فیصل واوڈا کی پارٹی رکنیت معطل، شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا
تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری اسد عمر نے فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فیصل واوڈا کا بیان پارٹی پالیسی اور خیالات کی عکاسی نہیں کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے سندھ کے صدر کو چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی ہدایات پر فیصل واوڈا کو پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر شوکاز نوٹس بھیجنے کا کہا گیا ہے۔
لائیو کوریج
بریکنگ, عمران خان کا جمعے کو لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہPTI
سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا آغاز جمعے کو ہوگا۔
لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا کہ یہ لانگ مارچ لاہور کے لبرٹی چوک سے شروع ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’(ہم) جمعے کو لانگ مارچ شروع کر رہے ہیں۔ 11 بجے لبرٹی چوک جمع ہوں گے اور وہاں سے اسلام آباد کے لیے لانگ مارچ شروع ہوگی۔‘
چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ضمنی انتخابات جیتنے پر ان کی پارٹی کی قیادت کے خلاف ’کیسز کی بارش‘ کی گئی اور ان کے خلاف دہشتگردی کے پرچے کاٹے گئے۔
’یہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا عوام کا سمندر ہوگا۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کی قیادت کون کرتا ہے، اس کا فیصلہ عوام کریں۔‘
انھوں نے کہا کہ صحافیوں کے منھ بند کیے گئے، چینلز پر پابندیاں لگائی گئی اور ان کے رہنماؤں پر تشدد کیے گئے۔ ’ڈاکوؤں کے کیس معاف کیے جا رہے ہیں۔‘
وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات
،تصویر کا ذریعہForeign Office
وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے سیلاب متاثرہ افراد کی بحالی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق اس ملاقات میں باہمی تعلقات کے فروغ اور تجارتی روابط میں مزید اضافوں پر بات چیت ہوئی۔
ارشد شریف کی میت آج شب اسلام آباد پہنچے گی
صحافی ارشد شریف کی میت کینیا سے پاکستان کے لیے روانہ کی گئی ہے اور یہ آج شب ایک نجی پرواز کے ذریعے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پہنچے گی۔
ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس میت کو وزیر داخلہ رانا ثنا االلہ وصول کریں گے۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے صالح محمد کی ضمانت منظور کر لی
،تصویر کا ذریعہIslamabad Police
انسداد دہشت گردی عدالت نے تحریک انصاف کے ایم این اے صالح محمد کی ضمانت منظور کر لی ہے۔
اس درخواست پر انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس حسن نے فیصلہ سنایا اور ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا گیا۔
صالح محمد کو الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کرنے اور ان کے سکیورٹی گارڈ کی طرف سے مبینہ طور پر فائرنگ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ان کے خلاف درج مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئی تھیں اور اسلام آباد پولیس نے گرفتاری کے موقع پر ان کی ایک تصویر بھی جاری کی تھی جسے سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
توہینِ الیکشن کمیشن پر شوکاز نوٹس معطل کرنے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج
،تصویر کا ذریعہGetty Images
الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سمیت پارٹی رہنماؤں کے خلاف توہین کمیشن پر شوکاز نوٹس معطل کرنے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔
سپریم کورٹ میں دائر کی گئی اس درخواست میں لاہور ہائیکورٹ کا 21 ستمبر کا عبوری حکم کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
اس درخواست میں
مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے،
جس نے قانون کے مطابق عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کو نوٹس جاری کیے۔ ’تینوں افراد کی جانب سے تسلی بخش جواب نہ ملنے پر شوکاز نوٹس جاری کیے گئے۔‘
درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 10 آرٹیکل 175
اور 204 سے متصادم نہیں۔ ’لاہور ہائیکورٹ کے عبوری حکم سے
الیکشن کمیشن کا اختیار کم کرنے کی کوشش کی گئی۔‘
الیکشن کمیشن کی جانب سے درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ
لاہور ہائیکورٹ کا 21 ستمبر کا عبوری حکم کالعدم قرار دیا جائے۔
’مجھے معلومات ملیں کہ ارشد شریف کو مارنے لگے ہیں، میں نے اسے کہا کہ ملک سے چلے جاؤ‘
،تصویر کا ذریعہFacebook
سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ صحافی ارشد شریف کو ’نامعلوم نمبروں سے دھمکیاں آ رہی تھیں، میں نے اسے ملک چھوڑنے کا کہا۔‘
پشاور میں انصاف لائرز کنونشن سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ ’ارشد شریف کو نامعلوم نمبروں سے دھمکیاں آئیں کہ رجیم چینج پر بات نہ کروں، مجھے معلومات آئی کہ اسے مارنے لگے ہیں۔ میں نے اسے کہا کہ ملک سے چلے جاؤ۔۔۔ جب وہ ملک چھوڑ کر گیا تو اس کا دبئی کا ویزا ختم ہو رہا تھا۔ وہ اسے واپس بُلا رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے ارشد شریف سے کہا کہ تم ملک سے باہر چلے جاؤ، تمھاری جان کو خطرہ ہے۔۔۔ انھوں نے ارشد شریف کے ساتھ وہی کرنا تھا جو انھوں نے بند کمرے میں اعظم سواتی کے ساتھ کیا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ لوگ صحافیوں کو ڈرا کر خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کو چُنا جن کے ضمیر کا سودا نہیں ہوتا۔ نامعلوم افراد انھیں ڈراتے اور دھمکاتے ہیں۔ میری نظر میں وہی شہید ہے جو جان کو خطرے کے باوجود ملک کی حفاظت کرتا ہے۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’ارشد شریف کو پتا تھا کہ اس کی جان خطرے میں ہے، اس کے باوجود وہ راہِ حق سے نہیں ڈرا۔ مجھے پتا ہے ارشد شریف کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں جو اپنی مارچ کرنے والا ہوں، آج فیصلہ کر چکا ہوں کہ ملک دوراہے پر ہے۔ نامعلوم افراد کرپشن کے کیس بچانے والوں کے ساتھ ہیں۔ امت کے لیے فرض ہے کہ خوف کے بُت کی پوجا نہ کریں۔‘
سابق وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ’اسلام آباد میں جب سے ڈرٹی ہیری آیا ہے تب سے وہ لوگوں کو ننگا کرتا ہے، پتا نہیں اسے ننگا کرنے کا کیا شوق ہے۔
’میں نے فیصلہ کیا ہے جب تک زندہ ہوں ان ظالموں کا مقابلہ کروں گا۔ آپ نے میرا ساتھ دینا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ 75 سال کے اعظم سواتی کو ننگا کر کے تشدد کیا گیا کیونکہ انھوں نے کسی پر تنقید کر دی۔ ’ڈرٹی ہیری فلم میں وہ سپاہی تھا جو لوگوں پر گولیاں چلاتا تھا۔‘
ڈالر کی قیمت میں مزید دو روپے کی کمی, تنویر ملک، صحافی
پاکستان میں ڈالر کی قیمت میں کمی کا رجحان منگل کے روز بھی برقرار رہا
جب ایک ڈالر کی قیمت اوپن مارکیٹ میں دو روپے کم پر بند ہوئی۔
کاروبار کے اختتام
پر ڈالر کی قیمت 223 روپے پر بند ہوئی ۔ گذشتہ تین کاروباری دنوں میں ڈالر کی قیمت
میں چار روپے تک کی کمی واقع ہو چکی ہے۔
انٹر بنک میں بھی ڈالر کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی اور
ایک ڈالر کی قیمت چالیس پیسے کمی کے بعد 220 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔
گذشتہ تین
کاروباری دنوں میں انٹر بنک میں ڈالر کی قیمت میں 95 پیسے تک کی کمی واقع ہوئی ہے
’صدارتی ریفرنس پر عدالتی فیصلوں کے دوبارہ جائزے کی مثال قائم نہیں کر سکتے‘
سپریم کورٹ میں ریکوڈیک معاہدے پر صدارتی ریفرنس پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ جو فیصلہ حتمی ہوچکا ہو اس کا دوبارہ جائزہ لینے کا اختیار عدالت کے پاس نہیں ہے۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے منگل کو اس معاملے کی سماعت کی۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ایسی مثال قائم نہیں کر سکتے کہ صدارتی ریفرنس پر عدالتی فیصلوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے‘۔
عدالت نے اس معاملے میں حکومت بلوچستان، بیرک گولڈ انٹرنیشنل اور پاکستان بار کونسل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ فریقین ریفرنس کے قابل سماعت ہونے پر عدالت کو مطمئن کریں۔
عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے بھی عدالتی معاونت کے لیے سینیئر وکلا کے نام تجویز کرنے کو کہا ہے اور اس ریفرنس پر سماعت یکم نومبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
دنیا بھر میں صارفین واٹس ایپ کی بندش سے متاثر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان سمیت دنیا بھر میں واٹس ایپ کی سروسز تقریباً دو گھنٹے کے تعطل کے بعد اب بحال ہو رہی ہیں۔
واٹس ایپ کی سروس میں یہ خرابی منگل کو پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے کی قریب پیدا ہوئی
اس قسم کی خرابیوں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ڈاؤن ڈٹیکٹر کے مطابق اس دوران دنیا کے مختلف ممالک سے لاکھوں افراد نے سروس کی عدم دستیابی کی شکایت کی جن میں سے 68 ہزار کا تعلق برطانیہ سے بھی تھا۔
دنیا میں واٹس ایپ کے دو ارب کے قریب صارف ہیں۔
واٹس ایپ کی مالک کمپنی میٹا کے ترجمان نے خرابی کے بارے میں کہا کہ ’ہم اس مسئلے سے آگاہ ہیں کہ کچھ لوگوں کو فی الحال پیغامات بھیجنے میں دشواری کا سامنا ہے اور جلد از جلد واٹس ایپ کی سروس بحال کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ برس اکتوبر کے مہینے میں بھی فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ سمیت میٹا کمپنی کی بڑی سوشل میڈیا سروسز کے لاکھوں صارفین کو چھ گھنٹے کی بندش کا سامنا کرنا پڑ ا تھا۔
بعدازاں فیس بک نے کہا تھا کہ اس خرابی کی وجہ کنفیگیوریشن میں تبدیلی تھی۔
وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے استعفیٰ دے دیا
مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے وفاقی وزیرِ قانون کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
صدرِ پاکستان کے نام اپنے استعفے میں اُنھوں نے اس فیصلے کی وجہ ’ذاتی وجوہات‘ کو قرار دیا۔
،تصویر کا ذریعہAzam Nazeer Tarar
جوڈیشل کمیشن کی سپریم کورٹ میں تین ججز کی تعیناتی کی سفارش، ایک پر اتفاق نہ ہوا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
چیف جسٹس کی زیرصدارت
جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا جس میں تین ججز کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی سفارش کی گئی۔
جسٹس شاہد وحید،
جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی کی سپریم کورٹ تعیناتی کی سفارش کی گئی
جبکہ جسٹس
شفیع صدیقی کا نام اتفاق رائے نہ ہونے پر اجلاس موخر کر دیا گیا۔
کمیشن نے
سفارشات منظوری کے لیے پارلیمانی کمیٹی کو بھجوا دیں۔
جسٹس قاضی فائز
عیسی، جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس
منصور علی شاہ نے جسٹس اظہر حسن رضوی اور جسٹس شاہد وحید کے ناموں کی مخالفت کی تھی
جبکہ تین ماہ قبل بھی کمیشن کے اجلاس میں سپریم کورٹ کے ان تین ججز سمیت پاکستان
بار کونسل کے نمائندے کے علاوہ وزیر قانون اور اٹارنی جنرل نے بھی ان ناموں کی
مخالفت کی تھی۔
جسٹس اطہر من
اللہ کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی سفارش کثرت رائے سے تھی جبکہ جسٹس شاہد وحید
اور جسٹس اظہر رضوی کی سفارش چار کے مقابلے میں پانچ ارکان نے کی۔
جوڈیشل کمیشن کے
رکن اختر حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ تین ماہ قبل کمیشن کے اجلاس میں وزیر قانون
اعظم نذیر تارڑ اور اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نےجسٹس شاہد وحید اور جسٹس اظہر حسن رضوی کے ناموں کی مخالفت کی تھی لیکن پیر
کے روز ہونے والے کمیشن کے اجلاس میں انھوں نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی طرف سے
پیش کیے گئے انہی دو ناموں کی حمایت کردی۔
انھوں نے کہا کہ
حکومت کے معاملات ہیں حکومت ہی جانے لیکن پاکستان بار کونسل کا شروع سے ہی مطالبہ
رہا ہے کہ سنیارٹی کی بنیاد پر ہی سپریمکورٹ میں تعیناتی ہونی چاہیےاختر
حسین کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کی طرف سے پیش کیا گیا چوتھا نام جسٹس شفیع صدیقی کے
نام پر غور اس لیے موئخر کردیا گیا کیونکہ کمیشن کے رکن جسٹسریٹائرڈ سرمد جلال عثمانی نے اس کی مخالفت کی
تھی ۔
انھوں نے کہا کہ
سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس شفیع صدیقی کے نام کی مخالفت جسٹس قاضی فائزعیسی جسٹس
سردار طارق اوروزیر قانون اور اٹارنی
جنرل نے بھی گذشتہ اجلاس میں کی تھی
جسٹس اطہر من
اللہ اس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہیں جبکہ جسٹس شاہد وحید کا تعلق
لاہور ہائی کورٹ سے اور جسٹس اظہر حسن کا تعلق سندھ ہائی کورٹ سے ہے۔
سپریم کورٹ کے ججز کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس شروع
سپریم کورٹ کے ججز کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس شروع ہو گیا ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال جوڈیشل کمیشن اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔
جوڈیشل کمیشن میں سپریم کورٹ کے لیے چار ہائیکورٹس ججز کے ناموں پر غور کیا جائے گا۔
اجلاس میں سپریم کورٹ کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد وحید،
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس شفیع صدیقی کے ناموں پر بھی غور ہورہا ہے۔
اعظم سواتی پر دورانِ گرفتاری تشدد پر سپریم کورٹ ازخود نوٹس لے: تحریک انصاف کی درخواست
،تصویر کا ذریعہYouTube
تحریک انصاف کے سینیٹرز نے اعظم سواتی کی گرفتاری کے دوران ’برہنہ کر کے تشدد اور ناروا سلوک‘ کے الزامات سے متعلق سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے۔
اس درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سینیٹر اعظم سواتی کو گرفتاری کے دوران برہنہ کر کے تشدد کیا گیا۔ ’ریمانڈ کے دوران جج کے سامنے پیش ہونے پر عدالت کو پرائیویٹ پارٹس پر تشدد کے بارے آگاہ بھی کیا گیا۔ گرفتاری کے دوران سلوک آئین اور انسان کے وقار کے خلاف ہے۔‘
اس درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اعظم سواتی کے ساتھ سلوک بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس پر از خود نوٹس لیا جانا چاہیے۔
’اگر عدالت ہدایات دے بھی تو پارلیمان کس حد تک ان کی پابند ہوگی؟‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف سابق وزیر اعظم عمران خان کی درخواست پر سماعت کرنے والے بینچ میں شامل جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ
جنسی حراسانی سمیت ہمارے کئی قوانین میں خامیاں موجود ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’کیا عدالت بین الاقوامی کنونشنز کے مطابق قانون سازی کی ہدایت کر سکتی ہے؟‘ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ’اگر عدالت ہدایات دے بھی تو پارلیمان کس حد تک ان کی پابند ہوگی؟‘
عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ
عدالت کئی مقدمات میں پارلیمان کو ہدایات جاری کر چکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ عدالت نے کئی قوانین کی تشریح بین الاقوامی کنونشنز کے تناظر میں کی ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ عالمی کنونشن میں نجی افراد کی کرپشن کا بھی تذکرہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ
نجی شخصیات میں کنسلٹنٹ، سپلائر اور ٹھیکیدار بھی ہوسکتے ہیں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ
نجی افراد اور کمپنیاں حکومت کو غلط رپورٹس بھی دے سکتی ہیں۔
وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ
پنجاب بینک کیس میں بھی نجی افراد پر نو ارب کی کرپشن کا الزام تھا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ ’کیا کسی دوسرے ملک نے عالمی کنونشن کے مطابق کرپشن قانون بنایا ہے؟‘ جس پر عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’کسی دوسرے ملک کے کرپشن قانون کا جائزہ نہیں لیا۔‘
خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ
عالمی کنونشن میں درج جرائم پاکستانی قانون میں شامل تھے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ دنیا نے کرپشن کے خلاف عالمی کنونشن 2003 میں جاری کیا، مثبت چیز یہ ہے کہ پاکستان میں کرپشن کے خلاف قانون 1947 سے ہے۔
عمران خان کی نااہلی سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ آج ہی معطل کرنے کی استدعا مسترد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ ریفرنس میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ آج ہی معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔
عدالت نے سماعت تین روز تک ملتوی کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان کے وکیل کو رجسٹرار افس کے اعتراضات دور کرنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ’یہ عدالت کسی آئینی ادارے کو ڈائریکشن نہیں دیتی۔‘
عمران خان کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران وکیل علی ظفر نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو معطل کرنے کی استدعا کی اور کہا کہ اس فیصلے کا ’سر پیر ہی نہیں، یہ ایک غیر قانونی فیصلہ ہے۔‘
اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ ’جب فیصلہ نہیں ہے تو یہ عدالت کس فیصلے کو معطل کرے گی؟ اس آرڈر کی سرٹیفائیڈ کاپی موجود ہے؟‘ اس پر وکیل نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے تاخیر کی جا رہی ہے اور فیصلے میں رد و بدل کا خدشہ ہے۔
وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ ’اس فیصلے سے عمران خان پر ایک داغ لگا ہے۔ وہ اس کے ساتھ الیکشن میں نہیں جانا چاہتے۔‘
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ’دیگر حلقوں پر تو یہ نااہلی ہوتی نہیں یہ صرف اس ایک سیٹ کی حد تک ہے۔‘
انھوں نے ریمارکس دیے کہ ’عدالت لکھ دے گی توقع کرتے ہیں کہ الیکشن کمیشن آپ کو مصدقہ کاپی دے دے گا۔۔۔ آپ اعتراضات دور کریں، پھر اس کیس کو سنیں گے۔ تین دنوں میں کچھ نہیں ہوتا، آپ اعتراضات دور کریں۔‘
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ عدالت نیا مختلف پریسڈنٹ نہیں سیٹ کرسکتی۔ ’عدالتی تاریخ سے بتا دیں کہ کوئی عدالت بغیر دستخط والا آرڈر معطل کردے؟‘
اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کے وکیل کی طرف سے الیکشن کمیشن کا فیصلہ آج ہی معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے تفصیلی فیصلے کا انتظار کیا جائے ایک، دو روز کی تاخیر سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’یہ عدالت کسی آئینی ادارے کو ڈائریکشن نہیں دیتی۔۔۔ یہ معمول کا کام ہے، الیکشن کمیشن تاخیر نہیں کر رہا، عدالتی تاریخ میں عدالت ایسا آرڈر معطل نہیں کر سکتی جس پر دستخط ہی نہ ہوں۔‘
عدالت نے سماعت تین روز تک ملتوی کرتے ہوئے عمران خان کے وکیل کو رجسٹرار افس کے اعتراضات دور کرنے کا حکم دیا ہے۔
پاکستان کے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے بعد سٹاک مارکیٹ میں تیزی, تنویر ملک ، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور سٹاک مارکیٹ کا انڈیکس کاروبار کے آغاز کے پہلے آدھ گھنٹے میں 400 پوائنٹس سے زیادہ بڑھ گیا۔
سٹاک مارکیٹ میں گذشتہ کئی ہفتوں سے کاروبار مندی کا شکار تھا جو تجزیہ کاروں کے مطابق معاشی فرنٹ پر منفی خبروں کی وجہ سے تھا۔ تجزیہ کار محمد سہیل کے مطابق جمعے کی رات ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے پاکستان کے نکلنے کے بعد سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا پہلا روز تھا جس پر سرمایہ کاروں نے مثبت رد عمل دیا اور کاروبار میں تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
ارشد شریف کا مبینہ قتل: عدالت کی وزارت داخلہ، خارجہ کے نامزد افسر کو فیملی سے فوری ملاقات کی ہدایت
اسلام آباد ہائیکورٹ نے صحافی ارشد شریف کے مبینہ قتل سے متعلق درخواست پر وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کے نامزد افسر کو ارشد شریف کی فیملی سے فوری ملاقات کی ہدایت کرتے ہوئے کل تک رپورٹ طلب کی ہے۔
بیرسٹر شعیب رزاق نے ارشد شریف کے معاملے پر تحقیقات کے لیے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔
اس درخواست میں مطالبہ کیا گیا کہ ’کمیشن بنا کر تحقیقات کرائی جائیں۔ ارشد شریف کن حالات میں باہر گئے، سکیورٹی ایجنسیز کو کینیا کی ایجنسیز سے رابطہ بنا کر تحقیقات کا حکم دیا جائے۔ ارشد شریف کی میت پاکستان لانے کے لیے اقدامات کا حکم دیا جائے۔‘
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست کی سماعت کے دوران استفسار کیا کہ ’ارشد کی باڈی کہاں ہے؟‘ جس پر وکیل نے کہا کہ ’ارشد شریف کی میت نیروبی میں ہے۔‘
اس پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکریٹری داخلہ اور سیکرٹری خارجہ کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ عدالت نے وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کے نامزد افسر کو ارشد شریف کی فیملی سے فوری ملاقات کی ہدایت کرتے ہوئے کل تک رپورٹ طلب کی ہے۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کچھ دیر میں
سابق وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی درخواست کی سماعت اب سے کچھ دیر کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوگی۔
اسلام آباد ہائی کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اس درخواست کی سماعت کریں گے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے عمران خان کی درخواست پر اعتراضات لگائے تھے جس میں سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ اس درخواست کے ساتھ الیکشن کمیشن کے فیصلے کی مصدقہ نقل نہیں لگائی گئی۔
تاہم چیف جسٹس ان اعتراضات کے باوجود عمران خان کی درخواست کی سماعت کریں گے۔ اس درخواست میں عمران خان کا موقف ہے کہ الیکشن کمیشن کو انھیں نااہل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
الیکشن کمیشن کی طرف سے توشہ خانہ کیس کا تفصیلی فیصلہ آج جاری ہونے کا امکان ہے۔
اسلام آباد کا ریڈ زون ویپن فری زون قرار دینے کا فیصلہ، مجاز افسران اور اہلکاروں کو استثنیٰ حاصل ہو گا
،تصویر کا ذریعہAFP
اسلام آباد پولیس کے مطابق ریڈ زون میں ہتھیار لے جانے کے حوالے سے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار متعین کر دیا گیا ہے۔نئے طریقہ کار کے تحت کسی بھی ایونٹ یا امن و امان کی صورتحال کے دوران ریڈ زون کو ’ویپن فری زون‘ قرار دیا جائے گا۔ ہمیشہ کی طرح امن و امان کی صورتحال کے دوران ڈیوٹی پر موجود پولیس فورس ہتھیار نہیں لے کر جائے گی، صرف مجاز افسران کو ہتھیار لے جانے کی اجازت ہوگی۔
خیال رہے کہ جمعے کے روز ریڈ زون میں گولی چلنے کا ایک واقعہ سامنے آیا تھا جس کے بعد حکمراں جماعت کے ایک رہنما محسن شاہنواز رانجھا نے اس واقعے کے خلاف تھانہ سیکریٹیریٹ میں درخواست بھی دی تھی۔
اسلام آباد پولیس کے حکام کے مطابق نئے جاری کردہ طریقہ کار کے مطابق مجاز افسران میں آئی سی ٹی پولیس کے اہلکار شامل ہوں گے، جو ایسکارٹ یا گن مین ڈیوٹی پر ہیں، جن میں سینئر پولیس افسران، ججز، وی وی آئی پیز یا وی آئی پیز شامل ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق نئے طریقہ کار کے تحت مجاز پولیس افسران کو ایسی ڈیوٹی پر بھیجنے سے پہلے اچھی طرح سے جانچ پڑتال کی جائے گی۔
ہتھیار لے جانے والے پولیس افسران کی تصدیق انٹیلی جنس بیورو اور اسپیشل برانچ سے ان کی سیاسی اور مذہبی وابستگی کے حوالے سے کی جائے گی۔
پولیس کے مطابق اسلام آباد پولیس کے علاوہ کسی بھی شخص یا قانون نافذ کرنے والی ایجنسی کو ہتھیار رکھنے والے کو ریڈ زون میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔
خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی۔
فرد پر تنقید کریں، ادارے پر نہیں: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
،تصویر کا ذریعہSupreme Court
سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ ادارے کی جگہ فرد پر تنقید ہونی چاہیے کیونکہ پاکستان کو اداروں اور جمہوریت کی ضرورت ہے۔
لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو عدلیہ اور ایگزیکٹو کی ضرورت ہے۔ ’پاکستان کو ایگزیکٹو کے حصے کے طور پر فوج کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو سب سے زیادہ عوام کی منتخب قیادت کے ذریعے حکمرانی کی ضرورت ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’فرد کے کردار پر بات کریں، ادارے پر تنقید نہ کریں۔ آئین توڑنے والے جرنیل کا نام لے کر مذمت کریں نہ کہ فوجی ادارے کی۔ مجھ پر تنقید کریں، نہ کہ سپریم کورٹ پر۔‘
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ’ہمیں عوام تنخواہ دیتے ہیں اور انفرادی طور پر ہمارا احتساب کرسکتے ہیں۔‘
’ایک وزیراعظم کو نااہل کیا گیا کہ اس نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی۔ میں فیصلے پرتبصرہ نہیں کروں گا لیکن فیصلے میں لکھا گیا کہ آپ نے جو تنخواہ لینی تھی وہ نہیں بتائی۔ فیصلے میں لکھا کہ آپ نے جو تنخواہ لینی تھی وہ نہ بتا کر سچ نہیں بولا۔ اس لیے آپ اچھے مسلمان نہیں۔‘