وزیرِ داخلہ پنجاب ہاشم ڈوگر ’ذاتی وجوہات کی بنا پر‘ مستعفی

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیرِ داخلہ ہاشم ڈوگر مستعفی ہو گئے ہیں۔ انھوں نے اپنا استعفیٰ ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’آج میں نے ذاتی وجوہات کی بنا پہ اپنے عہدے سے استعفی دیا ہے۔ انشاللہ آگے بھی پی ٹی آی کے ادنی کارکن کے طور پہ کام کرتا رہوں گا۔‘

لائیو کوریج

  1. ’تحریک انصاف کے مارچ کی صورت میں ریڈ زون کی سکیورٹی کے لیے فوج کو طلب کیا جائے گا‘

    وزارت داخلہ کے ذرائع نے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تحریک انصاف کے ممکنہ لانگ مارچ کے حوالے سے حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔

    اس دوران ممکنہ مارچ کی صورت میں امن و امان یقینی بنانے کے لیے آباد پولیس سمیت سندھ پولیس، رینجرز اور ایف سی کی خدمات لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ممکنہ لانگ مارچ کے دوران ریڈ زون میں واقع سرکاری عمارتوں اور ڈپلومیٹک انکلیو کی سکیورٹی پاکستانی فوج کے حوالے کی جائے گی۔

    اطلاعات کے مطابق سکیورٹی ایجنسیز نے وزیر داخلہ کو پی ٹی آئی کے ممکنہ لانگ مارچ کے حوالے سے بریفنگ دی ہے۔

  2. تحریک انصاف کی ’فائنل کال‘ کی تیاریاں: کیا واقعی ’بات 15 اکتوبر سے آگے‘ نہیں جائے گی؟

  3. پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو اسلام آباد میں داخل نہ ہونے دینے کا فیصلہ

    وزارت داخلہ

    ،تصویر کا ذریعہInterior Ministry

    پاکستان تحریکِ انصاف کے اسلام آباد کی جانب ممکنہ لانگ مارچ کے پیش نظر آج وزارت داخلہ میں وزیرِ داخلہ رانا ثنااللہ کی زیرِ صدارت اجلاس ہوا۔

    سکیورٹی ایجنسیز کے مطابق پی ٹی آئی لانگ مارچ کے شرکاء کی تعداد 15 سے 20 ہزار کے درمیان ہو سکتی ہے۔

    مارچ کے دوران امن و امان یقینی بنانے کے لیے اسلام آباد پولیس سمیت سندھ پولیس، رینجرز اور ایف سی کی خدمات لینے کا فیصلہ کیا گیا اور ان تمام فورسز کے 30 ہزار اہلکار تعینات کیے جائیں گے جبکہ ریڈ زون میں واقع سرکاری عمارتوں اور ڈپلومیٹک انکلیو کی سکیورٹی پاکستانی فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    وزارتِ داخلہ کے مطابق پی ٹی آئی کے ممکنہ مارچ کی صورت میں آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت اسلام آباد میں فوج تعینات ہو گی اور مارچ کو کسی بھی صورت میں اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    وزارتِ داخلہ نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو لاجسٹک اور مالی معاونت فراہم کرنے والے افراد اور تنظیموں کے خلاف ایکشن کی منظوری دی ہے جبکہ پی ٹی آئی کے جلوس کے ساتھ آنے والوں اور انھیں معاونت فراہم کرنے والے وفاقی ملازمین کی مکمل شناخت اور ایسٹاکوڈ کے تحت کارروائی کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

  4. الیکشن کمیشن: کراچی میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست مسترد

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سندھ حکومت کی جانب سے بلدیاتی انتخابات تین ماہ کے لیے ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

    سندھ حکومت نے الیکشن کمیشن سے کہا تھا کہ کراچی ڈویژن میں 23 اکتوبر کے لیے طے شدہ بلدیاتی انتخابات کے لیے سیلاب زدہ علاقوں سے پولیس نفری نہیں منگوائی جا سکتی چنانچہ انتخابات تین ماہ کے لیے ملتوی کیے جائیں۔

    الیکشن کمیشن نے اجلاس میں قرار دیا ہے کہ الیکشن کے دوران امن وامان کو برقرار رکھنا صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے لہٰذا صوبائی حکومت کراچی ڈویژن میں الیکشن کے دوران ان اضلاع سے پولیس کی تعیناتی کو یقینی بنائے جہاں پر صورت حال بہتر ہے۔

  5. مریم نواز: نواز شریف جلد واپس آئیں گے، وقت کا تعین وہ خود کریں گے

    پریس کانفرنس کے بعد ایک سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ کیس میرا تھا مگر زیادہ بے گناہی نواز شریف کی ثابت ہوئی ہے۔

    ’ان پر کیس یہ تھا کہ جائیدادیں ان کی ہیں جو ان کی نہیں نکلیں۔‘

    مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف کا راستہ صاف ہے، صرف ایک درخواست دینی ہے عدالت میں کہ یہ جھوٹا الزام لگایا گیا تھا، وہ بہت جلد وطن واپس آئیں گے مگر وقت کا تعین وہ خود کریں گے۔

  6. سپریم کورٹ کی آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح: ’تاحیات نااہلی ‘ سے ’کالا قانون‘ تک

  7. مریم نواز: عمران خان کو اقتدار واپس ملا تو ’نیوٹرلز‘ کی تعریفیں شروع کر دیں گے

    مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کے لیے جنرل قمر باجوہ پہلے بہت اچھے تھے کیونکہ اس وقت ان کے پاس اقتدار تھا مگر اقتدار سے باہر ہونے کے بعد وہ ان کے خلاف تقریریں کر رہے ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ عمران خان کو اگر اپنی مقبولیت پر اتنا انحصار ہے تو بار بار کیوں ’نیوٹرلز‘ سے فریادیں کر رہے ہیں کہ وہ اپنے حلف سے ہٹیں اور آپ کی مدد کریں۔

    ’یہ بیانات نہیں بلکہ دہائیاں ہیں کہ میری مدد کرو جیسے کہ 2018 میں کی گئی۔‘

    مریم نواز نے کہا کہ اگر آج عمران خان اقتدار میں واپس آ گئے تو ’نیوٹرلز‘ کی تعریفیں دوبارہ شروع کر دیں گے۔ ’مخالفین کو کنٹینرز میں بند کریں، جھوٹے مقدمات بنائیں، اس کے لیے میدان خالی کریں تو یہ آپ کے لیے تعریفیں کرے گا۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ عمران خان رات کو ایوانِ صدر میں خفیہ ملاقاتیں کر کے این آر او مانگتے ہیں اور این آر او نہیں ملتا تو جلسے میں تنقید شروع کر دیتے ہیں۔

  8. مریم نواز کی پریس کانفرنس: ’پاسپورٹ جس معاملے پر رکھا گیا، وہ کیس بنا ہی نہیں‘

    مسلم لیگ

    ،تصویر کا ذریعہPMLN

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اس وقت لاہور میں پریس کانفرنس کر رہی ہیں۔

    مریم نواز نے کہا کہ اُنھیں نیب نے 57 دن کے لیے حبسِ بے جا میں رکھا اور اُنھیں گرفتار کرنے کی وجہ ان کے جلسے اور عوامی تحرک تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ اس دوران ان پر کوئی کیس تھا ہی نہیں اس لیے نیب کے اہلکاروں کو معلوم نہیں تھا کہ ان کا کیا کیا جائے۔

    مریم نواز نے کہا کہ اُنھیں رکھنے کے لیے نیب کے پاس جگہ تک نہیں تھی جس پر اُنھیں ڈے کیئر سینٹر میں رکھا گیا۔ ’تفتیش یہ تھی کہ آج کل کون سی کتابیں پڑھ رہی ہیں، گھر میں مینیو کون بناتا ہے، پارٹی میں فیصلہ سازی کیسے ہوتی ہے، نیب کے عملے کے دل و دماغ میں جو سوال تھے میری تفتیش میں صرف وہ شامل تھے۔‘

    لیگی رہنما نے کہا کہ اس کے بعد اُنھیں جوڈیشل ریمانڈ پر کوٹ لکھپت بھیج دیا گیا۔

    ’یہ ساڑھے تین مہینے کی قید تھی مگر تب سے اب تک نیب سے وہ ریفرینس نہیں بن سکا جس کی بنا پر میرا پاسپورٹ اور سات کروڑ رکھوائے۔‘

    مریم نواز نے کہا کہ جو کھیل ہمارے ساتھ کھیلا گیا، جو مقدمات ہمارے خلاف بنائے گئے، مجھے جس کیس میں سزا ہوئی وہ چیز کبھی ختم نہیں ہو گی۔

    انھوں نے ایون فیلڈ ریفرینس کے فیصلے میں کہا کہ وہ تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد کیس کے تمام حقائق سے آگاہ کریں گی۔

    مریم نواز نے کہا کہ اُنھوں نے نیب قانون کی نئی ترامیم کا فائدہ نہیں لیا ہے۔ ’نہ مجھے ان کے تحت ریلیف ملا ہے۔ نیب کے پرانے قانون کے تحت چار مہینے سزا بھگتی ہے اور اس کے بعد میرٹ پر ریلیف ملی ہے۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ اسحاق ڈار کے ملک واپس آنے پر مسئلہ یہ ہے کہ ملکی معیشت بہتر ہو رہی ہے، ڈیزل پیٹرول اور ڈالر کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی میٹنگز میں یہ بات ہو رہی ہے کہ معیشت بہتر ہو گئی تو ہمیں کون پوچھے گا۔

  9. شہباز شریف: عمران خان نے دوست ملکوں کے ساتھ تعلقات بلاوجہ خراب کیے

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہPML-N

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان کی ’جھوٹ اور دھوکہ دہی پر مبنی پالیسیوں‘ نے ملکی معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کو انٹرویو میں وزیر اعظم نے کہا کہ عمران خان نے اپنے ’ذاتی ایجنڈے‘ کے لیے کرپشن کے خاتمے کو اپنا منشور بنا کر پیش کیا لیکن وہ پاکستانی تاریخ کے سب سے زیادہ ’ناتجربہ کار‘ سیاست دان ثابت ہوئے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان کو اپنے تمام ’دانستہ مجرمانہ اقدامات‘ کے لیے جوابدہ ہونا پڑے گا۔

    وزیر اعظم نے پاکستان کے دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات دوبارہ استوار کرنے کے حوالے سے اپنی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پراس وقت حیران رہ گئے جب کئی عالمی رہنماؤں نے ان سے ملاقات کے دوران عمران خان کے رویے کا ذکر کیا۔

    شہباز شریف نے الزام عائد کیا کہ عمران خان نے امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو بلاوجہ نقصان پہنچایا۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے چین کے ساتھ قریبی تعلقات کو دوبارہ سے بہتر بنائیں گے جنھیں عمران خان کی طرف سے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو مبینہ طور پر روکے جانے کے باعث نقصان پہنچا۔

    وزیر اعظم نے اس منصوبے کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ نومبرمیں چین کا دورہ کریں گے ’جو پاکستان کا سب سے آزمودہ دوست ہے۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ سی پیک نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی بہتری کے لیے ایک اچھا منصوبہ ہے۔

    وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے حکومتی امور میں مشاورت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ نواز شریف ان کے رہنما اور بڑے بھائی ہیں اور وہ ان سے مشورہ کرتے ہیں لیکن اُنھوں نے مجھے فیصلے کرنے کے لیے مکمل اختیار دیا ہوا ہے۔

  10. سائفر کیا ہوتا ہے اور وزیر اعظم ہاؤس سے غائب ہونے والی دستاویز کیا سائفر تھی؟

  11. نیب ترمیم کے خلاف عمران خان کی درخواست: ’صرف بنیادی حقوق اور آئین کی خلاف ورزی کو دیکھنا ہے‘ چیف جسٹس کے ریمارکس

    نیب ترمیم کے خلاف پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان کی درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔

    چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ اس درخواست کی سماعت کر رہا ہے۔

    یاد رہے درخواست گزار نے حالیہ نیب آرڈیننس میں ترمیم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کر رکھی ہے۔

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل شروع کیے تو چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ آپ اپنے دلائل اور معروضات کب تک مکمل کر لیں گے؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا ہے کہ ہم آج تین بجے تک کیس کی سماعت کریں گے اور آئندہ دو روز بھی یہ کیس سنیں گے، جمعرات کے بعد آئندہ ہفتے پھر کیس کی سماعت ہو گی۔

    عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ میں دو دن میں اپنے دلائل مکمل کر لوں گا۔

    خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ گذشتہ سماعت پر وفاق کو جواب جمع کرانے کا کہا تھا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وفاق نے ابھی جواب جمع نہیں کرایا۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل عدالت میں موجودہ نہیں ہیں۔

    خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ابھی تو نیب کا مؤقف آنا باقی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ نیب اس معاملے میں کیا موقف اپناتا ہے۔

    انھوں نے دلائل دیے کہ نیب قوانین میں ترامیم سے متعدد کرپشن کے کیسز واپس ہو گئے ہیں اور ‏زیر التوا نیب انکوائریوں کو بھی روک دیا گیا ہے۔

    خواجہ حارث نے دلائل دیے کہ ‏حکومت نے کرپشن چھپانے کے لیے نیب عدالتوں کے اختیارات کم کیے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ‏نیب نے کہا تھا وہ اٹارنی جنرل کے دلائل کو اپنائیں گے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ نیب نے زبانی کہا تھا ابھی تحریری کچھ نہیں آیا۔

    دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ‏صرف بنیادی حقوق اور آئین کی خلاف ورزی کو دیکھنا ہے۔

    پی ٹی آئی کے وکیل نے دلائل دیے کہ نیب قانون میں مختلف شقوں کے ذریعے عوامی عہدیداروں کو ڈیل کیا گیا۔

  12. پی ٹی آئی کا اسلام آباد کی جانب ممکنہ مارچ: وزارت داخلہ میں اہم اجلاس جاری

    پاکستان تحریکِ انصاف کے دارالحکومت اسلام آباد کی جانب ممکنہ حقیقی آزادی مارچ اور دھرنے کی پیشِ نظر وزارت داخلہ میں اہم اجلاس جاری ہے۔

    اس اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان کر رہے ہیں۔

    اجلاس میں پی ٹی آئی کے ممکنہ لانگ مارچ اور دھرنے کو روکنے سے متعلق حکمت عملی کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے اس اجلاس کی کاروائی کو ان کیمرا رکھنے کا فیصلہ کیا ےہ۔

    اجلاس میں سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر، کمانڈنٹ ایف سی صلاح الدین محسود،آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر، کمانڈر رینجرز اسلام آباد شرکت کررہے ہیں۔

    اجلاس میں چیف کمشنراسلام آباد عثمان یونس، ڈی آئی جی آپریشنز سہیل ظفر چٹھہ ،ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن اور سکیورٹی ایجنسیز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے بھی شریک ہیں۔

  13. تاحیات نااہلی کا آرٹیکل 62 ون ایف ’کالا قانون‘ ہے، کیس کی سماعت میں اہم سوال یہ ہو گا کہ کیا الیکشن کمیشن تاحیات نااہلی کا حکم دے سکتا ہے؟ چیف جسٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    فیصل واوڈا

    ،تصویر کا ذریعہPID

    سپریم کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کے خلاف اپیل پر سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے ہیں کہ تاحیات نااہلی کا آرٹیکل 62 ون ایف ’کالا قانون‘ ہے اور اس کیس کی سماعت کے دوران اہم سوال یہ ہو گا کہ کیا الیکشن کمیشن تاحیات نااہلی کا حکم دے سکتا ہے یا نہیں۔

    منگل کے روز ہونے والی سماعت کے دوران چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اس کیس کو محتاط ہو کر سُنے گی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن کو غلط بیان حلفی پر تحقیقات کا اختیار حاصل ہے اور اگر الیکشن کمیشن کے تاحیات نااہلی کے حکم کو کالعدم قرار دیں بھی تو حقائق تو وہی رہیں گے۔

    فیصل واڈا کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی سیٹ پر سینیٹر منتخب ہونے والے پیپلز پارٹی کے رہنما نثار کھوڑو کے وکیل نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں واضح کہا کہ فیصل واوڈا نے دہری شہریت تسلیم کی۔

    سپریم کورٹ نے وقت کی کمی کے باعث اس درخواست پر سماعت چھ اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ اس موقع پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت اس کیس کو تفصیل سے سُنے گی۔

  14. ڈالر کی قیمت میں مزید کمی، سٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان, تنویر ملک ، صحافی

    منگل کے روز سٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے اور مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز کے پہلے ایک گھنٹے میں 300 پوائنٹس تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    مارکیٹ میں اِس وقت خریداری کا رجحان غالب ہے۔

    کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں 1.29 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ایک ڈالر کی قیمت 226 روپے تک گر گئی ہے۔

    گذشتہ آٹھ کاروبار ی دنو ں میں ڈالر کی قیمت میں 13.71 روپے کی کمی واقع ہو چکی ہے۔

  15. ’انٹیلیجنس ایجنسیوں کا کام سیاسی انجنیئرنگ نہیں، آپ کا کام ملک کو محفوظ بنانا ہے، عمران خان

    PTIofficial

    ،تصویر کا ذریعہPTIofficial

    پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ’ہماری انٹیلیجنس ایجنسیوں کو اپنا بھی سوچنا چاہیے کہ آپ کیا کر رہے ہیں، لوگوں کو دھمکیاں دلوا رہے ہیں۔۔۔ سوشل میڈیا کو کہہ رہے ہیں یہ نہ کرو میڈیا کو کہہ رہے ہیں وہ نہ کرو اور آپ کا اصل کام تو یہ نہیں ہے، سیاسی انجنیئرنگ آپ کا کام نہیں ہے، آپ کا کام تو ملک کو محفوظ بنانا ہے۔‘

    نجی چینل پر دیے گئے ایک انٹرویو میں آڈیو لیکس کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک کی سکیورٹی کے حوالے سے یہ بہت ہی سنجیدہ معاملہ ہے، ایجنسیوں کو سوچنا چاہیے کہ ’وزیراعظم کے دفتر کی سکیورٹی بریچ ہوئی ہے، کون ذمہ دار ہے اس کا‘۔

  16. سلسلے توڑ گیا ’وہ‘ سبھی جاتے جاتے! عاصمہ شیرازی کا کالم

  17. ’بس مجھ پر یہ کیس بننا باقی ہے کہ چائے میں روٹی ڈبو کر کیوں کھاتا ہے‘

  18. بات صرف سیاسی لوگوں سے ہو گی، عمران خان

    سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح چوروں کو دوسری بار این آر او دیا جا رہا لوگ مایوس ہیں۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کی طاقتور لوگوں سے بات چیت کی خبریں ہیں تو اس پر عمران خان نے کہا کہ سیاستدان بات چیت کیا کرتا ہے مگر مجرموں سے بات نہیں ہو گی۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل اینکرپرسن ماریہ میمن کے ساتھ انٹرویو میں اُنھوں نے اس بات کی تصدیق کرنے سے گریز کیا تھا کہ ان کی ایوانِ صدر میں ’اسٹیبلشمنٹ کی اہم شخصیت‘ سے ملاقات ہوئی تھی۔

    تاہم عمران خان نے کہا کہ بات سیاسی لوگوں سے ہی ہو گی۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ سیاسی لوگ ہیں اور سیاسی بات کرتے ہیں بندوق نہیں اٹھاتے۔

    مریم نواز کے پاسپورٹ واپس کیے جانے کے بارے میں عمران خان نے کہا کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے۔

  19. ڈالر کی قیمت میں کمی کا رجحان برقرار، ایک ہفتے میں 12.42 روپے کم, تنویر ملک، صحافی

    ڈالر

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں کمی کا رجحان نئے کاروباری ہفتے کے آغاز پر بھی جاری رہا اور سوموار کے روز کرنسی مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قیمت میں 1.16 روپے کی کمی واقع ہوئی جو 227.29 روپے تک گر گئی۔

    ڈالر کی قیمت میں ایک ہفتے کے دوران 12.42 روپے کی کمی واقع ہو چکی ہے اور 239.71 کی بلند ترین سطح سے لے کر اب تک ڈالر کی قیمت میں 5.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

  20. شہباز گل کی ضمانت کے خلاف حکومت کا سپریم کورٹ سے رجوع, شہزاد ملک، بی بی سی

    وفاقی حکومت نے شہباز گل کی ضمانت کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

    حکومت نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ قانون کی نظر میں درست نہیں ہے اور ہائی کورٹ نے حقائق کا جائزہ نہیں لیا، لہٰذا درخواست ضمانت منسوخ کی جائے۔