فیصل واوڈا کی پارٹی رکنیت معطل، شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا

تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری اسد عمر نے فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فیصل واوڈا کا بیان پارٹی پالیسی اور خیالات کی عکاسی نہیں کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے سندھ کے صدر کو چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی ہدایات پر فیصل واوڈا کو پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر شوکاز نوٹس بھیجنے کا کہا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. توشہ خانہ کیس کا فیصلہ آج: ریڈ زون میں سکیورٹی کے سخت انتظامات

    اسلام آباد پولیس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق الیکشن کمیشن کے توشہ خانہ کیس کے فیصلے کے حوالے سے ریڈ زون میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    اس بیان کے مطابق ریڈ زون میں ایس ایس پی کی نگرانی میں سیکورٹی تعینات کردی گئی۔ ایک ایس ایس پی، پانچ ایس پیز، چھ ڈی ایس پی سمیت ساڑھے 11 سو اہلکار تعینات۔ ’ریڈ زون میں داخلہ محدود۔ پولیس کے ساتھ ایف سی اور رینجرز کے اہلکار بھی تعینات۔‘

    پولیس حکام کے مطابق پی ٹی آئی کے کارکنوں کو الیکشن کمیشن تک پہنچنے نہیں دیا جائے گا۔

    اسلام آباد انتظامیہ نے آنسو گیس کے شیلز بڑی تعداد میں الیکشن کمیشن پہنچا دیے ہیں۔ ’پی ٹی آئی کارکنوں کے الیکشن کمیشن کے باہر ممکنہ احتجاج کے پیش نظر آنسو گیس شیلز پہنچائے گئے۔‘

  2. جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 24 اکتوبر کو طلب

    جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 24 اکتوبر کو طلب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ججز کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 24 اکتوبر کو طلب کر لیا ہے۔

    چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے لیے ہائی کورٹ کے چار ججز کے نام تجویز کر دیے ہیں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ سپریم کورٹ کے جج کے لیے نامزد کیے گئے ہیں۔ ان میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد وحید، سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس شفیع صدیقی کے نام شامل ہیں۔

    اس سے پہلے والے اجلاس میں جوڈیشل کونسل کے ارکان کی اکثریت نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی طرف سے پیش کیے گئے تمام نام مسترد کر دیے تھے۔

  3. بریکنگ, عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس: الیکشن کمیشن جمعے کو دن 2 بجے فیصلہ سنائے گا

    ECP

    الیکشن کمیشن آف پاکستان عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس میں فیصلہ کل جمعے کو دن دو بجے سنائے گا۔ خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے 19 ستمبر کو اس ریفرنس پر سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    کمیشن نے دونوں فریقین کے وکلا کے دلائل سنے اور پھر یہ اعلان کیا کہ فیصلہ محفوظ کیا جاتا ہے۔ اب الیکشن کمیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ محفوظ فیصلہ کل جمعے کو سنایا جائے گا۔

    واضح رہے کہ اس ریفرنس کی وجہ سے عمران خان کے سر پر بھی اُسی آئینی آرٹیکل کی تلوار لٹک رہی ہے جس کے تحت سابق وزیراعظم نواز شریف عمر بھر کے لیے پارلیمانی سیاست سے عدالتی فیصلے کے نتیجے میں بے دخل کر دیے گئے تھے۔

    مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی بیرسٹر محسن نواز رانجھا نے عمران خان کے خلاف سپیکر قومی اسمبلی کے پاس آئین کے آرٹیکل 63 (ٹو) کے تحت ریفرنس دائر کیا تھا، جس میں کہا گیا کہ عمران خان نے سرکاری توشہ خانہ سے تحائف خریدے مگر الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے اثاثہ جات کے گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا، اس طرح وہ ’بددیانت‘ ہیں، لہٰذا انھیں آئین کے آرٹیکل 62 ون (ایف) کے تحت نااہل قرار دیا جائے۔

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے قائدین کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے۔

    یہ ریفرنس اگست کے مہینے میں الیکشن کمیشن پہنچا، جس کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اسے 18 اگست کو سماعت کے لیے مقرر کیا تھا۔

    توشہ خانہ سکینڈل طویل عرصے سے خبروں میں ہے جس کی وجہ یہ الزام ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی نے توشہ خانے سے سستے داموں تحائف خریدنے کے بعد انھیں بیچ دیا تھا۔

    یہاں یہ بات اہم ہے کہ توشہ خانہ سے تحائف خریدے جاتے ہیں اور انھیں مکمل قانونی تحفظ حاصل ہے تاہم بعض حلقے یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ اخلاقی طور پر تحفہ بیچنا غلط ہے۔ البتہ عمران خان اس بارے میں کہہ چکے ہیں کہ ’میرا تحفہ، میری مرضی۔‘

    ریفرنس میں کیا ہے؟

    بی بی سی کے پاس موجود اس ریفرنس کی کاپی کے مطابق درخواست گزار نے کہا ہے کہ عمران خان پر قانونی طور پر لازم تھا کہ وہ ہر مالی سال کے آخر میں اپنے، اپنی اہلیہ اور ڈیپینڈینٹس کے تمام تر اثاثے، چھپائے بغیر الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کراتے۔

    دستاویز میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ عمران خان نے ‘جانتے بوجھتے‘ توشہ خانہ سے لیے گئے تحائف کو چھپایا اور یہ کہ انھوں نے ‘قبول کیا ہے جیسا کہ مختلف میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ انھوں نے یہ تحائف فروخت کیے۔ لیکن الیکشن کمیشن کے دستاویزات میں ان کی فروخت بھی چھپائی گئی۔‘

    دستاویز کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان کو اپنی حکومت کے دوران کل 58 باکسز تحائف کی صورت میں ملے جن میں مختلف اشیا تھیں۔ یہ تحائف عمران خان نے توشہ خانہ سے 20 اور بعدازاں 50 فیصد رقم ادا کر کے حاصل کیے۔

    ان میں سے کئی ایسے ہیں جن کی لاگت 30 ہزار سے کم تھی لہٰذا قانون کے مطابق وہ یہ تحائف مفت حاصل کر سکتے تھے جبکہ 30 ہزار سے زائد قیمت کے تحفوں کی قیمت کا 20 فیصد ادا کر کے وہ گفٹس لیے گئے۔

  4. عوام نے عمران خان کو ووٹ اس اسمبلی کے لیے نہیں بلکہ نئے انتخابات کے لیے دیے: فواد چوہدری

    سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ عوام نے جو تحریک انصاف کو حالیہ انتخابات میں ووٹ دیے ہیں وہ اس بات پر نہیں دیے کہ ہم جا کر اسمبلیوں میں بیٹھیں گے بلکہ انھوں نے اس وجہ سے یہ ووٹ دیے کہ اب نئے انتخابات کرائے جائیں۔

    فواد چوہدری نے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ جماعت اسلامی سمیت سیاسی جماعتیں یہ کہہ رہی ہیں کہ یہ الیکشن کمیشن نئے انتخابات کرانے کا اہل نہیں ہے۔

    ان کے مطابق اگر اسلام آباد میں انتخابات ہو سکتے ہیں تو پھر کراچی میں انتخابات ملتوی کرنے کی کیا تُک بنتی ہے۔

    فواد چوہدری کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ کیا اتنی نشستوں سے آئین انتخابات لڑنے کی اجازت دیتا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما نے چیف الیکشن کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئین آپ کو ان حرکتوں سے روکتا ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ چیف الیکشن کمشنر مسلسل آئین کے آرٹیکل پانچ کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

  5. لانگ مارچ کا اعلان ایک ہفتے یا چند دنوں میں ہو جائے گا: فواد چوہدری

    Fawad

    تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ لانگ مارچ کا اعلان ایک ہفتے یا چند دنوں میں ہو جائے گا۔

    ان کے مطابق ابھی ہم نے اس کی کال نہیں دی کہ مگر اسلام آباد کنٹینرز سے بھر دیا گیا ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ ججز اور دیگر لوگ بھی ان رستوں سے گزرتے ہیں مگر میں حیران ہوں کہ کسی نے کوئی نوٹس ہی نہیں لیا۔

    سابق وفاقی وزیر کے مطابق ’لانگ مارچ کا تصور انتہائی پراُمن احتجاج کا ہے‘۔ ان کے مطابق اس لانگ مارچ میں عوام کی شرکت لاکھوں میں ہو گی۔ کسی اور جماعت کے جلسوں میں لوگوں کی اتنی شرکت نہیں ہوتی جتنی کہ تحریک انصاف کے جلسوں میں ہوتی ہے‘۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان مختلف تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں میں بھی جا کر طلبہ سے خطاب کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق لاکھوں طلبہ اور لاکھوں نوجوان اس لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔

  6. اوپن مارکیٹ میں ڈالر 2.50 روپے سستا, تنویر ملک، صحافی

    ڈالر

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    مسلسل سات کاروباری دنوں میں اضافے کے بعد جمعرات کے روز ڈالر کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی جب اوپن مارکیٹ میں ایک ڈالر کی قیمت میں 2.50 روپے کی کمی واقع ہوئی۔

    کاروبار کے اختتام پر ایک ڈالر کی قیمت 225.50 کی سطح پر بند ہوئی۔ انٹر بنک میں ڈالر کی قیمت میں آٹھ پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ایک ڈالر کی قیمت 220.96 کی سطح پر بند ہوئی۔

  7. سپریم کورٹ: عمران خان کا لانگ مارچ روکنے کے لیے عبوری حکم کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ

    عمران خان کے خلاف وفاقی حکومت کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے عبوری حکم جاری کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت دی ہے اور چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ اگر آئندہ ہفتے سے پہلے کوئی مسئلہ ہو تو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں۔

    سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’سپریم کورٹ میں عمران خان کے لانگ مارچ کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دی تھی۔ اس درخواست کی سماعت کے دوران عدالت کو یقین دہانی کرائی گئی، یقین دہانی کے باوجود عمران خان نے کارکنان کو ڈی چوک کی کال دی۔ عدالت کے حکم پر سری نگر ہائی وے گراؤنڈ کے راستے کھول دیے گئے تھے۔

    ’سری نگر ہائی وے کا گراؤنڈ انھوں نے خود مانگا تھا۔ کارکنان کال پر ڈی چوک کی طرف آ گئے۔ کارکنان ریڈ زون کی طرف آئے۔ لا انفورسمنٹ ایجنسیوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ مظاہرین نے سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا۔ مظاہرین کے ریڈزون کی طرف آنے پر 25 مئی کی رات متفرق درخواست دائر کی۔ متفرق درخواست میں ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی استدعا کی۔ اٹارنی جنرل نے 25 مئی کا عدالتی حکمنامہ پڑھ کر سنایا عدالتی کارروائی کے دوران وکلا تحریک انصاف لیڈر شپ کے ساتھ رابطے میں تھے۔‘

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ ’عبوری آرڈرز کس لیے دیں؟‘ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا ’عمران خان تعلیمی اداروں میں طلبا اور عوام کو اکسا رہے ہیں۔‘

    ’آپ اپنے آپ کو قانون کے مطابق تیار کریں‘

    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’‏آپ کے مطابق عدالتی احکامات کی پہلے ہی خلاف ورزی کی جاچکی ہے۔ آپ ایگزیکٹو اتھارٹی ہیں، اس وقت عدالتی احکامات پر انحصار کر رہے تھے۔ ‏موجودہ صورتحال میں آپ کو لبرٹی ہے کہ آپ روکنے کے لیے اقدامات کریں۔ ‏25 مئی واقعے میں 13 افراد زخمی ہوئے، پبلک پراپرٹی کو نقصان ہوا، کیس داخل نہ ہوا۔ دوسرے دن عمران خان صبح سویرے واپس چلے گئے۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ہم اس معاملے میں رپور ٹس کا جائزہ لیں گے۔ آپ اپنے آپ کو قانون کے مطابق تیار کریں۔‘

    اٹارنی جنرل نے کہا ’اسلام آباد میں آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا کی پولیس بھی داخل ہوئی تھی۔‘ ‏عدالت نے اٹارنی جنرل کو پولیس اور انتظامیہ کی جمع کردہ رپورٹس فراہم کی ہیں۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے اٹارنی جنرل کو ہدایت دی کہ ’خفیہ رپورٹس ہیں، ان کا جائزہ لیں۔‘

    اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ’عدالتی حکمنامے میں کارکنان کی پکڑ دھکڑ سے روک دیا گیا۔ عدالت نے پی ٹی آئی لیڈر شپ کو اپنے کارکنان کو پُرسکون رہنے کی بھی ہدایت کی۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں لکھا ہے کہ فی الحال تحمل میں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں آئی ایس آئی، آئی بی، آئی جی اسلام آباد، وزارت داخلہ اور چیف کمشنر سے رپورٹ طلب کی۔‘

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’رپورٹس طلب کیں تو آیا کہ پی ٹی آئی لیڈر شپ نے یقین دہانی کی خلاف ورزی کی۔ متعلقہ اداروں نے رپورٹس سپریم کورٹ میں جمع کرائیں۔ مجھے ان رپورٹس کی کاپی نہیں مل سکی۔‘

    ’ہم سیاسی اقدامات نہیں لے سکتے‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’رپورٹس کی کاپی آپ کو فراہم کی جائے گی۔ آپ کو کاپی ملنے کے بعد دوبارہ سماعت کریں گے۔‘

    اٹارنی جنرل کی استدعا پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ’کیا عبوری حکم جاری کریں؟‘ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا ’عمران خان اسلام آباد پر چڑھائی کو جہاد قرار دے رہے ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’‏رپورٹس کے مطابق 300 کے قریب افراد ریڈ زون کی طرف داخل ہوئے تھے۔ بظاہر لگتا ہے کہ وہ مقامی لوگ تھے، اگر احتجاج کرنے والے ہوتے تو زیادہ ہوتے۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’جب صورتحال سامنے آئی تو ہم نے چھٹی والے دن عدالت لگائی۔ آپ کو اس صورتحال میں مضبوط دلائل دینے ہوں گے۔ یہ صورتحال ایسی ہے جس میں سب کو سیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔

    ’‏جمہوریت لیڈر شپ کوالٹی پیدا کرتی ہے۔ ہم نے ہمیشہ قانون کی بات کی ہے۔ ہم پولیٹکل ایکٹرز نہیں اور نہ ہی سیاسی اقدامات لے سکتے ہیں۔‘

    عدالت نے سماعت 26 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

  8. عمران خان کا ’آڈیو لیکس‘ کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے ’آڈیو لیکس‘ کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے اور اپنی درخواست میں استدعا کی ہے کہ عدالت حکومت اور متعلقہ اٹھارٹی کو مزید آڈیو لیکس روکنے کا حکم دے۔

    تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں وزارت داخلہ، دفاع اور وفاق کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے ’جوڈیشل کمیشن یا مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی جائے۔‘

    ’عدالت حکومت اور متعلقہ اٹھارٹی کو مزید آڈیو لیک روکنے کا حکم دے۔‘

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ آڈیو لیکس کے ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے۔ ’وزیر اعظم ہاؤس و آفس کی آڈیو لیکس کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔‘

  9. ساری سیاست اہم تعیناتی کے گرد گھوم رہی ہے: شیخ رشید

    سابق وزیر داخلہ نے نومبر میں آرمی چیف جنرل باجوہ کی ممکنہ ریٹائرمنٹ اور نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ملک کی ساری سیاست اہم تعیناتی کے گرد گھوم رہی ہے۔‘

    انھوں نے ٹوئٹر پر جاری کردہ بیان میں کہا کہ ’ن لیگ کی پارٹنرشپ ٹوٹنے والی ہے۔ ڈار روس اورچین کا نام لینے سے پہلے شہباز سے پوچھ لیں۔

    ’شہبازشریف شو پیس ہے، فیصلے اور رابطے لندن سے ہو رہے ہیں جہاں مایوسی چھا گئی ہے۔ ثنااللہ کی بڑھکیں گلے پڑنے والی ہیں۔ 10-15 دن میں پتا لگ جائے گا، کال آتی ہے یا قال پڑتا ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت آج

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی حکومت نے عمران خان کے لانگ مارچ کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی جس کی سماعت آج متوقع ہے۔

    عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی اس درخواست کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس مظاہر علی نقوی پر مشتمل سپریم کورٹ کا لارجر بنچ دوپہر ایک بجے کرے گا۔

    اس درخواست میں حکومت کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو 25 مئی 2022 کو پُرامن احتجاج کی اجازت دی تھی مگر اب دوبارہ لانگ مارچ کے اعلانات عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے۔

  11. طحہ شیخ کی موت کے بارے میں سن کر دکھ ہوا: عمران خان

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کہتے ہیں کہ انھیں تحریک انصاف کے کارکن طحہ شیخ کی موت کے بارے میں سن کر دکھ ہوا ہے۔

    ’سات اکتوبر کو انھیں اپنے گھر کے سامنے گولی ماری گئی جو بظاہر ٹارگٹڈ حملہ ہے۔ طحہ زخموں کی تاب نہ لاسکے اور چل بسے۔ سندھ پولیس نے تاحال مجرموں کو گرفتار نہیں کیا۔ میں ان کے خاندان کے لیے دعا گو ہوں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  12. ’اگر حکومت نے الیکشن کا اعلان کیا تو لانگ مارچ کی ضرورت نہیں ہوگی‘

    رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری کہتے ہیں کہ روزنامہ ڈان نے ان کے بیان کی گمراہ کن ہیڈلائن لگائی ہے۔

    وہ ٹوئٹر پر پیغام میں کہتے ہیں کہ ان سے پوچھا گیا تھا کہ ’اگر حکومت الیکشن کا اعلان کرتی ہے تو کیا پی ٹی آئی تب بھی لانگ مارچ کرے گی۔‘ اس پر ان کے مطابق ان کا جواب تھا کہ ’اگر حکومت نے الیکشن کا اعلان کیا تو لانگ مارچ کی ضرورت نہیں ہوگی۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ایک دوسرے سوال میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا صدر علوی مذاکرات کرا رہے ہیں جس پر ان کے مطابق ان کا جواب تھا کہ ’صدر نے مشترکہ اجلاس کے دوران اپنے خطاب میں ایک مؤثر فارمولا دیا ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. بریکنگ, ’حکومت کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات میں صدر عارف علوی نے کردار ادا کیا‘: فواد چوہدری

    Arif Alvi

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات کو تسلیم کر لیا ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات میں صدر عارف علوی نے کردار ادا کیا ہے۔‘

    پاکستان کے انگریزی اخبار ڈان سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’حکومت کے ساتھ مذاکرات الیکشن کے مسئلے پر ہوئے تھے اور صدر عارف علوی کے ذریعے ان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر حکومت قبل از وقت انتخابات کا اعلان کرنے پر رضامند ہے تو پی ٹی آئی، حکومت کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات کرنے اور بات چیت کے لیے بیٹھنے کو تیار ہے۔‘

    واضح رہے گذشتہ چند روز سے پاکستان کے مقامی نیوز چینلز پر پی ٹی آئی اور چند اہم حکومتی شخصیات کی ایوان صدر میں ملاقات کے بارے میں خبریں اور اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ صدر پاکستان عارف علوی موجود سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  14. پاکستان روسی تیل خریدنے کے حوالے سے غور کر رہا ہے: اسحاق ڈار

    اسحاق ڈار

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان روسی تیل درآمد کرنے کے حوالے سے غور کر رہا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جب صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ کیا پاکستان سستا روسی تیل خریدے گا تو ان کا جواب تھا کہ ’ہم اس پر غور کر رہے ہیں۔

    ’اگر انڈیا روس سے تیل خرید سکتا ہے تو ہمیں بھی یہ حق ہے۔‘

  15. ڈالر کی قیمت میں اضافہ، دو روپے مزید مہنگا ہو گیا, تنویر ملک، صحافی

    ڈالر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ڈالر کی قیمت میں پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں اضافے کا رجحان مسلسل ساتویں کاروباری روز بھی دیکھا گیا اور بدھ کے روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں مزید دو روپے کا اضافہ ہوا۔

    ایک ڈالر کی قیمت 228 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔ انٹر بینک میں ایک ڈالر کی قیمت 1.16 روپے بڑھ گئی اور کاروبار کے اختتام پر ڈالر 220.87 روپے کی سطح پر بند ہوا۔

    دوسری جانب ایک غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ملکی کرنسی کو مستحکم رکھنے کے لیے خاص اقدامات کرنے کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کیونکہ پاکستان کے پاس ڈالرز کی کمی ہے اور وہ اُنھیں مارکیٹ میں ڈال کر ایکسچینج ریٹ کو مستحکم نہیں رکھ سکتا۔

  16. سپریم کورٹ میں ’اچھی اور بری‘ نیب ترامیم پر بحث

    سپریم کورٹ، نیب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نئی ترامیم کے بعد نیب قانون سے بچ نکلنے پر دوسرے قانون میں پھنس جائے گا، آپ کے دلائل سے ایسا لگتا ہے احتساب صرف نیب کر سکتا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ احتساب کے لیے دیگر ادارے بھی موجود ہیں۔

    تاہم جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کا جرم کسی دوسرے قانون میں نہیں۔

    خواجہ حارث احمد نے مؤقف اپنایا کہ نیب ترامیم کے ذریعے نجی افراد کے جرائم کو نکال دیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کا جرم نیب کا ہے مگر اس جرم کی ہیئت کو ترامیم کے ذریعے تبدیل کردیا گیا ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات پر اس وقت کارروائی ہوگی جب کرپشن ثابت ہو۔

    چیف جسٹس نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ ترامیم سے کئی جرائم کو ڈی کرمنلائز کر دیا گیا ہے؟

    اُنھوں نے کہا کہ ریمانڈ کتنا ہو ضمانت کیسے ہو گی، ان ترامیم پر آپ کا اعتراض نہیں۔

    اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ یہ اچھی ترامیم ہیں ان پر اعتراض نہیں۔

    سپریم کورٹ، نیب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات سمیت جو جرائم نیب قانون سے نکالے گئے، کیا ان جرائم کے خلاف دوسرے قوانین موجود ہیں؟

    خواجہ حارث نے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے جرائم کو ختم کر دیا گیا ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نیب قانون میں آمدن سے زائد اثاثہ جات کا جرم آج بھی موجود ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا عدالت اب قانون کے ڈیزائن کا جائزہ بھی لے گی؟

    خواجہ حارث احمد نے کہا کہ نیب ترامیم میں یہی تو ’کلرایبل ایکسرسائز‘ ہوئی ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عدالت پارلیمنٹ کے ساتھ چالاکی کو کیسے منسوب کر سکتی ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پاکستان جیسے ملک میں درست ٹیکس ریٹرنز جمع نہیں کروائے جاتے، ایسے میں اثاثوں کا آمدن سے محض زائد ہونا کافی نہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات میں کرپشن یا بے ایمانی کا ہونا بھی ضروری ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کل کو کوئی عدالت آ کر کہے کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات پر پھانسی ہونی چاہیے۔

    اُنھوں نے مزید کہا کہ جرم ثابت کرنے کا بوجھ کتنا اور کس پر ہو گا یہ بحث عدالت میں نہیں پارلیمنٹ میں ہونی چاہیے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نیب قانون کے مطابق ججز کو استثنیٰ نہیں، ججز کے حوالے سے کوئی پردہ داری ہو تو علیحدہ بات ہے۔

    بعد ازاں یہ سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی۔

  17. سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف درخواست پر سماعت

    سپریم کورٹ

    عمران خان کی درخواست پر آج سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف درخواست پر سماعت ہو رہی ہے۔

    دورانِ سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا کوئی رہ گیا ہے جسے نیب قانون سے استثنیٰ نہ ملا ہو۔ اُنھوں نے کہا کہ تحصیل کونسل کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے فیصلے بھی مستثنیٰ ہو گئے ہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ مالی فائدہ ثابت کیے بغیر کسی فیصلے کو غلط نہیں کہا جا سکتا۔

    اُنھوں نے کہا کہ بظاہر افسران اور عوامی عہدیداران کو فیصلہ سازی کی آزادی دی گئی ہے۔

    تاہم عمران خان کے وکیل خواجہ حارث احمد نے کہا کہ ’ایسے فیصلہ سازوں‘ سے ہی ماضی میں آٹھ ارب سے زائد کی ریکوری ہوئی۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا ریکوری عوامی عہدیداران سے ہوئی تھی جس پر خواجہ حارث احمد نے کہا کہ عوامی عہدیداروں کے لیے پیسے لینے والوں سے ریکوری ہوئی تھی۔

    جسٹس شاہ نے کہا کہ ہر سرکاری فیصلے کا کسی نہ کسی طبقے کو فائدہ ہوتا ہی ہے۔

    خواجہ حارث احمد نے کہا کہ جب تک پہنچایا گیا فائدہ غیر قانونی نہ ہو تو کوئی قباحت نہیں مگر مخصوص افسر کو غیر قانونی فائدہ پہنچانے پر کارروائی نہ ہونا غلط ہے اور نئی ترامیم کے بعد نیب کسی ریگولیٹری اتھارٹی اور سرکاری کمپنی پر بھی ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے درخواست گزار کے وکیل سے سوال کیا کہ پاک فوج کو نیب قانون سے استثنیٰ کیوں دیا گیا ہے؟ اُنھوں نے کہا کہ سارا پیسہ اور کاروبار تو فوج کے پاس ہے، فوج احتساب سے بالاتر ہے؟

    اُنھوں نے کہا کہ عمران خان نے فوج کے احتساب کا نکتہ درخواست میں کیوں نہیں اٹھایا۔

  18. ’فیصل واوڈا نے امریکی شہریت ترک کرنے کے ثبوت کے طور پر زائد المعیاد پاسپورٹ جمع کروایا‘, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    فیصل واوڈا

    ،تصویر کا ذریعہPID

    سپریم کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کے خلاف اپیل کی سماعت کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ سنہ 2018 کے انتخابات سے قبل کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران انھوں نے ریٹرنگ افسر کو زائد المعیاد امریکی پاسپورٹ دکھایا تھا۔

    تاحیات نااہلی کے خلاف فیصل واوڈا کی اپیل پر سماعت کے دوران اُن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ریٹرننگ افسر نے منسوخ امریکی پاسپورٹ دیکھ کر تسلی کی، جس پر جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ جس منسوخ شدہ پاسپورٹ پرانحصار کر رہے ہیں وہ زائدالمعیاد تھا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ریٹرننگ افسر کو پاسپورٹ 2018 میں دکھایا گیا تھا، آر او کو دکھایا جانے والا پاسپورٹ 2015 میں ایکسپائر ہو چکا تھا۔

    انھوں نے ریمارکس دیے کہ نیا پاسپورٹ بنوائیں تو پرانے پاسپورٹ پر منسوخی کی مہر لگتی ہے، منسوخ شدہ پاسپورٹ شہریت چھوڑنے کا ثبوت کیسے ہو سکتا ہے؟

    جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ تو بہت سنجیدہ ہو گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن

    ،تصویر کا ذریعہECP

    بینچ میں موجود جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ فیصل واوڈا کا ایک اور جھوٹ سامنے آ گیا ہے۔

    جس پر اُن کے وکیل نے موقف اپنایا کہ بیان حلفی کا متن تھا کہ کسی دوسرے ملک کا پاسپورٹ نہیں ہے۔

    اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ بیان حلفی میں پاسپورٹ کا مطلب دوسرے ملک کی شہریت ہونا تھا؟

    اس موقع پر جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ جو پاسپورٹ ریکارڈ پر ہے اس کا اور منسوخ شدہ پاسپورٹ کے نمبر مختلف ہیں، مختلف نمبرز سے واضح ہے کہ زائد المعیاد ہونے کے بعد نیا پاسپورٹ بھی جاری ہوا۔

    فیصل واوڈا کے وکیل کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے پاس تاحیات نااہلی کا اختیار نہیں ہے۔ اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ہائیکورٹ کے پاس تاحیات نااہل کرنے کا اختیار موجود ہے۔

    سماعت کے دوران فیصل واووڈا کے وکیل وسیم سجاد نے مزید تیاری کے لیے وقت مانگ لیا جس پر جسٹس منصور نے ریمارکس دیے کہ ان سولات کے جواب آپ کو آئندہ ہفتے بھی نہیں ملنے۔

    عدالت نے مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔

  19. امریکہ پاکستان کے اپنے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت اور صلاحیت کے حوالے سے پراعتماد ہے

    محکمہ خارجہ

    ،تصویر کا ذریعہState Department

    امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کی جانب سے اپنے ایٹمی اثاثوں کے تحفظ کے عزم اور اس کی صلاحیت کے حوالے سے پراعتماد ہے۔

    معمول کی پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ویدانت پٹیل نے کہا کہ امریکہ نے ہمیشہ ایک محفوظ اور خوشحال پاکستان کو امریکی مفادات کے لیے اہم سمجھا ہے۔

    ’ہماری ایک مضبوط شراکت داری ہے، کچھ عرصے پہلے امریکی اور پاکستانی وزرائے خارجہ کی بھی ملاقات ہوئی ہے، ہم اس تعلق کو اہم سمجھتے ہیں۔‘

  20. خواجہ آصف: عمران خان کی آرمی چیف سے ایک ملاقات ہوئی، حکومت آگاہ تھی

    وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ایک ملاقات ہوئی ہے اور حکومت ان ملاقاتوں سے پہلے ہی ان سے آگاہ تھی۔

    ان خیالات کا اظہار اُنھوں نے ڈان نیوز کے پروگرام لائیو ود عادل شاہ زیب میں کیا۔

    خواجہ آصف نے اس تاثر کو رد کیا کہ ان کی دو ملاقاتیں ہوئی ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی دوسرے درجے کی قیادت کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملاقاتیں ہوئی ہیں۔