بریکنگ, عمران خان کا اعظم سواتی کی گرفتاری پر بیان: ’حیران ہوں ہم کتنی تیزی سے فسطائی ریاست کی جانب بڑھ رہے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے اداروں کے خلاف متنازع بیانات پر دوبارہ گرفتار ہونے والے سینیٹر اعظم سواتی کے حوالے سے بیان میں کہا کہ ’حیران ہوں ہم کتنی تیزی سے ایک فسطائی ریاست کی طرف بڑھ رہے ہیں۔‘
سابق وزیر اعظم عمران خان نے سینیٹر اعظم سواتی کی دوبارہ گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ’حیران ہوں ہم کتنی تیزی سے نہ صرف ایک بنانا ریپبلک بلکہ فسطائی ریاست کی طرف بڑھ رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’سینیٹر اعظم سواتی کو دوران حراست تشدد اور بلیک میل کرنے کی ویڈیو ان کی بیوی کو بھیجنے کی تکلیف کو کوئی کیسے نہیں سمجھ سکتا؟ ناانصافی پر اعظم سواتی کا غصہ اور مایوسی جائز ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ’اعظم سواتی کی حمایت میں سینیٹرز کی اپیلوں کے 15 دن سے زیادہ گزرنے کے باوجود سپریم کورٹ کے دروازے ان کے لیے بند رہے، وہ ٹویٹ کرتے رہے اور دوبارہ گرفتار ہو گئے ، اس ریاستی فاشزم کے خلاف سب کو آواز اٹھانا ہو گی۔‘
یاد رہے کہ ایف آئی اے نے سینیٹر اعظم خان سواتی کو سوشل میڈیا پر متنازع بیانات کے الزام میں اتوار کی صبح دوبارہ گرفتار کیا ہے اور ان کے خلاف سائبر کرائم کے تحت مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
اعظم سواتی کی دوبارہ گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے بھی کہا کہ ’میں اعظم سواتی کی دوبارہ گرفتاری کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ یہ اپنے جمہوری حقوق کا مطالبہ کرنے والے پاکستانی شہریوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے؟ کیا اس فاسشٹ حکومت کے ان کا حراستی تشدد، بلیک میلنگ اور ان کے وقار کے حق سے مکمل انکار کافی نہیں تھا؟






