جنرل قمر باجوہ نے پاکستانی فوج کی کمان جنرل عاصم منیر کے حوالے کر دی
جنرل عاصم منیر پاکستان کے 17 ویں فوجی سربراہ بن گئے ہیں۔ اپنے آخری خطاب میں اُنھوں نے نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ دوسری طرف اسلام آباد کی عدالت نے متنازع ٹویٹس کے مقدمے میں سینیٹر اعظم سواتی کا مزید چار روز کا ریمانڈ منظور کر لیا گیا ہے۔
لائیو کوریج
بریکنگ, عمران خان راولپنڈی میں، پی ٹی آئی رہنماؤں کا جلسے سے خطاب
پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان آج پہلے نور خان ایئربیس پہنچے جہاں کچھ دیر قیام کے بعد وہ بذریعہ ہیلی کاپٹر راولپنڈی میں مری روڈ پر جلسہ گاہ کے قریب اتریں گے جہاں سے انھیں جلسہ گاہ لایا جائے گا۔
عمران خان کی آمد سے قبل جلسے سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے خطاب کیا۔
پی ٹی آئی کے خیبرپختونخوا سے آنے والے قافلے ہکلہ انٹرچینج پہنچ گئے
پاکستان تحریک انصاف کے راولپنڈی میں ہونے والے جلسے کے لیے خیبرپختونخوا سے آنے والے
قافلے ٹیکسلا
ہکلہ انٹرچینج پہنچ گئے ہیں۔
یہاں سے ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر جنوبی اضلاع اور
قبائلی علاقوں سے آنے والے قافلے ملیں گے اور ایک ساتھ راولپنڈی جلسہ گاہ جائیں گے۔
بریکنگ, پی ٹی آئی جلسہ کے سخت ترین سکیورٹی انتظامات، 300 سنائپرز تعینات
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پنجاب حکومت نے پی ٹی آئی کے جلسے اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جان کو
ممکنہ خطرات کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت ترین اقدامات کیے ہیں۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پنجاب حکومت نے جلسہ گاہ کی سکیورٹی کے لیے دس
ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا ہے۔ جب کہ سٹیج اور جلسہ گاہ کے اطراف میں بلند
عمارتوں پر 300 سنائپرز کو تعینات کیا گیا ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے جلسہ گاہ میں جیمرز بھی لگا دیے گئے ہیں جبکہ اسلام آباد
کو ملانے والی تمام چھوٹی بڑی سڑکوں کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے خیبرپختونخوا سے آنے والے قافلوں کی صورتحال
پاکستان تحریک انصاف کے راولپنڈی میں ہونے والے جلسے اور ممکنہ دھرنے میں
شامل ہونے کے لیے پشاور اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے روانہ ہونے والے پی
ٹی آئی کے کارکنوں کے قافلے صوابی انٹرچینج تک پہنچ گئے ہیں، اس مقام پر قافلے کی
کیا صورتحال ہے دیکھیے اس ویڈیو میں۔۔۔
پی ٹی آئی کے جلسہ گاہ سے بی بی سی کا فیس بک لائیو
راولپنڈی کے علاقے رحمان آباد میں پاکستان تحریکِ انصاف کے جلسے کی تیاریاں
جاری ہیں۔ جڑواں شہروں اور ملک بھر سے پی ٹی آئی کے کارکنان اور سپورٹرز وہاں جمع
ہو رہے ہیں۔ اس جلسے کے پیشِ نظر راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والی مختلف
سڑکیں بھی بند کر دی گئی ہیں۔
راولپنڈی میں کیا تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ جاننے کے لیے دیکھیے بی بی سی
اردو کا فیس بک لائیو۔
پی ٹی آئی کا راولپنڈی جلسہ: مرکزی سٹیج کی تیاریاں عروج پر، کارکن پرجوش
پاکستان تحریک انصاف کے راولپنڈی میں ہونے والے جلسے کے لیے مرکزی سٹیج کی
تیاریاں عروج پر ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق رحمان آباد کے علاقے میں مری روڈ پر
جلسے کے شرکا کے لیے کرسیاں لگائی جا رہی ہیں۔ سٹیج پر تمام تر انتظامات کو آخری
مراحل میں حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
جبکہ موقع پر موجود کارکنوں میں جوش و جذبہ دیکھا جا رہا ہے۔
اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری بھی جلسہ گاہ میں موجود ہے اور سکیورٹی کے سخت
انتظامات کیے گئے ہیں۔
پشاور سے پی ٹی آئی کا قافلہ پرویز خٹک کی سربراہی میں راولپنڈی کے لیے روانہ
پاکستان
تحریک انصاف کے احتجاجی جلسے کے لیے پشاور سے پی ٹی آئی کا قافلہ پی ٹی آئی کے رہنما
اور سابق وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں راولپنڈی کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔
پاکستان
تحریک انصاف کے صوبائی صدر اور سابق وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ ان کا ایک ہی
مطالبہ ہے اور وہ ہے انتخابات اور اس کے لیے جماعت کے سربراہ عمران خان جو بھی کہیں
گے وہ ویسا ہی کریں گے
انھوں
نے پشاور سے پی ٹی آئی کے حقیقی آزادی مارچ میں شرکت کے لیے پشاور سے روانہ ہوتے
وقت میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان بتائیں گے کہ وہاں کتنے دن رہنا ہے جو عمران خان کہیں گے
وہ کریں گے۔
ان سے
جب پوچھا گیا کہ کتنے لوگ پشاور سے ساتھ روانہ ہو رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا خود
گن لیں کتنے لوگ ساتھ ہیں۔ اور جب یہ قافلہ اسلام آباد پہنچے گا تو تعداد کہیں زیادہ
ہو گی۔ قافلے میں ان کے ساتھ سابق گورنر شاہ فرماناور دیگر قائدین بھی تھے۔
پی ٹی آئی راولپنڈی جلسہ: پشاور سے لانگ مارچ کے قافلے روانگی کے لیے تیار
پاکستان
تحریک انصاف کے راولپنڈی میں احتجاجی جلسے کے لیے لاہور اور پشاور سے قافلے روانہ
ہو رہے ہیں جبکہ چند ایک قافلے راولپنڈی پہنچ چکے ہیں۔
پی ٹی
آئی کا مرکزی جلسہ راولپنڈی کے علاقے رحمان آباد میں ہو رہا ہے۔
بی بی
سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق پشاور کے مختلف علاقوں سے پی ٹی آئی کے
کارکن لانگ مارچ میں شرکت کے لیے پشاور موٹر وے ٹول پلازہ پر اکٹھے ہو رہے ہیں۔ جہاں
سے وہ راولپنڈی کے لیے قافلے کی شکل میں راولپنڈی کے لیے روانہ ہوں گے۔
راولپنڈی اسلام آباد کے راستوں کی صورتحال
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ اور جلسہ کے پیش نظر راولپنڈی اور اسلام
آباد کے متعدد راستے ٹریفک کے لیے کھلے ہیں جبکہ چند مقامات پر رکاوٹیں لگا کر ٹریفک
کے لیے متبادل راستہ دیا گیا ہے۔
اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق لاہور راولپنڈی جی
ٹی روڈ پر روات ٹی کراس کے مقام پر راولپنڈی پشاور جی ٹی روڈ کو بند کر کے متبادل
راستہ دیا گیا ہے جبکہ اسلام آباد آنے والی ٹریفک کے لیے ایکسپریس وے پر صرف ایک
لین کھولی گئی ہے۔
کورال
چوک پر بھی اسلام آباد ایکسپریس وے سے راولپنڈی جانے والی ٹریفک پرانے ائیرپورٹ روڈ
کو استعمال کر سکتی ہے اور صرف ایک لین ٹریفک کے لیے کھلی ہے۔
جبکہ
اسلام آباد ایکسپریس وے کورال چوک کے مقام پر بند ہے۔
جڑواں
شہروں کو جوڑنے والے فیض آباد کے مقام پر اسلام آباد سے جانے کے لیے فیض آباد پل
کے نیچے ایکسپریس وے کھلی ہے۔ جبکہ فیض آباد سے آئی جے پی روڈ، مری روڈ اور راولپنڈی
جانے والے تمام راستے بند ہیں۔
آئی
جے پی روڈ فیض آباد جانے کے لیے اور اسلام آباد آنے کے لیے نائنتھ ایونیو سے ہر
قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے۔ اسی طرح فیض آباد بس اڈے کو بھی مکمل بند رکھا گیا
ہے۔
پشاور
جی ٹی روڈ پر 26 نمبر چونگی سٹاپ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھلا ہے۔ اسی طرح سرینگر
ہائی وے بھی اسلام آباد ائیرپورٹ اور موٹروے کی طرف جانے والی ہر قسم کے ٹریفک کے لیے
کھلی ہے۔
مری
روڈ پر فیض آباد کے مقام پر سڑک کے دونوں جانب رکاوٹیں کھڑی کی گئیں ہیں۔ اور
ٹریفک کو اسلام آباد ایکسپریس وے کی جانب موڑ دیا گیا ہے۔
اسلام
آباد کے ریڈ زون کی بات کریں تو ریڈ زون کے داخلی اور خارجی راستے نادرا چوک اور
ایکسپریس چوک سے بند کیے گئے ہیں۔ اور ریڈ زون جانے کے لیے مارگلہ روڈ اور ایوب
چوک کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔
جبکہ
سرینا ہوٹل چوک سے ریڈ زون داخلے کے لیے ایک لین کھلی ہے جبکہ وہاں سے واپسی کے
تمام راستے بند ہیں۔
پی ٹی آئی کی جانب سے راولپنڈی میں جلسہ گاہ تک پہنچنے کے راستے کا اعلان
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, اسٹیبلشمنٹ نے نئی شروعات کرنی ہے تو ان لوگوں کو فارغ کرے جنھوں نے ظلم کی انتہا کی ہوئی ہے: عمران خان
عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کے غیر سیاسی ہونے سے متعلق ایک سوال کہ جواب میں کہا کہ ادارے کی عزت اس کے اعمال کے باعث ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمارے ساتھ جو کچھ گذشتہ سات ماہ میں ہوا ہے، ہمیں الیکشن کمیشن، ایف آئی اے اور پولیس سے یہی سننے کو ملتا تھا کہ ہمیں پیچھے سے آرڈر آئے تھے۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’سب سے پہلے تو خدا کا واسطہ ہے آئین کے ساتھ چلو، ماورائے آئین کام نہ کرو۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ادارے اپنی عزت خود بناتے ہیں، اداروں کی عزت ان کے اعمال کی وجہ سے بنتی ہے، دنیا آپ کو عزت نہیں دے سکتی۔‘
عمران خان نے کہا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ نے ’نئی شروعات کرنی ہے تو ان لوگوں کو فارغ کرے جنھوں نے ظلم کی انتہا کی ہوئی ہے، سب کو پتا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں۔‘
اداروں میں جو دو تین کالی بھیڑیں بیٹھی ہوئی ہیں ان سے مسئلے تھے: عمران خان
عمران خان نے بول نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں اداروں سے جو مسئلے تھے وہ دو تین کالی بھیڑیں جو بیٹھی ہوئی ہیں ان سے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’ان لوگوں نے اس ملک کے لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی، آئین و قانون کی خلاف ورزی کی۔‘
عمران خان نے کہا کہ اگر ہمیں ان سے اختلاف ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ادارے سے اختلاف ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’کیا میری پارٹی میں سارے فرشتے ہیں، لیکن اگر میں اپنی پارٹی سے کسی کو نکالتا ہوں تو پارٹی مضبوط ہوتی ہے۔ اداروں میں ایسا نظام ہونا چاہیے جو انھیں مضبوط کرے۔‘
کل اپنی قوم کے لیے جا رہا ہوں، میری قوم میرے لیے آئے گی: عمران خان
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیرِ اعظم نے بول نیوز کے پروگرام پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل اپنی قوم کے لیے جا رہا ہوں، میری قوم میرے لیے آئے گی۔
انھوں نے کہا کہ ’کل جو جمع ہو رہے ہیں ہم اداروں اور لوگوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جاگی ہوئی زندہ قوم اس کو آزاد کرے گی۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’ملک بھی میرا ہے، اور فوج بھی میری ہے۔ میں وہ بندہ ہوں جو سمجھتا ہے کہ غلامی سے بہتر موت ہے۔‘
راولپنڈی میں پی ٹی آئی کے جلسے سے پہلے موٹر سائیکل ریلی
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پی ٹی آئی اگلے الیکشن کی تاریخ کے لیے اسٹیبلشمنٹ سے امید رکھنے کی بجائے اسمبلیوں میں آئیں: جاوید لطیف
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
عمران خان اب آپ کو پنڈی سے الیکشن کی تاریخ نہیں ملنی: رانا ثنا للہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
رانا ثنا اللہ کا مزید کہنا تھا کہ جس مقصد کے لیے آپ نے 26 نومبر کی تاریخ رکھی تھی آپ اس مقصد میں ناکام ہو گئے ہیں۔ عمران خان اب آپ کو پنڈی سے الیکشن کی تاریخ نہیں ملنی۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ کو استیبلشمنٹ سے تاریخ ملنی ہوتی تو آپ نے گذشتہ کئی ماہ سے جو تماشہ لگایا تھا مل جاتی لیکن اب یہ پرانی باتیں ہو گئی ہے۔ اب آپ کو الیکشن کی تاریخ ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے نہیں بلکہ سیاستدان بن کر ملنی ہے۔‘
رانا ثنا اللہ کا مزید کہنا تھا کہ میں عوام سے کہتا ہوں کہ یہ آزادی مارچ نہیں بلکہ یہ فتنا اور فسادی مارچ ہے۔
’یہ ملک کی معیشت کے خلاف ہے۔ یہ پاکستان کے مفادات کے خلاف مارچ ہے۔ میں پی ٹی آئی کی حمایت کرنے والوں سے کہتا ہوں جمہوری عمل میں ان کی حمایت کریں، انھیں بے شک ووٹ دیں لیکن اس فتنہ اور فساد سے عمران خان کو روکیں۔‘
ایجنسیوں کی رپورٹ ہے کہ عمران خان کی جان کو خطرہ ہے کل جلسہ ملتوی کر دیں: رانا ثنا اللہ
رانا ثنا اللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان صاحب آپ کی جان کو خطرہ لاحق ہے، آج میں نے سکیورٹی اجلاس بلایا تھا اور آپ کے سیاسی اجتماع کے حوالے سے ریڈ الرٹ ہے۔ بہتر ہے کہ آپ اس اجتماع کو منسوخ کر دیں۔
پاکستان کی فوج کی جانب سے اپنے آئینی کردار میں رہ کر کام کرنے کا اعلان ملک و قوم کے مفاد میں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ایک سیاستدان نے مسلح افواج پر طعنہ زنی کی اور مختلف حوالوں سے تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک سیاستدان کے علاوہ سب نے فوج کے آئینی کردار میں رہ کر کام کرنے کے عزم کا خیر مقدم کیا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مگر آپ بضد ہے، حکومت نے اس حوالےسے ایڈوائزری جاری کی ہے اور میں نے آئی جی پنجاب کو خود ہدایت کی ہے کہ پی ٹی آئی جلسے کے ارد گرد سخت سکیورٹی اقدامات کیے جائے اور سٹیج کو ہر وقت بلٹ پروف رکھا جائے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’سٹیج پر انٹری کے لیے ہر شخص کے آنے جانے کی نگرانی کی جائے۔
یہ وہ نکات ہیں جنھیں وفاقی حکومت نے ہر صورت میں یقینی بنانے کا کہا ہے۔
’بہتر ہے عمران خان اس جلسے کو منسوخ کریں، انھیں کل عوامی نمائندگی دیکھ کر شرمندگی ہو گی۔‘
’آپ کو شرمندہ کرنے کے لیے نہیں بلایا‘: عدالت میں پیشی کا احوال
عدالتی حکم پر فیصل واوڈا آج اپنے وکیل کے ہمراہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔
سماعت کی ابتدا پر چیف جسٹس نے فیصل واوڈا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ واضح بیان نہیں دیں تو آپ کے خلاف کاروائی کریں گے اور اگر غلطی تسلیم کریں گے تو آپ کے خلاف نااہلی کا فیصلہ ختم کر دیں گے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ آپ نے دوہری شہریت ترک کرنے کی درخوست دے رکھی تھی مگر اس پر منظوری نہیں ہوئی تھی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ غلطی تسلیم کرتے ہیں تو پانچ سال کے لیے نااہل ہوں گے اور اگر ایسا نہیں کرتے تو باسٹھ ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی پر کیس سنیں گے۔
انھوں نے کہا کہ اقرار کرتے ہیں تو ممکن ہے تریسٹھ ون سی کے تحت آپ کا کیس سنیں۔
بینچ میں موجود جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ سینٹ الیکشن لڑا تو دوہری شہریت نہیں تھی؟
چیف جسٹس نے فیصل واوڈا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انھیں شرمندہ کرنے کے لیے نہیں بلایا، ہمارا ارادہ نہیں کہ اراکین اسمبلی کو بے توقیر کیا جائے گا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نامزدگی اور ڈیکلریشن کے بارے میں اراکین کو سنجیدہ ہونا ہوگا۔ فیصل ووڈا نے اعتراف کیا کہ ایم این اے کا الیکشن لڑا، غلطی بیانی ہوئی۔ سینٹ الیکشن ہو چکا ہے اسے کالعدم قرار دے دیں۔‘
چیف جسٹس نے اس معاملے پر عدالت نے دس منٹ مشورہ بھی کیا ہے۔ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ اچھی نیت ظاہر کرنے کے لیے سینٹ سے مستعفی ہوں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ تین سال تک اپنی غلطی بیانی پر ڈٹے رہے۔
سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا کو اپنا استعفی فوری طور پر چیئرمین سینٹ کو بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے انھیں آئندہ جنرل الیکشن اور سینٹ انتحابات کے لیے اہل قرار دے دیا۔
بریکنگ, سپریم کورٹ نے غلطی تسلیم کرنے پر فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی ختم کر دی
،تصویر کا ذریعہFaisal Vowda/ Social Media
سپریم کورٹ آف پاکستان نے الیکشن کمیشن کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما فیصل واوڈا کی 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کو ختم کرتے ہوئے ان کی نااہلی کی مدت موجودہ اسمبلی کی حد تک قرار دی ہے۔
جمعہ کے روز ہونے والی سماعت کے دوران فیصل واوڈا نے عدالت میں اپنی غلطی تسلیم کر لی کہ انھوں نے سنہ 2018 کے انتخابات میں دوہری شہریت سے متعلق حقائق چھپائے۔ عدالت کے سامنے غلطی تسلیم کرنے پر سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا کی 63 ون سی کے تحت فیصل واوڈا کو اسمبلی کی موجودہ مدت کے لیے نااہل قرار دیا ہے۔
عدالت میں فیصل واوڈا نے سینیٹ رکنیت سے استعفیٰ کی یقین دہانی کروائی۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد سینٹ کی نشست بھی خالی قرار دے دی گئی تھی اور اس خالی نشست پر سندھ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے نثار کھوڑو کامیاب ہوئے تھے۔
فیصل ووڈا نے ان کی کامیابی کو بھی چیلنج کر رکھا تھا۔
اس کیس میں گذشتہ روز ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا کو دو آپشن دیے تھے کہ فیصل واوڈا اپنی غلطی تسلیم کریں اور 63 ون سی کے تحت نااہل ہو جائیں، بصورت دیگر عدالت 62 ون ایف کے تحت کیس میں پیش رفت کرے گی۔
عدالت نے قرار دیا تھا کہ دوسری آپشن کی صورت میں عدالت کے سامنے فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کے لیے کافی مواد موجود ہے۔
فیصل واوڈا کو اپنی غلطی تحریری طور پر تسلیم کرنے اور امریکاکی شہریت ترک کرنے کا سرٹیفکیٹساتھ لانے کا حکم دیا گیا تھا۔
پی ٹی آئی کو فیض آباد میں جلسے کی مشروط اجازت، 26 نومبر کی رات ہی جلسہ گاہ خالی کرنا ہو گا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
راولپنڈی کی مقامی انتظامیہ نے تحریک انصاف کو فیض آباد کے مقام پر جلسے کی مشروط اجازت دیتے ہوئے 26 نومبر کی رات تک جلسہ گاہ کو خالی کرنے کی ہدایت دی ہے۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے راولپنڈی میں جلسے اور دھرنے کے لیے اجازت نامہ مانگا گیا تھا جس کے جواب میں ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کی جانب سے تفصیلی جواب میں سکیورٹی خدشات سمیت 27 تاریخ سے راولپنڈی میں انگلینڈ کرکٹ ٹیم کی آمد کا تذکرہ کیا ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جس مقام پر جسلہ کرنے کی اجازت مانگی گئی وہاں پر سکیورٹی کے خدشات ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر تحریک انصاف جلسہ کرنا چاہتی ہے تو عمران خان کو وہی روٹ استعمال کرنا ہو گا جو قانون نافذ کرنے والے ادارے اور مقامی انتظامیہ منتخب کریں گے۔
انتظامیہ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جلسے کے بعد اس مقام کو خالی کر دیا جائے گا اور جلسے کے دوران ریاست، افواج پاکستان اور عدلیہ کے خلاف تقریر کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ عمران خان جلسہ سے پہلے اور بعد میں سن روف والی گاڑی استعمال نہیں کریں گے جبکہ علامہ اقبال پارک کو کارکنان کے رکنے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا اور پروگرام کے بعد بالکل خالی کر دیا جائے گا۔
انتظامیہ کے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ کسی طریقہ کے بھی جانی نقصان کی ذمہ دار جلسہ انتظامیہ ہو گی اور شرائط و ضوابط کی عدم پیروی پر جلسہ انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔