فیصل واوڈا کی پارٹی رکنیت معطل، شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا

تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری اسد عمر نے فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فیصل واوڈا کا بیان پارٹی پالیسی اور خیالات کی عکاسی نہیں کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے سندھ کے صدر کو چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی ہدایات پر فیصل واوڈا کو پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر شوکاز نوٹس بھیجنے کا کہا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, جمعے کو لانگ مارچ کی تاریخ دوں گا، منظم احتجاج کا راستہ روکا گیا تو ملک بند ہوجائے گا: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ جمعے کو لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کر دیں گے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’جمعے کو لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کر دوں گا۔ مجھے پکڑ لیں گے تو کیا لانگ مارچ نہیں ہوگی؟ کیا یہ منظم احتجاج چاہتے ہیں یا یہ چاہتے ہیں کہ ملک سری لنکا کی طرف جائے۔ منظم احتجاج کا راستہ روکا گیا تو ملک بند ہوجائے گا۔‘

    بیک ڈور مذاکرات کے سوال پر چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ’بیک ڈور چینل سے ہر وقت بات چیت ہوتی ہے (مگر) مجھے نہیں لگتا مذاکرات سے کوئی حل نکلے گا۔ ہم الیکشن چاہتے ہیں، پاکستان تیزی سے دلدل میں جا رہا ہے۔ اس سے نکلنے کا ایک ہی طریقہ ہے۔ پورا یقین ہے انھوں نے الیکشن نہیں کروانا، الیکشن کی کوئی امید نہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ ’پُرامن ہوگا، کسی قسم کا تشدد نہیں ہوگا۔ اس میں فیملیز کی شرکت ہوگی۔ جمعرات یا جمعے کو اعلان کروں گا۔‘

  2. مظاہرین کے خلاف آٹھ ایف آئی آرز، تین دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج: اسلام آباد پولیس

    اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تمام شرپسند عناصر کے خلاف قانونی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے اور اس ضمن میں تاحال 8 ایف آئی آرز ہو چکی ہیں جن میں 78 ملزمان نامزد اور سینکڑوں نامعلوم ہیں۔ ’تین ایف آئی آرز دہشتگردی ایکٹ کے تحت ہیں۔‘

    ترجمان کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’یہ ایف آرز تھانہ سیکرٹریٹ، آئی نائن، کھنہ، شہزاد ٹاؤن، سہالہ، بھارہ کہو اور سنگجانی میں ہوئیں۔ لا اینڈ آرڈر صورتحال کی تمام مانیٹرنگ سیف سٹی کیمروں سے مسلسل کی گئی۔ اسلام آباد پولیس نے امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے بھرپور کوشش کی۔ اور کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

    ’اسلام آباد میں کہیں کنٹینر نہیں لگایا گیا، مجموعی طور پر ٹریفک کی روانی کو بھی برقرار رکھا گیا۔ سوشل میڈیا کے ذریعے شہریوں کو ٹریفک کی صورتحال سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ رکھا گیا۔‘

    اسلام آباد پولیس کے مطابق ’مظاہرین نے اپنی گاڑیوں کی مدد سے پولیس کے اوپر چڑھائی کی اور ان کو جانی نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔۔۔ مظاہرین نے اپنی قیادت کے ساتھ مل پولیس پر پتھراؤ کیا جس سے ایف سی کا ایک جوان اور پولیس کے چار اہلکار زخمی ہوئے۔‘

  3. نئے آرمی چیف کی تعیناتی حکومت کا اختیار ہے، عمران خان سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں: وزیر اعظم شہباز شریف

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی ایک آئینی معاملہ ہے اور حکومت کا اختیار ہے مگر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

    لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا 28 نومبر کے بعد ملک میں بہتر سیاسی استحکام ہوگا تو ان کا کہنا تھا کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی ’ایک آئینی معاملہ ہے اور روٹین کی بات ہے۔ آرمی چیف مدت پوری کرتے ہیں تو حکومت کا آئینی اختیار ہے کہ نئی تعیناتی کریں۔ یہ قانونی معاملہ ہے۔

    ’(تاہم) سیاسی عدم استحکام کے لیے عمران خان سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ کل جب انھوں نے دیکھا کہ معاملہ خراب ہے تو کال واپس لے لی۔ لوگ کس حیثیت سے سرٹیفائیڈ چور کا ساتھ دیں گے۔‘

    وزیر اعظم نے تحریک انصاف کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت آئین اور قانون کے تحت کام کرے گی مگر ’ملک کے مستقبل کے لیے ہر در پر جانے کے لیے تیار ہوں۔‘

    انھوں نے کہا کہ آئین و قانون کے تحت اگلے الیکشن میں 11 ماہ باقی ہیں۔

    ’توشہ خانہ کے تحفے غیر قانونی طور پر بیچے گئے‘

    انھوں نے عمران خان کی نااہلی کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو لمحۂ فکریہ اور نشانِ عبرت قرار دیا اور کہا کہ ’یہ کیسا وزیر اعظم تھا جس نے قومی خزانے سے تحفے بیچ کر پیسے جیب میں رکھ لیے اور قیمت بعد میں ادا کی۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ ’عمران خان نے الیکشن کمیشن کو نہیں بتایا کہ میں نے تحفے غیر قانونی طور پر بیچے۔ سٹیٹ بینک نے کھوج لگائی۔ انھوں نے جان بوجھ کر غلط بینک اکاؤنٹ دیا۔ اکاؤنٹ میں موجود رقم کا تحفوں کی خرید و فروخت سے کوئی تعلق نہیں دیا۔۔۔ بنی گالہ میں عمران خان کا گھر کس نے بچایا اور غریبوں کے گھر کس نے گرائے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’عمران خان کو اسی چیف الیکشن کمشنر نے نااہل قرار دیا جو انھوں نے لگایا۔ بدعنوانی کے نتیجے میں عمران خان کے خلاف فیصلہ آیا۔ عمران خان کو دھاندلی کے ذریعے 2018 میں وزیر اعظم بنوایا گیا۔

    ’دوسرے ممالک سے ملے تحفے لے کر بیچ دیے گئے۔ عمران خان نے تحفے نکالے، ایک دبئی میں بیچ دیا۔ نایاب گھڑی اسی دکان کو بیچی جہاں سے آئی تھی۔ توشہ خانہ میں چیزیں گم ہوجاتی ہیں۔ اب یہ تحفے وزیر اعظم ہاؤس میں فریم کر کے لگوا دیے ہیں۔‘

  4. عمران خان کی نااہلی پر احتجاج، اسلام آباد اور پشاور میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج

    Protest

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی توشہ خانہ ریفرنس میں نااہلی کے خلاف احتجاج کرنے پر اسلام آباد اور پشاورکے پی ٹی آئی رہنماوں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

    اسلام آباد انتظامیہ نے سینیٹر فیصل جاوید سمیت سات پارٹی رہنماؤں کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا جبکہ پشاور کے تھانہ چمکنی کی پولیس نے عمران خان کی نااہلی کے خلاف احتجاج کرنے والے تحریک انصاف کے کارکنوں کے خلاف موٹروے بند کرنے پر مقدمہ درج کیا ہے۔

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم کو کرپٹ پریکٹسز کا مرتکب قرار دیتے ہوئے نا اہل کرنے کا فیصلہ سنایا تھا، جس کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں پی ٹی آئی کا احتجاج شروع ہو گیا تھا۔

    وفاقی دارالحکومت کے تھانہ آئی نائن میں سرکار کی مدعیت میں تحریک انصاف کی مقامی قیادت کے خلاف امن و امان میں خلل ڈالنے، مظاہرین کو اشتعال دلانے اور پولیس، ایف سی اور انتظامیہ پر پتھراؤ کرنے پر درج مقدمے میں سینیٹر فیصل جاوید، عامرکیانی، قیوم عباسی، راجا راشد حفیظ، عمر تنویر بٹ، راشد نسیم عباسی اور راجا ماجد کو نامزد کیا گیا ہے۔

    جبکہ پشاور میں ایف آئی آر کے تحریک انصاف کے کارکنوں پر موٹروے کو دونوں اطراف سے غیر قانونی طور پر بند کر کے جلاؤ گھیراؤ کرنے پر مقدمہ درج کیا ہے۔

  5. عمران خان کی نااہلی کا فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج، سماعت پیر کو چیف جسٹس کریں گے

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے الیکشن کمیشن کی جانب سے اُن کے خلاف دیے جانے والا نااہلی کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے استدعا کی ہے کہ اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

    عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اس درخواست پر سماعت آج ہی کے روز کی جائے۔ تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے اس درخواست پر یہ اعتراض عائد کیا گیا ہے کہ درخواست کے ساتھ الیکشن کمیشن کے فیصلے کی مصدقہ کاپی نہیں لگائی گئی اور نہ ہی عمران خان کی بائیو میٹرک تصدیق کروائی ہے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی ظفر نے کہا کہ رٹ پٹیشن آرٹیکل 199 کے تحت دائر کی گئی ہے جس پر سماعت سوموار کو ہو گی۔

    انھوں نے کہا کہ آج ہمیں الیکشن کمیشن کا آرڈر ملا جس کے صفحات تو پورے تھے مگر وہ بھی سائن شدہ نہیں تھا جس کی بنیاد پر ہم نے رجسٹرار آفس کواستثنا کی درخواست دی کہ سائن شدہ فیصلے کو جمع کروانے سے استثنی دیا جائے۔

    ہائیکورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان کو نااہل قرار دے کر ایک بھونڈی کوشش کی گئی کہ عمران خان کو نواز شریف کے ساتھ لا کر کھڑا کر دیا جائے مگر اس کے ردعمل میں عوام کے غصے کی ایک جھلک نظر آئی اس کے باوجود کہ ہم نے احتجاج کی کوئی کال نہیں دی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے جو موقع دیا وہ حکومت اور اس سے منسلک لوگ ضائع کر رہے ہیں اور اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ باہر نکلا جائے۔‘

    ’بدقسمتی سے سازشیں تھمنے کا نام نہیں لے رہیں۔ فیصلے کو 24 گھنٹے کا وقت ہونے والا ہے مگر تحریری فیصلہ جاری نہیں کیا گیا۔ ہم نے اپلائی کر رکھا فیصلے کی کاپی کے لیے مگر الیکشن کمیشن نے ہمیں فیصلہ نہیں دیا۔ اگر آپ کے پاس فیصلہ موجود ہی نہیں اور اس پر دستخط ہی نہیں تو آپ نے کل کہاں سے فیصلہ سنایا۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ فارن فنڈنگ کیس میں بھی ویب سائیٹ پر فیصلہ کچھ اور تھا جس میں بعد میں اس میں ترمیم کی گئی۔ ’اس فیصلے میں بھی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں اور حکومت کی مرضی کی چیزیں شامل کی جا رہی ہیں، اس سے بڑی بددیانتی کیا ہو سکتی ہے؟‘

    انھوں نے کہا کہ چیف کمشنر کے ساتھ ساتھ کمیشن کے دو ممبران کے خلاف ہمارے ریفرنس عدالتوں میں زیر التوا ہیں مگر اس کے باوجود ہمیں اسی الیکشن کمیشن کے پاس بھیج دیا جاتا ہے جو یک طرفہ فیصلے کر رہا ہے۔ ’عدالتیں یا تو ہمیں بتائیں کہ ہمارے ریفرنس قابل سماعت نہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کے عوام یہ تمام زیادتیاں دیکھ رہے ہیں اور یوں لگ رہا ہے کہ ہمیں واضح طور پر انقلاب کی طرف جانا پڑے گا اور لانگ مارچ کی تیاری کرنی پڑے گی۔

    انھوں نے کہا کہ پورے پاکستان میں کون سا شہر ہے جہاں کل لوگ باہر نہیں نکلے۔ ’اس وقت چیف الیکشن کمشنر کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کا فیصلہ سب سے بڑی عدالت یعنی عوام نے مسترد کیا۔ عوام پہلے بھی آپ کے اس فیصلے کو مسترد کر چکے جب آپ نے چند منتخب حلقوں میں آپ نے الیکشن کروانے کا اعلان کروایا مگر پاکستان کے عوام نے آپ کو جواب دیا۔‘

  6. ’الیکشن کمیشن تحریری فیصلہ کیوں روک کر بیٹھا ہے؟ اب کیا کھچڑی پک رہی ہے؟:‘ اسد عمر

    Asad Umar

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے الیکشن کمیشن کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس میں نا اہلی کا تحریری فیصلہ اب تک جاری نہ کرنے پر پی ٹی آئی رہنما اسد عمر نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’الیکشن کمیشن تحریری فیصلہ کیوں روک کر بیٹھا ہے؟ اب کیا کھچڑی پک رہی ہے؟‘

    ٹوئٹر پر انھوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے یہ سوال کیا ہے۔

    یاد رہے جمعے کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان تو توشہ خانہ ریفرنسں میں آئین کے آرٹیکل 63 ون پی کے تحت نااہل قرار دے دیا تھا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  7. تحریک انصاف کے احتجاج میں کسی شہر سے 30-40 سے زیادہ لوگ نہیں نکلے، وفاقی وزیر داخلہ کا دعوی

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے دعوی کیا ہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی نا اہلی کے فیصلے کے بعد کسی بھی شہر میں احتجاج کرنے والوں کی تعداد 30-40 سے زیادہ نہیں تھی۔

    ٹؤٹر پر جاری بیان میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’پی ٹی آئی گذشتہ رات سے اپنے خلاف فیصلے کی صورت میں احتجاج کیلئے اپنے کارکنان اورعوام کو باہر لانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی تھی۔‘

    ’الیکشن کمیشن کا فیصلہ آنے کے بعد میڈیا اور سوشل میڈیا پر کال دی گئی جس پر عوامی ریسپانس اعداد وشمار کی صورت حاضر ہے۔‘

    انھوں نے دعوی کیا کہ کسی بھی شہر سے 30/40 سے زیادہ افراد باہر نہیں نکلے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  8. ’الیکشن کمشنر نے جانبدار ہو کر ایک سازش اور ایک مافیا کا ساتھ دیا،‘ عمران خان کا نااہلی کے خلاف عدالت جانے کا اعلان

    IK

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    سابق وزیراعظم عمران خان نے الیکشن کمیشن کی طرف سے ان کے خلاف نااہلی کے فیصلے پر اپنے ایک ویڈیو بیان کے ذریعے ردعمل میں کہا ہے کہ الیکشن کمشنر نے مافیا کا ساتھ دیا ہے۔ ان کے مطابق الیکشن کمشنر نے جانبدار بن کر، ایک اور ایک مافیا کا حصہ بن کر یہ فیصلہ کیا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ انھیں میچ سے باہر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف عدالت جائیں گے اور اس حوالے سے سارا ریکارڈ موجود ہے۔ ان کے مطابق آصف زرداری اور نواز شریف نے غیرقانونی طریقے سے توشہ خانہ سے گاڑیاں نکالی ہیں مگر اس پر کوئی فیصلہ نہیں آیا۔

    انھوں نے کہا کہ اس الیکشن کمیشن نے ہمارے خلاف فیصلے دیے جو بعد میں عدالتوں نے ختم کر دیے۔

    عمران خان نے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے پر اپنے کارکنان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انھیں احتجاج ختم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انھوں نے اپنے کارکنان سے کہا کہ ’اب آپ احتجاج ختم کر دیں۔ لوگ مشکل میں ہیں، میں نہیں چاہتا کہ میرے لوگ مشکل میں ہوں‘۔

    عمران خان نے کہا کہ ’میں آپ کو کال دوں گا، یہ ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا مظاہرہ ہوگا، جب تک اس ملک کو آزادی نہیں ملتی۔ ان کے مطابق ’اب میں لانگ مارچ کا اعلان کرونگا اور یہ ملک کا سب سے بڑا احتجاج ہو گا اور یہ لانگ مارچ پر ختم نہیں ہو گا بلکہ یہ تحریک چلتی رہے گی۔

    عمران خان نے مزید کہا کہ ’ایسے یہ فیصلےمیرا منھ بند کرنے کے لیے دیے جا رہے ہیں‘۔ ان کے مطابق ’میں اسے سیاست نہیں بلکہ اسے جہاد سمجھتا ہوں‘۔ انھوں نے کہا جب تک میں زندہ ہوں میں ان کا مقابلہ کروں گا۔

    عمران خان نے اپنے کیس اور نواز شریف کے مقدمات سے موازنہ بھی پیش کیا۔

  9. عمران خان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہو گا: وزیرداخلہ

    وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہو گا۔

    رانا ثناللہ نے کہا کہ عمران خان کے خلاف سب ثابت ہو چکا ہے اور اس مقدمے میں اب کسی تفتیش کی ضرورت باقی نہیں رہ گئی ہے۔

  10. الیکشن کمشین سے اظہار یکجہتی کے لیے حلقوں اور شہروں میں پرامن طور پر باہر نکلیں: وزیر داخلہ

    Rana

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    پاکستان کے وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے اپنی پارٹی کے کارکنان اور تنظیموں سے یہ درخواست کی ہے کہ وہ اپنے اپنے حلقوں اور اپنے شہروں میں الیکشن کمیشن سے اظہار کے لیے پرامن طور پر باہر نکلیں اور الیکشن کمیشن کے ممبران کو خراج تحسین پیش کریں۔

    انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں اور شکرانے کے نوافل ادا کریں کہ یہ فتنہ ایکسپوز ہوا ہے، جو دوسروں کے لیے چور چور کے نعرے لگاتا تھا۔

    ان کے مطابق باہر ممالک سے ملنے والے تحائف بازاروں اور دبئی کی دکان پر فروخت کر دیتے ہیں۔ پھر وہ دکان والا تصدیق کراتا ہے کہ کیا یہ گھڑی چوری تو نہیں ہو گئی ہے۔

  11. انھیں کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے فیصلوں کے ذریعے عوام کو دیوار سے لگانے کی کوشش مت کریں: اسد عمر

    اسد عمر

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد اب عوام پیچھے ہٹنے کو کسی صورت تیار نہیں ہے۔

    حکومت کو واضح ہو چکا ہے کہ وہ سیاسی طور پر عمران خان کا مقابلہ نہیں کر سکتے، اسی لیے انھوں نے غیرقانونی اقدامات کرنے شروع کر دیے ہیں۔ ’سب جانتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کی ہمدردیاں اور اتحاد حکمراں جماعتوں کے ساتھ ہے اور اب انھی کی مدد سے غیر قانونی اقدام کیا گیا ہے۔‘

    ’ہمیں اس کیس کے فائنل آرڈر کے آنے کا انتظار ہے، جیسے ہی فیصلہ آئے گا ہم اسے ہائیکورٹ میں چیلنج کریں گے۔‘

    ’میں کہنا چاہتا ہوں کہ ایسے اقدامات مت کرو جن کے ذریعے عوام کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جائے۔‘

  12. صورتحال کے مطابق فیض آباد پر آنسو گیس استعمال کی جا رہی ہے: اسلام آباد پولیس

    اسلام آباد

    وفاقی دارالحکومت کی پولیس کا کہنا ہے کہ ہر طرح کا پرامن احتجاج قانونی حق ہے مگر راستے بند کرنا اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا خلاف قانون عمل ہے۔

    اسلام آباد پولیس نے اپنے ایک بیان میں دوسرے صوبوں کی حکومتوں سے گزارش کی ہے کہ غیر قانونی اجتماعات کی وفاقی دارالحکومت کی طرف آنے سے روکیں۔ پولیس نے کہا کہ فیض آباد میں صورتحال کے مطابق پولیس آنسو گیس کا استعمال کر رہی ہے۔

    بزرگوں، عورتوں، بچوں سے گزارش ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔

  13. قوم نے دیکھ لیا کہ کرپٹ پریکٹس کر کے وزیراعظم کے منصب کو ذاتی آمدنی کا ذریعہ بنایا گیا: شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے عمران خان کی نااہلی سے متعلق فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ قوم نے دیکھ لیا کہ کرپٹ پریکٹس کر کے وزیراعظم کے منصب کو ذاتی آمدنی ذریعہ بنایا گیا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. فیصلے کا قانونی حیثیت نہیں اسے آج ہی اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کریں گے: شاہ محمود

    شاہ محمود

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کے عمران خان کو نااہل کرنے کے فیصلے کے کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور اسے آج ہی اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کریں گے۔

    شاہ محمود نے کہا کہ مائنس ون کا فارمولہ نہیں چلے گا کیونکہ عمران خان اور تحریک انصاف ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔

    ’عوام آج بھی عمران خان اور تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں جس کا مظاہرہ عوام نے ملک بھر میں سڑکیں اور موٹرویز کو بند کر کے کیا ہے اور لوگ اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ آج شام سات بجے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی سربراہی میں ہونے والے پارٹی اجلاس میں آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا اور صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

  15. فیض آباد کے مقام پر پی ٹی آئی کا احتجاج، پولیس کی آنسو گیس کی شیلنگ

    مقامی میڈیا کے مطابق پی ٹی آئی کارکنان نے فیض آباد کے راستے سے اسلام آباد میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر ان کی وہاں تعینات پولیس اہلکاروں کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔

    پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی ہے جبکہ کارکنان نے ٹائر جلائے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

  16. ملک کے مختلف شہروں میں تحریک انصاف کے احتجاجی مظاہروں کا آغاز

    پی ٹی آئی
    ،تصویر کا کیپشنلاہور میں مظاہرہ
    پی ٹی آئی
    ،تصویر کا کیپشنپشاور میں مظاہرہ
  17. عمران خان کی کرپشن ثابت ہونے پر انھیں نااہل قرار دیا گیا: وزیر قانون

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن میں دائر توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی کرپشن ثابت ہونے پر انھیں نااہل قرار دیا گیا۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے تحائف کی قیمت کا خود تعین کر کے انھیں بیچ دیا اور اس رقم کو ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان نے 2019، 2020 اور 2021 کے گوشواروں میں تحائف سے حاصل ہونے والی رقم کو اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا تھا۔

  18. داخلی راستوں پر گشت بڑھا دی گئی ہے: پولیس

    اسلام آباد پولیس نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے ’داخلی راستوں پر گشت بڑھا دی گئی ہے۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ ایمبولینسز اور قیدی وینز کو مختلف مقامات پر پہنچا دیا گیا ہے۔ بچوں اور خواتین سے گزارش ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

    ’تمام جماعتوں کے رہنماؤں سے گزارش ہے کہ اشتعال انگیز بیانات سے گریز کریں۔عوام سے گزارش ہے کہ وہ جذبات میں آکرقانون کو ہاتھ میں نہ لیں۔‘

    ٹریفک پولیس کی جانب سے دیے گئے متبادل راستوں کی فہرست:

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

  19. تمام کارکنان فیض آباد پُل پہنچیں: پی ٹی آئی رہنما

    پاکستان کے دیگر بڑے شہروں کی طرح جڑواں شہروں راولپنڈی اسلا آباد میں بھی تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج کی کال دی گئی ہے۔

    رکن پنجاب اسمبلی عمر تنویر نے کہا ہے کہ ’جانبدار الیکشن کمیشن کا بغض اور بددیانتی پر مبنی فیصلہ ہمیں قبول نہیں۔ پنڈی کے کارکنان فیض آباد پہنچیں، اب دما دم مست قلندر ہوگا۔‘

    انھوں نے کہا کہ تمام کارکنان فیض آباد پُل پہنچیں تاکہ وہاں مظاہرہ کیا جاسکے۔ انھوں نے کہا کہ یہاں سے مظاہرے کا آغاز کیا جائے گا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  20. الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر فائرنگ، پی ٹی آئی رہنما صالح محمد اور پولیس گارڈ زیرِ حراست

    الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر فائرنگ کے واقعے کے بعد تحریک انصاف کے رہنما صالح محمد اور ان کے پولیس گارڈ کو حراست میں لیا گیا ہے۔

    مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق اسلام آباد پولیس نے فائر کرنے والے پولیس گارڈ کو حراست میں لیا ہے۔ گولی پی ٹی آئی کے ایم این اے صالح محمد کے پولیس گارڈ نے چلائی جن کا تعلق خیبر پختونخوا پولیس سے ہے۔

    اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کے صالح محمد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔