زیادہ دیر نہیں ہے اس لیے سب میری کال کا انتظار کریں: عمران خان
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ٹیکسلا میں ایک جلسے سے خطاب میں کہا ہے کہ میں پوری تیاری کر رہا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں ان (حکومت) کی پلاننگ کے حساب سے تیاری کر رہا ہوں اور پھر ایک دم کال دوں گا۔ زیادہ دیر نہیں ہے اس لیے سب میری کال کا انتظار کریں۔ ‘
لائیو کوریج
بریکنگ, ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 240 روپے پر پہنچ گیا, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان
میں بدھ کے روز ایک ڈالر کی قیمت 240 روپے کی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ
گئی۔
28
جولائی 2022 کو ایک ڈالر کی قیمت 239.94 کی بلند ترین سطح پر پہنچی تھی جس کے بعد
ڈالر کی قیمت میں کمی کا رجحان دیکھا گیا تھا اور ایک ڈالر کی قیمت 213 کی سطح تک
گر گئی تھی۔
بدھ
کے روز کاروبار کے آغاز پر ڈالر کی قیمت میں 1.09 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ موجودہ
حکومت کے دور میں اب تک ڈالر کی قیمت میں 57.07 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
گذشتہ
حکومت کے ساڑھے تین سال میں ڈالر کی قیمت 58.08 بڑھی تھی۔
بریکنگ, عمران خان اس وقت کسی کا لاڈلہ نہیں، ماضی میں حمایت کرنے والے کانوں کو ہاتھ لگا رہے ہیں: رانا ثنا اللہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے سابق وزیر اعظم عمران خان پر
تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت کسی کے لاڈلے نہیں ہیں کیونکہ ان جیسا ناخلف اور
انتشار پھیلانے والا شخص کیسے کسی کا لاڈلہ ہو سکتا ہے۔
عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے متعلق ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ
عمران خان اتنے نامعقول انسان ہیں کہ نہ ان کے ساتھ کوئی بیٹھ سکتا ہے، نہ کوئی
بات کر سکتا ہے اور نہ ان کے ساتھ مذاکرات ہو سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ماضی میں جن لوگوں نے ان کی حمایت کی تھی اب وہ بھی کانوں کو
ہاتھ لگا رہے ہیں۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ عمران خان ایک شر کا نام ہے جس سے کوئی محفوظ نہیں
ہے۔ انھوں نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر قوم نے ان کا ادراک نہ کیا تو
وہ ملک و قوم کو بہت نقصان پہنچائیں گے، انھوں نے ہٹلر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
کہ ’عمران خان ایک ایسا پاگل انسان ہے جیسا جرمنی میں پیدا ہوا تھا اور اگلے 50
سال اس قوم نے غلامی کاٹی تھی۔ اگر عمران خان کا ادراک نہ کیا گیا تو یہ ملک و قوم
کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائیں گے۔‘
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان نے قوم میں تفریق پیدا کی اور نوجوان
نسل کو بدتمیزی سکھائی ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
توشہ خانہ ریفرنس سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں اور انھوں نے غیر اخلاقی حرکت کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئی دوست ممالک سے ملنے والے تحائف کو بازار میں بیچتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے توشہ خانہ کے معاملے میں 25، 26 کروڑ کا فراڈ کیا ہے۔
انھوں نے سابق عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کے لیے ملنے والی فنڈنگ میں بھی اسی قسم کی حرکات کی ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے اس قوم کا 50 ارب روپیہ بحریہ ٹاؤن کو جرمانے کی مد میں دے کر ڈبویا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قانونی پیچیدگیوں کا سہارا لے کر یہ توشہ خانے کیس میں بچنے کی کوشش کر رہے ہیں جیسے انھوں نے توہین عدالت کی ہے اور اب شاید معافی مانگ کر بچ جائیں گے۔
بریکنگ, پی ٹی آئی پریڈ گراؤنڈ یا ایف نائن میں احتجاج کرے، اگر ڈی چوک کی ضد کی تو ردعمل کے لیے تیار رہیں: رانا ثنا اللہ
،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے اگر ڈی
چوک آنے کی ضد کی تو ان کے لیے سخت ’دھونی‘ تیار ہے۔
اسلام آباد میں انسانی سمگلنگ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں شرکت کے بعد صحافیوں
سے بات کرتے ہوئے ایک سوال پر رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو احتجاج
کا آئینی حق حاصل ہے اور وہ اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ یا ایف نائن پارک میں
احتجاج کر سکتے ہیں جو ان کے لیے سپریم کورٹ نے مختص کی تھی لیکن اگر پی ٹی آئی نے
ڈی چوک میں آنے کی کوشش کی تو انھیں سخت دھونی دی جائے گی۔
صوبوں سے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو آنے دینے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا
کہ جو صوبے ملک کے دارالحکومت پر چڑھائی کرنے والے مارچ کی حمایت کریں گے وہ آئین
کی خلاف ورزی کریں گے، وہ صوبائی حکومتیں اس کی خلاف ورزی کریں گی تو ان کے خلاف
کارروائی کا ایک آئینی اختیار وفاقی حکومت حاصل ہے اور اس پر میں وفاقی کابینہ کو
ان حکومتوں کے خلاف آئینی کارروائی کی تجاویز پیش کروں گا اور ان کے خلاف کارروائی
عمل میں لائی جائے گی۔
بریکنگ, اسلام آباد کا ریڈ زون کسانوں کے احتجاج کے پیش نظر سیل کیا: وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے ریڈ
زون کو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی ’دھمکی‘ کے باعث نہیں بلکہ کسان اتحاد کونسل کے
احتجاج کے پیش نظر سیل کیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں انسانی سمگلنگ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں شرکت کے بعد صحافیوں
سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا اسلام آباد کے ریڈ زون کے راستوں کو پی ٹی آئی کے
ممکنہ لانگ مارچ کے پیش نظر بند نہیں کیا گیا بلکہ یہ کسان اتحاد کونسل کے اسلام
آباد احتجاج کے لیے آنے کے پیش نظر بند کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہیں گے کہ احتجاج کرنے والے ہمارے کسان بھائیوں کو کسی
اچھی جگہ فراہم کی جائے جہاں ہم ان کو عزت، پانی اور کھانا دیں گے اور وہ جس جس سے
بات کرنا چاہتے ہیں کوشش کریں گے ان کی ملاقات بھی کروائی جائے لیکن ڈی چوک آنا
مناسب نہیں ہو گا اور وہ ڈی چوک آنے کی ضد نہ کریں۔
بریکنگ, لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن کے توہین عدالت نوٹس کو معطل کر دیا, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے پاکساتن تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان
اورمرکزی رہنما فواد چوہدری کو توہین
عدالت کے معاملے میں الیکشن کمیشن کی طرف سے ملنے والے شوکاز نوٹس معطل کر دئیے ہیں۔
عدالت نے الیکشن کمیشن کو سابق وزیر اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی رہنما فواد
چوہدری کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے روکتے ہوئے 29 ستمبر کو جواب طلب کر لیا
ہے۔
سابق وزیر اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کی شوکاز نوٹسز کے
خلاف سماعتلاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے
جج، جسٹس جواد الحسن نے کی۔
سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم کے وکیل فیصل فرید کا موقف تھا کے الیکشن کمیشن
انتظامی باڈی کمیشن ہے، عدالت نہیں ہے اور وہ توہین عدالت کے اختیار نہیں رکھتا۔
انھوں نے کہا کہ انتقامی طور پر یہ نوٹس جاری کئے جارہے ہیں، اسسٹنٹ اٹارنی
جنرل ساجد تنولی نے اس کی مخالفت کی۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ریمارکس دیےکہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے جس میں آئنی نکتہ
اٹھایا گیا ہے۔
عدالت نے کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اس معاملے پر تین رکنی لارجر بینچ
بنا چکے ہیں اور 29 ستمبر کو یہ لارجر بینچ ان آئنی درخواستوں کی سماعت کرے گا۔
یہ لارجر بینچ جسٹس صداقت علی خان، جسٹس جواد الحسن اور جسٹس مرزا وقاص رؤف پر
مشتمل ہو گا جو 29 ستمبر کو اس کیس کی سماعت کرے گا۔
توہین عدالت کیس میں عمران خان کی پیشی، اسلام آباد ہائیکورٹ کا ضابطہ اخلاق جاری, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین عدالت کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی
جمعرات کو عدالت پیشی سے متعلق ضابطہ اخلاق جاری کردیا ہے۔
جاری سرکلر کے مطابق لارجر بنچ 22 ستمبر کو دن ڈھائی بجے کیس کی سماعت کرے گا،
کمرۂ عدالت نمبر ایک میں انٹری رجسٹرار آفس کے جاری کردہ پاس سے مشروط ہو گی۔
ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی لیگل ٹیم کے 15 وکلا، اٹارنی جنرل
آفس اور ایڈوکیٹ جنرل آفس سے 15 لا افسران، تین عدالتی معاونین، 15کورٹ رپورٹرز کو
کمرۂ عدالت میں موجودگی کی اجازت ہو گی۔
سرکلر میں یہ بھی بتایا گیا کہ ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ بار کے پانچ پانچ وکلا کو کمرۂ
عدالت میں داخلے کی اجازت ہو گی۔
کمرۂ عدالت میں آنے والوں کے اسلام آباد ہائی کورٹ کا رجسٹرار آفس پاس جاری
کرے گا، کورٹ ڈیکورم کو برقرار رکھنے کے لیے اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس سیکورٹی
انتظامات کرے۔
سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اشتہاری قرار دینے کیخلاف درخواست واپس لے لی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار
نے سپریم کورٹ کو اشتہاری قرار دینے کے خلاف درخواست واپس لے لی ہے۔
بدھ کو سپریم کورٹ نے
اسحاق ڈار کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر اسے خارج کر دیا ہے۔
درخواست
خارج ہونے سے اسحاق ڈار کو اشتہاری اور مفرور قرار دینے کا فیصلہ برقرار ہے۔
بدھ
کو اس درخواست پر سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الحسن کی سر براہی میں تین رکنی بنچ نے
سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر اسحاق ڈار کے
وکحل سلمان بٹ عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت سے درخواست واپس لینے کی استدعا کرتے
ہوئے موقف اختیار کیا کہ اس سلسلے میں متعلقہ فورم سے رجوع کرنا چاہتے ہیں۔
یاد رہے کہ اثاثہ جات ریفرنس میں مسلسل غیر حاضری پر عدالت نے اسحاق ڈار کو اشتہاری اور مفرور قرار دیا تھا، اسحاق ڈار نے عدالتی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
سپریم کورٹ نے 2013 کی اسمبلی سے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کی درخواستیں خارج کر دی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان
کی سپریم کورٹ نے سنہ 2013 کی اسمبلی سے پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کے استعفوں
کی منظوری سے متعلق درخواستیں خارج کر دی
عدالت
اعظمیٰ نے معاملہ غیر موثر ہونے پر درخواستیں خارج کیں۔
مسلم
لیگ ن کے سابق رہنما ظفر علی شاہ اور وحید کمال نے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کے
استعفوں کی منظوری کے لیے 2015 میں درخواستیں دائر کیں تھیں۔
مقدمے
کی سماعت کے دوران وکیل پی ٹی آئی حامد خان نے عدالت کو بتایا کہ ارکان اسمبلی کے استعفوں
کا معاملہ 2013 کی اسمبلی سے متعلق ہے اور سنہ 2013 کی اسمبلی کی معیاد 2018 میں
ختم ہو چکی ہے۔
جس
پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تو پھر یہ معاملہ غیر موثر ہوگیا۔
سپریم
کورٹ نے استعفوں کی منظوری کی درخواستیں غیر موثر ہونے پر خارج کر دی ہیں۔
’اسلام آباد ریڈزون پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی دھمکی کے باعث سیل کیا‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی
دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس کا کہنا ہے کہ ریڈ زون کو پاکستان تحریک انصاف کی
طرف سے ممکنہ لانگ مارچ اور دھرنا دینے کے باعث سیل کیا گیا ہے۔
بی
بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس کے ترجمان کا
کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے لانگ مارچ کی دھمکی کی وجہ سے ریڈ زون
کو سیل کیا گیا ہے۔
جب
ان سے پوچھا گیا کہ کیا کسی اور جماعت کی طرف سے احتجاج کی کال دی گئی ہے تو
ترجمان کا کہنا تھا کہ کسی اور جماعت کی طرف سے احتجاج کی کال دینے کا انھیں معلوم
نہیں ہے۔
بریکنگ, اسلام آباد کے ریڈ زون میں سیکورٹی سخت، کنٹینرز لگا کر رکاوٹیں کھڑی کر دیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی ایک سیاسی جماعت کے اپنے مطالبات کے حق میں ممکنہ لانگ مارچ اور مظاہرے کے پیش نظر اسلام آباد کے ریڈ زون میں
سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے اور ریڈ زون کے مختلف خارجی و داخلی راستوں پر کنیٹرینرز
لگا دیے گئے ہیں۔
اسلام آباد پولیس نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’کل کچھ
لوگوں نے اپنے سیاسی مطالبات منوانے کے لیے پنجاب سے وفاق کا رخ کیا ہوا ہے۔ کسی
بھی ممکنہ لا اینڈ آرڈر صورتحال سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد کیپیٹل پولیس نے ریڈ
زون کی سکیورٹی بڑھا دی ہے۔‘
ٹویٹ میں مزید کہا گیا کہ ریڈ زون کے داخلی و خارجی راستوں پر پولیس کی اضافی
نفری تعینات کردی گئی ہے۔ ریڈزون میں واقع
دفاتر و تعلیمی اداروں میں جانے والے شہریوں سے گذارش ہے کہ کسی بھی دشواری
سےبچنے کے لئے وقت سے پہلے نکلیں۔
ٹریفک کی روانی کوبرقرار رکھنے کے لیے جلد ٹریفک پلان بھی جاری کردیا جائے گا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید کہتے ہیں کہ ’پیٹرول کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ۔ اس حکومت کا ہر گزرتا گھنٹہ اس قوم پر انتہائی بھاری ثابت ہو رہا ہے۔
’جلد نگران حکومت نہ آئی اور الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہ ہوا تو حالات قابو سے باہر ہونے کا خطرہ ہے۔‘
اب تک کی اہم خبریں
وزیر دفاع خواجہ آصف نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے قبل از وقت اعلان کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کسی ’نئی ریت کی مخالفت کرنی چاہیے‘
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا الزام ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف کی ’سزا یافتہ نواز شریف سے مشاورت آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی اور حلف سے انحراف ہے‘
ترجمان اسلام آباد پولیس نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ کسی بھی ممکنہ لا اینڈ آرڈر صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریڈ زون کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے
وزارت خزانہ نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب کو پیٹرول کی قیمت میں 1.45 روپے کے اضافے کا اعلان کیا ہے
نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے قبل از وقت اعلان کی مخالفت کرنی چاہیے: خواجہ آصف
،تصویر کا ذریعہReuters
وزیر دفاع خواجہ آصف نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے قبل از وقت اعلان کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کسی ’نئی ریت کی مخالفت کرنی چاہیے۔‘
جیو نیوز پر اینکر شاہزیب خانزادہ سے گفتگو کے دوران قبل از وقت تعیناتی کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’میں اس سے اتفاق نہیں کرتا کیونکہ سیاسی وجوہات کی بنا کر اس تعیناتی کے نظام کو بدلنا نہیں چاہیے، اس سے نئی ریت پڑ جائے گی۔ اس کی مخالفت کرنی چاہیے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’فوج کا تقدس برقرار رکھنے کے لیے سیاسی ضرورتوں کے تحت اس کا پہلے اعلان نہیں کیا جانا چاہیے۔۔۔ پاکستان کو کسی ڈیفالٹ کا خدشہ نہیں ہے۔‘
خواجہ آصف نے کہا کہ ’ہمیں یہ تعیناتی سیاسی حالات کی غیر یقینی کے تابع نہیں کرنی چاہیے۔ یہ ایک نئی ریت پڑ جائے گی۔ ابھی دو ماہ باقی ہیں۔‘
انھوں نے کہا ہے کہ ’عمران خان ہی یہ ساری باتیں کر رہے ہیں، ہم نہیں کر رہے۔ 29 نومبر کو یہ تعیناتی ہونی ہے۔ پورا اکتوبر باقی ہے اور ستمبر کے 10 دن باقی ہیں۔ یہ ڈسپریشن صرف عمران خان کو ہے۔ جس ادارے کا چیف تعینات ہونا ہے نہ اسے کوئی پریشانی ہے نہ ہمیں۔
’یہ اتحادی حکومت کا فیصلہ ہوگا اور جب بھی یہ پراسس شروع ہوتا ہے، ہوسکتا ہے اکتوبر کے اواخر یا نومبر کے اوائل میں ہو، تو اس وقت یہ فیصلہ کر لیا جائے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ عمران خان دباؤ میں ہیں اور اگر ’اس مسئلے پر وہ اسلام آباد آ کر بیٹھیں گے تو اس سے بڑی ملک دشمنی نہیں ہوسکتی۔‘
وزیر دفاع نے واضح کیا کہ ’آرمی چیف کا پاکستانی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور اس بار کی تعیناتی کا بھی سیاست سے تعلق نہیں ہوگا۔ ہماری کوئی سیاسی امیدیں وابستہ ہوئیں تو ہم بھی بے وقوفی کریں گے۔ ایسی امیدیں فوج کے ادارے یا چیف سے وابستہ کرنا بنیادی طور پر غلط ہے اور قانون سے انحراف ہے۔‘
’تعیناتی کے لیے چار سے پانچ ناموں میں کوئی فرق نہیں ہوتا، ان کا سیاست سے کیا تعلق ہے۔ یہ ذہن میں بٹھا کر بیٹھے ہیں کہ وہ کوئی ایسا بندہ تعینات کر دیں گے۔۔۔ یہ امیدیں (ماضی میں) خام خیالی ثابت ہوئی۔‘
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ جنرل راحیل شریف کی سبکدوشی اور جنرل باجوہ کی تعیناتی کی مرتبہ نواز شریف نے کہا تھا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ یہ تبدیلی طریقہ کار کے تحت ہو۔‘
ان کا خیال ہے کہ ’نواز شریف کی واپسی سے پاکستان کی سیاست میں ٹھہراؤ آئے گا۔‘
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔
آپ یہاں ملک بھر میں سیاسی سرگرمیوں کی تازہ ترین صورتحال سے متعلق خبریں پڑھ سکتے ہیں۔
21 ستمبر سے قبل کی سیاسی خبروں کو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔