وزیرِ داخلہ پنجاب ہاشم ڈوگر ’ذاتی وجوہات کی بنا پر‘ مستعفی

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیرِ داخلہ ہاشم ڈوگر مستعفی ہو گئے ہیں۔ انھوں نے اپنا استعفیٰ ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’آج میں نے ذاتی وجوہات کی بنا پہ اپنے عہدے سے استعفی دیا ہے۔ انشاللہ آگے بھی پی ٹی آی کے ادنی کارکن کے طور پہ کام کرتا رہوں گا۔‘

لائیو کوریج

  1. سارہ انعام قتل کیس: عدالت نے ملزم شاہنواز امیر کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا

    اسلام کی ڈسٹرکٹ سیشن عدالت نے سارہ انعام قتل کیس میں مرکزی ملزم شاہنواز امیر کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔

    جمعرات کو سارہ انعام کیس میں مرکزی ملزم شاہنواز امیر کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا۔

    ملزم شاہنواز امیر کو سینئر سول جج محمد عامر عزیر کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

    اس موقع پر پولیس نے شاہنواز امیر کی جوڈیشل ریمانڈ کی استدعا کی جسے منظور کرتے ہوئے عدالت نے ملزم کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

  2. پی ٹی آئی ارکان کے استعفوں کا معاملہ: صرف پولیٹکل پوائنٹ سکورنگ کے لیے درخواست پر آرڈر نہیں کر سکتے: اسلام آباد ہائی کورٹ

    IHC

    ،تصویر کا ذریعہIHC

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی ارکان قومی اسمبلی کے کیس کے سماعت کے دوران عدالت کا کہنا ہے کہ صرف پولیٹکل پوائنٹ سکورنگ کیلیے درخواست پر آرڈر نہیں کر سکتے۔

    جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی ارکان کے استعفوں کی منظوری سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کو پارلیمنٹ میں ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔

    انھوں نے ریمارکس دیے کہ جب استعفی دے دیا گیا تو پھر منظوری اسپیکر کا ہی اختیار ہے۔

    جس پر پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ استعفے جینوئن مگر مشروط تھے، سب کے استعفے منظور ہونے چاہیے تھے۔ انھوں نے کہا کہ

    ایک ساتھ استعفے ایک شرط کے ساتھ دیئے گئے تھے، سپیکر نے ایک ساتھ استعفے منظور نہ کر کے وہ شرط ہی ختم کر دی۔

    جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ استعفیٰ دینے والا اُس کے بعد اپنی شرائط نہیں لگا سکتا، آپ کہہ رہے ہیں ہم سیاسی عدم استحکام بھی پیدا کیے رکھیں گے۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ پھر آپ کہتے ہیں عدالت آپ کی درخواست بھی سنے؟ انھوں نے کہا کہ بیان حلفی دیں واپس پارلیمنٹ جائیں گے تب ہی مقدمہ سنیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس عدالت نے آج تک کبھی پارلیمنٹ کو اور نہ ہی کبھی سپیکر کو ہدایت دی، 75 سالوں سے ہم میں سے کسی نے بھی پارلیمنٹ کا احترام نہیں کیا۔

    جس پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پارٹی کی پالیسی کے خلاف تو پارلیمنٹ نہیں جائیں گے۔ پارلیمنٹ ارکان واپس جائیں گے یا نہیں، ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات پارٹی پالیسی پر منحصر ہے۔

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے بس پھر معاملہ ہی ختم ہو جاتا ہے۔

    پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ اگر آپ استعفے منظوری کا آرڈر معطل کر دیں تو جا کر سپیکر سے بات کر سکتے ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت سیاسی ڈائیلاگ کے لیے تو آپ کو سہولت فراہم نہیں کرے گی۔پٹیشنرز کہہ رہے کہ پارلیمنٹ کو نہیں مانتے۔ جس پر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ایسا کبھی نہیں کہا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس درخواست کو کل تک ملتوی کر سکتی ہے، آپ پارلیمنٹ جا کر اپنی نیک نیتی ثابت کریں۔

    اس پر علی ظفر نے عدالت سے درخواست کی کہ مجھے آدھا گھنٹہ دے دیا جائے تو میں پٹیشنرز سے بات کر لیتا ہوں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ایک گھنٹہ لیں اور اس کے بعد ہمیں آگاہ کریں۔

    چیف جسٹس نے مقدمے کی سماعت میں ایک گھنٹے کا وقفہ کر دیا۔

  3. جنرل باجوہ کا دورہ امریکہ: الوداعی دورہ یا تعلقات میں بہتری کی کوشش؟

  4. بریکنگ, جب تک پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کے استعفے منظور نہیں ہوتے انھیں پارلیمنٹ میں ہونا چاہیے، چیف جسٹس

    ISB Court

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا ہے کہ جب تک پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کے استعفے منظور نہیں ہوتے انھیں پارلیمنٹ میں ہونا چاہیے۔

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کے استعفوں کی منظوری سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ عوام نے اعتماد کر کے نمائندوں کو پارلیمنٹ بھجوایا ہے۔ اس ضمن میں یہ عدالت سپیکر قومی اسمبلی کو ہدایات جاری نہیں کر سکتی، عدالت کو پارلیمنٹ کا احترام ہے۔ شکور شاد کی حد تک عدالت نے اسپیکر قومی اسمبلی کو کوئی ہدایات نہیں دی تھیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے شکور شاد کیس میں بھی صرف نظرثانی کا کہا ہے، شکور شاد کی حد تک جب اس عدالت نے فیصلہ دیا تو اس کے خلاف پارٹی نے شوکاز جاری کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ سیاسی تنازعات ہیں، سیاسی جھگڑے دور کرنے کی جگہ پارلیمنٹ ہے، آپ کو دیگر ان مسائل کے حل کے لیے سیاسی جماعتوں سے ڈائیلاگ کرنا چاہیے۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر سے استفسار کیا کہ کیا یہ مستعفی ارکان واقعی پارلیمنٹ میں جا کر عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں؟ آپ نے عدالت کو بتانا ہے کہ یہ پارٹی پالیسی کے خلاف ہیں یا حامی ہیں؟

    جس پر پی ٹی آئی کے وکیل نے جواب دیا کہ درخواست گزاروں میں سے کوئی بھی پارٹی کے خلاف نہیں، پارٹی پالیسی کے ساتھ ہیں۔ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ کے درخواست گزاروں کو تو پھر پارلیمنٹ واپس جانا چاہیے۔ اس سے قبل بھی ایک پٹیشن دائر کی گئی تھی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کیا یہ سیاسی جماعت کی پالیسی ہے؟ انھوں نے کہا کہ آپ کو عدالت کو بتانا ہوگا کہ درخواست گزار صاف ہاتھوں سے یہاں آئے ہیں، بتانا ہو گا کہ آپ کے موکل واپس پارلیمنٹ جانا چاہتے ہیں اور اپنے علاقے کی نمائندگی کرنا چاہتے ہیں؟

    جس پر پی ٹی آئی کے وکیل بیریسٹر علی ظفر نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کی، اس شرط پر استعفے دیے گئے تھے کہ 123 ارکان مستعفی ہوں گے۔

    انھوں نے کہا کہ سپیکر نے تمام استعفی منظور نہیں کیے اور صرف 11 استعفے منظور کیے، ہم کہتے ہیں کہ دیے گئے استعفی مشروط تھے۔

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ اگر تمام ارکان کے استعفے منظور نہیں ہوئے تو شرط بھی پوری نہیں ہوئی۔

    جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا آپ کا موقف ہے پارٹی نے استعفے دینے پر مجبور کیا تھا؟ اگر ایسا ہے پھر تو آپ اب پارٹی پالیسی کے خلاف جا رہے ہیں۔

    اس پر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے، پارٹی پالیسی کے خلاف یہ ارکان نہیں جا رہے، ہمارا موقف ہے سپیکر قومی اسمبلی نے اپنا آئینی فریضہ نہیں نبھایا۔

    ان کا کہنا تھا کہ آڈیو لیک میں سامنے آچکا کیسے صرف 11ارکان کا استعفی منظور کیا گیا، ہمارا سیاسی مقصد تمام 123نشستیں خالی کرنا تھا، اگر ہمارا وہ مقصد پورا نہیں ہوا تو ہم سمجھتے ہیں ابھی سب ایم این اے ہیں۔

    جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جن ارکان کے استعفے منظور نہیں ہوئے انھیں پارلیمنٹ میں ہونا چاہئے، یہ ان کا فرض ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں عوام کی نمائندگی کریں۔

    جس پر پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ پارلیمنٹ واپس جانا سیکنڈری ایشو ہے۔ اس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ارکان اسمبلی پارلیمنٹ کا حصہ ہیں یا نہیں؟ پی ٹی آئی کے رویے میں تضاد ہے۔

  5. بریکنگ, پی ٹی آئی کے ممکنہ لانگ مارچ کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں مزید کنٹینرز رکھ دیے گئے

    Containers

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے ممکنہ لانگ مارچ کی وجہ سے پیشگی اقدامات کرنا شروع کردیے گئے ہیں جس کے تحت ضلعی انتظامیہ کی طرف سے فیض آباد پر کنٹینرز پہنچا دیے گئے۔

    اس کے علاوہ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کے اطراف بھی مزید کنٹینرز رکھ دیے گئے ہیں۔

    وفاقی دارالحکومت کی اہم شاہراؤں اور داخلی و خارجی راستوں پر ایک ہفتے سے زیادہ وقت پہلے پی حکومت نے کنٹینرز رکھے تھے تاہم اس پی ٹی آئی کی جانب سے حالیہ بیانات اور سیاسی سرگرمیوں کے باعث ان کی تعداد میں مزید اضافہ کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے فی الحال لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے تاہم پی ٹی آئی نے کارکنان کو لانگ مارچ کی تیاریوں کی ہدایت کی ہے۔

    یاد رہے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ کسی صورت پی ٹی آئی کو اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ان کو روکنے کے لیے مکمل تیاری کر لی گئی ہے۔

  6. صوبائی وزیر داخلہ کے بیان پر غور نہ کریں، لانگ مارچ میں جو عمران خان کہیں گے وہ کریں گے: پرویز الہیٰ

    پرویز الہی

    ،تصویر کا ذریعہTWITTER/@CHPARVEZELAHI

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الہی کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کا وقت آئے گا تو جو عمران خان کہیں گے وہ کریں گے۔

    لندن میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ صوبائی وزیر داخلہ کے لانگ مارچ سے متعلق بیان کو سنجیدہ نہ لیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

    یاد رہے کہ صوبائی وزیر داخلہ ہاشم ڈوگر نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ میں سرکاری وسائل استعمال نہیں کیے جائیں گے۔

    اس متعلق جب صحافیوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے سوال کیا تھا ان کا کہنا تھا کہ ’ایسی باتوں پر آپ بھی غور نہ کیا کریں کیونکہ ایک بندے کا ذہنی توازن نہیں ٹھیک ہے۔‘ مگر جب انھیں بتایا گیا کہ یہ بیان وفاقی وزیر داخلہ نے نہیں بلکہ صوبائی وزیر داخلہ نے دیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

  7. پنجاب حکومت پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے لیے سرکاری وسائل استعمال نہیں کرے گی، وزیرداخلہ پنجاب

    Hashim Dogar

    ،تصویر کا ذریعہ@ColhashimDogar/Twitter

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیرداخلہ ہاشم ڈوگر نے کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے لانگ مارچ کا اعلان کیا تو پنجاب حکومت اس کا حصہ نہیں بنے گی ۔

    لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ ہاشم ڈوگر کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ ایک سیاسی مسئلہ ہے، اس کے لیے صوبائی حکومت سرکاری وسائل استعمال نہیں کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’لانگ مارچ ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے۔ جب عمران خان حکم دیں گے تو ہم ایک جماعت کے طور پر نکلیں گے۔ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے ہم نے کبھی بھی سرکاری وسائل استعمال کیے ہیں نہ کریں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کے شرکا کو سہولیات نہیں دی جائیں گی تاہم سکیورٹی مہیا کریں گے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  8. بیٹے کی ’کینیا فتح کرنے‘ کی ٹویٹ پر یوگینڈا کے صدر کی معافی، عہدے سے برطرف کر دیا

  9. جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 12 اکتوبر کو طلب کر لیا گیا, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    چیف جسٹس آف پاکستان نے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 12 اکتوبر کو طلب کر لیا ہے۔

    اجلاس میں لاہور ہائیکورٹ کے 13 ایڈیشنل ججز کی مستقلی پر غور کیا جائے گا۔

    لاہور ہائیکورٹ میں 13 ایڈیشنل ججز کی گذشتہ سال 22 اپریل کو تعیناتی کی سفارش گئی تھی ‏رواں سال اپریل میں ایڈیشنل ججز کی مدت میں 6 ماہ کی مزید توسیع کی گئی تھی۔

  10. ’حقیقتی آزادی مارچ` کے لیے جب کال دوں آپ نے باہر نکلنا ہے: عمران خان کا پیغام, ترہب اصغر، نامہ نگار بی بی سی

    IMRAN KHAN

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان نے آج لاہور میں متعدد اجلاسوں کی صدارت کی جس میں گوجرانوالہ، لاہور، ساہیوال اور گجرات ڈویژنز کے ذمہ داران کو مدعو کیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ عمران خان کی جانب سے جلسوں کے بعد باقاعدہ اپنی پارٹی تنظیموں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ جس میں اسلام آباد لانگ مارچ کی تیاریوں کے حوالے سے خصوصی اہداف دیے جا رہے ہیں۔

    شیخوپورہ اور گوجرنوالہ سے آئے پی ٹی آئی کے مختلف دھڑوں سے تعلق رکھنے والے عہدے داروں کا کہنا تھا کہ آج ہمھیں خان صاحب نے یہاں اس لیے بلایا ہے تاکہ وہ ہمھیں بتائیں کہ ہم نے کیا کیا ذمہ داریاں نبھانی ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم بلکل تیار ہیں۔ ہمھیں جتنے بندے لانے کا کہا جائے گا ہم اس سے زیادہ لوگ لے کر آئیں گے۔‘

    پچھلے لانگ مارچ کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ہمھیں پنجاب حکومت نے روکا تھا۔ تاہم اس دفعہ پنجاب حکومت ہمارا ساتھ دے گی تو لازمی اسلام آباد پہنچیں گے۔ جبکہ ہمارا اصل ٹارگٹ جلد از جلد الیکشن کروانا ہے۔‘

    پارٹی کی مختلف تنظیموں کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’حقیقی آزادی مارچ ملک کے لیے انتہا ئی ضروری ہے۔ ملک کو کرپٹ مافیا سے بچانا ہے۔ آزادی مارچ کے لیے جب کال دوں آپ نے باہر نکلنا ہے۔‘

    بتایا گیا ہے کہ `اس کے بعد سئینر وزیر پنجاب میاں اسلم اقبال نے تقریب میں شریک تمام لوگوں سے حلف لیا۔ جس میں حقیقی آزادی مارچ کے جہاد میں شرکت اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ `

    یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ’عمران خان نے پارٹی رہنماوں کو لانگ مارچ کی کامیابی کے لیے ٹاسک دیے جس میں انھوں نے ہدایت کی کہ ضلع سے چھ چھ ہزار لوگوں کو حقیقتی آزادی مارچ میں لیکر آنا ہے۔ تاہم لانگ مارچ کا وقت اور جگہ کا تعین میں کروں گا۔‘

    عمران خان نے یہ بھی کہا کہ پارٹی تنظیم اپنی تیاری مکمل رکھے، ہر تنظیم اپنا اپنا ڈیٹا پارٹی رہنما شبلی فراز کو بھیج دیں۔

  11. ٹانک میں سیلاب متاثرین کے لیے 24 دنوں میں 100 گھر تیار

    FLOOD

    ،تصویر کا ذریعہPM HOUSE

    پاکستان میں سیلاب متاثرین کے لیے وزیراعظم شہبازشریف فلڈ ریلیف ویلیج کے 100 گھر تیار ہوگئے ہیں۔

    وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ منزیز گلوبل ایوی ایشن‘ کے ’سی۔ ای۔ او‘ فلپ جوئننگ کی ملاقات وزیراعظم نے فلپ جوئننگ کا 100 گھر تعمیر کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

    بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم نے دو ستمبر کو ٹانک کے دورے کے دوران 100 مکانات کی تعمیر کا وعدہ کیا تھا 3 ستمبر کو جگہ منتخب ہوئی، 7 ستمبر کو دونوں مقامات کا سروے مکمل کر کے 11 ستمبر کو تعمیرکا آغاز ہوا۔

    ٹانک میں سیلاب متاثرین کے لیے ان گھروں کو پانچ اکتوبر کو ریکارڈ 24 دن میں تعمیرکیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق `گھروں کی تعمیر کے علاوہ سولر سسٹم کی سہولت سے آراستہ سکول، کلینک اور ٹیوب ویل بھی قائم کئے گئے ہیں یہ گھرسخت موسمی حالات کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ جدید تعمیراتی مواد اور ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، سکول کمپیوٹر سمیت جدید سہولیات سے آراستہ ہے کلینک کے ذریعے مقامی آبادی کی صحت اور علاج کی سہولیات ممکن ہوں گی۔‘

    ملک کے ممتاز آرکیٹیکٹ علی نقوی نے ان گھروں کا نقشہ تیار کیا تھا۔

    100 گھروں پر مشتمل اس بستی کے ارد گرد 9000 مقامی نوعیت کے درختوں کی شجر کاری بھی کی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ اسی گروپ نے 2005 کے زلزلے اور 2010 کے سیلاب میں مٹھن کوٹ، راجن پور میں 270 گھر بنائے تھے۔

    HOMES

    ،تصویر کا ذریعہPM OFFICE

  12. سیاستدان کی وائرل ویڈیو: ’ایک شراب کی بوتل اور مرغی میں بکتی ہے جمہوریت‘

  13. بریکنگ, آرمی چیف کی تعیناتی پر ابھی فیصلہ نہیں ہوا: خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ الیکشن وقت پر ہوں گے اور نومبر خیر خیریت کے ساتھ گزرے گا، تمام مراحل آئین اور قانون کے مطابق طے ہوں گے۔

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے نام کے چناؤ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

    `پانچ اشخاص کے نام آتے ہیں، پچھلی بار جنرل اکرام کا پانچویں نمبر پر نام تھا، لیکن روایت کے علاوہ بھی ماضی میں ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ پانچ میں سے نام نہ لیا جائے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ میرا اپنا تاثر یہ ہے کہ `تھری سٹار جنرل تمام کے تمام اہل ہوتے ہیں۔‘

    خواجہ آصف نے کہا کہ ایک پراسس کے تحت نام آتے ہیں اور فیصلہ کرنے کا اختیار وزیراعظم کو ہی ہوتا ہے۔

    سائفر کے موضوع پر بات کرتے ہوئے وزیر دفاع نے عمران خان پر تنقید کی اور کہا کہ عمران خان اپنی تقاریر میں اسٹیبلشمنٹ اور فوج کے حوالے سے مسلسل بات کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

    وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ جلسوں میں عمران خان اور بات کرتے ہیں تاہم اندر خانے معافی مانگی ہے۔

    انھوں نے کہا صدر پاکستان کے ذریعے عمران خان نے پیغام بھجوایا اور ملاقات کی تاہم کس سے ملاقات کی انھوں نے اس بارے میں وضاحت نہیں کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کہا کہ ’یو ایس انڈر سیکریٹری نے پاکستانی سفیر کو حکم دیا کہ عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا جائے اور شہباز شریف کو وزیراعظم بنایا جائے۔ جھوٹ کو تواتر سے بول کر سچ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

  14. عمران خان لانگ مارچ کی تاریخ دینے سے پہلے اہم سوالوں کے جواب دیں: مریم اورنگزیب

    MARYAM

    ،تصویر کا ذریعہPID

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے عمران خان کو لانگ مارچ کی تاریخ دینے سے پہلے کچھ اہم سوالات کا جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    بدھ کو عمران خان کے لانگ مارچ کے حوالے سے اپنے بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات نے عمران خان پر فارن ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کیا اور کہا ملک کی معیشت کو دیوالیہ کرنے کی سازش کرنے کے بعد وہ اسلام آباد کیا کرنے آ رہے ہیں۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کے دور میں 95 لاکھ لوگوں کو بے روزگار کیا گیا، 2 کروڑ افراد کو غربت میں دھکیلا گیا۔

    انھوں نے عمران خان کی کشمیر پالیسی، توشہ خانے کے معاملے اور آئینی امور میں اپنائے گئے طرزعمل پر سوال اٹھایا اور کہا کہ عمران خان پہلے ان کے سوالوں کے جواب دیں اور پھر لانگ مارچ کا اعلان کریں۔

  15. اسلام آباد ہائیکورٹ کا دارالحکومت میں بند سڑکیں کھولنے کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈپٹی کمشنر عرفان نواز کو آبپارہ میلوڈی روڈ فوری کھولنے کا حکم دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی کی سبراہی میں وفاقی دارالحکومت میں مختلف سڑکوں کی بندش سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی جس میں ڈپٹی کمشنر عرفان نواز پیش ہوئے۔

    درخواست کہا گیا ہے کہ لال مسجد کے باہر روڈ بند ہے جس پر ڈی سی اسلام آباد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مولانا صاحب کا مدرسہ ہے ان کے شاگرد اکثر احتجاج کے طور پر سڑک بلاک کر دیتے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر کے جواب پر جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ ’تو پھر آپ نے کیا کِیا ہے؟‘ جواباً عرفان نواز نے بتایا کہ ’ہم ان سے مذاکرات کرتے ہیں۔‘ اس پر عدالت نے کہا کہ ’تو پھر افغانستان، بھارت اور اسرائیل سے بھی مذاکرات کر لیں وہ معاملہ بھی حل ہو جائے۔‘

    عدالت نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد پر اظہار برہمی کرتے ہوئے حکم دیا کہ ’جائیں اور جاکر لال مسجد کے باہر کی روڈ کھولیں۔‘ ساتھ ہی ساتھ عدالت نے میلوڈی روڈ بھی کھولنے کا حکم دیا۔

  16. قومی اسمبلی میں استعفوں کے معاملے پر پی ٹی آئی ارکان نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ

    قومی اسمبلی میں استعفوں کے معاملے پر تحریک انصاف کے ارکان نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

    دائر کردہ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت سپیکر کو ہدایت دے کہ وہ استعفوں کی منظوری سے متعلق اپنی آئینی ذمہ داری پوری کریں۔ ’عدالت سپیکر کو حکم دے کہ وہ درخواست گزاروں اور دیگر 112 ارکان کو بلائے۔ سپیکر تحقیق کر لے جنھوں نے استعفے دیے انھوں نے آرٹیکل 64 کے تحت مرضی سے استعفے دیے۔‘

    درخواست گزاروں میں علی محمد خان، فضل محمد خان، شوکت علی، ڈاکٹر شیری مزاری، ڈاکٹر شاندانہ گلزار، فخر زمان خان، فرخ حبیب، اعجاز شاہ، جمیل احمد اور محمد اکرم شامل ہیں۔

  17. آرمی چیف جنرل باجوہ کا ’مدت پوری ہونے پر سبکدوش ہونے کا عندیہ‘

    باجوہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    پاکستان کے سرکاری نیوز چینل پی ٹی وی کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ’دوسری تین سالہ مدت پوری ہونے پر سبکدوش ہونے کا عندیہ‘ دیا ہے۔

    پی ٹی وی کے مطابق واشنگٹن میں غیر رسمی بات چیت کے دوران آرمی چیف نے کہا ہے کہ ’مسلح افواج کا سیاست میں کوئی کردار نہیں ہے۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ’ملکی معیشت کو بحال کرنا معاشرے کے تمام طبقات کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔‘

    ’مضبوط معیشت کے بغیر قوم اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے گی۔‘

    خیال رہے کہ آرمی چیف جنرل باجوہ امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں جہاں انھوں نے پینٹاگون میں امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن سے ملاقات کی ہے۔

  18. صدر عارف علوی نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کر لیا

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق صدر عارف علوی نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس چھ اکتوبر، بروز جمعرات، کو شام پانچ بجے طلب کر لیا ہے۔

    اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’صدر مملکت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آئین کے آرٹیکل 54، ایک، اور 56، تین، کے تحت طلب کیا گیا۔‘

  19. 15 نومبر تک سیاست آر پار ہوجائے گی: شیخ رشید

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کا دعویٰ ہے کہ ’15 نومبر تک سیاست آر پار ہوجائے گی۔‘

    ٹوئٹر پر پیغام میں وہ کہتے ہیں کہ ’مریم نے جنرل عاصم منیر کا نام لے کر نواز شریف کی خواہش کو خبر بنایا ہے۔ عوام اور فوج کو لڑانے کی سازش ناکام ہوگی۔

    ’آرٹیکل 245 کہنا آسان ہے لگانا مشکل ہے۔ وزیرداخلہ اپنے سائز اور ہوش میں رہیں۔ ووٹ کوعزت دو کی چیخیں نکلیں گی۔ ٹویٹ سے لندن کی میٹنگ پر جلد قوم کو باخبر کروں گا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آل شریف کی سیاست کا فیصلہ چند دن میں لندن کی میٹنگ میں ہونے جا رہا ہے۔ مریم کہتی ہیں کہ میں شہباز شریف کی حکومت سےخوش نہیں، میں ڈار کی ذمہ دار ہوں، شہباز کی نہیں۔

    ’عنقریب انصاف وقت سے پہلے ہوتا دیکھائی دے گا۔ اسحاق ڈار معاشی اعداد و شمار میں ٹمپرینگ کرنے میں ماہر ہیں۔ مفتاح مفت میں مارا گیا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  20. مریم نواز کی لندن روانگی

    مریم نواز

    ،تصویر کا ذریعہPMLN

    نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز لاہور ایئرپورٹ سے لندن کے لیے روانہ ہوگئی ہیں۔ ان کی پرواز نے آج صبح 10 بجے کے قریب اُڑان بھرنا تھی۔

    اطلاعات کے مطابق مریم نواز ایک ماہ تک لندن میں قیام کریں گی اور 6 نومبر کو پاکستان واپس آئیں گی۔

    ادھر مریم نواز کے شوہر کیپٹن صفدر نے اپنی اہلیہ کی کی روانگی کے موقع پر لاہور ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا ہے کہ ’میں لندن ابھی نہیں جا رہا۔ مجھ پر چھبیس مقدمات ہیں۔ میں اپنے اوپر تمام مقدمات کا سامنا کروں گا۔‘

    مریم نواز

    ،تصویر کا ذریعہPMLN