زیادہ دیر نہیں ہے اس لیے سب میری کال کا انتظار کریں: عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ٹیکسلا میں ایک جلسے سے خطاب میں کہا ہے کہ میں پوری تیاری کر رہا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں ان (حکومت) کی پلاننگ کے حساب سے تیاری کر رہا ہوں اور پھر ایک دم کال دوں گا۔ زیادہ دیر نہیں ہے اس لیے سب میری کال کا انتظار کریں۔ ‘

لائیو کوریج

  1. بہت جلد نواز شریف آئیں گے، اپنی پارٹی اور ملک کو بھی سنبھالیں گے: مریم نواز

    مریم نواز نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد اور پاکستان کے تین بار سابق وزیراعظم نواز شریف بہت جلد وطن واپس آئیں گے۔

    ان کے مطابق نواز شریف واپس آ کر اپنی پارٹی اور ملک کو بھی سنبھالیں گے۔

  2. ’آڈیو لیکس عمران خان اور ان کے کوچ کی کارستانی ہے‘: مریم نواز

    Maryam

    ،تصویر کا ذریعہAAjTV

    پریس کانفرنس میں آڈیو لیکس سے متعلق ایک صحافی کے سوال کے جواب میں مریم نوام شریف نے کہا ہے کہ ’یہ عمران ااور اس کے کوچ کے کارستانی ہے‘۔

    انھوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ کوئی ہیکر نہیں ہے، کوئی ڈارک ویب پیج نہیں ہے، یہ سب انہی کی کارستانی ہے۔

    جب صحافی نے پوچھا کہ وہ کوچ کون ہے تو اس کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ یہ آپ بھی سب جانتے ہیں۔

  3. میں نے وفاقی کابینہ کو بتایا کہ عمران خان کو گرفتار کیا جائے: وزیرداخلہ رانا ثنااللہ

    Rana

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    وزیرداخلہ رانا ثناللہ نے کہا ہے کہ میں نے وفاقی کابینہ کو بتایا کہ عمران خان کو بغاوت کے مقدمے میں گرفتار کیا جائے۔ ان کے مطابق عمران خان گرفتاری سے اتنے ڈرتے ہیں کہ وہ 25 مئی والے دن پشاور چلے گئے۔ وزیرداخلہ کے مطابق ہماری اتحادی حکومت ہے۔

    رانا ثناللہ نے کہا کابینہ نے اس معاملے پر ذیلی کمیٹی بنا دی۔ ان کے مطابق آپ کو پتا ہے کہ پھر ایسے میں معاملہ تاخیر کا شکار ہوجاتا ہے۔

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز کابینہ نے اس بارے میں فیصلہ کیا ہے کہ اس معاملے کو پارلیمنٹ میں بھی اٹھایا جائے گا۔وزیرداخلہ نے کہا مجھے امید ہے کہ پارلیمنٹ عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 کا مقدمہ قائم کرنے کا فیصلہ کرے گی۔

  4. مجھے اپنی حکومت سے یہ شکوہ ہے کہ عمران خان ابھی تک سلاخوں کے پیچھے کیوں نہیں ہیں: مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ انھیں اپنی حکومت سے یہ گلہ اور شکوہ ہے کہ جس شخص کو سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے تھا ایسا شخص آج بھی آزاد اور کھلا پھر رہا ہے۔ انھوں نے کہا ان تک قانون کے ہاتھ کیوں نہیں پہنچ رہے۔

    انھوں نے کہا کہ جو قانون کے ہاتھ ان (عمران خان) کے گریبان تک پہنچنے چاہیے تھے وہ نہیں پہنچے۔

    انھوں نے کہا عمران خان کے خلاف جھوٹے مقدمے نہیں بلکہ جو انھوں نے کیا ہے اس جرم کی بنیاد پر مقدمات قائم کیے جانے چائیں۔

  5. رانا صاحب بنی گالا پر بھی ریڈ ہونا چاہیے: مریم نواز کی وزیرداخلہ کو تجویز

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے سنیچر کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیسے امریکن نے ٹرمپ کے گھر پر چھاپہ مار کر دستاویزات برآمد کی ہیں بالکل اس طرح ’رانا صاحب بنی گالا پر بھی ریڈ ہونا چاہیے‘ تا کہ پتا چلے کہ اصل خط کیا تھا۔

  6. عمران خان کھلاڑی ہو کر کبھی جنرل پاشا اور کبھی جنرل ظہیرالاسلام صاحب سے کھیلتے ہیں: مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ عمران خان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی جنرل پاشا، کبھی ظہیرالاسلام صاحب، کبھی عوام کے مینڈیٹ کے ساتھ کھیلتے ہیں اور کبھی آر ٹی ایس بٹھا کر عوام کے ساتھ اور کبھی ملک کی معیشت کے ساتھ کھیلتے ہیں۔

    مریم نواز نے کہا کہ یہ ایسا ہی جیسے بیگم صاحبہ (عمران خان کی اہلیہ) نے کہا تھا کہ ارسلان بیٹا اسے سازش اور غداری میں چھپا دو۔

    مریم نواز نے عمران خان سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے جعل سازی کی، آپ نے سائفر کو بدلا۔

    ان کے مطابق سائفر کی اوریجنل کاپی دفتر خارجہ میں پڑی ہوئی ہے۔ اس کی کاپی وزیراعظم ہاؤس سے غائب ہے۔ آپ سائفر کی کاپی بھی ساتھ لے کر چلے گئے۔

    انھوں نے سابق وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ عوام سے معافی مانگیں جن کے سامنے آپ نے جھوٹا خط لہرایا۔

  7. وزیراعطم نے بتایا کہ سائفر کے بعد کوئی ملک اب خط لکھنے کو تیار نہیں ہے: مریم نواز

    Maryam

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی آڈیو سن کر لگا کہ کتنا بڑا کھیل پاکستان کے ساتھ کھیلا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ابھی ہم لوگ وزیراعظم شہباز شریف کے گھر سے آ رہے ہیں اور انھوں نے بتایا کہ اب جس طرح سائفر کے معاملے کو اچھالا گیا ہے تو اب صورتحال یہ ہے کہ کوئی ملک پاکستان سے بات کرنے کو تیار نہیں ہے اور کوئی سفیر خط لکھنے کو تیار نہیں ہے کہ کہیں اسے سائفر کی طرح نہ استعمال کیا جائے۔

    مریم نواز نے کہا کہ وزیراعظم نے کہا کوئی ملک پاکستان سے بات کرنے پر تیار نہیں، وہ اب پاکستان سے بات کرتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان نے پاکستان کی سالمیت، سکیورٹی، جمہوری نظام، سفارتی تعلقات اور فارن پالیسی کے خلاف سازش کی ہے۔

    مریم نواز نے کہا کہ یہ ایک ٹمپرنگ ہوئی ہے۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ چپکے سے یہ جو سائفر ہے اسے استعمال کریں عوام کو کیا پتا چلتا ہے۔

    ان کے مطابق وہ اسد عمر کو اتنا کریڈٹ دیتی ہوں کہ انھوں نے کہا تھا کہ یہ سائفر ہے خط نہیں ہے۔

  8. منٹس موجود ہیں، سائفر موجود نہیں ہے: اسحاق ڈار

    ishaq dar

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے لاہور میں مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں منٹس موجود ہیں، سائفر موجود نہیں ہے۔ یہ دستاویز وزیراعظم ہاؤس کی پراپرٹی ہے۔

    ان کے مطابق کابینہ نے بڑے غور سے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے۔

    ان کے مطابق اب سب معاملہ کھل گیا ہے اور یہ ثابت ہو گیا ہے سازش اپوزیشن نہیں بلکہ انھوں نے کی تھی، اس کی معافی نہیں ہوسکتی، اور اگر ہم اس کو منطقی انجام تک نہیں لے کر گئے تو اپنے آئین سے غداری کریں گے۔

    ان کے مطابق کسی ملک میں نیشنل سکیورٹی بریچ کی اجازت نہیں ہے۔

    سازش انھوں نے کی تھی، اور اللہ تعالیٰ نے پوری سازش کا تانہ بانہ کھول کر رکھ دیا ہے۔

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ثبوت ہمارے سامنے ہے، کیا ہم سیاسی مصلحت کے تحت اس کو ہاتھ نہ لگائیں، یہ نہیں ہو سکتا، ہم اپنے حلف نامے، اپنی قومی اور آئینی ذمہ داری میں ناکام ہوں گے اگر ہم مناسب کارروائی نہیں کرتے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ اس حوالے سے قومی سلامتی کا تفصیلی اجلاس بھی ہوچکا ہے، جس میں سول ملٹری لیڈرشپ اکٹھی بیٹھتی ہے، اس حوالے سے کابینہ کا اجلاس بھی ہو چکا ہے، یہ ایسی چیز ہے جس کو آپ نظر انداز نہیں کرسکتے، یہ کس نے کیا، کونسی سیاسی جماعت تھی، اس کو چھوڑ دیتے ہیں۔

    اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ فیصلہ یہی ہے کہ قومی ذمہ داری جو آئین اور قانون دیتا ہے، جو آئین، قانون اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں ہے، اس کی روشنی میں اس کو آگے لے کر جایا جائے گا۔

  9. تحریک انصاف کا سپریم کورٹ سے آڈیو لیکس کی تحقیقات کا مطالبہ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان تحریکِ انصاف نے استعفوں سے متعلق آڈیو لیک پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔

    یہ درخواست پی ٹی آئی نے متفرق استعفوں سے متعلق زیر التوا مقدمے میں دائر کی ہے۔

    وزیراعظم اور وفاقی وزرا کی پی ٹی آئی سے متعلق آڈیو لیکس کا ٹرانسکرپٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا گیا ہے۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیراعظم اور وفاقی وزرا نے سپیکر کے ساتھ مل کر پی ٹی آئی استعفوں سے متعلق فوج داری سازش کی، وزیراعظم اور وفاقی وزرا نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی لہذا پی ٹی آئی استعفوں سے متعلق آڈیو لیک کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ تحقیقاتی کمیشن وزیراعظم، رانا ثنا اللہ، اعظم نذیر تارڑ،، خواجہ آصف اور سپیکر سے تحقیات کرے اور اس سازش کے الزام میں تمام فریقین کے خلاف فوج داری کارروائی شروع کی جائے۔

  10. سات دنوں کے اندر اندر لانگ مارچ کی حتمی کال دیں گے، فواد چوہدری

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ہم سات دنوں کے اندر لانگ مارچ کی حتمی کال دیں گے اور اس کی تفصیلات 7-8 اکتوبر تک مل جائیں گی۔

    نجی چینل ہر گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ لانگ مارچ کا وقت آ گیا ہے، اگر پاکستان کے لوگ اب بھی باہر نہیں نکلے تو ہم برما یا تھائی لینڈ کے ماڈل پر چلے جائیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ اب اسمبلیوں میں واپس جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے لہذا یہ تجویز مسترد کر دی گئی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

  11. پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 12 روپے سے زائد کی کمی کا اعلان

    وفاقی حکومت نے گذشتہ روز رات گئے تمام پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وزیراعظم شہباز شریف سے مشاورت کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں نئی قیمتوں کا اعلان کیا۔

    وزارتِِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 12 روپے 63 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 237.43 سے کم ہو کر 224.80 ہو گئی ہے۔

    ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 12 روپے 13 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔ جس کے بعد اس کی نئی قیمت 235.30 روپے ہو گئی ہے۔

    مٹی کے تیل کی قیمت 10 روپے 19 پیسے فی لیٹر کم کی گئی ہے جس کے بعد نئی قیمت 191.83 روپے ہو گئی ہے۔

    لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 10 روپے 78 پیسے فی لیٹر کم کر کے 197.28 روپے سے کم کر کے 186.50 روپے کر دی گئی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  12. بریکنگ, آڈیو لیکس: ’ ڈپلومیٹک سائفر کی کاپی وزیراعظم ہاﺅس کے ریکارڈ سے غائب ہے۔‘

    وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت کابینہ کے اجلاس میں ڈپلومیٹک سائفر سے متعلق آڈیوز کی تحقیقات کے لیے کابینہ کی خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ سائفر کی کاپی وزیراعظم ہاؤس کے ریکارڈ سے غائب ہے۔

    وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت جمعہ کو کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں آڈیوز لیکس کے معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا۔

    اجلاس نے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی (این-ایس-سی) کی طرف سے اس معاملہ کی مکمل تحقیق کرنے کے فیصلے کی تائید کی۔ تاہم اس امر پہ شدید تشویش کااظہار کیا کہ ڈپلومیٹک سائفر سے متعلق سابق وزیراعظم، سابق پرنسپل سیکریٹری ٹو وزیراعظم اور دیگر افراد کی یکے بعد دیگرے سامنے آنے والی آڈیوز نے سابق حکومت اورعمران خان کی مجرمانہ سازش بے نقاب کردی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ `ایک ڈپلومیٹک’سائفر‘ کو من گھڑت معنی دے کر سیاسی مفادات کی خاطر کلیدی قومی مفادات کا قتل کیا گیا اور ’فراڈ، جعلسازی،’فیبریکیشن ‘ کے بعد اسے چوری کرلیا گیا۔ یہ آئینی حلف، دیگر متعلقہ قوانین، ضابطوں خاص طور پر ’آفیشل سیکرٹ ایکٹ‘ کی سنگین خلاف ورزی ہے۔‘

    مزید کہا گیا ہے کہ `یہ ریاست کے خلاف نا قابل معافی جرائم کا ارتکاب ہے جس کے ذریعے کلیدی ریاستی مفادات پر سیاسی مفادات کو فوقیت دی گئی۔ لہذا آئین، قانون اور ضابطوں کے تحت لازم ہے کہ اس سارے معاملے کی باریک بینی سے چھان بین کی جائے اور ذمہ داروں کا واضح تعین کرکے انہیں قانون کے مطابق کڑی سزا دی جائے۔

    ڈپلومیٹک سائفر کے معاملے پر کابینہ کو بریفنگ دی گئی جس میں یہ انکشاف ہواکہ متعلقہ ڈپلومیٹک سائفر کی کاپی وزیراعظم ہاﺅس کے ریکارڈ سے غائب ہے۔‘

    اجلاس کو بتایا گیا کہ `سابق وزیراعظم کو بھجوائے جانے والے اس سائفر کی وزیراعظم ہاﺅس میں وصولی کا اگرچہ ریکارڈ میں اندراج موجود ہے لیکن اس کی کاپی ریکارڈ میں موجود نہیں۔ قانون کے مطابق یہ کاپی وزیراعظم ہاﺅس کی ملکیت ہوتی ہے۔

    اجلاس نے قرار دیا کہ `ڈپلومیٹک سائفر کی ریکارڈ سے چوری سنگین معاملہ ہے۔ کابینہ نے تفصیلی مشاورت کے بعد کابینہ کی خصوصی کمیٹی تشکیل دی جو تمام ملوث کرداروں سابق وزیراعظم، سابق پرنسپل سیکریٹری ٹو پرائم منسٹر، سینئر وزرا کے خلاف قانونی کارروائی کا تعین کرے گی۔‘

    کابینہ کمیٹی میں حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے نمائندوں کے علاوہ خارجہ، داخلہ و قانون کی وزارتوں کے وزرا شامل ہوں گے۔

    کابینہ کے اجلاس نے وزیراطلاعات ونشریات محترمہ مریم اورنگزیب کو لندن میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے ہراساں کرنے، ڈرانے دھمکانے، سربازار بدکلامی، بدتہذیبی کانشانہ بنانے اور ہجوم کی صورت میں گھیراﺅ اورپیچھا کرنے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔ ا

    اس کے علاوہ وفاقی کابینہ نے وزارتِ قانون و انصاف کی سفارش پر ریکوڈک کے حوالے سے وفاقی حکومت اور بلوچستان حکومت کے ریکوڈک منصوبے کی تعمیر کے بارے سپریم کورٹ کے گزشتہ فیصلے کے حوالے سے وزیراعظم کی سفارش پر صدرِ پاکستان کی طرف سے وضاحتی ریفرنس دائر کرنے کی بھی منظوری دی۔

  13. بریکنگ, ججز کی عدم تقرری پر جسٹس فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھا ہے جس میں انھوں نے سپریم کورٹ میں ججز کی کمی اور بڑھتے کیسز کی تعداد پر خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کہیں سپریم کورٹ غیر فعال نہ ہو جائے۔

    اپنے خط میں انھوں نے لکھا کہ ججز تقرری کی سفارش کرنے والا جوڈیشل کمیشن نو ارکان پر مشتمل ہے۔ سپریم کورٹ چیف جسٹس اور سولہ ججز ہر مشتمل ہوتی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ عوام سپریم کورٹ پر بھاری رقم خرچ کرتی ہے۔ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے کہ سپریم کورٹ 30 فیصد کم کپسٹی پر کیوں چل رہی ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا کہ سپریم کورٹ 700 کے سٹاف پریس مشتمل ہے۔

    خط میں بتایا گیا ہے کہ جسٹس قاضی آمین کی ریٹائرمنٹ کو187 جسٹس گلزار کی ریٹائرمنٹ کو 239 جسٹس مقبول باقر 177، جسٹس مظہر عالم کی ریٹائرمنٹ کو77 اور جسٹس سجاد علی کو 46 دن گزر گئے ہیں۔

  14. ہفتہ وار مہنگائی میں 30.62 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں سالانہ بنیاد پر ہفتہ وار مہنگائی میں 30.62 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    یہ اضافہ 29 ستمبر 2022 کو ختم ہونے والے ہفتے کا گذشتہ سال کے اسی ہفتے کے مقابلے میں ریکارڈ کیا گیا ہے جب کہ زیرِ جائزہ ہفتے سے ایک ہفتے قبل کے مقابلے میں مہنگائی کی شرح میں 0.94 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔

    زیرِ جائزہ ہفتے میں سب سے زیادہ اضافہ ٹماٹر اور پیاز کی قیمت میں ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ چنے کی دال، دال مسور، خوردنی تیل، گھی، دال مسور، دال مونگ، ڈیزل، پٹرول اور واشنگ سوپ کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔

    زیرِ جائزہ ہفتے کے دوران چینی، مرچ اور بجلی کے نرخ میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

  15. ’پلیز کسی کے منھ سے امریکہ کا نام نہ نکلے‘: عمران خان کی سائفر سے متعلق مبینہ آڈیو منظر عام پر

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہTwitter

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کی ایک اور مبینہ آڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ امریکی مراسلے کے تناظر میں سینیئر پارٹی رہنماؤں سے گفتگو کرتے سُنائی دیتے ہیں۔

    اس مبینہ گفتگو میں عمران خان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو ایک میٹنگ بلانے کی ہدایت دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ’فارن سیکریٹری کو ہم نے کہنا ہے کہ وہ لیٹر پر چپ کر کے کمنٹس لکھ دے۔‘

    وہ اس میٹنگ میں موجود شرکا کو بتاتے ہیں کہ ’اعظم خان (سیکریٹری) کہہ رہا ہے کہ اس کے منٹس بنا لیتے ہیں، اسے فوٹو سٹیٹ کروا کر رکھ لیتے ہیں۔‘ اس دوران مبینہ طور پر اعظم خان بتاتے ہیں کہ ’یہ سائفر 8، 9 کو آیا۔ 8 کو آیا۔‘

    اس پر عمران خان کہتے ہیں ’لیکن یہ میٹنگ تو 7 کو ہوئی۔ ہم نے تو امیرکنز کا نام لینا ہی نہیں ہے، کسی صورت۔ کسی صورت بھی۔ مگر ایشو یہ ہے کہ پلیز کسی کے منھ سے ملک کا نام نہ نکلے۔ یہ بہت اہم آپ سب کے لیے۔ کسی کے منھ سے نام نہ نکلے۔ میں کسی کے منھ سے اس ملک کا نام نہیں سننا چاہتا۔‘

    اس موقع پر اسد عمر کی آواز آتی ہے کہ ’آپ جان کر لیٹر کہہ رہے ہیں۔ یہ لیٹر نہیں میٹنگ کی ٹرانسکرپٹ ہے۔ اس پر عمران خان کہتے ہیں کہ ’وہی نہ میٹنگ کی ٹرانسکرپٹ ہے۔ ٹرانسکپرٹ یا لیٹر ایک ہی چیز ہے۔ لوگوں کو ٹرانسکرپٹ کی سمجھ نہیں آنی تھی۔ آپ پبلک جلسے میں ایسے ہی کہتے ہیں۔‘

    یاد رہے کہ دو روز قبل سابق وزیر اعظم کی اس سلسلے میں ایک اور آڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ ’اچھا اب ہم نے صرف کھیلنا ہے، نام نہیں لینا امریکہ کا۔۔۔ بس صرف کھیلنا ہے اس کے اُوپر کہ یہ تاریخ پہلے سے تھی۔‘

    یہ آڈیو سامنے آنے کے بعد عمران خان نے الزام عائد کیا تھا کہ اس آڈیو کو ریلیز کرنے کے پیچھے وزیر اعظم شہباز شریف ہیں۔ بعدازاں صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ابھی تو وہ اس معاملے پر کھیلے ہی نہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اب یہ (ن لیگ) ایکسپوز کریں گے تو کھیلیں گے اس کے اوپر۔‘

    خیال رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کو ایک بڑے جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے جیب سے ایک خط نکال کر لہراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بیرونِ ملک سے ان کی حکومت گرانے کی سازش ہو رہی ہے اور انھیں ’لکھ کر دھمکی دی گئی ہے۔‘

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے خلاف آنے والی تحریکِ عدم اعتماد کا تعلق بھی اسی ’دھمکی آمیز خط‘ سے ہے۔

  16. دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے مقدمے میں عمران خان کی ضمانت منظور

    اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے کے مقدمے میں ضمانت منظور کر لی ہے۔ اس سے قبل سابق وزیراعظم اس مقدمے میں عبوری ضانت پر تھے۔

  17. ’آپ گواہ رہنا کہ میں جج زیبا چوہدری سے معذرت کرنے آیا‘ عمران خان کا جج زیبا چوہدری کے ریڈر سے مکالمہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان ایڈشنل سیشن جج زیبا چوہدری سے معافی مانگنے ان کی عدالت گئے تاہم وہ عدالت میں موجود نہیں تھیں۔ عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے عدالتی عملے کو عمران خان کے آنے کی وجہ بتانا شروع کی تو خود عمران خان عدالتی عملے سے مخاطب ہوئے اور کہا کہ ’میڈم زیبا کو بتانا کہ عمران خان آیا تھا، معذرت کرنا چاہتا تھا، ان کے الفاظ سے اگر کوئی دل آزاری ہوئی ہے تو۔ عدالت سے واپس جاتے ہوئے ایک بار پھر عمران خان نے عملے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ضرور بتا دینا‘۔

    عمران خان کی اس پیشی کو عدالت کے اندر بھی میڈیا کے کیمروں نے فلمبند کر دیا۔

  18. ڈالر کی قیمت میں 1.88 روپے کی کمی ، 228 روپے کی سطح سے نیچے آگیا, تنویر ملک ، صحافی

    Dollar

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں اضافے کا رجحان جمعے کے روز بھی جاری ہے جب کاروبار کے آغاز کے پہلے ایک گھنٹے میں ڈالر کی قیمت میں 1.88 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    اس وقت انٹر بنک میں ڈالر 227.75 کی قیمت پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔ گذشتہ چھ کاروباری دنوں میں ڈالر کی قیمت میں اب تک ساڑھے دس روپے سے زائد کی کمی دیکھی گئی ہے۔

    کرنسی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق قیاس آرائیوں کی بنیاد پر ڈالر کی قیمت میں جو اضافہ کیا گیا تھا وہ اسحاق ڈار کی وزیر خزانہ کے طور پر واپسی کے بعد ختم ہوئی ہیں اور اب روپیہ اپنی کھوئی قدر واپس حاصل کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا اس کے ساتھ درآمدات ادائیگی کے لیے بھی دباؤ میں کمی آئی ہے جس نے روپے کو مضبوط کیا۔

  19. کسان اتحاد احتجاج: مظاہرین کی ڈی چوک جانے کی کوشش، پولیس نے مذاکرات سے روک دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    کسان اتحاد احتجاج میں شریک مظاہرین کی ڈی چوک کی طرف جانے کی کوشش تو پولیس نے مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کیے اور انھیں واپس خیابان چوک لے آئے۔

    مظاہرین نے اپنے منتظمین سے کھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ مظاہرین کو پرامن رکھنے کے لیے تمام تر کوششیں کی جارہی ہیں۔

  20. سابق وزیر اعظم عمران خان کی عبوری ضمانت پر سماعت آج, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    IK

    ،تصویر کا ذریعہImran Khan

    اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے مقدمے پر سماعت آج ہو گی۔ اس مقدمے میں عمران خان کو عبوری ضمانت ملی تھی۔ ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال عمران خان کی عبوری ضمانت کی سماعت کریں گے۔

    گذشتہ سماعت پر عمران خان پیش نہیں ہوئے تھے اور عدالت نے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کی تھی۔