ فیصلہ کریں گے۔

    ان کا کہنا تھاکہ سینیئرفوجی افسران کا نام بھیجنے کا استحقاق جی ایچ کیوکا ہے، سول ملٹری تعلقات میں قطعی کوئی تناؤ نہیں ہے۔

  17. صحافیوں کی تنظیم نے ارشد شریف کے قتل پر چیف جسٹس سے از خود نوٹس لینے کی اپیل

    Journalist

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کینیا میں قتل کیے جانے والے پاکستانی صحافی ارشد شریف کے معاملے پر پاکستانی صحافیوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے از خود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

    صحافی ارشد شریف کے قتل کا معاملہ فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے چیف جسٹس آف پاکستان کو ارشد شریف قتل کیس میں صاف اور شفاف تحقیقات کے لیے خط لکھ دیا ہے۔ یہ خط پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ کے دستخطوں کے ساتھ سپریم کورٹ کو بھیج دیا گیا ہے۔

    پی ایف یو جے نے ارشد شریف قتل میں سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی درخواست کی ہے۔

    خط میں لکھا گیا ہے کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہے، پوری قوم اس قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے۔

    پی ایف یو جے کے مطابق ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے، سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے۔

    PFUJ

    ،تصویر کا ذریعہPFUJ

    PFUJ

    ،تصویر کا ذریعہPFUJ

  18. آرمی چیف کی تعیناتی معمول کے مطابق ہونے کے بعد تحریک انصاف کی مزاحمتی سیاست ماند پڑ جائے گی: معاون خصوصی

    وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی فہد حسین نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی معمول کے مطابق ہونے کے بعد تحریک انصاف کی مزاحمتی سیاست ماند پڑ جائے گی۔

    انھوں نے اپنے ایک ٹویٹ تھریڈ میں کہا ہے کہ ’خان صاحب کی ٹھنڈی میٹھی تقاریر نے اس کا عندیہ دینا شروع کر دیا ہے۔ مگر خان صاحب کا یہ یو ٹرن پھیکا ہے کیونکہ اس کے عوض ان کو نہ الیکشن ملا نہ سلیکشن۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. جب تک الیکشن نہیں کرائیں گے، اس ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا: عمران خان کا ویڈیو لنک خطاب

    IK

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ویڈیو لنک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک الیکشن نہیں کرائیں گے، اس ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا۔

    عمران خان نے کہا کہ کہا جا رہا ہے کہ ہم اقتدار میں واپس آنے کے لیے یہ مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ہم نے اقتدار میں تو آ ہی جانا ہے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ جو حال موجودہ حکومت نے ملک اور معیشیت کا کر دیا ہے، اس کے بعد تو ہمیں مہم چلانے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے مطابق ہمیں صرف یہ خوف آتا ہے کہ یہ ملک کو ادھر لے جائیں گے جہاں سے سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے گا۔

  20. آرمی چیف کے اہل خانہ کے ٹیکس ریکارڈ لیک ہونے کا نوٹس، 24 گھنٹےمیں رپورٹ طلب

    جنرل باجوہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے اہل خانہ کے ٹیکس ریکارڈ لیک ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے 24 گھنٹوں میں ذمہ داروں کا تعین کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    وزارت خزانہ کے جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ آرمی چیف کے اہل خانہ کا ٹیکس ریکارڈ لیک ہونا ٹیکس قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

    اس حوالے سے وزیر خزانہ نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق محمود پاشا کو ذاتی حیثیت میں فوری طور پر تحقیقات کر کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے، ایف بی آر ڈیٹا چوری کرنے والے افراد کو ڈھونڈنے اور ان کی ذمہ داری کا تعین کر کے 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    تحقیقاتی رپورٹ میں ملوث پائے گئے ذمہ داران کے خلاف محکمانہ تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    خیال رہے کہ آرمی چیف اور ان کے اہل خانہ کے اثاثہ جات کے بارے میں مقامی ذرائع ابلاغ میں ذکر ہو رہا ہے۔