پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے کا الرٹ
پاکستان کے صوبے پنجاب کے تین دریاؤں میں سیلاب کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر مخصوص علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا کہا گیا ہے۔ تحریک انصاف رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت سیلاب زدگان کے لیے جمع کردہ فنڈز کے استعمال کے لیے ایک مشترکہ منصوبہ بندی کی خواہش مند تھی۔
لائیو کوریج
سیلاب میں غیرمعمولی خدمات: اسسٹنٹ کمشنر عائشہ زہری کو شاباشی دینے وزیراعظم مچھ پہنچ گئے, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ
وزیر اعظم شہباز شریف اسسٹنٹ کمشنر انجنیئر عائشہ زہری کو شاباشی دینے خود مچھ پہنچ گئے۔ واضح رہے کہ انجنیئر عائشہ زہری نے سیلاب کے دوران بہترین کاکردگی کا مظاہرہ کیا۔
اسسٹنٹ کمشنر مچ عائشہ زہری کی حوصلہ افزائی کے لیے شہباز شریف نے بھرپور حوصلہ افزائی کی اور تالیاں بھی بجائیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے ہمراہ وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
صنعتی ممالک عالمی حدت سے متاثر ممالک کو معاوضہ دینے کا وعدہ پورا کریں: شیری رحمان
پاکستان کی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمان نے گارڈین اخبار کو انٹریو دیتے ہوئے کہا ہے کہ صنعتی ممالک اپنے ان وعدوں کی پاسداری کریں جن میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ ان ممالک کو معاوضہ دیں گے جو عالمی حدت کے نتائج کا سامنا کر رہے ہیں۔
شیری رحمان نے ایک ایسے وقت پر یہ بات کی ہے جب پاکستان کو تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا ہے۔
اس سیلاب نے 30 ملین سے زیادہ لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
شیری رحمان نے کہا ہے کہ آلودگی پھیلانے والے امیر ممالک، جن کے بارے میں ان کے بقول بنیادی طور پر موسمیاتی بحران کے ذمہ دار ہیں، نے کاربن کے اخراج میں خاطر خواہ کمی نہیں کی۔
انھوں نے مزید کہا کہ گلوبل وارمنگ دنیا کو درپیش ایک بڑا بحران ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اس وقت گراؤنڈ زیرو تھا۔
واضح رہے کہ پاکستان میں سیلاب ابھی تھمنے کے بہت کم آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ جنوبی صوبہ سندھ کے ضلع دادو میں حکام نے خبردار کیا ہے کہ وہاں ایک بہت بڑی جھیل میں پانی خطرناک سطح پر پہنچ گیا ہے۔
دشت میں سیلاب: ’مدد کرنے والا کوئی نہیں، اپنی مدد خود کر رہے ہیں‘
منچھر جھیل میں پانی کی سطح ’2010 کے سیلاب کے مقابلے زیادہ‘, ریاض سہیل، بی بی سی اردو
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
سندھ میں حکام کا کہنا ہے کہ منچھر جھیل میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہے اور یہاں پانی کا بہاؤ کم کرنے کے لیے ایک جگہ سے کٹ لگایا گیا ہے۔
صوبائی وزیر جام خان شورو نے بتایا کہ سیہون شہر کو سکیور کرنے کے لیے یہ کٹ لگایا گیا تاکہ پانی کے بہاؤ کو ریلیز کیا جاسکے اور دباؤ کم کر کے دریا میں پانی کا ڈسچارج جاری رہے۔
حکام کے مطابق سکھر اور گڈو کے مقام پر پانی کو روکا گیا ہے تاکہ دریا کی روانی کو برقرار رکھا جاسکے۔ صوبائی کا کہنا ہے کہ ’2010 کے سیلاب کے مقابلے منچھر جھیل میں پانی کی سطح زیادہ ہے۔ اس وقت منچھر میں سے دو مقامات سے پانی دریائے سندھ جا رہا ہے جن میں سے دونوں سیہون شہر کے قریب ہیں۔‘
حکام کے مطابق اب اس تیسرے کٹ سے کچھ آبادی متاثر بھی ہوگی تاہم سیہون کو محفوظ بنانے کے لیے یہ کرنا ضروری تھا۔
بلوچستان کا وہ علاقہ جہاں ایک ماہ بعد اونٹوں پر راشن پہنچایا گیا
سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ سندھ میں قریب ساڑھے پانچ لاکھ لوگ ریلیف کیمپوں میں
،تصویر کا ذریعہPDMA
قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے سندھ کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں 542,415 افراد ریلیف کیمپوں میں ہیں جن میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔
اس میں سب سے بڑی تعداد ضلع لاڑکانہ میں 231,808 افراد کی ہے۔ شہید بینظیر آباد میں 109,192 جبکہ میرپور خاص میں 39,758 افراد سیلاب کے بعد خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
پی ڈی ایم اے اور این ڈی ایم اے نے اب تک ان افراد کے لیے 2,028 ریلیف کیمپ قائم کیے ہیں جن میں 123,220 ٹینٹ لگائے گئے ہیں اور 14 عارضی ہسپتال ہیں۔
،تصویر کا ذریعہPDMA
سیلاب کی وجہ سے تاحال کون سی سڑکیں اور ریلوے ٹریک بند؟
،تصویر کا ذریعہReuters
نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوارڈینیشن سینٹر (این ایف آر سی سی) کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں 26 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوئے ہیں۔
اس کے دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 14 جون سے اب تک ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 1290 ہو گئی ہے جس میں 570 مرد، 259 خواتین اور 453 بچے شامل ہیں۔ جبکہ مختلف حادثات میں 12588 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
’24 جون سے اب تک بلوچستان میں ایم 8 موٹروے پر وانگو ہلز کے 24 کلومیٹر سیکشن پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی۔ خیبر پختونخوا میں قومی شاہراہ این 50 ساگو پل کے سوا ٹریفک کے لیے کھلی ہیں۔ ساگو پل کو ملانے کے لیے دونوں جانب سے کام جاری ہے۔‘
این ایف آر سی سی کے مطابق قومی شاہراہ مدین این 95 بحرین اور لائیکوٹ کے درمیان بلاک ہے جبکہ سندھ میں قومی شاہراہ این 55 میہر جوہی نہر سے خیرپور ناتھن شاہ تک ڈوبی ہونے کے باعث بند ہے۔
سیلاب اور بارشوں کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں ریلوے نیٹ ورک بھی متاثر ہوا ہے۔ ’بلوچستان میں کوئٹہ تافتان اور کوئٹہ سبی اور سبی سے حبیب کوٹ تک ریلوے ٹریک بند ہے۔ پنجاب اور سندھ کے درمیان حیدرآباد سے روہڑی اور ملتان تک ریلوے ٹریفک متاثر ہوئی ہے۔ سندھ میں کوٹری سے لکھی شاہ اور دادو تک ریلوے لائن متاثر ہے۔‘
حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کے سروے کے لیے 29 ٹیمز مصروف عمل ہیں۔ ’کوئٹہ، پشین، لورالائی، دکی، سوراب، جعفر آباد، صحبت پور، آواران اور لسبیلہ میں ٹیمز سروے کر رہی ہیں۔ لسبیلہ، گوادر، قلعہ سیف اللہ، واشک، کوہلو، موسی خیل، زیارت، قلعہ عبداللہ، خضدار اور نصیر آباد میں سروے جاری ہے۔
’کچھی، سبی، ڈیرہ بگٹی، شیرانی، ژوب، خاران، قلات، مستونگ اور چمن میں بھی سروے ہو رہا ہے۔‘
این ایف آر سی سی کا کہنا ہے کہ کشمیر میں کوئی ضلع قدرتی آفت سے متاثر نہیں ہوا مگر بلوچستان میں 31، گلگت بلتستان میں چھ، خیبر پختونخوا میں 17 اضلاع، پنجاب میں تین اور سندھ میں 23 اضلاع قدرتی آفت سے متاثرہ قرار دیے گئے ہیں۔
’ملک بھر میں 80 اضلاع بارشوں اور سیلاب کی شکل میں قدرتی آفت سے متاثر ہوئے۔ کشمیر میں 53 ہزار 700، بلوچستان میں 91 لاکھ 82 ہزار 616 شہری متاثر ہوئے جبکہ خیبرپختونخوا میں 43 لاکھ سے زیادہ اور گلگت بلتستان میں 51 ہزار 500 شہری متاثر ہوئے ہیں۔
اس کا کہنا ہے کہ پنجاب میں 48 لاکھ 44 ہزار 253 اور سندھ میں 1 کروڑ 45 لاکھ 63 ہزار 770 شہری متاثر ہوئے۔ ’ملک بھر میں 3 کروڑ 30 لاکھ 46 ہزار 329 شہری بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔‘
وزیراعظم شہباز شریف کا متاثرین سیلاب کے لیے 400 ملین آر ایم بی کی معاونت پر چینی صدر شی جن پنگ سے اظہار تشکر
،تصویر کا ذریعہAPP
وزیراعظم شہبازشریف نے پاکستان میں متاثرین سیلاب کے لیے 400 ملین آر ایم بی کی معاونت فراہم کرنے پر چینی صدر شی جن پنگ سے اظہار تشکر کیا ہے۔
سنیچر کو ایک ٹویٹ میں شہباز شریف نے کہا کہ ’میں پاکستان میں متاثرین سیلاب کے لیے چین کی جانب سے 400 ملین آر ایم بی کی مالی معاونت کے پیکج پر چینی صدر شی جن پنگ کا مشکور ہوں۔ جنھوں نے متاثرین سیلاب کی معاونت کے ابتدائی 100 ملین آر ایم بی کے فنڈ کو 400 ملین آر ایم بی تک بڑھایا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ ہماری بے مثال دوستی کی عکاسی ہے۔ چین کی معاونت سے انتہائی ضرورت مند افراد کو ریلیف فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔‘
پاکستان میں مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ آج سے شروع ہونے کی پیش گوئی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق 3 ستمبر سے 6 ستمبر تک مون سون کی مزید بارشوں کا امکان ہے۔ بحیرہ عرب سے داخل ہونے والی ہوائیں ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کا سبب بنیں گی۔
خیبرپختونخوا، اسلام آباد، شمالی پنجاب، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں گرج چمک کے ساتھ ساتھ اگلے تین دن زیادہ بارشوں کا امکان ہے۔
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ میں گڈو اور سکھر کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے جبکہ دریائے سندھ میں تونسہ اور نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں نچلے درجے کا سیلاب ہے۔
خیال رہے کہ حالیہ مون سون کی بارشوں کی وجہ سے پاکستان میں سیلاب سے 1290 ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور ہزاروں گھر تباہ ہو چکے ہیں اور لاکھوں مویشی ہلاک ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں 33 لاکھ سے زیادہ لوگ اس سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ چھ لاکھ سے زائد آبادی کیمپوں میں رہ رہی ہے۔
پاکستان میں سیلاب سے مزید 26 اموات، کل ہلاکتوں کی تعداد 1290 ہو گئی
پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 26 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ پاکستان میں قدرتی آفاات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق اب تک کل ہلاکتوں کی تعداد 1290 ہو گئی ہے۔
سندھ میں 22 اموات ہوئی ہیں جبکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دو، دو اموات ہوئی ہیں۔
اب تک سیلاب میں سب سے زیادہ ہلاکتیں صوبہ سندھ میں ہوئی ہیں جہاں سیلاب سے اب تک 492 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ صوبہ خیبرپختونخوا میں مرنے والوں کی تعداد 286 بنتی ہے۔ بلوچستان میں سیلاب سے 259 ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ پنجاب میں مرنے والوں کی تعداد 188 بنتی ہے۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں 42 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ گلگت بلتستان میں 22 جبکہ اسلام آباد میں ایک ہلاکت ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 11 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جس سے کل زخمیوں کی تعداد 12588 ہو گئی ہے۔ زخمی ہونے والے 8321 کا تعلق سندھ سے ہے جبکہ 3737 زخمی افراد کا تعلق پنجاب سے ہے۔ خیبرپختونخوا میں زخمی افراد کی تعداد 340 بنتی ہے۔ بلوچستان میں 164، گلگت بلتستان میں پانچ جبکہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں 21 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
دکی اور قلات میں سیلاب متاثرین ریلیف کے منتظر
،تصویر کا ذریعہGhulam Hussain
بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ ضلع دکی اور قلات میں سیلاب متاثرین کو ریلیف کی عدم فراہمی کے خلاف احتجاج کیا گیا ہے۔
دکی میں احتجاج شہر میں باچا خان چوک پر کیا گیا۔
متاثرین کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ ہزاروں متاثرین سیلاب کو تاحال مناسب امدادی اشیا فراہم نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب قلات میں سیلاب متاثرین نے امدادی اشیا نہ ملنے کے خلاف کوئٹہ اور کراچی کو بند کیا۔
تاہم انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد احتجاج کو ختم کیا گیا۔
’اس مرتبہ سنگین صورتحال ہے‘
،تصویر کا ذریعہIrrigation Dept, Sindh
سندھ کے محکمہ آبپاشی کے وزیر جام خان نے دو ہزار دس اور حالیہ سیلابی صورتحال کا گراف کے ذریعے موازنہ کیا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس مرتبہ سنگین صورتحال ہے۔
محکمہ موسمیات کی ملک کے بالائی علاقوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی
،تصویر کا ذریعہReuters
محکمہ موسمیات نے ملک کے بالائی علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ آئندہ تین سے چار روز کے دوران سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب سے کم شدت کی مون سون ہوائیں ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں جس کے باعث:
ہفتہ (رات) سے منگل کے دوران کشمیر، گلگت بلتستان، اسلام آباد، راولپنڈی، مری ، اٹک، چکوال، جہلم، سیالکوٹ، نارووال، لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، شیخوپورہ، میانوالی، خوشاب، سرگودھا، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین، جھنگ اور فیصل آباد میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان ہے۔
اتوار اور پیر کے دوران دیر، سوات، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، مالاکنڈ، باجوڑ، پشاور، مردان، چارسدہ، صوابی، نوشہرہ، کرم ، کوہاٹ اور وزیرستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان ہے۔
آئندہ تین سے چار روز کے دوران سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کشمیر، خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں، گلیات اور مری میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔
ادھر خیبر پختونخوا کے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ صوبے میں بارشوں کا نیا سلسلہ کل سے شروع ہونے کا امکان ہے۔ اس نے متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات اٹھانے کی ہدایات کی ہے۔ ’جہاں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہو وہاں پر چھوٹی بھاری مشینری کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ بارشوں سے بعض شہری علاقوں اربن فلڈنگ اور برساتی نالوں میں پانی کے بحاو میں اضافے کا امکان ہے۔ سیاح دوران سفر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔‘
ملک میں مجموعی طور پر اوسط سے 190 فیصد زیادہ بارشیں ہوئیں: چیئرمین این ڈی ایم اے
چیئرمین این ڈی ایم اے اختر نواز کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث ملک میں مجموعی طور پر اوسط سے 190 فیصد زیادہ بارشیں ہوئیں جن سے بڑے پیمانے پر تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوارڈینیشن کی پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ملک میں رواں سال موسم بہار نہیں آیا اور چار ہیٹ ویوز آئیں۔ ’20 سے 25 فیصد اضافی بارشیں ہونی تھیں مگر اس کے مقابلے 190 فیصد سے زیادہ بارشوں کا سامنا کرنا پڑا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور سندھ میں 400 فیصد سے زیادہ بارشیں ہوئیں۔ بلوچستان کے مشرقی، خیبر پختونخوا کے جنوبی علاقوں، جنوبی پنجاب اور سندھ کے ان علاقوں میں بارشیں ہوئیں جہاں ان کی توقع نہ تھی۔
وہ کہتے ہیں کہ سیلاب سے 1265 لوگوں کی اموات ہوچکی ہیں جن میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے، زخمی افراد کی تعداد بھی 1200 سے زیادہ ہے۔ ’5563 کلو میٹر طویل سڑکیں، سات لاکھ 35 ہزار سے زیادہ مویشی بہہ گئے جبکہ 14 لاکھ سے زیادہ گھر و عمارتیں تباہ ہوئیں۔‘
چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ہر متاثرہ خاندان کو 25 ہزار روپے امدادی رقم دی گئی ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ’بلوچستان
میں زمینی راستے متاثر ہوئے ہیں۔ اسے ملک سے جوڑنے والی 14 شاہراہوں پر بحالی کا کام
جاری ہے، 11 کو بحال کر لیا گیا ہے اور تین پر دن رات کام ہو رہا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس سیلاب کی وجہ توقع سے زیادہ بارشیں اور ہِل ٹورنٹس ہے۔
568 موبائل سائٹس کی بحالی کا کام جاری: پی ٹی اے
ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کا کہنا ہے کہ ’سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں رابطہ بحال کرنے کے لیے پی ٹی اے اور ٹیلی کام آپریٹرز کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں ملک بھر میں متاثرہ موبائل سائٹس کی تعداد مزید کم ہو کر 568 ہو گئی ہے (کل سائٹس کا 1.1 فیصد سے بھی کم)۔‘
ایک بیان میں پی ٹی اے نے بتایا کہ ’گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 80 سائٹس کو بحال کیا گیا ہے اور دیگر علاقوں میں ٹیلی کام سروسز کی مکمل بحالی کے لیے اولین ترجیح پر کام جاری ہے۔ جو سائٹس فی الحال غیر فعال ہیں وہاں سیلاب کی وجہ سے رسائی ممکن نہیں۔‘
’زیر آب سائٹس تک رسائی اور پانی کی نکاسی کے لیے متعلقہ سول اور فوجی حکام کے ساتھ مشترکہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔ سیلاب اور طوفانی بارشوں نے ٹیلی کام کے بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔ 28 اگست 2022 کو متاثرہ سائٹس کی تعداد 3386 (پاکستان بھر میں کل سائٹس کا 6.55 فیصد) تھی، جنھیں تمام ٹیلی کام آپریٹرز کی دیکھ بھال کرنے والی ٹیموں کی انتھک کوششوں سے بحال کیا گیا ہے۔
’فی الحال، 850 سے زیادہ ٹیمیں صارفین کو بلا تعطل ٹیلی کام خدمات فراہم کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے کام کر رہی ہیں۔ موبائل آپریٹرز سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں زیرو بیلنس والے صارفین کو عوامی خدمت کے طور پر روزانہ مفت آن نیٹ منٹ فراہم کر رہے ہیں۔‘
’سوات میں ینگ ڈاکٹرز کے کیمپ لگائے جا رہے ہیں‘
صدر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سوات ڈاکٹر عابد حیات کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کے لیے سوات کے آفت زدہ علاقوں میں کیمپ لگائے جارہے ہیں۔
ان کے مطابق کالام میں چار روزہ کیمپ میں 834 مریضوں، کڈام میں دو روزہ کیمپ میں 276 مریضوں اور بحرین کے کیمپ میں 223 مریضوں نے شرکت کی ہے۔
پشین میں چھ روز سے لوگ محصور، ادویات اور سامان کی شدید قلت کا سامنا, جعفر خان کاکڑ، صحافی
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے شمال مشرق کی جانب 110 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ضلع پشین کے تحصیل نانا صاحب یونین کونسل رود ملازئی کلی دمڑان، سور غونڈ، پڑیزہ اور ورمژ میں چھ دن گزرنے کے باوجود بھی لوگ محصور ہیں۔
چھ دن گزرنے کے بعد بھی سیلابی ریلے کی شدت آج بھی اتنی زیادہ ہے کہ لوگوں کا گزرنا ناممکن ہے۔ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جبکہ زمینی رابطہ بھی گذشتہ چھ روز سے منقطع ہے۔
شہریوں کو چگی کے کیسز اور دیگر بیماریوں کے لیے نہ کوئی ڈاکٹر ہے اور نہ ہی ڈاکٹر تک پہنچنے کا کوئی راستہ مل رہا ہے۔
علاقہ مکین منظور الحق نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ایمرجنسی بنیادوں پر علاقے کے لوگوں کے لیے ادویات اور دیگر ضرورت کی اشیا فراہم کریں۔
منظور نے کہا کہ اب تک نہ کسی نے یہاں سڑک کو بحال کرنے کی کوئی کوشش کی ہے نہ ہی کسی حکومتی ادارے نے کوئی امدادی سامان مہیا کیا ہے۔
دریائے سوات: ’یہ بہت خونی دریا ہے‘
خانپور ڈیم میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند، عوام کو پانی سے دور رہنے کی ہدایت
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق خانپور ڈیم میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے پر سپل ویز کھول دیے گئے ہیں۔
خانپورڈیم میں پانی کا موجودہ لیول 1981.97 فٹ ہے۔ ڈیم میں پانی کی آمد734.41 کیوسک اور نہر سے اخراج 136.18 کیوسک ہے جبکہ سپل ویز سے 6500 اضافی پانی کا اخراج کیا جائے گا۔
ڈیم انتظامیہ کی جانب سے سپل ویز کھولنے کے حوالے سے ہائی الرٹ پہلے ہی جاری کر کےعوام کو پانی سے دور رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔
’کرنٹ لگنے کے واقعات سے بچاؤ کے لیے 35 گرڈ سٹیشنز سے بجلی کی فراہمی بحال نہ ہوسکی‘
،تصویر کا ذریعہPM OFFICE
وزیر اعظم آفس کے ایک بیان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر سیلاب زدہ علاقوں بجلی کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے اور وہ خود بجلی کی سپلائی کی بحالی کو مانیٹر کر رہے ہیں۔
اس میں بتایا گیا ہے کہ ’ڈسٹربیوشن کمپنیز کے سیلاب سے متاثرہ 81 گرڈ سٹیشنز میں سے 46 گرڈ سٹیشنز سے سپلائی بحال کر دی گئی۔
’ابتدائی طور پر 11 کے وی کے 881 فیڈرز مون سون بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہوئے جس سے 975000 صارفین کو بجلی کی ترسیل متاثر ہوئی تاہم اب تک ان متاثرہ فیڈرز میں سے 475 فیڈرز بحال کر دیے گئے ہیں جس سے 70600 صارفین کو بجلی کی ترسیل بحال ہو گئی ہے۔‘
وزیر اعظم آفس کے مطابق ’سیلاب زدہ علاقوں میں کرنٹ لگنے کے واقعات سے بچاؤ کے لیے اب تک 35 گرڈ سٹیشنز سے بجلی فراہمی شروع نہیں کی گئی۔ 35 میں سے 25 گرڈ سٹیشنز بلوچستان، پانچ سندھ اور پانچ خیبر پختونخوا کے سیلاب زدہ علاقوں میں واقع ہیں۔
نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کی 220 کے وی کی 2 ٹرانسمیشن لائنز، سبی سے کوئٹہ اور دادو سے خضدار سیلاب اور بارشوں سے متاثر ہیں۔
،تصویر کا ذریعہPM OFFICE
’دادو سے خضدار ٹرانسمیشن لائن پر کام کل تک مکمل کر لیا جائے گا جس سے متاثرہ علاقوں میں 300 میگا واٹ بجلی سپلائی بحال ہو جائے گی۔ جبکہ سبی سے کوئٹہ ٹرانسمیشن لائن، جس کے 10 ٹاورز سیلابی پانی کی وجہ سے گر گئے تھے، پر بحالی کا کام 10 ستمبر تک مکمل ہو جانے کی امید ہے۔‘
وزیر اعظم آفس کا کہنا ہے کہ ’سبی سے مچھ ٹرانسمیشن لائن پر بھی بحالی کا کام جاری ہے۔ پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کی دو سپلائی لائنز، چکدرہ سے بری کوٹ اور سوات سے مٹہ کو 10 ستمبر تک بحال کر دیا جائے گا جبکہ مدین گرڈ سٹیشن کو درال خوار جنریشن پلانٹ کے ذریعے سپلائی دے کر سپلائی بحال کی جائے گی۔ صوبہ سندھ کے پانچ گرڈ سٹیشنز اور صوبہ بلوچستان کے دو گرڈ سٹیشنز تاحال 4-3 فیٹ سیلابی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں جن سے سپلائی سیلابی پانی اترتے ہی بحال کر دی جائے گی۔‘