پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے کا الرٹ

پاکستان کے صوبے پنجاب کے تین دریاؤں میں سیلاب کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر مخصوص علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا کہا گیا ہے۔ تحریک انصاف رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت سیلاب زدگان کے لیے جمع کردہ فنڈز کے استعمال کے لیے ایک مشترکہ منصوبہ بندی کی خواہش مند تھی۔

لائیو کوریج

  1. کوٹری بیراج سے اونچے درجے کا سیلاب گزرنے کے پیش نظر حکام الرٹ

    کوٹری بیراج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حکام کا کہنا ہے کہ سندھ میں کوٹری بیراج سے آج اونچے درجے کا سیلابی ریلا گزرے گا جس کے بعد یہ دریائے سندھ کی ڈیلٹا ڈاؤن سٹریم سے ہوتے ہوئے بحیرۂ عرب سے جا ملے گا۔

    یہاں پانی کا بہاؤ قریب پانچ لاکھ کیوسکس ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز یہ بہاؤ اپنے عروج پر ہوگا۔

    اخبار ڈان سے بات کرتے ہوئے کوٹری بیراج کے چیف انجینیئر نے بتایا کہ 25 اگست کو اونچے درجے کا سیلاب سکھر بیراج سے گزرا تھا۔ انھوں نے اس امکان کا اظہار کیا کہ کوٹری بیراج سے سیلابی ریلا محفوظ طریقے سے گزرے گا۔

    محکمہ آب پاشی کے مطابق کوٹری بیراج کے تمام پشتے محفوظ ہیں اور عملہ الرٹ ہے۔ ’سیلابی ریلا ساڑھے پانچ اور چھ لاکھ کیوسک کے درمیان ہوگا۔‘

  2. گڈو، سکھر اور کوٹری بیرج کے مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب

    گڈو، سکھر، کوٹری

    ،تصویر کا ذریعہPunjab PDMA

    پی ڈی ایم اے کے مطابق اس وقت سندھ میں گڈو، سکھر اور کوٹری بیرج کے مقامات سے اونچے درجے کا سیلاب گزر رہا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. سیلاب سے ملک بھر میں بجلی کے 406 فیڈرز متاثر، انڈس ہائی وے کے بعض حصے تاحال زیرِ آب

    وزیراعظم شہباز شریف کو بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں بجلی کے وہ تمام 406 متاثرہ فیڈرز اگلے 24 گھنٹوں میں بحال ہو جائیں گے جہاں سے سیلابی پانی اتر چکا ہے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق جمعے کو وزیراعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں سیلاب کی تباہ کاریوں اور امداد و بحالی کی موجودہ صورت حال پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ وزیر اعظم کو متاثرہ علاقوں میں تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی، خاص طور پر بجلی، پٹرول اور مواصلات کے نظام کی بحالی پرتفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    سیکریٹری وزارت بجلی نے وزیر اعظم کو بتایا کہ ان کی ہدایت کے عین مطابق وزارت کے تمام افسران فیلڈ میں موجود ہیں اور سیلاب کی وجہ سے بجلی کی فراہمی میں آنے والے تعطل کو بحال کرنے کی کاوشوں کی ذاتی طور پر نگرانی کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں سات کے علاوہ بجلی کے وہ تمام 406 متاثرہ فیڈرز اگلے 24 گھنٹوں میں بحال ہو جائیں گے جہاں سے سیلابی پانی اتر چکا ہے۔

    ان فیڈرز میں 04 پنجاب، 22 خیبرپختونخواہ، 90 سندھ اور 290 بلوچستان میں واقع ہیں۔ چیئرمین این ایچ اے نے وزیر اعظم کو بتایا کہ انڈس ہائی وے این۔55 کے بعض علاقے جہاں ابھی تک سیلابی پانی کھڑا ہے کے سوا تمام بڑی شاہراہیں جن میں این ۔5 جی ٹی روڈ اور این-65 سکھر تا کوئٹہ روڈ شامل ہیں ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہیں۔

    وزیر اعظم کو مزید بتایا گیا کہ این ایچ اے کی ٹیمیں فیلڈ میں موجود ہیں اور بارشوں اور سیلابی پانی کی وجہ سے سڑکوں پر پڑے شگاف پر کام تیزی سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    چیئرمین پی ٹی اے نے وزیر اعظم کو بتایا کہ ملک کی تمام 51,733 موبائل کمیونیکیشن سائٹس میں سے صرف 648 سائٹس سیلابی پانی کے کھڑا ہونے کی وجہ سے اب تک بحال نہیں ہو سکیں، جو ’اگلے 24 گھنٹوں میں بحال ہو جائیں گی۔‘

  4. سیلاب ڈائری: سندھ میں کشتی چلانے والوں کا چمکتا ہوا کاروبار اور خیر پور ناتھن شاہ کے لاوارث کتے

  5. پاکستان میں آنے والے سیلابوں کا ماحولیاتی تبدیلی سے کیا تعلق ہے

  6. سیربین: سیاحت پر گزارا کرنے والے سیلاب کے بعد کہاں جائیں؟

  7. بلوچستان کا دوسرے صوبوں سے زمینی رابطہ دو ہفتے بعد بھی منقطع

    بلوچستان کا تین اہم شاہراہوں کے ذریعے دوسرے صوبوں سے رابطہ دو ہفتے سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود بحال نہیں ہو سکا ہے۔

    اسسٹنٹ کمشنر شیرانی مہتاب خان کے مطابق ژوب دانہ سر روڈ کے ذریعے بلوچستان کا خیبرپختونخوا سے رابطہ تاحال بحال نہیں ہو سکا ہے۔

    خیال رہے کہ ژوب دانہ سر روڈ سے بلوچستان کا خیبر پختونخوا سے رابطہ دو ہفتے سے زائد کے عرصے سے منقطع ہے۔

    پنجاب کی طرف سے پل ٹوٹنے سے فورٹ منرو کے راستے بلوچستان کا پنجاب سے رابطہ دوبارہ منقطع ہوا ہے۔

    بولان کے راستے شاہراہ کو نقصان کی وجہ سے سندھ اور بلوچستان کا زمینی رابطہ تاحال بحال نہیں ہو سکا اسی طرح سندھ اور بلوچستان کے درمیان خضدار رتو ڈیرو روڈ پر بھی تاحال ٹریفک بحال نہیں ہو سکی۔

    تاہم کوئٹہ اور کراچی کے درمیان ٹریفک کی آمدورفت گذشتہ روز بحال ہوئی۔ شاہراہوں کی بندش کے باعث آمد و رفت میں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

  8. بلوچستان میں سیلاب: ’اتنی مشکلوں سے اس عمر میں گھر بنایا تھا، اب کچھ نہیں بچا‘

  9. بریکنگ, سندھ میں مزید 39 افراد ہلاک، صوبے میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 470 ہو گئی

    report

    ،تصویر کا ذریعہPDMA Sindh

    پاکستان کے صوبہ سنددھ کے آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں کم سے کم 39 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    ادارے کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق ضلع جامشورو میں سب سے زیادہ 12 جبکہ سکھر میں 10 افراد ہلاک ہوئے۔ اسی طرح لاڑکانہ میں 8 اور دادو میں 6 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    سندھ میں اب تک کل 470 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 8314 زخمی ہوئے ہیں جس میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔

  10. وزیر اعظم شہباز شریف کا دورہ ہنزہ، ششپر گلیشیئر کے سیلاب متاثرین میں امدادی چیک تقسیم

    sheeshpar

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے جمعہ کو گلگت اور غذر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورہ کے موقع پر گلگت میں شیشپر گلیشیئر ہنزہ کے سیلاب متاثرین میں امدادی چیک تقسیم کیے۔

    وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق گلگت ایئر پورٹ پر منعقدہ تقریب میں وزیر اعظم نے شیشپر گلیشیئر کے سیلاب سے متاثرہ نو افراد میں فی کس آٹھ لاکھ روپے اور ایسے چھ متاثرین جن کے مکانات کو جزوی نقصانات پہنچے میں فی کس پانچ لاکھ روپے مالیت کے چیک تقسیم کیے ہیں۔

  11. حکومت پنجاب کی جانب سے متاثرین سیلاب کی خیمہ بستیوں کے پاس ہینڈ پمپس کی تنصیب

    جنوبی پنجاب میں آب پاک اتھارٹی کی جانب سے سیلاب متاثرین لیے پینے کے پانی کی سہولت مہا کی گئی ہے۔

    پنجاب حکومت کے منسٹر ہاوسنگ میاں اسلم اقبال کی ہدایات پر ہینڈ پمپس لگائے جا رہے ہیں۔

    الٹرا فلٹریشن ہینڈ پمپس سیلاب متاثرین کی خیمہ بستیوں کے پاس نصب کیے گئے ہیں۔

    چیف ایگزیکٹو آفیسر سید زاہد عزیز کا کہنا ہے کہ الٹرا فلٹریشن ٹریٹمنٹ کے ذریعے سیلابی پانی کو پینے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آب پاک اتھارٹی کا عملہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے متحرک ہے۔

    ان کے مطابق متاثرین کی بڑی تعداد پینے کے پانی کی سہولت سے مستفید ہو رہی ہےاور آب پاک اتھارٹی ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔

  12. سیلاب کے باعث متاثر ہونے والے 18 ہزار سکولوں میں سے 15 ہزار سے زیادہ سندھ میں ہیں: بلاول بھٹو

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. سیلاب سے سندھ اور بلوچستان کے صوبے سب سے زیادہ متاثر ہوئے: احسن اقبال

    ahsan

    ،تصویر کا ذریعہCourtesy APP

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ سیلاب سے سندھ اور بلوچستان کے صوبے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’غیرمعمولی بارشیں جانی و مالی نقصان کا باعث بنیں، حکومتی بروقت اقدامات سے جانی نقصان کی شدت پر قابو پایا گیا ہے۔‘

    ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعے کو فلڈ ریلیف سنٹر این ڈی ایم اے میں ترکی کے وزیر داخلہ کو بریفننگ دیتے ہوئے کیا۔

    احسن اقبال نے کہا کہ ’اس وقت پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت متاثرین کی آبادکاری اور انفراسٹرکچر کی بحالی کی ہے۔ اس موقع پر ترکی کی جانب سے آبادکاری اور غذائی اجناس فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی۔‘

  14. بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں بیس فیصد سے زائد کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں اگست 2022 میں پٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں 22 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    پٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں بڑی کمی کی وجہ ملک میں بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے بھاری ٹریفک کی کم نقل و حرکت اور زرعی شعبے میں سرگرمیوں میں کمی ہے۔

    اگست میں پٹرول کی فروخت چھ لاکھ چالیس ہزار ٹن اور ڈیزل کی فروخت پانچ لاکھ ٹن رہی تیل شعبے کی نمائندہ تنظیم آئل کپمینز ایڈوائزری کونسل کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اگست کے مہینے میں پٹرول کی فروخت میں 13 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ ڈیزل کی فروخت میں 26 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    تیل شعبے کے ماہرین کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں کمی کی بڑی وجہ ملک میں بارشیں اور سیلاب ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک کی نقل و حرکت کافی کمی ہوئی ہے۔

    اس کے ساتھ سندھ اور بلوچستان میں زرعی شعبے میں سرگرمیوں کے رکنے سے بھی ان کی فروخت میں کمی دیکھی گئی ہے تیل شعبے کی تنظیم کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے بھی ان کی فروخت کو متاثر کیا ہے۔

    تیل پر چلنے والے بجلی کارخانوں کی جانب سے بھی کم بجلی پیدا کی گئی ہے جس نے پٹرولیم مصنوعات میں کمی پیدا کی ہے سب سے زیادہ کمی پاکستان سٹیٹ آئل کی فروخت میں دیکھی گئی اسی طرح شیل اور اٹک پٹرولیم کی پٹرولیم مصنوعات میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔

  15. تونسہ بیراج پر درمیانے درجے کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے

    تونسہ بیراج پر درمیانے درجے کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے۔

    پنجاب کے دریاؤں اور بیراجوں میں پانی کے ان اور آوٹ فلو کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق گڈو اور سکھر بیراج میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہورہی ہے، دادو، بدین، کندھ کوٹ اور ٹھٹھہ کے سینکڑوں دیہات تا حال زیر آب ہیں، لوگ کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

    کوٹری کے مقام پر دریائے سندھ اور نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

    محکمہ موسمیات کےمطابق آج سندھ کے ساحلی علاقوں بالائی خیبرپختونخوا، شمالی پنجاب، گلگت بلتستان اور کشمیر میں گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش کا امکان ہے۔

    PAK FLOOD

    ،تصویر کا ذریعہPDMA PUNJAB

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب میں محصور 1991 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1991 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جو سیلاب کی وجہ سے محصور تھے۔

    بتایا گیا ہے کہ 162.6 ٹن راشن متاثرین میں تقسیم کیا گیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اب تک 50 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

    اس وقت 147 ریلیف کیمپ سندھ، جنوبی پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا میں 24 گھنٹے کام کر رہے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 60 ہزار مریضوں کو طبّی امداد دی جا چکی ہے۔

    یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 1350 ٹن خوراک اور ادویات پر مشتمل سامان سیلاب زدگان کی مدد کے لیے جمع کیا گیا ہے۔

  17. ’میں نے سیلاب کے پانی میں سے 15 لاشیں نکالیں‘

  18. `پاکستان کا قرض فوری طور پر ملتوی کریں‘

    برطانوی رکنِ پارلیمان کلاڈیا ویبی نے اپنی ایک ٹوئٹ میں مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان سے عالمی قرض کو فوری طور پر کینسل کرنا چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں مہنگائی کی شرح بلند ترین ہے جس کا تناسب 27 فیصد ہے۔

    انھوں نے تجویز دی کہ قرض واپس لینے کے بجائے موسمیاتی بحران کی وجہ سے پاکستان کی مدد کی جائے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. خیبرپختونخوا میں پی ڈی ایم اے نے 85 کروڑ کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے شریف حسین نے بتایا کہ ادارے نے مجموعی طور پر مختلف اضلاع کے انتظامیہ کو جولائی سے اب تک 85 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہر ضلع خصوصاً زیادہ متاثرہ علاقوں کے لیے ٹینٹ، فوم، غیر غذائی اشیا اور دیگر فوری ضرورت کا سامان ہنگامی بنیادوں پر مہیا کر دیا گیا ہے۔

    جمعے کو جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے شریف حسین نے کہا کہ ` یکم جولائی سے اب تک متاثرہ اضلاع میں 8650 ٹینٹس بھیجے گئے ہیں۔ 6850 ترپال شیٹ، 2800 کمبل اور 2500 پلاسٹک میٹس بھی تقسیم کیے گئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں 8550 میٹریس، 2550 کچن سیٹ اور 2000 ہائجین کٹس بھی بھیجی گئیں ہیں۔ نکاسی آب کے لیے41 ڈی واٹر نگ پمپس بھی متاثرہ علاقوں کو بھیجے جا چکے ہیں۔ ‘

    پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ جیسے ہی ہنگامی صورتحال ختم ہو جا تی ہے تو نقصانات کے معاوضے کا عمل شروع کیا جا ئے گا۔

    صوبے بھر میں سیلاب متاثرین کے لیے 159 ریلیف کیمپس قائم کئے گئے ہیں۔ ضلع نوشہرہ میں77 کیمپس قائم ہیں۔ ان میں مقیم افراد کو خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں۔ ڈی آئی خان ڈویژن میں 11 کیمپس قائم ییں جس میں 25000 افراد کو بنیادی ضروریات مہیا کی جارہی ہیں جبکہ چارسدہ میں ضلعی انتظامیہ نے 17 ریلیف کیمپس قائم کردیئے اور دیر اپر میں سات، ملاکنڈاور مانسہرہ میں دو دو کیمپس قائم ہیں۔‘

    پی ڈی ایم اے نے اس سلسلے میں واٹس ایپ کا اجرابھی کیا ہے سیلاب زدگان سے متعلق معلومات حصولی کے لیے واٹس ایپ نمبر03164261700 کا اجرا اور ٹول فری نمبر1700 کا مکمل فعال ہے۔

  20. بریکنگ, پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا سروے پانچ ستمبر سے شروع ہو گا: پی ڈی ایم اے

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے، پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ 05 ستمبرسے سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں کا سروے شروع کیا جائے گا۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق اس سروے میں پی ڈی ایم اے، پاک فوج، اربن یونٹ، ضلعی انتظامیہ اور دیگر ادارے شامل ہوں گی۔

    حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ ہر دیہات اور بستی کا سیٹلائٹ کے ذریعے جوائنٹ سروے بھی کیا جائے گا۔

    `پی ڈی ایم اے حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق ڈیجیٹل طریقہ کار سے صاف شفاف سروے کے عمل کو جلد یقینی بنایا جائے گا۔`

    اب تک دی ۔یی امادا کے بارے میں ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ 74,487 گھرانوں میں راشن تقسیم کیا گیا ہے اور سیلاب سے متاثرہ 34,728 گھرانوں میں خیمے تقسیم کی گیے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں 184 فلڈ ریلیف کیمپس قائم کیے گئے تھے،64 ریلیف کیمپس ابھی آپریشنل ہیں۔

    ۔پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن میں 758 ریسکیورز اور 278 کشتیوں نے حصہ لیا۔