آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

وزیرِ داخلہ پنجاب ہاشم ڈوگر ’ذاتی وجوہات کی بنا پر‘ مستعفی

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیرِ داخلہ ہاشم ڈوگر مستعفی ہو گئے ہیں۔ انھوں نے اپنا استعفیٰ ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’آج میں نے ذاتی وجوہات کی بنا پہ اپنے عہدے سے استعفی دیا ہے۔ انشاللہ آگے بھی پی ٹی آی کے ادنی کارکن کے طور پہ کام کرتا رہوں گا۔‘

لائیو کوریج

  1. ڈالر کی قیمت میں مزید 1.92 روپے کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں کمی کا رجحان نئے کاروباری ہفتے کے پہلے روز بھی جاری ہے اور ایک ڈالر کی قیمت میں 1.92 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    انٹر بینک میں ایک ڈالر اس وقت 218 روپے پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔ 22 ستمبر 2022 کو 239.71 کی بلند سطح سے لے کر اب تک ڈالر کی قیمت میں 9.9 فیصد یعنی 21.71 روپے کی کمی واقع ہو چکی ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کچھ دن پہلے ڈالر کی قیمت کے 200 روپے سے نیچے جانے کا عندیہ دیا تھا۔

  2. وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنااللہ کو اشتہاری قرار دینے کی استدعا مسترد

    راولپنڈی کی انسداد بدعنوانی کی عدالت نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کو اشتہاری قرار دینے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔

    عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے جو ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں، انہی پر عملدرآمد کروا کر اُنھیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔

    تفتیشی ٹیم نے عدالت سے درخواست کی کہ ملزم کی گرفتاری کی کوشش کی گئی مگر وہ چھپ رہے ہیں، چنانچہ اُنھیں اشتہاری قرار دیا جائے۔

    ڈیوٹی جج غلام اکبر کا کہنا تھا کہ ابھی دو روز پہلے تو ملزم کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے ہیں ان کو اشتہاری کیسے قرار دے دیں۔

    عدالت نے حکام سے کہا کہ وہ اسلام آباد جا کر ان کی گرفتاری کی دوبارہ کوشش کریں۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے کلر کہار میں مبینہ اراضی فراڈ میں رانا ثنااللہ کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

  3. اسلام آباد ہائی کورٹ: دفعہ 144 کے قانون کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں دفعہ 144 کے قانون کے خلاف پی ٹی آئی کے اسد عمر کی درخواست پر سماعت ہو رہی ہے اور چیف جسٹس اطہر من اللہ یہ کیس سن رہے ہیں۔

    درخواست گزار اسد عمر کی جانب سے پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان پیش ہوئے ہیں۔

    درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ دفعہ 144 کا نفاذ پرامن احتجاج روکنے کے لیے غیرآئینی قانون ہے، برطانوی راج نے یہ قانون بنایا تھا جو آج بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ درخواست گزار اسد عمر دفعہ 144 سے کیسے متاثرہ فریق ہیں اور اُنھیں پرامن احتجاج کے لیے اجازت لینے سے کسی نے روکا؟

    اس پر بابر اعوان نے جواب دیا کہ اسد عمر پی ٹی آئی کے رہنما ہیں جو آج کل بہت سیاسی سرگرمیاں کر رہی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ دھرنا کیس میں سپریم کورٹ نے طے کر دیا ہے کہ پرامن احتجاج کے لیے اجازت لینی ہو گی۔

    اُنھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی دو صوبوں میں حکومت ہے، کیا ادھر کبھی دفعہ 144 نافذ نہیں کی گئی؟

    جسٹس اطہر من اللہ نے مزید کہا کہ امن و امان کا معاملہ انتظامیہ نے دیکھنا ہے جس میں عدالت کبھی مداخلت نہیں کرے گی۔

    چیف جسٹس نے مزید کہا کہ جب پی ٹی آئی کی حکومت تھی کیا اسلام آباد میں دفعہ 144 کا نفاذ نہیں رہا۔

    وکیل نے کہا کہ یہ ایک سیاسی جماعت کی طرف سے نہیں بلکہ سابق ایم این اے کی درخواست ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ سابق رکن اسمبلی کی درخواست نہیں بلکہ پٹیشنر اب بھی رکن قومی اسمبلی ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ جب تک استعفیٰ منظور نہیں ہوتا، تب تک وہ رکن اسمبلی ہیں۔

    بابر اعوان ایڈووکیٹ نے کہا کہ اگر آئین سے متصادم کوئی قانون بنے تو عدالت اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آپ نے ریلی نکالنی ہے تو اس کے لیے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دیں۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پنجاب اور کے پی میں اس جماعت کی حکومتیں ہیں، آپ پہلے ان صوبوں میں جا کر یہ قانون اسمبلی سے ختم کروائیں اور پھر یہاں آ جائیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ قانون میں لکھا ہوا ہے کہ ایک ماہ میں زیادہ سے زیادہ سات دن یا مسلسل دو دن یہ قانون نافذ رہ سکتا ہے، اس سے زیادہ نہیں۔

    دلائل سننے کے بعد عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

  4. عمران خان لانگ مارچ کے لیے اس قدر بےچین کیوں؟

  5. ممنوعہ فنڈنگ کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کر دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے کی انکوائری کے خلاف تحریک انصاف کی درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔

    عدالت نے درخواست کو ممنوعہ فنڈنگ کیسز کے ساتھ منسلک کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی قانون کے مطابق کی جائے۔

    پی ٹی آئی اور سینیٹر سیف اللہ نیازی کی درخواست پر جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی۔

    دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اس حوالے سے کیسز 19 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر ہیں کیا یہ اسی طرح کا ہے؟ وکیل نے بتایا کہ جی یہ وہی کیسز ہیں پہلے بینکنگ سرکل اور اب سائبر کرائم یہ انکوائری کر رہا ہے، نامنظور ڈاٹ کام سے فنڈنگ سے متعلق سائبر کرائم نے نئی انکوائری شروع کی ہے۔

    عدالت نے پہلے سے زیر سماعت کیسز کے ساتھ درخواست کو منسلک کرتے ہوئے سماعت 19 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

  6. وزیرِ اعظم آج تھر کا دورہ کریں گے

    وزیر اعظم شہباز شریف آج تھر کا ایک روزہ دورہ کریں گے جہاں اُنھیں تھر کول پراجیکٹ پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔

    وہ تھر کول مائنز کے فیز 2 کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے اور تقریب سے خطاب بھی کریں گے۔

  7. سابق صدر آصف زرداری صحتیاب ہو کر ہسپتال سے گھر روانہ: ڈاکٹر عاصم

  8. ’پاکستان قرضوں کی ری شیڈولنگ کے لیے پیرس کلب نہیں جائے گا‘

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ قرضوں کی ری شیڈولنگ کے لیے حکومتِ پاکستان پیرس کلب نہیں جائے گی۔

    سنیچر کو میڈیا کو دی گئی بریفنگ میں انھوں نے کہا کہ ’پاکستان قرضوں کی ری شیڈولنگ کے لیے پیرس کلب نہیں جائے گا۔ آئی ایم ایف سے معاہدے کی پاسداری کریں گے۔ عالمی ادارے بھی ہمارے فیصلوں کی تائید کریں گے۔‘

    انہوں نے کہا کہ اتحادی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کر رہی ہے۔

    ’بانڈز کی دسمبر میں ادائیگی میچور ہو رہی ہے۔ یہ ادائیگی بروقت کی جائے گی۔ گذشتہ حکومت نے ملک کو معاشی مسائل میں دھکیلا تاہم ہم ماضی میں جو بھی غلط فیصلے ہوئے ان کے حل کے لیے جامع حکمت عملی کے ذریعے اقدامات کو یقینی بنا رہے ہیں۔ پاکستان کے اندر اور باہر یہ وضاحت ضروری ہے کہ تمام فیصلوں پر عملدرآمد کیا جائے گا اور قرضے ری شیڈول کے لیے پیرس کلب نہیں جائیں گے۔‘

    اسحاق ڈار کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’50 ہزار ڈالر تک کی ایل سیز کی ادائیگیاں کرنے جا رہے ہیں جس کے لیے سٹیٹ بینک نے ڈیٹا فراہم کر دیا ہے۔‘

  9. نواز شریف: درخواست کے باوجود میری اہلیہ سے میری فون پر بات نہیں کرائی گئی

    لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ لوگ میری اہلیہ کی بیماری کا مذاق اڑا رہے تھے، جب میری اہلیہ اور مریم کی والدہ بستر مرگ پر تھیں تو ہمارے ساتھ ظلم کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا میں نے درخواست کی تھی کہ میری اہلیہ بیمار ہے ایک ہفتے کے لیے فیصلہ ملتوی کیا جائے، ایک ہفتے بعد پاکستان آ جاؤں گا مگر نیب کے جج نے میری درخواست قبول نہیں کی، کیا ان لوگوں کے سینے میں دل نہیں ہے، ان سب تکالیف کے باوجود پاکستان جانے کا فیصلہ کیا، مریم سے کہا کہ ہم حق پر ہیں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

    نواز شریف کا کہنا تھا میں نے کہا بعض قومی امور ایسے ہیں جن کا تاریخ میں ہم کبھی حساب نہیں دے سکیں گے، ان سب کا کسی کو تو حساب دینا پڑے گا۔

    نواز شریف نے کہا کہ انھوں نے جیل حکام سے اپنی اہلیہ سے فون پر بات کرنے کی بار بار درخواست کی مگر اسے نہیں سنا گیا۔ ان کے مطابق جب وہی حکام مجھے میری اہلیہ کی موت کی خبر دینے آئے تو میں نے کہا کہ اب مریم کو یہ اطلاع میں نے دینی ہے، آپ نے انھیں کچھ نہیں بتانا۔ نواز شریف کے مطابق جب میں نے جا کر مریم نواز کو خبر دی تو وہ رونا شروع ہو گئیں اور سکتے میں آ گئیں۔

    نواز شریف نے کہا کوٹ لکھپت جیل میں مریم مجھ سے ملنے آئی تھیں کہ نیب کے حکام نے انھیں گرفتار کر لیا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ کیا گیا کہ نواز شریف کے سامنے ان کی بیٹی کو گرفتار کرنا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ مریم نواز نے ثابت کر دیا کہ مقدمہ جھوٹا تھا اور سزا غلط تھی، جھوٹے مقدمات میں ہمیں کیوں جیل جانا پڑا؟ ایک پاکستانی ہونے کے ناطے میرا حق ہے کہ میں یہ سوال پوچھوں۔

    نواز شریف نے کہا مجھے مریم پر فخر ہے۔ وہ ثابت قدم رہیں اور میرا پورا ساتھ دیا۔

  10. مجھے تاحیات نااہلی سپریم کورٹ سے ہوئی، اب کہا جا رہا ہے کہ یہ کالا قانون ہے: نواز شریف

    سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ مجھے تاحیات نااہلی بھی سپریم کورٹ سے ہوئی ہے۔ اور آج کہا جا رہا ہے کہ یہ کالا قانون ہے اور ظلم ہے۔ تو پھر اس کا ازالہ؟ یہ باتیں قوم تک پہنچنی چاہیں۔ یہ باتیں لوگوں تک پہنچی چاہیں۔

    نواز شریف نے کہا مجھے پوری زندگی کے لیے نااہل کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ نہیں بلکہ انتقام تھا۔ ان کے مطابق مجھ سے انتقام لیتے لیتے پاکستان کا بٹھا دیا گیا۔

  11. مریم سرخرو ہو کر پاکستان سے آئی ہیں، ثابت کر کے آئیں کہ مقدمہ اور سزا جھوٹی تھیں: نواز شریف

    نواز شریف نے کہا کہ آج مریم سرخرو ہو کر پاکستان سے آئی ہیں، اپنا مقدمہ جیت کر آئی ہیں، یہ ثابت کر کہ آئی ہیں کہ وہ مقدمہ اور سزا جھوٹی تھی۔ انھوں نے کہا کہ پھر یہ دو ڈھائی سو پیشیاں کیوں بھگتی گئیں۔

    زندگی کے قیمتی پانچ سال کیوں ضائع کیے گئے؟

    کیا مریم کو کوٹ لکھپت جیل میں مریم نواز کو میری آنکھوں کے سامنے گرفتار کیا گیا، کیا کوئی اور مقام گرفتاری کے لیے نہیں ہو سکتا تھا۔ بس یہ طے کیا ہوا تھا کہ نواز شریف کی آنکھوں کے سامنے ان کی بیٹی کو گرفتار کرنا ہے۔

  12. موجودہ پاکستان یا اٹھارہویں صدی کا ہندوستان

  13. بریکنگ, ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما کامران ٹیسوری گورنر سندھ مقرر

    پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما محمد کامران خان ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔

    صدر مملکت نے یہ منظوری آئین کے آرٹیکل 101، ایک، کے تحت دی۔

    واضح رہے کہ گورنر سندھ کا عہدہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے گورنر سندھ عمران اسمٰعیل کی جانب سے استعفیٰ دیے جانے کے بعد سے خالی تھا جس پر وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائز پر آج صدر مملکت نے کامران ٹیسوری کی تعیناتی کی منظوری دی۔

    یاد رہے کہ گذشتہ ماہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے اپنی رابطہ کمیٹی کے سابق رہنما کامران ٹیسوری کو پارٹی میں واپس شامل کیا تھا جنھیں اس سے قبل پارٹی کے اندر اس تقسیم کا ذمہ دار سمجھا جاتا رہا تھا جس کے نتیجے میں ڈاکٹر فاروق ستار کو پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔

  14. آج شام چار بجے نواز شریف اور مریم نواز میڈیا سے گفتگو کریں گے: وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب

  15. ’آصف زرداری کی صحت میں نمایاں بہتری، ایک دو روز میں ہسپتال سے جاسکیں گے‘

    سابق صدر آصف علی زرداری کے معالج ڈاکٹر عاصم نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’مسٹر آصف علی زرداری (کی صحت) میں نمایاں بہتری آئی ہے اور وہ ایک یا دو روز میں ہسپتال سے جانے کے قابل ہوجائیں گے۔‘

    انھوں نے گذشتہ روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ آصف علی زرداری کی نظام تنفس کی فزیو کی جا رہی ہے۔

  16. عمران خان کی تباہ کردہ معیشت واپس پٹڑی پر آرہی ہے: وزیر اعظم شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی ’تباہ کردہ معیشت واپس پٹڑی پر آرہی ہے۔‘

    ٹوئٹر پر پیغام میں وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستانی روپے کا ڈالر کے مقابلے میں بہترین کارکردگی دکھانے والی ورلڈ کرنسی بننا اللہ تعالیٰ کا کرم ہے۔ 1 ہفتے میں روپے کی قدر میں 3.9فیصد اضافہ ، ہفتے کے اختتام پر ڈالر 219.92 ہوگیا ہے۔

    ’وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی محنت رنگ لا رہی ہے۔ عمران خان کی تباہ کردہ معیشت واپس پٹڑی پر آرہی ہے۔‘

  17. ’ضمنی انتخابات مزید ملتوی کیے گئے تو اے این پی حکومتی اتحاد میں شامل نہیں رہے گی‘

    حکومتی اتحاد میں شامل جماعت عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے ضمنی انتخابات مزید ملتوی نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسی صورت میں وہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔

    ٹوئٹر پر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ضمنی انتخابات مزید ملتوی کیے گئے تو اے این پی حکومتی اتحاد سے نکل جائے گی اور انتخابات میں حصہ نہیں لے گی۔

    خیال رہے کہ وزارت داخلہ نے 16 اکتوبر کے ضمنی انتخابات ملتوی کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہے۔

  18. عمران خان 12 سے 17 اکتوبر کو اسلام آباد میں لانگ مارچ کا ارادہ رکھتے ہیں: رانا ثنا اللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا دعویٰ ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پر ’قبضہ کرنے اور افراتفری پھیلانے کے لیے‘ 12 سے 17 اکتوبر کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

    جیو نیوز کے ٹاک شو ’نیا پاکستان‘ میں گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ قوم کے تعاون سے حکومت عمران خان کے منصوبوں کو ناکام بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔

    انھوں نے کہا کہ آئین نے عوامی اجتماع کو پُرامن طریقے سے منعقد کرنے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کا حق دیا ہے لیکن عدالت کا واضح فیصلہ ہے کہ دارالحکومت کے ریڈ زون میں کسی کو سیاسی جلسے کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ آڈیو لیکس کے پیچھے حکومت کا ہاتھ نہیں ہے۔ ’اگر عمران خان اپنا دفاع کرنا چاہتے ہیں تو وہ لیک ہونے والی آڈیوز کی تحقیقات کرائیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ لیک ہونے والی آڈیوز نے عمران کا ’دوہرا چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔‘

    ’عمران خان بند کمروں میں ملک کے خلاف سازشیں کر رہا تھا اور عوام میں اپنے مخالفین پر الزام لگا رہا تھا۔‘

    اپنے خلاف وارنٹ گرفتاری پر انھوں نے کہا کہ اس طرح کے ہتھکنڈے کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ انھوں نے کہا کہ اینٹی کرپشن کا مقدمہ انکوائری کے بعد درج ہوتا ہے۔ ’دو سال پہلے پی ٹی آئی حکومت کو یہ خیال نہیں آیا کہ انکوائری کرنی ہے۔۔۔ ہمیں اپنے فرض سے نہیں روک سکیں گے۔ اس قسم کے وارنٹوں سے ہمیں فرق نہیں پڑے گا۔‘

  19. رانا ثنا اللہ کے وارنٹ گرفتاری: اسلام آباد پولیس اینٹی کرپشن ٹیم سے ریکارڈ مانگے گی

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری ہوئے ہیں تاہم اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ اگر اینٹی کرپشن ٹیم اسلام آباد کے متعلقہ تھانے آئی تو وہ تعمیل کے لیے اس سے ریکارڈ مانگے گی۔

    ‏خیال رہے کہ رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کے لیے وارنٹ سپیشل جیوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے سنیچر کو جاری کیے گئے ہیں۔

    پولیس کی جانب سے جاری کیے جانے والے تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’وارنٹ کی تعمیل کے لیے اینٹی کرپشن ٹیم تھانہ آئی تو ان سے کاغذات وصول کیے جائیں گے۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ٹیم سے درخواست کی جائے گی کہ وہ تعمیل کے لیے ریکارڈ مہیا کرے تا کہ قانون کے مطابق عمل کیا جا سکے۔

    بی بی سی کی نامہ نگار حمیرا کنول سے گفتگو کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس کے ایک انتظامی عہدے دار نے بتایا کہ ان کے وارنٹ پنجاب میں جاری ہوئے ہیں یہ اسلام آباد کا معاملہ نہیں اور نہ ہی ابھی اسلام آباد پولیس سے رابطہ کیا گیا ہے۔

  20. رانا ثنااللہ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    راولپنڈی کی ایک عدالت نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

    سینئر سول جج راولپنڈی غلام اکبر نے دفعہ 420، 468، 471، 109 اور 467 کے تحت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

    مذکورہ وارنٹ ناقابلِ ضمانت ہیں۔