اسلام
آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا ہے کہ جب تک پی ٹی آئی ارکان اسمبلی
کے استعفے منظور نہیں ہوتے انھیں پارلیمنٹ میں ہونا چاہیے۔
وفاقی
دارالحکومت اسلام آباد کی ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کے استعفوں کی منظوری سے متعلق کیس
کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ عوام نے اعتماد کر کے
نمائندوں کو پارلیمنٹ بھجوایا ہے۔ اس ضمن میں یہ عدالت سپیکر قومی اسمبلی کو ہدایات
جاری نہیں کر سکتی، عدالت کو پارلیمنٹ کا احترام ہے۔ شکور شاد کی حد تک عدالت نے
اسپیکر قومی اسمبلی کو کوئی ہدایات نہیں دی تھیں۔
ان
کا کہنا تھا کہ عدالت نے شکور شاد کیس میں بھی صرف نظرثانی کا کہا ہے، شکور شاد کی
حد تک جب اس عدالت نے فیصلہ دیا تو اس کے خلاف پارٹی نے شوکاز جاری کیا۔
ان
کا کہنا تھا کہ یہ سیاسی تنازعات ہیں، سیاسی جھگڑے دور کرنے کی جگہ پارلیمنٹ ہے، آپ
کو دیگر ان مسائل کے حل کے لیے سیاسی جماعتوں سے ڈائیلاگ کرنا چاہیے۔
سماعت
کے دوران چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر سے استفسار کیا کہ کیا یہ
مستعفی ارکان واقعی پارلیمنٹ میں جا کر عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں؟ آپ نے عدالت کو بتانا ہے کہ یہ پارٹی پالیسی کے
خلاف ہیں یا حامی ہیں؟
جس
پر پی ٹی آئی کے وکیل نے جواب دیا کہ درخواست گزاروں میں سے کوئی بھی پارٹی کے
خلاف نہیں، پارٹی پالیسی کے ساتھ ہیں۔ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ کے
درخواست گزاروں کو تو پھر پارلیمنٹ واپس جانا چاہیے۔ اس سے قبل بھی ایک پٹیشن دائر
کی گئی تھی۔
چیف
جسٹس نے کہا کہ کیا یہ سیاسی جماعت کی پالیسی ہے؟ انھوں
نے کہا کہ آپ کو عدالت کو بتانا ہوگا کہ درخواست گزار صاف ہاتھوں سے یہاں آئے ہیں،
بتانا ہو گا کہ آپ کے موکل واپس پارلیمنٹ جانا چاہتے ہیں اور اپنے علاقے کی
نمائندگی کرنا چاہتے ہیں؟
جس
پر پی ٹی آئی کے وکیل بیریسٹر علی ظفر نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے اپنی آئینی
ذمہ داری پوری نہیں کی، اس شرط پر استعفے دیے گئے تھے کہ 123 ارکان مستعفی ہوں گے۔
انھوں
نے کہا کہ سپیکر نے تمام استعفی منظور نہیں کیے اور صرف 11 استعفے منظور کیے، ہم
کہتے ہیں کہ دیے گئے استعفی مشروط تھے۔
بیرسٹر
علی ظفر کا کہنا تھا کہ اگر تمام ارکان کے استعفے منظور نہیں ہوئے تو شرط بھی پوری
نہیں ہوئی۔
جس
پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا آپ کا موقف ہے پارٹی نے استعفے دینے پر مجبور کیا
تھا؟ اگر ایسا ہے پھر تو آپ اب پارٹی پالیسی کے خلاف جا رہے ہیں۔
اس
پر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے، پارٹی پالیسی کے خلاف یہ ارکان نہیں جا
رہے، ہمارا موقف ہے سپیکر قومی اسمبلی نے اپنا آئینی فریضہ نہیں نبھایا۔
ان
کا کہنا تھا کہ آڈیو لیک میں سامنے آچکا کیسے صرف 11ارکان کا استعفی منظور کیا گیا،
ہمارا سیاسی مقصد تمام 123نشستیں خالی کرنا تھا، اگر ہمارا وہ مقصد پورا نہیں ہوا
تو ہم سمجھتے ہیں ابھی سب ایم این اے ہیں۔
جس
پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جن ارکان کے استعفے منظور نہیں ہوئے انھیں پارلیمنٹ میں
ہونا چاہئے، یہ ان کا فرض ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں عوام کی نمائندگی کریں۔
جس
پر پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ پارلیمنٹ واپس جانا سیکنڈری ایشو ہے۔ اس
پر چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ارکان اسمبلی پارلیمنٹ کا حصہ ہیں یا نہیں؟
پی ٹی آئی کے رویے میں تضاد ہے۔