آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

شہباز شریف کا خیبرپختونخوا کے سیلاب متاثرین کے لیے 10 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان

وزیر اعظم شہباز شریف نے سوات کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے دوران کہا کہ وفاقی حکومت نے سندھ کے لیے 15 ارب روپے گرانٹ، بلوچستان کے لیے 10 ارب روپے اور اب کے پی کے لیے بھی 10 ارب روپے گرانٹ کا اعلان کیا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان می سیلاب سے 1162 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ’سوات میں سیاح پریشان نہ ہوں، ان کے لیے محفوظ مقامات قائم کیے گئے ہیں‘

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوات ابرار وزیر نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا ہے کہ سوات میں ایمرجنسی کے پیش نظر ’سیاح پریشان نہ ہوں، ان کے لیے محفوظ مقامات قائم کیے گئے ہیں۔‘

    انھوں نے فوکل پرسنز کے فون نمبر شیئر کیے ہیں تاکہ لوگ ان سے رابطہ کر سکیں۔

  2. نوشہرہ میں ایمرجنسی کے بعد دریائے کابل کے قریب آبادی کی محفوظ مقامات پر منتقلی

    حکام کی جانب سے سیلاب کے خطرے کے پیش نظر دریائے کابل اور دریائے سوات کے پاس موجود آبادی کو بارشوں اور سیلاب کے خطرے کے پیش نظر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

  3. ’دریائے کابل، سوات میں سیلاب سے ضلع نوشہرہ کو خطرہ ہے‘

    پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ کی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر قرات العین وزیر نے کہا کہ ضلع نوشہرہ میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت صورتحال یہ ہے کہ سنہ 2010 میں آنے والے سیلاب کے بعد محمکمہ آبپاشی کی جانب سے جو دیواریں بنائی گئی، ان میں دو لاکھ 15 سے 20 ہزار کیوسک تک پانی سہنے کی سقت تھی تاہم اس وقت تین لاکھ کیوسک تک پانی یہاں سے گزر رہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سنہ 2010 میں یہاں سے چار لاکھ کیوسک پانی گزرا تھا، تاہم ہم اس مرتبہ اپنی طرف سے پوری تیاری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے انتظامات تیز کر دیے گئے ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’دریائے سوات میں بھی اب انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جو دریائے کابل میں ملتا ہے تو اس میں بھی اس وقت انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جس سے ضلع نوشہرہ کو خطرہ ہے۔‘

  4. بریکنگ, سوات، چارسدہ اور نوشہرہ میں ’فلڈ ایمرجنسی‘، عوام سے علاقہ خالی کرنے کی اپیل

    خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے سوات کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں 30 اگست تک ’ایمرجنسی‘ نافذ کرتے ہوئے امدادی کارروائیوں کا حکم دیا ہے۔ ادھر سیلابی ریلہ گزرنے کے پیش نظر خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ اور چارسدہ میں فلڈ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ دریائے کابل کے قریب آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ عوام سے علاقہ خالی کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

    مقامی ذرائع ابلاع کی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ سیلاب سے مینگورہ بائی پاس پر کئی ہوٹل اور ریستوران زیرِ آب آگئے ہیں جبکہ مینگورہ بائی پاس روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

    دریائے سوات میں اونچے درجے کے سیلاب کے پیش نظر انتظامیہ نے دریا کے کنارے آباد لوگوں کو نقل مکانی کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

  5. سیلاب میں گِھری خواتین: ’دو گھونٹ پانی پیتے ہیں تاکہ رفع حاجت کی آزمائش سے نہ گزرنا پڑے‘

  6. بریکنگ, دریائے سوات میں بھی انتہائی اونچے درجے کا سیلاب، حساس علاقوں میں حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایت

    خیبرو پختونخوا میں آفات سے نمٹنے والے صوبائی ادارے کی جانب سے جاری ایڈوائزری کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا کے محکمہ آبپاشی نے جو آج کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں ان کے مطابق دریائے سوات میں خوازہ خیلہ کے مقام پر اونچے سے انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جو خطرناک صورتحال اختیار کر سکتا ہے۔

    پی ڈی ایم کی جانب سے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو حساس علاقوں کی آبادی کی نشاندہی کر کے حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  7. آپٹیکل فائبر کیبل کو نقصان پہنچنے سے بلوچستان میں فون اور انٹرنیٹ سروسز متاثر: پی ٹی اے

    ٹیلی کام اتھارٹی پی ٹی اے کے مطابق بلوچستان میں سیلاب اور بارشوں کے باعث آپٹیکل فائبر کیبل کو نقصان پہنچا ہے جس سے مختلف شہروں میں لینڈ لائن اور انٹرنیٹ سروسز متاثر ہوئی ہیں۔

    جن شہروں میں سروسز متاثر ہوئی ہیں ان میں کوئٹہ، زیارت، خضدار، لورالائی، پشین، چمن، پنجگور اور دیگر شامل ہیں۔

    پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ بحالی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

  8. بریکنگ, ’سیلاب کا خطرہ‘: ضلع نوشہرہ میں سرکاری و نجی سکول دو روز کے لیے بند

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر سرکاری و نجی سکولوں کو دو روز کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    خیال رہے کہ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کی جانب سے جاری کیے گئے نقشے میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ضلع نوشہرہ کے قریب دریائے کابل میں ’انتہائی اونچے درجے‘ کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔

  9. بریکنگ, دریائے کابل میں ’انتہائی اونچے درجے‘ کا سیلاب اور پاکستان میں دریاؤں میں سیلابی صورتحال کا خلاصہ

    لاہور میں قائم فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن (ایف ایف ڈی) کی جانب سے جاری کیے گئے نقشے میں اس وقت پاکستان میں مختلف دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کے حوالے سے صورتحال دیکھی جا سکتی ہے۔

    • اس وقت کابل دریا میں نوشہرہ کے قریب انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
    • گذشتہ روز تربیلہ ڈیم کے مقام پر پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق تھا، تاہم آج یہاں نچلے درجے کا سیلاب ہے۔
    • اسی طرح کالاباغ اور چشمہ میں بھی نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔
    • تونسہ کے مقام پر گذشتہ روز کی طرح آج بھی درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔
    • گڈو اور سکھر بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔
    • کوٹری پر جہاں گذشتہ روز نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا تھا، وہاں آج درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔
  10. مقامی ندی نالوں میں طغیانی، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ: محکمہ موسمیات

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آج قلعہ سیف اللہ، کوئٹہ، زیارت، ہرنائی، پشین، لورالائی، بارکھان، کوہلو، موسیٰ خیل، ژوب، شیرانی اور ڈیرہ غازی خان کے برساتی اور مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔

    اس کے مطابق آج موسلادھار بارش کے باعث سیالکوٹ، نارووال اور گوجرانوالہ میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خطرہ ہے۔

    آج اور کل کے دوران موسلا دھار بارش کے باعث ایبٹ آباد، مانسہرہ، دیر، سوات، کوہستان، گلگت بلتستان اور کشمیر کے مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ ’کشمیر، خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں، گلیات، مری، چلاس، دیامیر، گلگت، ہنزہ، استور اور سکردو میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔‘

    ’مسافر اور سیاح موسمی حالات کو مدنظر رکھ کر سفر کریں اور سفر کے دوران محتاط رہیں۔‘

  11. وزیر اعظم آج ’سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کریں گے‘

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف آج صوبہ سندھ میں سکھر، روہڑی، خیرپور، فیض گنج، کوٹ ڈجی اور ٹھری میر واہ کے سیلاب زدہ علاقوں کا فضائی دورہ کریں گے۔

    سرکاری سطح پر جاری کردہ بیان کے مطابق سکھر کی ضلعی انتظامیہ اور پی ڈی ایم اے کے نمائندے وزیر اعظم کو سیلاب متاثرین کی مدد اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے جاری کاموں پر بریفنگ دیں گے۔

    ’وزیر اعظم امدادی کاموں کا جائزہ لینے اور سیلاب متاثرین کا احوال جاننے کے لیے ان سے ملاقات کریں گے۔ بعد ازاں چیف سیکریٹری سندھ اور چیف انجنیئیر سکھر بیراج وزیر اعظم کو سیلاب کی تباہ کاریوں پر تفصیلاً بریفنگ دیں گے۔ پاکستان ٹیلی ویژن نشر کرے گا۔‘

  12. ’سندھ اور بلوچستان کو سیلاب سے بچانے کے لیے 10 لاکھ سے زیادہ ٹینٹ درکار‘

    وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمان نے سی این این کو بتایا ہے کہ سندھ اور بلوچستان کے لوگوں کو سیلاب سے بچانے کے لیے 10 لاکھ سے زیادہ ٹینٹ درکار ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس سے پہلے کبھی ایسی طوفانی بارشیں نہیں ہوئیں۔ ’اس وقت زندگیاں بچانے اور لاکھوں کو پناہ دینا چیلنج ہے۔‘

  13. سیلاب متاثرین کی امداد و عطیات کے لیے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں؟

    قدرتی آفات کے دوران امدادی کارروائیوں پر تحقیق کرنے والے سکالر سعید طارق نے ٹوئٹر پر ایک تھریڈ میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ سیلاب متاثرین کے لیے عطیات میں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔

    • ان کی تجویز ہے کہ:
    • سیلاب متاثرین کے لیے گوشت اور پکا ہوا کھانا نہیں بھیجنا چاہیے کیونکہ یہ خراب ہوسکتا ہے۔
    • ڈرائی فوڈ، بسکٹ اور کھانے پینے کی دوسرے اشیا کو بہتر انداز میں پیک کر کے بھیجنا چاہیے۔
    • ایسے کپڑے، چادریں اور کمبل عطیہ نہیں کرنے چاہیے جو آپ خود استعمال نہ کرتے ہوں۔
    • استعمال شدہ، پھٹے ہوئے اور بدبودار کپڑوں سے متاثرین مزید مایوس ہوسکتے ہیں۔
    • پینے کے صاف پانی کی بوتلیں بھیجنا مشکل کام ہے لہذا واٹر فلٹر اور پانی صاف کرنے والی دیگر مصنوعات بھیجنی چاہییں۔
    • امدادی تنظیموں سے رابطے میں رہیں اور سامان خریدنے میں ان کی مدد کریں۔
    • اگر آپ سپلائی چین کے شعبے سے وابستہ ہیں تو سیلاب متاثرین اور امدادی تنظیموں کی معاونت کریں کیونکہ یہ بڑے اخراجات میں شمار ہوتا ہے۔
    • بغیر منصوبہ بندی کے سیلاب زدہ علاقوں میں نہ جائیں جو کہ خطرناک اور مہنگا ہے۔
    • خیال رکھیں کہ سیلاب زدہ علاقوں میں جا کر آپ امدادی کارروائیوں کے لیے موجود دیگر تنظیموں کے لیے رکاوٹ پیدا کر سکتے ہیں۔
    • اپنے پاس موجود معلومات امدادی تنظیموں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ ان کا کام آسان ہوسکے۔
    • عطیات کے لیے مہم خود سے شروع کریں اور لوگوں کو اس کی ترغیت دیں
    • پیسے یا اشیا کی امداد کے علاوہ آپ اپنا قیمتی وقت بھی عطیہ کرسکتے ہیں اور سیلاب متاثرین کی مشکل کم کرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔
  14. سوات میں سیلاب: ’2010 کے سیلاب کے مقابلے زیادہ تباہی ہوئی ہے‘

    سوشل میڈیا پر صارفین گذشتہ روز سے ایسی ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں جن سے سوات میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

    اس حوالے سے ٹوئٹر پر #SwatFloods اور #Swat جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ وہاں موجود مقامی افراد اور سیاحوں ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال کے حوالے سے ویڈیوز کلپس شیئر کر رہے ہیں۔

    ادھر ہائیوے اینڈ موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے پلائی کے مقام پر سوات ایکسپریس وے کو بند کیا گیا ہے۔

    صارف زبیر تنولی کے مطابق ’تباہی 2010 کے سیلاب کے مقابلے زیادہ ہوئی ہے۔‘

  15. بریکنگ, 24 گھنٹے میں مزید 34 ہلاکتیں، متاثرین کی تعداد ساڑھے 42 لاکھ سے بڑھ گئی

    پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کی جمعرات کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف حصّوں میں مزید 34 افراد سیلابی ریلوں اور اس سے ہونے والے نقصانات کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

    حکام کے مطابق مرنے والوں میں 17 بچے، 10 مرد اور سات خواتین شامل ہیں۔

    ان ہلاکتوں کے بعد اب تک سیلاب اور بارشوں سے مجموعی ہلاکتیں 937 ہو گئی ہے جبکہ 1343 افراد زخمی ہیں۔

    این ڈی ایم سے کے مطابق بدھ اور جمعرات کے درمیان سب سے زیادہ 16 افراد خیبرپختونخوا میں جان سے گئے جبکہ اس کے علاوہ سندھ میں 13، بلوچستان میں چار جبکہ پنجاب میں مزید ایک فرد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

    این ڈی ایم اے کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک بھر میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد بھی ساڑھے 42 لاکھ سے بڑھ گئی ہے اور دو لاکھ 15 ہزار افراد امدادی کیمپوں میں مقیم ہیں۔

  16. سندھ میں بارشوں اور سیلاب کا پانی کہاں کہاں موجود ہے

  17. مانسہرہ: مہانڈری میں سیلابی ریلے میں خواتین سمیت آٹھ افراد بہہ گئے، دو لاشیں برآمد

    ضلع مہانسرہ کے علاقے گڑھی حبیب اللہ کے پولیس سٹیشن میں تعینات ایڈیشنل محرر محمد رضوان کے مطابق جمعرات کو مہانڈری کے مقام پر خواتین سمیت آٹھ افراد ندی میں آنے والے سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔

    ان کے مطابق بہنے والے افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ محمد رضوان کا کہنا ہے کہ ان میں سے دو خواتین کی لاشیں دریائے کنہار سے نکال لی گئیں جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔

    لاپتہ افراد کے ایک قریبی عزیز محمد شہزاد نے صحافی ایم اے جرال کو بتایا کہ لاپتہ ہونے والوں میں ایک چار ماہ کا بچہ بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ افراد مہانڈری کے مقام پر مزدوری کی غرض سے ایک خیمے میں مقیم تھے۔

    تھانہ گڑھی حبیب اللہ کے ایڈیشنل محرر نے بتایا کہ مہانڈری کے مقام پر قائم بازار کی کچھ دکانیں بھی سیلابی ریلے کی نذر ہو گئی ہیں۔

  18. بریکنگ, سیلاب متاثرین کے لیے 50 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی فوری امداد کے وعدے

    پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے عالمی تنظیموں اور مالیاتی اداروں کی جانب سے مجموعی طور پر 50 کروڑ ڈالر سے زیادہ مالیت کی فوری امداد کی فراہمی کے اعلانات سامنے آئے ہیں۔

    ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ اعلانات جمعرات کو وزیراعظم کی زیر صدارت سیلاب زدگان کی مدد کے لیے انٹرنیشنل پارٹنرز کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں کیے گئِے جس میں عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے علاوہ چین، امریکہ اور یورپی ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے مختلف اداروں اور عالمی ادارہ صحت کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک تھے۔

    وزیراعظم ہاؤس سے جاری یونے والے بیان کے مطابق شہباز شریف نے اجلاس کے شرکا کو ملک بھر خصوصاً سندھ اور بلوچستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے بارے میں آگاہ کیا۔

    اس موقع پر عالمی بینک کے نمائندے نے 35 کروڑ ڈالر کی فوری امداد کے بارے آگاہ کیا جو رواں ہفتے کے آخر تک مکمل طور پر فراہم کر دی جائے گی۔

    اس کے علاوہ ورلڈ فوڈ پروگرام نے 11 کروڑ ڈالر، ایشیائی ترقیاتی بینک نے دو کروڑ ڈالرجبکہ اقوامِ متحدہ کے ایمرجنسی ریسپانس فنڈ نے 30 لاکھ ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔

    اس کے علاوہ یوکے ایڈ کی طرف سے سیلاب متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کے لیے تین کروڑ 80 لاکھ پاؤنڈ امداد کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

  19. سندھ کے سکول اور کالج جمعے اور سنیچر کو بند رہیں گے

    سندھ حکومت نے سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر سندھ بھر کے سکول اور کالج جمعے اور سنیچر کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  20. وادی نیلم میں شدید بارشیں، سیلابی صورتحال کے بعد الرٹ جاری

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی وادی نیلم میں شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق وادی نیلم کے مختلف علاقوں میں شدید بارش کے باعث دریائے نیلم کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے اور اپر نیلم کے تمام نالوں میں طغیانی کی وجہ سے پانی کا بڑا ریلا مظفرآباد کی جانب آ رہا ہے۔

    کمشنر مظفرآباد مسعود الرحمان کے مطابق کٹن، کٹھ پیراں، سرگن شونٹھر اور جاگراں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

    اُنھوں نے اپنے ایک اعلامیے میں بتایا کہ دریائے نیلم میں طغیانی کے باعث نوسیری ڈیم کے تمام گیٹ کھول دیے گئے ہیں جبکہ دریائے نیلم میں اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔

    اُنھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ دریائے نیلم سے دور رہیں۔