سپریم کورٹ میں قومی اسمبلی سے مرحلہ وار استعفوں کی منظوری کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں واپسی کا مشورہ دیا ہے۔
جمعرات کو سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے پی ٹی آئی کو مرحلہ وار استعفوں کی منظوری کے خلاف کیس تیار کرنے کا ایک اور موقع دے دیا۔
چیف جسٹس نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ ’عوام نے پانچ سال کیلئے منتخب کیا ہے، پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کرے۔ پارلیمان میں کردار ادا کرنا ہی اصل فریضہ ہے۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’جسٹس اطہر من اللہ نے گہرائی سے قانون کا جائزہ لیکر فیصلہ دیا ہے۔‘
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’سپیکر قومی اسمبلی کے کام میں اس قسم کی مداخلت عدالت کیلئے کافی مشکل کام ہے۔‘
سپریم کورٹ بنچ نے کہا کہ ’عدالت کو مطمئن کریں کہ ہائیکورٹ کے حکم میں کیا کمی ہے۔‘
چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ ’پی ٹی آئی کو اندازہ ہے 123 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے کیا اخراجات ہونگے۔‘
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’ریاست کے معاملات میں وضع داری اور برداشت سے چلنا پڑتا ہے۔‘
بنچ میں شامل جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ تحریک انصاف بطور جماعت کیسے عدالت آ سکتی ہے؟ انھوں نے ریمارکس دیے کہ استعفیٰ دینا ارکان کا انفرادی عمل ہوتا ہے۔
جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کا مدعا بس یہ ہے اسپیکر کا طریقہ آپ کو پسند نہیں آ رہا۔ سپیکر کو اپنا اختیار استعمال کرنے سے عدالت کیسے روک دے؟‘
جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ ’قاسم سوری نے ایک پیراگراف میں 123 استعفوں کی منظوری کا لکھ دیا۔
یہ ایک غلط مثال قائم ہو رہی ہے، آج آپ کو یہ ٹھیک لگ رہا ہو گا لیکن کل اسی کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔‘
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استعفوں سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’جلد بازی نہ کریں، سوچنے کا ایک اور موقع دے رہے ہیں اور پارٹی سے ہدایات لیں‘ جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔