پاکستان
کی سپریم کورٹ پی ٹی آئی رکن فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کے خلاف اپیل پر سماعت کرتے
ہوئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ کیس میں تسلیم کیا گیا کہ غلطی ہو گئی
نااہلی بنتی ہے مگر تاحیات نہیں۔
جمعرات
کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس
مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ تاحیات نااہلی صادق اور امین کے اصول پر پورا نہ
اترنے پر ہوتی ہے۔
سماعت
میں فیصل واوڈا کے وکیل وسیم سجاد نے کہا کہ الیکشن کمیشن کورٹ آف لا نہیں اس لیے
نااہلی کا فیصلہ نہیں دے سکتا۔
جس پر
چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ اثاثے چھپانے یا غلطی کرنے پر آرٹیکل 63 ون
سی کے تحت نااہلی ایک مدت تک ہوتی ہے۔
اس
موقع پر بنچ میں شامل جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ جب سفارتخانے جا کر شہریت
منسوخ نہیں کروائی تو نادرا نے سرٹیفیکیٹ کیسے دے دیا؟ جس پر فیصل واوڈا کے وکیل کا کہنا تھا کہ امریکی
سفارتخانے جا کر نائیکوپ منسوخ کرایا۔
اس پر
فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ فیصل واڈا کا سارا جھگڑا سینٹ نشست کا ہے۔ جس پر وکیل
وسیم سجاد نے کہا کہ فیصل واوڈا نے حقائق چھپائے نہ کوئی بدیانتی کی۔
اس موقع
پر عدالتی بنچ میں شامل جسٹس منصور علی شاہ نے سوال پوچھا کہ فیصل واوڈا نے کاغذات
نامزدگی کب جمع کرائے؟
وکیل نے
جواب دیا کہ فیصل واوڈا نے کاغذات نامزدگی سات جون 2018 کو جمع کرائے، فیصل
واوڈا کے کاغذات نامزدگی پر سکروٹنی 18 جون کو ہوئی۔
جسٹس
منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ فیصل واوڈا نے بیان حلفی کب جمع کرایا تھا؟ جس پر
وکیل وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ فیصل واوڈا نے بیان حلفی 11 جون 2018 کو جمع کروایا
اور ریٹرننگ افسر کو بتا دیا تھا کہ امریکی شہریت چھوڑ دی ہے۔
اس پر
جسٹس عائشہ ملک نے پوچھا کہ کس تاریخ کو امریکی سفارت خانے میں جا کر شہریت منسوخ
کرائی؟
وکیل
فیصل واوڈا نے جواب دیا کہ امریکی سفارت خانے جا کر کہہ دیا تھا کہ شہریت چھوڑ
رہا ہوں۔ اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ کیا آپ نے سفارتخانے جا کر زبانی
بتا دیا کہ میرا پاسپورٹ کینسل کر دو؟
اس پر
وکیل وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ امریکی شہریت چھوڑنے کا ثبوت میں نے تو نہیں دینا
تھا۔
اس پر
عدالت نے ریمارکس دیے کہ بیان حلفی 11 جون کو جمع کرانے سے پہلے زحمت ہی نہیں کی
کہ دہری شہریت کا معاملہ ختم کریں؟
اس پر
وکیل فیصل واوڈا نے کہا کہ نادرا نے 29 مئی 2018 کو امریکی شہریت کینسل ہونے کا
سرٹیفکیٹ دیا تھا۔
جسٹس
عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ بیان حلفی جمع کراتے وقت فیصل واوڈا کا امریکی
پاسپورٹ منسوخ نہیں ہوا تھا۔
سماعت
کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 62 ون ایف کا ڈیکلریشن عدالت ہی دے
سکتی ہے، شواہد کا جائزہ لیے بغیر کسی کو
بد دیانت یا بے ایمان نہیں کہا جا سکتا۔
چیف
جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ عدالتی ڈیکلریشن کا مطلب ہے شواہد ریکارڈ کیے
جائیں۔ سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں آرٹیکل 62 ون ایف کے اطلاق کا معیار مقرر کر چکی
ہے۔
انھوں
نے کہا کہ فیصل واوڈا نے امریکی شہریت کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد چھوڑی ہے۔
اس
موقع پر فیصل واووڈا کی دوہری شہریت کے تحت نااہلی کی استدعا کرتے ہوئے ان کے وکیل
نے کہا کہ دوہری شہریت پر آرٹیکل 63 ون سی کا اطلاق ہوتا ہے۔ دوہری شہریت پر رکن
صرف ڈی سیٹ ہوتا ہے تاحیات نااہل نہیں۔
عدالت
کی فیصل واوڈا کے وکیل کو الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سے متعلق مزید تیاری کی
ہدایت کر دی۔