آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

وزیرِ داخلہ پنجاب ہاشم ڈوگر ’ذاتی وجوہات کی بنا پر‘ مستعفی

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیرِ داخلہ ہاشم ڈوگر مستعفی ہو گئے ہیں۔ انھوں نے اپنا استعفیٰ ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’آج میں نے ذاتی وجوہات کی بنا پہ اپنے عہدے سے استعفی دیا ہے۔ انشاللہ آگے بھی پی ٹی آی کے ادنی کارکن کے طور پہ کام کرتا رہوں گا۔‘

لائیو کوریج

  1. عمران خان نے غیر مشروط معافی نہیں مانگی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان نے جو بیان حلفی عدالت میں جمع کروایا اس میں غیر مشروط معافی نہیں مانگی۔

    انھوں نے کہا کہ توہین عدالت کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں، اس موقع پر انھوں نے مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں دانیال عزیر اور طلال چوہدری کے مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ ان فیصلوں پر عملدرآمد کی پابند ہیں۔

    اس پر جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ اُن فیصلوں کی تائید کرتے ہیں کیونکہ عمران خان کے رویے سے ظاہر ہو رہا ہے کہ انھوں نے معافی مانگ لی ہے۔

    عامر رحمان کا کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے مزید کچھ دستاویزات جمع کروانا چاہتے ہیں۔ عدالت نے اس موقع پر کہا کہ ’آپ دستاویزات جمع کروا دیں ہم اس کا ذکر اپنے تفصیلی فیصلہ میں کر دیں گے۔‘

  2. بریکنگ, اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کے خلاف توہینِ عدالت کا نوٹس خارج کر دیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے عمران خان کے خلاف توہینِ عدالت کا نوٹس خارج کر دیا ہے۔

    اس بینچ کی سربراہی چیف جسٹس اطہر من اللہ کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ بینچ کا متفقہ فیصلہ ہے۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ بادی النظر میں یہ توہین عدالت تھی، تاہم عمران خان کے رویے پر عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم کر رہے ہیں۔

  3. جج کو دھمکی دینے کا معاملہ، عمران خان اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے

    سابق وزیرِ اعظم عمران خان اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کے خلاف توہینِ عدالت کا کیس زیرِ سماعت ہے۔ واضح رہے کہ عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ خاتون ایڈیشنل سیشن جج سے متعلق بیان پر معذرت کریں گے۔

    وہ کچھ دن قبل مذکورہ جج کی عدالت میں بھی معافی مانگنے کے لیے گئے تھے تاہم وہ اس وقت وہاں موجود نہیں تھیں۔

  4. پاکستان میں ستمبر میں مہنگائی کی شرح 23.2 فیصد, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں موجودہ مالی سال کے ستمبر کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 23.2 فیصد رہی جو گذشتہ سال ستمبر کے مہینے میں 8.98 فیصد تھی۔

    ملک میں موجود ہ مالی سال کے پہلے تین مہینوں میں اوسطاً شرح مہنگائی 25.1 فیصد رہی جو گذشتہ سال کی اس سہ ماہی میں 8.58 فیصد تھی۔

    ستمبر کے مہینے میں غذائی اشیاء کی قیمتوں میں 31.7 فیصد اضافہ ہوا، ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 64 فیصد اضافہ دیکھا گیا، تعمیرات کے شعبے میں قیمتوں میں 3.4 فیصد اضافہ ہوا اور مشروبات کی قیمت میں 32 فیصد اضافہ ہوا۔

  5. لاپتہ شہری کی بازیابی: ’یہ دارالحکومت ہے، ہم کوئی تورا بورا میں نہیں بیٹھے‘, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت نے لاپتہ شہری منیب اکرم کی بازیابی کی درخواست میں شہری کے عدالت پیش ہو جانے پر واقعے کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ انسپکٹرجنرل آف پولیس اسلام آباد 15 روز میں انکوائری رپورٹ رجسٹرار آفس میں جمع کروائیں۔

    منیب اکرم نے عدالت کو بتایا کہ اُنھیں 19 اگست کو رات گھر سے کچھ لوگوں نے اٹھایا، ان کا لیپ ٹاپ اور موبائل لے کر چیک کیا اور اُنھیں دھمکیاں دی گئیں، وہ ڈر کی وجہ سے گاؤں چلے گئے اور موبائل بند کر دیا۔

    اُنھوں نے بتایا کہ وہ یکم اکتوبر کو گھر واپس آئے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کو کس نے اٹھایا، جس پر شہری نے بتایا کہ اُنھیں علم نہیں مگر سول کپڑوں میں لوگ آئے تھے۔

    عدالت نے بازیاب شہری سے کہا کہ اگر چھ گھنٹے بعد آپ کو چھوڑا گیا تو گھر کیوں نہیں بتایا جس پر شہری نے بتایا کہ وہ گھر والوں کو بتاتے تو گھر والے اُنھیں واپس لے آتے اور اُنھیں دوبارہ اٹھائے جانے کا خوف تھا۔

    بازیاب شہری نے کہا کہ مجھے جو لوگ لے کر گئے تھے انھوں نے مجھے سوشل میڈیا استعمال نہ کرنے کا کہا۔ ’مجھے اُنھوں نے کہا کہ فیس بک ٹوئٹر آج کے بعد استعمال نہیں کرنا پھر چھوڑ دیا۔‘

    دوران سماعت عدالت نے ڈی ایس پی لیگل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا باہر سے سی ٹی ڈی آ کر اس عدالت کی حدود میں یہ چیزیں کر رہی ہے، اس عدالت نے کئی بار کہا کہ یہ عدالت اس قسم کے واقعات برداشت نہیں کرے گی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو ریاست نے لوگوں کو تحفظ کے لیے رکھا ہے۔ اُنھوں نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل صاحب سے پوچھا کہ بتائیں کہ اس کیس کا کیا کریں؟

    اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کے باوجود اگر ایسا ہوتا ہے تو ریاست کی ناکامی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ریاست ناکام ہے تو کوئی اور کیسے ہمت کرے گا اس عدالت کو پتہ ہے کہ پولیس کے علم میں لائے بغیر ایسا کچھ ممکن نہیں۔

    چیف جسٹس نے وزارتِ دفاع کے نمائندے سے کہا کہ ریاست کی خفیہ ایجنسیاں تو خود مسنگ پرسنز کیسز میں ملوث ہیں، اگر یہ لڑکا نہ ملتا تو عدالت نے آپ سب کو ذمہ دار ٹھہرانا تھا، عدالت پھر سے کہہ رہی ہے کہ مسنگ پرسنز کیس کا فیصلہ پھر سے پڑھ لیں۔

    عدالت نے ڈی ایس پی لیگل سے استفسار کیا کہ اس عدالت کا لاپتہ افراد سے متعلق فیصلہ پڑھا ہے آپ نے ؟ آپ نے ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کی جس کے علاقے میں واقعہ ہوا؟

    اُنھوں نے کہا کہ یہ دارالحکومت ہے، ہم کوئی تورا بورا میں نہیں بیٹھے ہوئے۔

    عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ آئی جی اسلام آباد تحقیقات کر کے ریورٹ 15 روز میں رجسٹرار ہائیکورٹ کو جمع کروائیں اور حکم دیا کہ پٹیشنر کو کسی بھی قسم کی تکلیف نہیں پہنچنی چاہیے۔

    عدالت نے مذکورہ بالا اقدامات کے ساتھ بازیابی کی درخواست نمٹا دی۔

  6. شہباز شریف: عمران خان اداروں کو بدنام کر کے سزا سے بچنا چاہتے ہیں

    وزیراعظم شہباز شریف نے عمران خان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب اداروں کو بدنام کر کے اپنے جرم کی سزا سے بچنا چاہتے ہیں۔

    وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری ایک اعلامیے میں اُنھوں نے کہا کہ سفارتی سائفر میں رد و بدل کر کے قومی سلامتی سے کھیلا گیا۔

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کے قومی مفادات سے کھیلنے والوں کو قانون کو جواب دینا پڑے گا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، مقبول ہونے کا مطلب قانون سے بالاتر ہونا کیسے ہے۔

  7. ٹرانس جینڈر ایکٹ: کیا جے یو آئی کی ذمہ داری نہیں تھی کہ جائزہ لے کر قانون بناتے، شریعت کورٹ

    وفاقی شرعی عدالت میں ٹرانس جینڈر ایکٹ کے خلاف جمعیت علما اسلام کی درخواست پر آج سماعت ہوئی۔

    قائم مقام چیف جسٹس شریعت کورٹ سید محمد انور نے جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضیٰ سے پوچھا کہ اس قانون کے خلاف دیگر درخواستیں پہلے سے زیر سماعت ہیں، آپ کی درخواست میں نیا کیا ہے؟

    اس پر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ وہ اپنی جماعت کی نمائندگی چاہتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا جے یو آئی قانون کی منظوری میں شامل تھی، جس پر وکیل کا کہنا تھا کہ جے یو آئی نے ٹرانس جینڈر ایکٹ کی حمایت کی تھی۔

    عدالت نے اس پر جے یو آئی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ جے یو آئی ذمہ داری نہیں تھی کہ جائزہ لے کر قانون بناتے؟

    جسٹس انور نے کہا کہ قانون خود منظور کیا تو عدالت کیا لینے آئے ہیں؟

    کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ان کی جماعت کی جانب سے جنس تبدیلی کے اختیار کی شق چیلنج کی گئی ہے۔ تاہم قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ وکیل جے یو آئی جس شق کا حوالہ دے رہے ہیں وہ غلط ہے۔

    بعد میں عدالت نے یہ درخواست دیگر تمام درخواستوں کے ساتھ منسلک کر کے سماعت 18 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

  8. ایجنسیز کا کام صرف یہ کہنا نہیں کہ بندہ ہمارے پاس نہیں ہے: اسلام آباد ہائی کورٹ

    اسلام آباد پولیس کے حکام لاپتہ شہری منیب اکرم کو لے کر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ کی عدالت میں پہنچ گئے ہیں۔

    اُن کی بازیابی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے پیر تک ان کی بازیابی کا حکم دیا تھا۔

    چیف جسٹس نے اس موقع پر وزارتِ دفاع سے پوچھا کہ یہ اچانک دوسرا تیسرا واقعہ ہے، یہ بتا دیں ایسا ہو کیوں رہا ہے؟

    چیف جسٹس کے استفسار پر وزارتِ دفاع نے کہا کہ ہم نے اس عدالت کے حکم کے بعد اپنی ایجنسیز کو مسنگ پرسن سے متعلق معلوم کرنے کا کہا مگر دونوں ایجنسیز کی تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ ہماری دونوں ایجنسیز کے پاس نہیں۔

    اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیز دنیا کی بہترین ایجنسیز میں سے ہیں، کوئی بھی شہری اٹھایا جائے تو ایجنسیز کا کام اس سے متعلق معلوم کرنا ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ ایجنسیز کا یہ کام نہیں کہ صرف یہ بتائیں کہ ہمارے پاس نہیں۔

  9. بریکنگ, لاہور ہائی کورٹ کا مریم نواز کے پاسپورٹ کی واپسی کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نواز کے پاسپورٹ کی واپسی کا حکم جاری کیا ہے۔

    مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کے لیے درخواست کی سماعت تین رکنی فُل بینچ نے کی۔ اس موقع پر ان کے وکیل امجد پرویز نے عدالت کو دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ ’مریم نواز کو پاسپورٹ جمع کروانے پر ضمانت ملی۔ چار سال ہو گئے لیکن ابھی تک چوہدری شوگر مل کا کوئی ریفرنس نہیں آیا۔

    ’اگر یہ کیس فائل کرتے اور مریم اس کا دفاع کرتیں تو صورتحال مختلف ہوتی۔ کسی کی نقل و حرکت کو روکنا بنیادی حقوق کا معاملہ بھی ہے۔ مریم چاہتی تھیں کہ یہ کیس فائل ہوتا تاکہ وہ اس کے دفاع میں آتیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’لمبی تاخیر کرنا قانون کے غلط استعمال کے مترادف ہے۔ لمبی تاخیر پر عدالتیں بغیر میرٹ دیکھے کیسز ختم کروا دیتی ہیں۔‘

    ان کا موقف تھا کہ ’جس کیس میں سزا تھی، وہ پاسپورٹ واپسی میں رکاوٹ بن سکتا تھا لیکن وہ بھی اب نہیں رہا۔‘

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’عدالت نے اپنی تسلی کے لیے پاسپورٹ رکھوایا تھا۔ کیا وہ تسلی ختم ہو گئی؟‘

    امجد پرویز نے جواب دیا کہ ’مریم نواز نے چار سال تک انتظار کیا ہے، کوئی ریفرنس دائر یا تفتیش نہیں کی گئی۔‘

    چیف جسٹس نے پوچھا کہ ’کیا ہم ضمانت کے فیصلے میں شرط والے حصے کی ترمیم کریں گے یا اس حصے کو واپس لیں گے؟‘

    اس پر وکیل نے جواب دیا کہ ’عدالت مریم نواز کی ضمانت حکم میں ترمیم کر سکتی ہے۔ عدالت نے مریم نواز سے سات کروڑ بھی رکھا ہے۔‘

    عدالت کے پوچھنے پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ’ہمیں پاسپورٹ واپس دینے پر کوئی اعتراض نہیں۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’مخالفین آ جائیں تو زمین آسمان ایک کر دیتے ہیں اپنے ہوں تو زمین پر بچھ جاتے ہیں۔‘

    پراسکیوٹر نیب کا کہنا تھا کہ ’نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت ہمیں معلوم نہیں کہ کیا اب یہ کیس نیب کے دائرہ اختیار میں ہے یا نہیں۔ مریم نواز کے خلاف کوئی تفتیش زیر التوا نہیں اور نہ مریم نواز کے پاسپورٹ کی ضرورت ہے۔‘

    ’اس کیس کی تفتیش کی تھی۔ اب معلوم نہیں کہ نئی ترمیم کے بعد یہ کیس اب رہتا بھی ہے یا نہیں۔ میں ابھی اس پر کوئی بیان دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔‘

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’آپ کو پاسپورٹ کی واپسی پر کیا ہدایت ملی ہیں۔‘

    اس پر نیب کا مؤقف تھا کہ ’ہمیں پاسپورٹ واپسی پر کوئی اعتراض نہیں۔‘

    دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے حکام کو مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست منظور کر لی اور پاسپورٹ واپس کرنے کی ہدایت کر دی۔

  10. جدوجہد کا آخری مرحلہ آن پہنچا: فواد چوہدری

    رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی ’حقیقی آزادی مارچ کی تیاریاں عروج پکڑ گئی ہیں‘ اور ’جدوجہد کا آخری مرحلہ آن پہنچا ہے۔‘

    وہ ٹوئٹر پر پیغام میں کہتے ہیں کہ آج پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے ضلعی صدور اور سیکرٹری جنرلز کا اجلاس منعقد ہو گا، جدوجہد کا آخری مرحلہ آن پہنچا ہے۔ پورا پاکستان تیار ہو جائے ہم نے اس بدترین فاشزم کا مقابلہ کرنا ہے عوام کا فیصلہ عوام کی عدالت کرے گی۔

    ’ان چھ ماہ میں ملک کی معیشت تباہ ہوگئی 1100 ارب روپے کا این آر او ان ڈاکوؤں نے خود کو دے دیا، اداروں کا وقار بری طرح متاثر ہوا اور اب کشمیر اور فلسطین پر پالیسیاں بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’میڈیا اور سیاسی کارکنوں پر بدترین تشدد اور سنسرشپ اس نظام کا تحفہ ہے جدوجہد واحد جواب ہے۔‘

  11. ’حکومت تین روز میں اختر مینگل کو بلوچ طلبہ کے لیے قائم کمیشن کا کنوینر مقرر کرے‘

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواب اختر مینگل کو بلوچ طلبہ کی ہراسانی روکنے سے متعلق کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا حکم دیتے ہوئے یہ ہدایت دی ہے کہ عدالت میں سات نومبر تک رپورٹ پیش کی جائے۔

    بلوچ طلبہ کی ہراسانی کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران ہائیکورٹ کو بتایا گیا کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کمیشن کی سربراہی سے معزرت کر لی تھی۔

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’حکومت تین روز میں اختر مینگل کو کمیشن کا کنوینر مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کرے۔

    ’بلوچ طلبہ کی ہراسانی روکنے سے متعلق کمیشن کا سکریٹریٹ سینیٹ میں قائم کیا جائے۔‘

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے حکم دیا کہ ’ایک ماہ میں بلوچ طلبہ کی ہراسانی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے۔‘

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ’کمشین کے لیے کامران مرتضیٰ صاحب دستیاب ہیں‘ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’یہ ایشو اہم ہے۔ بلوچ طلبہ تعلیم کی غرض سے ادارے میں پڑھ رہے ہیں۔

    ’بلوچ طلبہ کیوں غیر محفوظ ہیں۔ عدالت اس پر الگ سے آرڈر کرے گی۔ اختر مینگل صاحب کو کیوں نہ کمیشن میں شامل کیا جائے۔‘

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ’ہمیں کوئی اعتراض نہیں جس طرح عدالت چاہے۔‘ چیف جسٹس نے پوچھا کہ ’سکریٹریٹ کون سا ہوگا‘ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا ’انسانی حقوق کی وزارت، آخری بار آپ نے کہا تھا۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ایسا کریں سینیٹ میں ہی کمشین کا سکریٹریٹ رکھیں۔‘

    چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ’تین روز میں اختر مینگل کی بطور کمیشن ممبر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ کمیشن ایک ماہ میں رپورٹ جمع کروائے۔‘

    عدالت نے وکیل ایمان مزاری کو ہدایت دی ہے کہ ’بلوچ طلبہ سے متعلق جو ایشوز ہیں وہ سکریٹریٹ کو جمع کروائیں۔‘

    یہ سماعت سات نومبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

  12. اکتوبر خونخوار، نومبر تشویشناک ہو گا: شیخ رشید

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے پیشگوئی کی ہے کہ رواں سال ’اکتوبر خونخوار، نومبر تشویشناک ہو گا۔‘

    وہ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہتے ہیں کہ ’سائفر حکمرانوں کے الٹا گلے پڑ گیا ہے، لینے کے دینے پڑ گے ہیں۔ ’سائفر پہ اِن کے سابقہ بیانات موجودہ بیانات کے ساتھ سارے ملک میں سکرینوں پر دیکھائے جائیں گے۔

    ’12 ربیع اول کے بعد دمادم مست قلندر ہوگا، لوگوں کو بیوقوف سمجھنے والے خود گھیرے میں آئیں گے۔‘

  13. فائنل کال کی تیاریاں زور و شور پر: تحریک انصاف

    تحریک انصاف نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں لکھا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی ’فائنل کال کی تیاریاں زور و شور پر‘ ہیں۔

    اس پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ ’چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے ضلعی صدور اور جنرل سیکرٹریز کی میٹنگ بلا لی‘ ہے۔

    ’چیئرمین تحریک انصاف تمام عہدیداران کو اہم ذمہ داریاں سونپیں گے۔‘

  14. اسلام آباد ہائیکورٹ میں آج عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوگی

    اسلام آباد کی ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کو دھمکانے پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہو گی۔

    اس سماعت میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ عمران خان پر فرد جرم عائد کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے گا۔

    خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم نے زیبا چوہدری کی عدالت میں ان کی غیر موجودگی میں حاضر ہو کر کہا تھا کہ وہ وہاں معافی مانگنے آئے ہیں۔

    گذشتہ روز ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کی تھی۔ دس ہزار کے مچلکے جمع کرانے کے حکم کے ساتھ عدالت نے عمران خان کو متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔

    عمران خان کی ضمانت کی درخواست کی سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے چیمبر میں کی۔ انھیں دوسری بار بغیر پیش ہوئے عبوری ضمانت ملی ہے۔

  15. کیا نواز شریف کی واپسی کا دارومدار ’اسحاق ڈار کی کارکردگی‘ پر ہے؟

  16. مفتاح اسماعیل اور شوکت ترین آمنے سامنے، دونوں کا پاکستان کو ’تقریباً دیوالیہ‘ کرنے کا الزام

    پاکستان کے دو سابق وزرائے خزانہ ٹوئٹر پر آمنے سامنے دکھائی دے رہے ہیں۔

    اسحاق ڈار سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف کے وزیر خزانہ رہنے والے مفتاح اسماعیل نے اپنے پیشرو، شوکت ترین، کی ٹویٹ کے جواب میں کہا ہے کہ ’شوکت بھائی لیکن آپ نے آئی ایم ایف سے کیے معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی۔ آپ نے 17 فیصد تک سیلز ٹیکس بڑھانے پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن اسے کم کر کے صفر کر دیا گیا۔‘

    ’آپ نے ہر ماہ 4 روپے پیٹرول لیوی بڑھا کر اسے 30 روپے پر لے جانا تھا مگر اسے صفر کر دیا۔ آپ نے ایمنسٹی نہ دینے پر اتفاق کیا مگر پھر بھی ایک دے ڈالی۔‘

    وہ مزید کہتے ہیں کہ ’پی ٹی آئی نے ہمیں تقریباً دیوالیہ کر دیا لیکن میرے آنے کے بعد ہم آئی ایم ایف گئے اور پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچایا۔

    ’اس ماہ آئی ایف ایم ایف کی اجازت کے بغیر پی ڈی ایل بڑھانا خطرناک ہے لیکن جو پی ٹی آئی نے ہماری معیشت کے ساتھ کیا اس کی معافی نہیں مل سکتی۔‘

    ادھر شوکت ترین نے کہا ہے کہ ’ہم پر آئی ایم ایف کی شرائط کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا۔ مفتاح صاحب کے مطابق، انھوں نے تیل کی قیمتوں کا اعلان کرنے سے قبل ایم ڈی آئی ایم ایف سے اجازت کا انتظار نہیں کیا۔

    ’یہ واضح طور پر دہری بات ہے۔‘

    عمران خان کے دور میں وزیر خزانہ رہنے والے شوکت ترین نے مزید کہا کہ ’آپ کی نااہل کارکردگی ہمیں دیوالیہ کرنے والی تھی اور اسی لیے آپ کو اب جانے کا کہا گیا ہے۔

    ’اب میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ اپنی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔‘

  17. ’عمران خان آڈیو لیکس کے بعد بے نقاب ہوگئے‘

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ آڈیو لیکس کے بعد عمران خان ’بے نقاب ہوگئے ہیں۔‘

    اتوار کو عمران خان کے بیان پر اپنے ردعمل میں مریم اورنگزیب نے کہا کہ ’عمران خان کو پتہ ہے کہ ان کا کھیل بے نقاب ہو گیا ہے۔ آپ ملک کے خلاف امپورٹڈ اور فارن فنڈڈ سازش اور ریاست کے مجرم ہیں۔ عمران جیسے جھوٹے سازشی فتنے کو عبرت کا نشان بنانا چاہیے۔ آپ نے قومی سلامتی ، کشمیر ، قومی مفاد ، آئین اورعوام سے غداری کی ہے۔‘

    ’آپ کا امپورٹڈ حکومت اور سازش کا ڈرامہ ٹھس ہو گیا ہے اور آپ عوام اور ریاست کے مجرم ہیں۔‘

  18. اب تک کی بڑی خبریں۔۔۔

    • ٹیکسلا میں ایک جلسے سے خطاب میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ’میں پیشگوئی کر رہا ہوں کہ میں ان کی پلاننگ کے حساب سے تیاری کر رہا ہوں اور پھر ایک دم کال دوں گا۔۔۔ زیادہ دیر نہیں ہے اس لیے سب میری کال کا انتظار کریں۔‘
    • مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ ’سائفر صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان کی امانت ہے۔ قومی امانتوں میں خیانت کر کے ریاست کے مفادات کو پامال کرنے والے کو نشانِ عبرت بنانا چاہیے تاکہ پھر کسی کو سیاسی بھیس بدل کر ملک کو نقصان پہنچانے کی ہمت نہ ہو۔‘
    • رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے مطالبہ کیا ہے کہ آڈیو لیکس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کی بجائے عدالتی کمیشن کرے۔
    • پاکستان کی وفاقی کابینہ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف آڈیو لیکس سکینڈل میں قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کی وفاقی کابینہ سے باقاعدہ منظوری کے بعد سمری کے مطابق عمران خان کے علاوہ دو سابق وفاقی وزرا کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔
  19. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔

    آپ یہاں ملک بھر میں سیاسی سرگرمیوں کی تازہ ترین صورتحال سے متعلق خبریں پڑھ سکتے ہیں۔

    3 اکتوبر سے قبل کی سیاسی خبروں کو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  20. جب بغاوت کے الزام کے تحت خان آف قلات کی گرفتاری کے لیے بلوچستان میں فوجی آپریشن ہوا