بریکنگ, کسی ملک، گروپ یا تنظیم کو پاکستان کو سیاسی یا معاشی طور غیر مستحکم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے: جنرل قمر باجوہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ کسی ملک، گروپ یا تنظیم کو پاکستان کو سیاسی یا معاشی طور پر غیر مستحکم کرنے نہیں دیا جائے گا۔
ملٹری اکیڈمی کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے آرمی چیف کا کہنا تھا کسی بھی فیک نیوز اور پروپیگنڈے پر توجہ نہ دیں، ملک کی حفاظت مضبوط ہاتھوں میں ہے ، ہمیشہ الرٹ رہیں اور ملک کےخلاف سازشوں کو شکست اور جواب دینے کے لیے تیار رہیں۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کو فخر ہونا چاہیے کہ آپ اس عظیم فوج کا حصہ بننے جا رہے ہیں، اس ادارے سے پاس آؤٹ ہونا بڑے فخر کی بات ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں بھرپور کوشش کرنی چاہیے کہ شعلوں کو اپنے خطے سے دور رکھیں، ہمیں طریقہ کار بنا کر باہمی معاملات کو پرُامن طور پر حل کرنے کے لیے امن کو موقع دینا چاہیے، ہمیں ایک دوسرے سے لڑنے کے بجائے مل کر بھوک ،غربت ،جہالت سے مقابلہ کرنا چاہیے۔ ہمیں مل کر تیزی سے بڑھتی آبادی، ماحولیاتی تبدیلی اور بیماریوں کا مقابلہ کرناچاہیے۔
انھوں نے کہا کہ دنیا بدل گئی ہے ہمیں بھی تبدیل ہو جانا چاہیے، ورنہ ’اسٹیٹس کو‘ کی قیمت ہم سب کواداکرنی پڑے گی۔
آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور ہمسائیوں سے اچھے تعلقات چاہتا ہے، ہمسایوں کے ساتھ تمام مسائل پرامن طور پر حل کرنے کے خواہاں ہیں لیکن ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ فوج نے پاکستان کو دہشتگردی سے نجات دلانےکے لیے بہت بڑی قربانیاں دی ہیں، عوام کی مکمل حمایت اور اعتماد سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں حاصل کیں اور یہ یقینی بنایا ہے کہ پاکستان سے منظم دہشتگردی فیصلہ کن طور پر جڑ سے اکھاڑ دی جائے، یہ کامیابی بے شک ایسی ہے جسے کئی ممالک یا افواج دعوی نہیں کر سکتیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امن کی خواہش میں پاکستان نے نیک نیتی سے پڑوسیوں اور علاقائی ملکوں سے اچھے تعلقات کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں، جنوبی ایشیا کے لوگوں کو بھی خوشحالی اور بہتر معیار زندگی کا حق حاصل ہے، جنوبی ایشیا میں خوشحالی تسلسل سے معاشی ترقی اور دیرپا امن سے ہی ممکن ہے۔



