فیصل واوڈا کی پارٹی رکنیت معطل، شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا
تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری اسد عمر نے فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فیصل واوڈا کا بیان پارٹی پالیسی اور خیالات کی عکاسی نہیں کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے سندھ کے صدر کو چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی ہدایات پر فیصل واوڈا کو پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر شوکاز نوٹس بھیجنے کا کہا گیا ہے۔
لائیو کوریج
نیب ترامیم کے خلاف درخواست پر سماعت آج ہو گی
عمران خان کی سپریم کورٹ میں دائر کردہ نیب ترامیم کے خلاف درخواست پر سماعت آج دوپہر ایک بجے ہو گی۔
گذشتہ روز کی سماعت میں عدالت نے کہا تھا کہ وہ پارلیمانی قانون سازی میں مداخلت نہیں کر سکتی۔
،تصویر کا ذریعہSCP
پاکستانی حکومت شاہ رخ جتوئی کی بریت کے خلاف درخواست دائر کرے گی
پاکستان کے اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے شاہ زیب قتل کیس میں شاہ رخ جتوئی کی بریت پر اٹارنی جنرل کی رائے نہیں لی حالانکہ اس کیس کو خود سپریم کورٹ نے آئینی اہمیت کا کیس قرار دیا تھا، جس میں اٹارنی جنرل کی معاونت لینا ضروری ہے۔
اٹارنی جنرل کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کا یہ مؤقف منظور کیا تھا کہ ملزمان کا ٹرائل انسدادِ دہشتگردی کے قوانین کے تحت ہونا چاہیے۔
،تصویر کا ذریعہAGfP
ملک کے تجارتی خسارے میں 30 فیصد سے زائد کی کمی, تنویر ملک، صحافی
پاکستان کے تجارتی خسارے میں ستمبر کے مہینے میں 30 فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کی وجہ ملکی درآمدات میں رواں مہینے میں ساڑھے 18 فیصد کی کمی تھی۔
دوسری طرف برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں دیکھا گیا اور یہ اضافہ صرف ڈیڑھ فیصد رہا۔ ستمبر کے مہینے میں پیٹرولیم مصنوعات اور کوئلے کی درآمدات میں تقریبآ 80 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جس کی وجہ ان کی عالمی قیمتوں میں کمی کے ساتھ ان کی ملک کے اندر کھپت میں کمی بھی تھی۔
سپریم کورٹ کا واپس ہونے والے نیب ریفرنسز کا ریکارڈ محفوظ بنانے کا حکم
سپریم کورٹ میں منگل کو نیب ترامیم کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی جس میں سپریم کورٹ نے واپس ہونے والے نیب ریفرنسز کا تمام ریکارڈ محفوظ بنانے کا حکم دے دیا ہے۔
عدالت نے کہا ہے کہ تمام ریکارڈز کو ڈیجیٹائز بھی کیا جائے، ساتھ ہی ساتھ عدالت نے واپس ہونے والے تمام ریفرنسز کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کی۔
پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث احمد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترمیم کے ذریعے رینٹل پاور کیس سمیت بڑے مقدمات ختم کر دیے گئے اور تیسرے فریق کے مالیاتی فائدے کو نیب دسترس سے باہر کر دیا گیا ہے۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت اب بھی نیب قانون کو جانچنے کے لیے ایک ’کسوٹی‘ کی کھوج میں ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عدالت قانون ڈیزائن کر کے پارلیمنٹ کو کیسے بھیج سکتی ہے، کل کوئی شہری آجائے گا کہ 10 روپے کرپشن پر بھی نیب تحقیقات کرے یہ سلسلہ کہیں تو رکنا چاہیے۔
اُنھوں نے کہا کہ ’ہم پارلیمان کے امور میں کیوں اور کیسے مداخلت کر سکتے ہیں، نیب قانون کیا ہونا چاہیے؟ یہ سپریم کورٹ کیسے تعین کر سکتی ہے۔‘
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید
ہمارے نئے لائیو پیج پر خوش آمدید۔ گذشتہ روز کی خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔