پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے کا الرٹ
پاکستان کے صوبے پنجاب کے تین دریاؤں میں سیلاب کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر مخصوص علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا کہا گیا ہے۔ تحریک انصاف رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت سیلاب زدگان کے لیے جمع کردہ فنڈز کے استعمال کے لیے ایک مشترکہ منصوبہ بندی کی خواہش مند تھی۔
لائیو کوریج
کالام سے سیاحوں کی منتقلی کا آپریشن مکمل، ریلیف اور بحالی کے کاموں میں تیزی لانے کی ہدایت
مقامی انتظامیہ کے مطابق پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا کے علاقے کالام سے سیاحوں کی منتقلی کا آپریشن مکمل ہو گیا ہے۔
خیال رہے کہ صوبائی ہیلی سروس کے ذریعے کالام سے سیاحوں کی منتقلی کا آپریشن شروع کیا گیا تھا۔ کمشنر ملاکنڈ ڈویژن شوکت علی یوسفزئی کے مطابق ریلیف اور بحالی کے کاموں میں تیزی لائی جا رہی ہے۔
صوبائی حکام اور انتظامیہ کے مطابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کے احکامات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ اور پاکستانی فوج کی مشترکہ حکمت عملی سے تمام سیاح بحفاظت سیدو شریف منتقل کر د یے گئے ہیں جبکہ کمراٹ میں پھنسے سیاحوں کونکالنے کا عمل پہلے ہی مکمل کر لیا گیا تھا۔
ریسکیو کا عمل مکمل ہونے پر کمشنر ملاکنڈ نے ضلعی انتظامیہ کو ریلیف اور بحالی کے کاموں میں تیزی لانے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام ڈپٹی کمشنرز اپنے اپنے اضلاع میں دور درازعلاقوں کو فوقیت دیں۔ شوکت علی یوسفزئی نے دور افتادہ علاقوں میں میڈیکل و ریلیف کاروا ئیاں یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔
پشاور میں سیلاب متاثرین کے لیے گائنی فری میڈیکل کیمپ کا قیام
پشاور میں انتظامیہ کی طرف سے سیلاب متاثرین کے لیے بی ایچ یو دلہ زاک گائنی فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں لیڈی گائناکالوجسٹ ڈاکٹر خواتین کا فری علاج کر رہی ہیں اور اس کے ساتھ فری الٹراساؤنڈ سروس بھی دی جا رہی ہے۔
گائنی فری میڈیکل کیمپ میں پہلے روز 351 خواتین کا علاج کیا گیا اور ان کو فری ادویات اور الٹراساؤنڈ سروس فراہم کی گئیں۔ ڈپٹی کمشنر پشاور شفیع اللہ خان کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر عزا ارشد اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ارم کی نگرانی میں یہ کیمپ قائم کیا گیا ہے۔
ڈی آئی خان: سیلاب سے متاثرہ تین تحصیلوں میں پہلے مرحلے پر نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے شروع
حکومت پنجاب کی ہدایت پر قدرتی آفات سے نمنٹے والے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے نے پہلے مرحلے میں ضلع ڈیرہ غازی خان کی تین تحصیلوں میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کا سروے شروع کر دیا ہے۔
تفصیلاتکے مطابق 15 روز میں سروے کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
۔ڈائریکٹر جنرل پراونشینل ڈائزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب فیصل فرید نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب کی ہدایت پر پہلے مرحلے میں ضلع ڈیرہ غازی خان کی تین تحصیلوں کوٹ چھٹہ، تونسہ اور تحصیل ڈی جی خان کے سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں میں سروے شروع کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ڈی جی خان کی تینوں تحصیلوں کے 254 موضع جات میں 34 ٹیمیں نے سروے کے عمل میں حصہ لے رہی ہیں اور 15 یوم میں تینوں تحصیلوں میں سروے کے عمل کو مکمل کیا جائے گا۔
انھوں نے بتایا کہ نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے اربن یونٹ کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔
ڈیجٹل گردواری، موضع ڈیش بورڈ کے ذریعے بھی نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ صاف اور شفاف سروے کو یقینی بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جائے گا۔
ڈیرہ غازی خان میں ضلع، تحصیل اور پٹورار سرکل کی سطح پر سروے کیمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔
ضلعی سطح پر اے ڈی سی آر متعلقہ کیمٹیوں کے فوکل پرسن ہوں گے اور
ضلعی سطح پر تباہ حال مکانات/فصلوں کے سروے کیمٹی کے سربراہ بھی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز، ایس ڈی او بلڈنگ، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت، ایکسئین بلڈنگ، ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ سروے کمیٹی کے ممبران ہیں۔
تحصیل سطح پر فصلوں کے نقصانات کے سروے میں کیمٹی متعلقہ اسسٹ کمشنر، اے ڈی زراعت، اے ڈی لوکل گورنمنٹ، تحصیلدار اور ریونیو افسر پر مشتمل ہے۔
تحصیل سطح کے مکانات سروے کیمٹی میں اسسٹنٹ کمشنرز، ایس ڈی او بلڈنگ،
اے ڈی لوکل گورنمنٹ، تحصیلدار اور ریونیو عملہ پر مشتمل ہے۔
متعلقہ پٹواری، فیلڈ اسسٹنٹ اور سیکریٹری لوکل گورنمنٹ بھی متعلقہ کیمٹیوں کو معاونت فراہم کریں گے۔
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اداروں کی جانب سے اب تک 75,552 سیلاب میں پھنسے افراد کو ریسکیو کیا ہے۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 184 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے، اس وقت بھی مختلف مقامات پر 45 ریلیف کیمپس آپریشنل ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد کو تین وقت کے کھانے، علاج معالجے سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور اب تک پی ڈی ایم اے کی جانب سے 38,883 گھرانوں میں خیمہ جات تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
ٹیلی تھون سے جمع رقوم میں سے سیلاب متاثرین میں ایک بلین روپے تقسیم کیے جائیں گے: عمران خان
،تصویر کا ذریعہPTI
جہاں ایک طرف وزیراعظم شہباز شریف وزیرخارجہ کے ہمراہ آج سکھر میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کا جائزہ لے رہے تھے وہیں سابق وزیراعظم عمران خان بھی پیر کے روز سکھر پہنچے اور امدادی پیکج کا اعلان بھی کیا۔
عمران خان نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ میری اپنی ٹیم کے ساتھ ملاقات ہوئی ہے اور اب میں ایک حکمت عملی بنا رہا ہوں کہ سندھ میں سیلاب متاثرین کی کیسے مدد یقینی بنائی جائے۔
ان کے مطابق ہم نے ٹیلی تھون سے جو رقوم جمع کی ہیں ان میں سے ایک ارب روپے سے سیلاب متاثرین کی مدد کے فریضے کا آغاز کر رہے ہیں۔
عمران خان نے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے پیسے دینے کے لیے شکریہ بھی ادا کیا۔ انھوں نے ملک کے اندر موجود اور بیرون ملک پاکستانیوں کو سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے اپنا حصہ دینے کی ترغیب بھی دی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
منچھر جھیل میں نہ چاہتے ہوئے بھی کٹ لگایا، پانچ یونین کونسلز متاثر ہوئیں: شرجیل میمن
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے سیلاب سے زیادہ متاثرہ صوبے سندھ کے ایک وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے سندھ حکومت اپنی حیثیت سے بڑھ کر کام کر رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ حیدر آباد شہر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی منچھر جھیل میں کٹ لگانا پڑا جس سے پانچ یونین کونسل متاثر ہوئی ہیں۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 24 ہلاکتیں، ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1314 ہو گئی
،تصویر کا ذریعہgettyimages
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ (این ڈی ایم اے) کے مطابق سیلاب کے باعث گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مزید 24 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
سب سے زیادہ ہلاکتیں سندھ میں ہوئیں جہاں 19 افراد ہلاک ہوئے۔ خیبرپختونخوا میں تین جبکہ بلوچستان اور پنجاب میں ایک، ایک ہلاکتیں ہوئی۔
مرنے والوں میں 5 بچے شامل ہیں جن میں سے 4 سندھ اور ایک بلوچستان میں ہلاک ہوئے۔
سیلاب سے گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 115 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اب تک 14 جون کے بعد سے ملک بھر میں سیلابی ریلوں اور اس سے ہونے والے نقصانات کے باعث مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 1314 ہو چکی ہے جبکہ ملک بھر میں 12703 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
مرنے والوں میں 458 بچے، 262 خواتین اور 585 مرد شامل ہیں۔
زخمیوں میں 3975 بچے، 3396 خواتین اور 5332 مرد شامل ہیں۔
این ڈی ایم سے کے مطابق سیلاب سے اب تک 1682726 مکانات جزوی یا مکمل تباہ ہو چکے ہیں۔
246 پل سیلابی ریلوں کی نذر ہو چکے ہیں جبکہ 5735 کلو میٹر سڑکیں تباہ ہوئی ہیں۔
این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں سیلاب سے 750405 مویشی مارے گئے ہیں۔
ہمیں عالمی عالمی ماحولیاتی تغیرات کے تباہ کن اثرات سمجھنے کی ضرورت ہے، عمران خان
سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ چونکہ پاکستان سیلاب کی تباہ کاریوں کی زد میں ہے چنانچہ ہمارے لوگوں کو عالمی ماحولیاتی تغیرات کہ جن کے نتیجے میں خشک سالی سر اٹھاتی ہے تو کبھی سیلاب آتے ہیں، کے تباہ کن اثرات کو سمجھنا ہو گا۔
انھوں نے ٹویٹرپر لکھا کہ لازم ہے کہ ہم جنگلات، ذخائرِآب، بیراجز اور گندے پانی کی صفائی کے منصوبوں کے ذریعے اپنے ماحول میں نمایاں تبدیلیاں لائیں۔
انھوں نے لکھا کہ راوی سٹی میں راوی اربن ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے زہریلے پانی کو حیاتِ آب کے لیے موزوں پانی میں تبدیل کرنے کے کامیاب تجربات کیے۔ پانی کی صفائی کے یہ منصوبے میونسپل سطح پر راوی کو تازہ پانی کے حامل دریا میں بدلنے کے حوالے سے اپنی نوعیت کا پہلا نظام ہے۔
انھوں نے مزید لکھا کہ اس کے ساتھ وہ تین بیراجز جو راوی اربن ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کا حصہ ہیں، پانی بچائیں گے اور زیرِ زمین پانی کے تیزی سے کم ہوتے ذخائر کو پھر سے بھریں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بلوچستان میں سیلاب: ’صبح سے شام تک ہیلی کاپٹروں کے پیچھے بھاگتا ہوں کہ شاید راشن مل جائے‘
سندھ میں بارشوں اور سیلاب سے لائیو سٹاک کے شعبے کو دس ارب روپے کا نقصان، 30 ہزار مویشی ہلاک, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سندھ میں سیلاب کی وجہ سے اب تک لائیو سٹاک کے شعبے میں دس ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل لائیو سٹاک سندھ کی جانب 31 اگست 2022 تک جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق لائیو سٹاک کے شعبے میں تیس ہزار جانوروں کی ہلاکت کے علاوہ 13 ہزار باڑے جزوی اور چھ ہزار باڑے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
ادارے کے مطابق یہ نقصانات کا ابتدائی تخمینہ ہے اور اس شعبے میں نقصان میں اضافے کا مزید اندیشہ ہے۔
تیس ہزار مویشیوں کی ہلاکت سے تین ارب روپے اور باڑوں کی تباہی سے سات ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔
سندھ کے تقریباً تمام اضلاع میں بارشوں اور سیلاب سے یہ شعبہ متاثر ہوا ہے۔
سندھ میں مویشیوں کی ہلاکت اور باڑوں کی تباہی کے حوالے سے سب سے زیادہ نقصان لاڑکانہ میں ہوا ہے۔
یو این ایچ سی آر کی جانب سے انسانی امداد لے کر دو طیارے کراچی پہنچ گئے
،تصویر کا ذریعہUNHCR
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزینوں کی جانب سے انسانی امداد لے کر آنے والی چار شیڈول پروازوں میں سے دو آج جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پاکستان پہنچیں۔
ان دونوں پروازوں کا استقبال قونصل جنرل یو اے ای بخیت عتیق الرمیتھی اور یو این ایچ سی آر کے نمائندے بابر بلوچ نے کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے ریلیف اور بحالی رسول بخش چانڈیو اور وزارت خزانہ، این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کے نمائندے نے یو این ایچ سی آر کی طرف سے انسانی امداد کا خیرمقدم کیا۔
،تصویر کا ذریعہUNHCR
خیر پور ناتھن شاہ: وہ شہر جو اب جھیل جیسا دکھائی دیتا ہے
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد علاقوں میں گندم اور آٹے کی قلت, محمد کاظم، کوئٹہ
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد دیگر علاقوں میں گندم اورآٹے کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔
آٹے کی قلت کے باعث نہ صرف اس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے بلکہ یوٹیلٹی سٹورز پر بھی دستیاب نہیں ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے گندم اور آٹے کی قلت اور زائد نرخوں پر فروخت کا نوٹس لیتے ہوئے آٹے کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاﺅن کا حکم دیا ہے۔
ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیراعلیٰ نے محکمہ خوراک کو صورتحال کی بہتری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے محکمہ خوراک کو ضلعی انتظامیہ کے اشتراک سے گندم اور آٹے کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا حکم دیتے ہوئے ماہ ستمبر کے کوٹے کی گندم فوری طور پر آٹاملوں کو جاری کی جائے۔
وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ گندم اور آٹے پر عائد بین الصوبائی پابندی کے خاتمے کے لیے دیگر صوبوں سے بات کی جائے۔
ملک بھر میں سیلاب سے 1314 اموات اور چھ لاکھ سے زیادہ لوگ ریلیف کیمپوں میں: این ڈی ایم اے
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے کے 4 ستمبر کے اعداد و شمار کے مطابق 14 جون سے اب تک ملک بھر میں سیلاب سے 1314 اموات ہوئی ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 12 ہزار 703 ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں 24 اموات ہوئیں جن میں سب سے زیادہ سندھ میں 19 ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں دو لاکھ 47 ہزار سے زیادہ گھروں کو نقصان پہنچا۔ اسی دوران 13 ہزار سے زائد مویشی سیلابی پانی کی نظر ہوگئے ہیں اور دو لاکھ سے زیادہ گھر و عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق مجموعی طور پر اب تک 5735 کلومیٹر طویل سڑکیں، 246 پُل، 173 دکانیں، 16 لاکھ سے زیادہ گھر و عمارتیں اور ساڑھے سات لاکھ سے زیادہ مویشی متاثر ہوئے ہیں۔
ملک میں 631,824 افراد ریلیف کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
سندھ اور بلوچستان کے وزرائے اعلی کا مل کر سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور بحالی جیسے چیلنج سے نمٹنے کا عزم
وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیراعلئ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو سے رابطہ کیا اور دونوں وزرائے اعلی نے سندھ اور بلوچستان میں سیلابی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
بات چیت میں دونوں وزرائے اعلی نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور عوام کی بحالی جیسے چیلنج سے مل کر نمٹنے کے عزم کا اظہار کیا۔
وزیراعلی میر عبدالقدوس بزنجو نے بلوچستان کی جانب سے بند توڑ کر سیلابی پانی کا رخ سندھ کی جانب موڑنے کے الزام کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے کی پیشکش کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر سیلابی پانی کا رخ سندھ کی جانب موڑنے کا الزام صیح ثابت ہوا تو ذمہ داران کے خلاف سخت کارrوائی کی جائے گی۔
وزیراعلی بلوچستان کا کہنا تھا کہ ہم اس مشکل وقت میں سندھ کے مسائل میں اضافہ نہیں بلکہ ان کا ہاتھ بٹانا چاہتے ہیں۔
وزیراعلی سندھ نے نیک جذبات اور خواہشات کے اظہار پر وزیراعلی بلوچستان کا شکریہ ادا کیا۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گیس کی فراہمی بحال ہو گئی, محمد کاظم، کوئٹہ
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گیس کی فراہمی بحال ہو گئی ہے۔
حالیہ سیلاب میں ضلع کچھی میں بولان کے علاقے میں دو گیس پائپ لائنوں کو نقصان پہنچنے سے کوئٹہ سمیت پانچ اضلاع کو گیس کی فراہمی معطل ہوگئی تھی۔
دیگر اضلاع میں مستونگ، قلات، پشین اور زیارت شامل تھے۔
گیارہ روز بعد کوئٹہ اور نواحی علاقوں کو گیس کی فراہمی شروع ہو گئی ہے۔
گیس نہ ہونے سے لوگوں کو گھروں میں کھانے پکانے میں شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
پرویز الٰہی کی پی ڈی ایم پر تنقید: ’دکھی انسانیت کی خدمت نہیں کر سکتے تو ان کے زخموں پر نمک بھی نہ چھڑکیں‘
وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کا سیلاب پر سیاست کرنا قابل مذمت ہے، دکھی انسانیت کی خدمت نہیں کرسکتے تو ان کے زخموں پر نمک بھی نہ چھڑکیں۔
پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں کو سیلاب متاثرین کی کوئی پرواہ نہیں، یہ سب زبانی جمع خرچ پر لگے ہوئے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے ہر ممکن ضروری اقدام اٹھایا ہے جبکہ پی ڈی ایم کی ساری جماعتیں زبانی جمع خرچ پر لگی ہوئی ہیں اوران عناصر نے ثابت کیا ہے کہ ان کے دل میں مصیبت زدہ بہن بھائیوں کے لیے کوئی درد نہیں۔
متحدہ عرب امارات کا خصوصی طیارہ سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان لے کر لاہورپہنچ گیا
،تصویر کا ذریعہGovtofPunjab
متحدہ عرب امارات کا خصوصی طیارہ سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سامان لے کر لاہور پہنچ گیا ہے۔
صوبائی وزیر صنعت و ہاؤسنگ میاں اسلم اقبال نے ایئرپورٹ پر متحدہ عرب امارات سے آنے والا امدادی سامان وصول کیا۔
متحدہ عرب امارات سفارتخانے کے چارج ڈی افیئرز راشد اَل علی نے امدادی سامان صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال کے حوالے کیا۔
میاں اسلم اقبال کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کی طرف سے پنجاب کے سیلاب زدگان کے لیےامدادی سامان بھجوانے پر مشکور ہیں- متحدہ عرب امارات مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔
میاں اسلم اقبال
صوبائی وزیر نے پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی سرگرمیوں سے متحدہ عرب امارات کے چارج ڈی افیئرز اوروفد کو آگاہ کیا اور میاں اسلم اقبال نے وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی جانب سے امدادی سامان بھجوانے پر متحدہ عرب امارات کے وفد کا شکریہ ادا کیا۔
ملک کے بالائی علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی، جنوبی پنجاب میں موسم گرم رہنے کا امکان
ڈائریکٹوریٹ جنرل پراونشینل ڈائزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب نے ملک کے بالائی علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی کی ہے اور جنوبی پنجاب میں موسم گرم رہنے کا امکان ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق بحیرہ عرب سے مون سون ہوائیں ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں اور لاہور، راولپنڈی،اٹک، چکوال،جہلم،سیالکوٹ، گوجرانوالہ، گجرات، شیخوپورہ میں بارش کا امکان ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق سرگودھا، میانوالی،خوشاب، فیصل آباد، حافظ اباد منڈی بہاوالدین، جھنگ اور فیصل آباد میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
آئندہ تین سے چار روز کے دوران جنوبی پنجاب میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق اس دوران مری میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔
پی ڈی ایم اے نے ہدایت کی ہے کہ تمام متعلقہ اضلاع بارش کے پیش نظر اپنے انتظامات مکمل رکھیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں مکمل رکھیں اور نکاسی آب کی مشینری اور عملے کو تیار رکھا جائے۔
سیلاب سے بچنے کے لیے ڈیم بنانے ہوں گے اور شجرکاری کرنا ہو گی: عمران خان
،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے پنجاب کے شہر فیصل آباد میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ سیلاب سے بچنے کے لیے ڈیم بنانے ہوں گے۔ ان کے مطابق ان کے دور حکومت میں دس ڈیم بنائے گئے جن میں سے تین بڑے ڈیم تھے۔
عمران خان کے مطابق موسم کی تبدیلی کے لیے درخت لگانے ہوں گے۔ ان کے مطابق گرمی کم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ سب مل کر شجر کاری کریں۔
ان کے مطابق اس کے علاوہ سیوریج سسٹم بہتر بنانا ہوگا تا کہ ندی اور نالوں کے قریب تعمیرات نہ ہوں اور پانی کو نکلنے کا رستہ مل سکے۔
وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات: پاکستان کا مکمل محاصرہ ہو چکا ہے