وزیرِ داخلہ پنجاب ہاشم ڈوگر ’ذاتی وجوہات کی بنا پر‘ مستعفی
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیرِ داخلہ ہاشم ڈوگر مستعفی ہو گئے ہیں۔ انھوں نے اپنا استعفیٰ ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’آج میں نے ذاتی وجوہات کی بنا پہ اپنے عہدے سے استعفی دیا ہے۔ انشاللہ آگے بھی پی ٹی آی کے ادنی کارکن کے طور پہ کام کرتا رہوں گا۔‘
لائیو کوریج
آصف زرداری تندرست ہیں، ڈاکٹر عاصم حسین
سابق صدر اور شریک چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی آصف علی زرداری کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم حسین نے کہا ہے کہ آصف زرداری کے بارے میں گردش کرنے والی رپورٹس میں کوئی سچائی نہیں اور وہ صحت مند ہیں۔
ڈاکٹر عاصم حسین نے ٹؤٹر پر جاری بیان میں کہا کہ آصف زرداری کے ذاتی معالج کی حیثیت سے میں بتانا چاہتا ہوں کہ آصف زرداری کو بہت جلد ڈسچارج کر دیا جائے گا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
وزیر خزانہ کے وارنٹ گرفتاری منسوخ، 10 لاکھ کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے کیس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کرتے ہوئے انھیں دس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
اسحاق ڈار اپنے وکیل قاضی مصباح کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے اور وارنٹِ گرفتاری مستقل طور پر منسوخ کرنے کی استدعا کی۔
عدالت میں اس کی سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا سیاسی انتقام لینا پاکستان میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ’میرے خلاف کوئی فائل نہیں تھی مگر کیس بنا دیا گیا تھا۔‘
معیشت پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پوری دنیا میں ڈالر اوپر جا رہا ہے مگر پاکستان میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مضبوط ہو رہی ہے۔ انھوں نے ایک مرتبہ پھر یہ دعویٰ کیا کہ آئندہ چند روز میں ڈالر کی قیمت 200 روپے سے کم ہو جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ کرنسی کی قدر کو مستحکم رکھنا مشکل کام ہے مگر ماضی میں پاکستانی معیشت کے لیے یہ کام کیا جا سکتا ہے۔ موڈیز کی ریٹنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میں نے موڈیز سے بات کی ہے۔ یہ ریٹنگ آج کل کے اعشاریوں کی بنیاد پر نہیں دی گئی یہ کام پہلے سے جاری ہوتا ہے۔‘
ہرنائی سے اغوا ہونے والے سکیورٹی اہلکار کے بدلے بی ایل اے کی قیدیوں کے تبادلے کی پیشکش
ملک ریاض کے خاندان کے ساتھ ڈیل: نیب نے سابق وزیرداخلہ شیخ رشید کو طلب کر لیا
پاکستان کے قومی احتساب کے ادارے نیب نے ملک ریاض کے خاندان کو فائدہ پہنچانے کے الزام میں سابق وزیرداخلہ شیخ رشید احمد کو رواں ماں کی 24 تاریخ کو طلب کر لیا ہے۔
نیب کے کال اپ نوٹس میں سابق وزیرداخلہ سے کہا گیا ہے کہ وہ 3 دسمبر 2019 میں وفاقی کابینہ کے رکن کی حیثیت سے اس ڈیل کا حصہ نے جس کے تحت برطانیہ سے ملک ریاض کے خاندان کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔
خیال کہ رہے جب برطانیہ کی نیشل کرائم ایجنسی نے ملک ریاض کے خاندان کے ساتھ 190 ملین پاؤنڈز کا معاہدہ کیا تو پھر یہ پریس ریلیز بھی برطانیہ سے سامنے آئی کہ یہ رقم ریاست پاکستان کو بھیج دی گئی ہے۔ مگر یہ رقم ریاست کو دیے جانے بجائے پاکستان کی سپریم کورٹ کے اس اکاؤنٹ میں پہنچ گئی جہاں ملک ریاض بحریہ ٹاؤن کراچی میں 460 بلین روپے کے جرمانے کا قسطیں جمع کرا رہے ہیں۔
عمران خان کی سربراہی میں کابینہ نے اس ایک خفیہ معاہدے کے تحت یہ سب کیا۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے اس خفیہ معاہدہ وفاقی کابینہ کے اراکین سے بغیر دکھائے منظوری لی گئی تھی، جسے موجودہ حکومت نے عام کردیا ہے اور اس کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
سیاسی تقسیم بڑھ رہی ہے، انتخابات سے بہتری ممکن ہے: صدر مملکت
جعمرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدرمملکت عارف علوی نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ سیاسی تقسیم کو ختم کرنے کے لیے سب سے بہترین حل منصفانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہے۔
ان کے مطابق یہ سال انتخابات کا سال ہے تاہم انتخابات کا منعقد کرانا ایک سیاسی فیصلہ ہے۔
صدر عارف علوی نے کہا کہ ’میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ قوم کو اس ہیجانی کیفیت سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ سیاستدان آپس میں بیٹھ کر الیکشن کی تاریخ طے کرلیں، سیاسی قیادت کے مابین اس معاملے پر چند مہینے کا اختلاف ہے جس کا حل باہمی مشاورت سے ڈھونڈا جا سکتا ہے‘۔
انھوں نے کہا کہ اگر آپ الیکشن کے معاملے کو آپ سب مل بیٹھ کر طے کرلیں تو موجودہ تقسیم اور سیاسی صورتحال کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔
'الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے انتخابات شفاف انداز میں ہو سکتے ہیں'
عارف علوی نے کہا کہ الیکٹرونک ووٹنگ مشین سے متعلق اس پارلیمنٹ کے اندر میں نے اس معاملے پر ایک متفقہ دستاویز پیش کی تھی، جس پر پارلیمنٹ کی کمیٹی میں یہ بحث ہوئی کہ الیکٹرونک ووٹنگ مشین کی مدد سے کیسے انتخابات شفاف انداز میں ہو سکتے ہیں اور اس معاملے پر پارلیمنٹ کی کمیٹی، جس کو میں نے چیئر کیا تھا اس نے یہ طے کیا کہ اس کو بہتر کر کے لانچ کر دیا جائے مگر یہ آج تک نہیں ہوا، لہٰذا میں یہ سمجھتا ہوں کہ الیکشن کے دن شفافیت کے لیے یہ مشین ضروری ہے۔
انھوں نے کہا کہ ای وی ایم مشین پیچھے نہیں دیکھ سکتی کہ الیکشن سے پہلے کیا ہوا، کس کو ووٹ ڈالنے کے لیے کس نے مجبور کیا، یہ مشین صرف الیکشن کے دن اس بات کو یقینی بنا سکتی ہے کہ الیکشن منصفانہ اور شفاف ہوں اور اس میں پیپر کا بیلٹ بھی موجود ہے، لہٰذا ، میں چاہتا ہوں کہ اس طرف آپ توجہ دیں۔
ایکسپورٹ انڈسٹری کو 19 روپے 99 پیسے فی یونٹ بجلی فراہم کریں گے: وزیرخزانہ, ’آئی ایم ایف کو اعتماد میں لینے کی ضرورت نہیں‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت نے ایکسپورٹ انڈسٹری کو 19 روپے 99 پیسے فی یونٹ بجلی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جمعرات کو دارالحکومت اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ وعدہ کیا تھا کہ ایکسپورٹ انڈسٹری کو نو سینٹ پر بجلی دی جائےگی اور دو ماہ انہیں نو سینٹ پر بجلی دی گئی۔
وزیرخزانہ کاکہنا تھا کہ پاکستان کو ایکسپورٹ کی ضرورت ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ وسائل میں رہتے ہوئے ایکسپورٹر اور کسانوں کے لیے جو ہوا کر رہے ہیں، برآمد کنندگان سے روپے میں بات ہوئی ہے، اب یہ سینٹس میں بات نہیں کریں گے۔
جب وزیر خزانہ سے سوال کیا گیا کہ کیا آئی ایم ایف کو بجلی کی اس قیمت پر اعتماد میں لیا تو ان کا جواب تھا کہ مجھے آئی ایم ایف کو اعتماد میں لینے کی ضرورت نہیں، مجھے معلوم ہے کیا کررہا ہوں، میرے پاس جواز موجود ہے، جب آئی ایم ایف والے آئیں گے تو بات کرلیں گے۔
’میں خفیہ انداز سے ریکارڈ کی ہوئی آڈیو لیکس کو نہ ہی سنتا ہوں اور نہ ہی انہیں اہمیت دیتا ہوں‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کل آڈیو لیکس سامنے آئی ہیں اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے، یہ ایک انتہائی سنگین پیش رفت ہے اور اس پر ہنگامی بنیادوں پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق فریقین میں سے کسی ایک کی رضامندی کے بغیر فرد کے درمیان نجی گفتگو کو عام کرنا اخلاقی اور قانونی طور پر غلط ہے، یہ ایک خوش آئند امر ہے کہ حکومت نے اس سلسلے میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے کہ آڈیو لیکس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔
سرکاری دفاتر میں کوئی کھل کر بات نہیں کر سکے گا: عارف علوی
انھوں نے کہا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر یہ رحجان جاری رہا تو اہم سرکاری دفاتر میں کھل کر کوئی بھی بات نہیں کر سکے گا۔ عارف علوی نے کہا کہ ’میں خفیہ انداز سے ریکارڈ کی ہوئی آڈیو لیکس کو نہ ہی سنتا ہوں اور نہ ہی انہیں اہمیت دیتا ہوں، جو لوگ ایسی گفتگو کو اہمیت دیتے ہیں انھیں چاہیے کہ وہ کم از کم اس امر کا ضرور خیال رکھیں کہ قومی راز عیاں نہ ہوں، سیاق و سباق سے ہٹ کر گفتگو ہمیشہ غلط تصور کی جاتی رہی، کفار نے قران کی آیات اور احادیث نبوی کو اس ہی مد میں لوگوں کو گمراہ کیا‘۔
صدر مملکت نے مزید کہا کہ ہمیں سیاق و سباق اور موقع و محل کا خیال رکھ بہت ساری گفتگو کوسمجھنا چاہیے، ہر چیز کو پکڑ لینا، زیر بحث لانا اور اس پرجھگڑا کرنا مناسب نہیں، بہت سی باتیں دوسرے لوگوں کے کانوں کے لیے نہیں ہوتیں، خاندان کے افراد کے ساتھ کی گئی گفتگو بھی اسی زمرے میں آتی ہے اور ایسی گفتگو کو عام کرنا بھی مناسب نہیں ہے اور اگر کر دیا جائے تو کتنا قابل افسوس عمل ہو گا۔
بغیر ڈنڈا چلائے ڈالر نیچے آنا شروع ہو گیا، پاکستان کو ایکسپورٹ کی ضرورت ہے: اسحاق ڈار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بغیر ڈنڈا چلائے معیشت درست سمت پر چل پڑی ہے۔ ان کے مطابق ڈالر کی صحیح قیمت 200 روپے سے بھی کم ہے۔
ان کے مطابق ڈالر کی قیمت میں کمی سے پاکستان کے 26 ارب روپے کے قرضوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ان کے مطابق ڈالر کی گراوٹ سے پاکستان کی قوم اور معیشت کو فائدہ ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اب سینٹ میں سوچنے کے بجائے روپے میں سوچیں۔ انھوں نے برآمدات بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ایک صحافی کے ڈالر کی قیمت بڑھنے سے متعلق سوال پر اسحاق ڈار نے کہا کہ کارروائی ہو گی اور اس کے بعد وہ نتائج سامنے لائیں گے۔
صدر مملکت کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب: تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی شریک نہیں
صدر ملکت عارف علوی اس وقت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔ سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف اور چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی اس اجلاس کی مشترکہ صدارت کر رہے ہیں۔
اس اجلاس میں تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی شریک نہیں ہیں۔ خیال رہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی نے استعفے دے دیے تھے، جن میں سے ابھی تک صرف 11 استعفے سپیکر نے قبول کیے ہیں۔
صدر کے آج کے خطاب کے دوران قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف راجہ ریاض نے احتجاج کیا جبکہ ایوان میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مشتاق احمد نے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو رہا کرنے اور پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے نعرے لگائے۔
صدر مملکت کی تقریر کے دوران انھوں نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کی عزت بحال کرو، علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرو۔
صدر پاکستان عارف علوی کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب جاری
پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی کا اس وقت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب جاری ہے۔ اس خطاب کے دوران کچھ اراکین نعرے بازی بھی کر رہے ہیں۔
چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی اس اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں اور وہ اراکین سے نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کر رہے ہیں۔
’آرمی چیف کا قانون و آئین میں ایک طریقہ کار درج ہے، اس کے مطابق فیصلہ ہو گا، آپ پریشان نہ ہوں‘
،تصویر کا ذریعہPID
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کا قانون میں آئین میں ایک طریقہ کار درج ہے۔ اس کے مطابق فیصلہ ہو گا، آپ پریشان نہ ہوں۔
ان کے مطابق اس وقت آزاد عدلیہ قانون و انصاف کے مطابق فیصلے کر رہی ہیں۔
آڈیو لیکس کی تحقیقات جاری ہیں، قوم کو سچ بتاؤں گا اگر ہمت نہ پڑی تو خاموش رہوں گا: شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی کابینہ کے فیصلے کے مطابق آڈیو لیکس کی تحقیقات جاری ہیں۔ قوم سے جھوٹ نہیں بولوں گا۔ اگر کوئی بات کرنے کی ہمت نہ ہوئی تو خاموش رہوں گا۔
اگر عمران خان پر دوبارہ مسلط ہو گیا تو یہ ملک اور اداروں کو تباہ کر دے گا۔
سائفر ڈی کوڈ نہیں ہو سکتا، ایسا ہو تو پھر تمام تاریں چوری ہو جائیں: شہباز شریف
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیراعظم شہباز شریف نے ایک صحافی کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ سائفر ڈی کوڈ نہیں ہو سکتا، اگر ہو جائے تو پھردنیا بھر کے سفارتخانوں سے آنے والی تمام تاریں چوری ہوجائیں۔
شہباز شریف نے کہا آڈیو ہر چیز بتا رہی ہے کہ چار بندے بیٹھے تو سیکریٹری نے کہا فکر نہ کریں منٹس تو ہم نے بنانے ہیں۔ ان کے مطابق اس سے یہ پتا چل جاتا ہے کہ یہ سائفر کی کاپی کیسے غائب ہوئی۔
عمران خان ملک کو تنہائی میں لے گئے، فوج کی نیوٹرل، چوکیدار جیسے خطابات سے تضحیک کی: شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ خود معاہدہ کیا اور پھر اس کی دھجیاں اڑائیں۔
آپ کو پتا ہے کہ عمران خان کے حواریوں نے کس طرح کے بیانات دیے۔ ان کے مطابق انھوں نے حکومت میں آ کر پھر یہ معاہدہ بحال کرایا۔ ان کے مطابق یہ قوم کو تنہائی میں لے گئے اور افواج پاکستان پر رقیق حملے کیے اور انھیں نیوٹرل اور چوکیدار جیسے القابات دیے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پوری اپوزیشن کو اللہ تعالیٰ نے سرخرو کیا۔
’آڈیو لیک کرنے میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے، اب کون اس وزیراعظم ہاؤس میں آ کر بات کرے گا‘
،تصویر کا ذریعہEPA
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی پریس کانفرنس میں وضاحت دی ہے کہ آڈیو لیک کرنے میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’میں نے اسمبلی فلور پر کھڑے ہو کر کہا کہ اگر سازش ثابت ہوجائے تو مجھے پھانسی دے دی جائے۔‘
ان کے مطابق عمران خان کی آڈیو لیکس کے بعد ایک دوست ملک کے سفیر سے ملاقات ہوئی اور ان کے ملک کی طرف سے امداد پر شکریہ ادا کیا۔ ان کے مطابق ’وہ سفیر مجھے ایک طرف لے گئے اور کہا کہ میں نے کوئی بات کرنی ہے، میری بات سنیں‘۔
شہباز شریف نے کہا کہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب کون اس وزیراعظم ہاؤس میں آ کر بات کرے گا۔ ان کے مطابق اب یہ نقصان آئندہ کئی دہائیوں تک برداشت کرتی رہے گی۔
قومی سلامتی کمیٹی کے دونوں اجلاسوں میں کہا گیا کہ سازش نہیں ہوئی: شہباز شریف
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کی دونوں اجلاسوں میں کہا گیا کہ اس سائفر سے سازش کا کوئی دور دور تک تعلق نہیں ہے۔ ان کے مطابق عمران خان نے اس کی تشریح اپنی مرضی سے کی ہے۔
آڈیو لیکس سے ثابت ہوا کہ عمران خان نے پاکستان کے خلاف بدترین سازش کی: شہباز شریف
،تصویر کا ذریعہShahbaza Sharif
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے کسی بھی لیڈر پر غداری اور وطن فروشی جیسے الزام سے زیادہ گھناؤنا کام کوئی نہیں ہو سکتا۔
شہباز شریف نے کہا کہ آڈیو لیکس سے ثابت ہوا کہ عمران خان نے پاکستان کے خلاف بدترین سازش کی۔ شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان نے سائفر کی بنیاد پر ایک سازش تیار کی تھی، جس کا آڈیو لیکس سے پتا چلا۔ ان کے مطابق اس کے بعد ایک سنگین کھیل کھیلا گیا۔ کہا گیا کہ ہم نے کھیلننا ہے اور نام نہیں لینا، منٹس تو ہم نے بنانے ہیں۔
ان کے مطابق بدترین بدیانت کی گئی، خیانت کی گئی۔ وطن کے وقار کو مجروح کیا گیا اور ایسے سفاکانہ طریقے سے یہ سب کیا کہ جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ان کے مطابق اب اس بات میں کوئی ابہام نہیں رہ گیا ہے کہ اس سارے عمل کے ’اصل سازشی چہرے عمران نیازی اور ان کا ٹولہ ہے۔‘
سپیکر یا ڈپٹی سپیکر کو وزیراطلاعات کی کہانی پر یقین آ گیا اور بغیر پوچھے اس تحریک عدم اعتماد کو مسترد کر دیا۔ اس کے بعد فوری طور پر عمران خان ٹی وی پر نمودارہوئے اور ککہا کہ وہ اسمبلیاں توڑ رہے ہیں۔
شہباز شریف کے مطابق یہ تین اپریل 2022 کی بات ہے جب عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ ہونی تھی۔ عمران خان کے اعلان کے 20 منٹ بعد صدر پاکستان نے اسمبیلیاں تحلیل کر دیں۔
خاتون جج کو دھمکی دینے کے کیس میں عمران خان کی عبوری ضمانت منظور
خاتون جج اور پولیس افسران کو دھمکانے سے متعلق مقدمے میں اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی عبوری درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں 50 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے پولیس کو آئندہ سماعت کے لیے نوٹس جاری کر دیا ہے۔
عمران خان آج ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ پیش ہوئے جہاں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
گذشتہ سماعت کے دوران عدالت میں پیش نہ ہونے پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 7 اکتوبر تک ان کی حفاظتی ضمانت منظور کی تھی۔
آرمی چیف کے بیان کے بعد افواہیں ختم اور فوری الیکشن ہونے چاہییں: شیخ رشید
سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے مدت ملازمت میں دوبارہ توسیع نہ لینے کے بیان کے بعد ’افواہیں ختم اور فوری الیکشن ہونے چاہییں۔‘
انھوں نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ ’حکومت اسلام آباد کے 25 لاکھ لوگوں کو قعلہ بند کرے گی تو لوگ اسلام آباد کے اندر سے اور مارگلہ کی پہاڑیوں سے نکلیں گے۔
’بیلٹ کے مقابلے میں بُلٹ کا استعمال سارے ملک میں سیاسی آگ لگا دے گا۔ تباہ حال معیشت خطرناک بحران میں داخل ہوجائے گی۔‘
وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ’اسلام آباد کے لوگوں نے محصور ہونے کے خوف سے گھروں میں راشن ڈالنا شروع کردیا ہے۔ وزرا کی تعداد 75 جس میں 22 بےمحکمہ ہیں۔
’کنٹینر راستے نہیں روک سکتے۔ فوج بلانے اور آرٹیکل 245 لگانے کا خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔عظیم فوج کبھی اپنے لوگوں پر گولی نہیں چلائے گی، مذاکرات کی میز پر لائے گی اور صاف شفاف الیکشن کرائے گی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
فیصل واوڈا کی نااہلی کے خلاف کیس کی سماعت: ’تسلیم کیا گیا کہ غلطی ہوئی نااہلی بنتی ہے مگر تاحیات نہیں‘ چیف جسٹس, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان
کی سپریم کورٹ پی ٹی آئی رکن فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کے خلاف اپیل پر سماعت کرتے
ہوئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ کیس میں تسلیم کیا گیا کہ غلطی ہو گئی
نااہلی بنتی ہے مگر تاحیات نہیں۔
جمعرات
کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس
مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ تاحیات نااہلی صادق اور امین کے اصول پر پورا نہ
اترنے پر ہوتی ہے۔
سماعت
میں فیصل واوڈا کے وکیل وسیم سجاد نے کہا کہ الیکشن کمیشن کورٹ آف لا نہیں اس لیے
نااہلی کا فیصلہ نہیں دے سکتا۔
جس پر
چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ اثاثے چھپانے یا غلطی کرنے پر آرٹیکل 63 ون
سی کے تحت نااہلی ایک مدت تک ہوتی ہے۔
اس
موقع پر بنچ میں شامل جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ جب سفارتخانے جا کر شہریت
منسوخ نہیں کروائی تو نادرا نے سرٹیفیکیٹ کیسے دے دیا؟ جس پر فیصل واوڈا کے وکیل کا کہنا تھا کہ امریکی
سفارتخانے جا کر نائیکوپ منسوخ کرایا۔
اس پر
فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ فیصل واڈا کا سارا جھگڑا سینٹ نشست کا ہے۔ جس پر وکیل
وسیم سجاد نے کہا کہ فیصل واوڈا نے حقائق چھپائے نہ کوئی بدیانتی کی۔
اس موقع
پر عدالتی بنچ میں شامل جسٹس منصور علی شاہ نے سوال پوچھا کہ فیصل واوڈا نے کاغذات
نامزدگی کب جمع کرائے؟
وکیل نے
جواب دیا کہ فیصل واوڈا نے کاغذات نامزدگی سات جون 2018 کو جمع کرائے، فیصل
واوڈا کے کاغذات نامزدگی پر سکروٹنی 18 جون کو ہوئی۔
جسٹس
منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ فیصل واوڈا نے بیان حلفی کب جمع کرایا تھا؟ جس پر
وکیل وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ فیصل واوڈا نے بیان حلفی 11 جون 2018 کو جمع کروایا
اور ریٹرننگ افسر کو بتا دیا تھا کہ امریکی شہریت چھوڑ دی ہے۔
اس پر
جسٹس عائشہ ملک نے پوچھا کہ کس تاریخ کو امریکی سفارت خانے میں جا کر شہریت منسوخ
کرائی؟
وکیل
فیصل واوڈا نے جواب دیا کہ امریکی سفارت خانے جا کر کہہ دیا تھا کہ شہریت چھوڑ
رہا ہوں۔ اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ کیا آپ نے سفارتخانے جا کر زبانی
بتا دیا کہ میرا پاسپورٹ کینسل کر دو؟
اس پر
وکیل وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ امریکی شہریت چھوڑنے کا ثبوت میں نے تو نہیں دینا
تھا۔
اس پر
عدالت نے ریمارکس دیے کہ بیان حلفی 11 جون کو جمع کرانے سے پہلے زحمت ہی نہیں کی
کہ دہری شہریت کا معاملہ ختم کریں؟
اس پر
وکیل فیصل واوڈا نے کہا کہ نادرا نے 29 مئی 2018 کو امریکی شہریت کینسل ہونے کا
سرٹیفکیٹ دیا تھا۔
جسٹس
عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ بیان حلفی جمع کراتے وقت فیصل واوڈا کا امریکی
پاسپورٹ منسوخ نہیں ہوا تھا۔
سماعت
کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 62 ون ایف کا ڈیکلریشن عدالت ہی دے
سکتی ہے، شواہد کا جائزہ لیے بغیر کسی کو
بد دیانت یا بے ایمان نہیں کہا جا سکتا۔
چیف
جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ عدالتی ڈیکلریشن کا مطلب ہے شواہد ریکارڈ کیے
جائیں۔ سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں آرٹیکل 62 ون ایف کے اطلاق کا معیار مقرر کر چکی
ہے۔
انھوں
نے کہا کہ فیصل واوڈا نے امریکی شہریت کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد چھوڑی ہے۔
اس
موقع پر فیصل واووڈا کی دوہری شہریت کے تحت نااہلی کی استدعا کرتے ہوئے ان کے وکیل
نے کہا کہ دوہری شہریت پر آرٹیکل 63 ون سی کا اطلاق ہوتا ہے۔ دوہری شہریت پر رکن
صرف ڈی سیٹ ہوتا ہے تاحیات نااہل نہیں۔
عدالت
کی فیصل واوڈا کے وکیل کو الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سے متعلق مزید تیاری کی
ہدایت کر دی۔