اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت نے لاپتہ شہری منیب اکرم کی بازیابی کی درخواست میں شہری کے عدالت پیش ہو جانے پر واقعے کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ انسپکٹرجنرل آف پولیس اسلام آباد 15 روز میں انکوائری رپورٹ رجسٹرار آفس میں جمع کروائیں۔
منیب اکرم نے عدالت کو بتایا کہ اُنھیں 19 اگست کو رات گھر سے کچھ لوگوں نے اٹھایا، ان کا لیپ ٹاپ اور موبائل لے کر چیک کیا اور اُنھیں دھمکیاں دی گئیں، وہ ڈر کی وجہ سے گاؤں چلے گئے اور موبائل بند کر دیا۔
اُنھوں نے بتایا کہ وہ یکم اکتوبر کو گھر واپس آئے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کو کس نے اٹھایا، جس پر شہری نے بتایا کہ اُنھیں علم نہیں مگر سول کپڑوں میں لوگ آئے تھے۔
عدالت نے بازیاب شہری سے کہا کہ اگر چھ گھنٹے بعد آپ کو چھوڑا گیا تو گھر کیوں نہیں بتایا جس پر شہری نے بتایا کہ وہ گھر والوں کو بتاتے تو گھر والے اُنھیں واپس لے آتے اور اُنھیں دوبارہ اٹھائے جانے کا خوف تھا۔
بازیاب شہری نے کہا کہ مجھے جو لوگ لے کر گئے تھے انھوں نے مجھے سوشل میڈیا استعمال نہ کرنے کا کہا۔ ’مجھے اُنھوں نے کہا کہ فیس بک ٹوئٹر آج کے بعد استعمال نہیں کرنا پھر چھوڑ دیا۔‘
دوران سماعت عدالت نے ڈی ایس پی لیگل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا باہر سے سی ٹی ڈی آ کر اس عدالت کی حدود میں یہ چیزیں کر رہی ہے، اس عدالت نے کئی بار کہا کہ یہ عدالت اس قسم کے واقعات برداشت نہیں کرے گی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو ریاست نے لوگوں کو تحفظ کے لیے رکھا ہے۔ اُنھوں نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل صاحب سے پوچھا کہ بتائیں کہ اس کیس کا کیا کریں؟
اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کے باوجود اگر ایسا ہوتا ہے تو ریاست کی ناکامی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ریاست ناکام ہے تو کوئی اور کیسے ہمت کرے گا اس عدالت کو پتہ ہے کہ پولیس کے علم میں لائے بغیر ایسا کچھ ممکن نہیں۔
چیف جسٹس نے وزارتِ دفاع کے نمائندے سے کہا کہ ریاست کی خفیہ ایجنسیاں تو خود مسنگ پرسنز کیسز میں ملوث ہیں، اگر یہ لڑکا نہ ملتا تو عدالت نے آپ سب کو ذمہ دار ٹھہرانا تھا، عدالت پھر سے کہہ رہی ہے کہ مسنگ پرسنز کیس کا فیصلہ پھر سے پڑھ لیں۔
عدالت نے ڈی ایس پی لیگل سے استفسار کیا کہ اس عدالت کا لاپتہ افراد سے متعلق فیصلہ پڑھا ہے آپ نے ؟ آپ نے ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کی جس کے علاقے میں واقعہ ہوا؟
اُنھوں نے کہا کہ یہ دارالحکومت ہے، ہم کوئی تورا بورا میں نہیں بیٹھے ہوئے۔
عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ آئی جی اسلام آباد تحقیقات کر کے ریورٹ 15 روز میں رجسٹرار ہائیکورٹ کو جمع کروائیں اور حکم دیا کہ پٹیشنر کو کسی بھی قسم کی تکلیف نہیں پہنچنی چاہیے۔
عدالت نے مذکورہ بالا اقدامات کے ساتھ بازیابی کی درخواست نمٹا دی۔